Friday, September 2, 2022

                  WARNING FROM MOTHER NATURE KRISHNA



قسط نمبر#34

زمین کے سات آسمانوں میں کیا جانے والا فساد

ہارپ (High Frequency Active Auroral Research Program) کا مخفف ہے۔ امریکہ کے صوبے آلاسکا میں ۱۸۰انٹینوں
پر مشتمل ایک مشین ہے۔ درج ذیل تصاویر میں دیکھیں۔
اس کے بارے دنیا میں بہت سی باتیں عام ہیں جن میں بہت سے مفروضے اور کچھ حقیقت بھی ہے ان تمام تر مفروضوں و حقیقت پر مبنی جتنی بھی معلومات دنیا میں انٹر نیٹ کے ذریعے یا میڈیا کے ذریعے گردش کر رہی ہیں ہم ان پر بات نہیں کریں گے اس لیے کہ وہ رستہ آپ کے لیے کھلا ہے اور آپ جتنی جی چاہیں معلومات حاصل کریں پھر خواہ انہیں مفروضے خیال کریں یا حقیقت سمجھ کر اپنا لیں آپ اس میں آزاد ہیں ۔ ان تمام تر باتوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے جو حق ہے اور جو
ضروری بات ہے ہم اسے ہی یہاں پر بیان کریں گے۔
کائنات میں ہر شئے کی اپنی الگ الگ فریکوینسی ہے کائنات میں ہر شئے کی تخلیق لہروں کے ذریعے ہوتی ہے ان لہروں کوآواز کی لہروں کا بھی نام دیا جاتا ہے جنہیں عربوں کی زبان میں اسرافیل کہا گیا۔ مثلاً ایک آم کے درخت کی ہی مثال لے لیں اللہ کا امر آتا ہے جو کہ لہروں کی شکل میں آتا ہے ان میں وہ فریکوینسی موجود ہوتی ہے جس فریکوینسی کی لہروں سے ایسا ارتعاش یعنی تھر تھراہٹ پیدا ہوتی ہے کہ مختلف ذرات حرکت کرتے ہوئے آم کے درخت کی شکل
اختیار کر لیتے ہیں، اللہ نے ہی تمام مخلوقات کی فریکوینسی طے کی۔
اللہ ہی وہ ذات ہے جو ہر لمحہ ایسی لہروں کو وجود میں لاتی ہے جس سے مخلوقات وجود میں آتی، ختم ہوتی اور یہ سب نظام چل رہا ہے۔ یہ ایسا نظام ہے کہ انسانی عقل اس کا احاطہ کر ہی نہیں سکتی بالکل اسی طرح ہی انسان نے ایک ایسا آلہ خلق کیا جس آلے کی مدد سے وہ ایسی لہریں وجود میں لا سکتا ہے جن سے وہ ایسے کام
لے سکتا ہے جو جو کام ان فریکوینسیز پر ہو سکتے ہیں۔
لہریں کیا ہیں انہیں مزید آسان الفاظ میں سمجھ لیں۔ قرآن میں اللہ نے بہت سے مقامات پر لفظ ملائکہ استعمال کیا ہے یہ جمع کا صیغہ ہے اور اس کا واحد ملک ہے اور اس میں اصل لفظ لک ہے جس کے معنی لہریں، پیغام رسانی کرنے والے، ایک جگہ سے دوسرے جگہ منتقل کرنے والے کے ہیں ،ملائکہ نور ہیں۔
کائنات میں تین طرح کی مخلوقات موجود ہیں ایک آگ سے دوسری نور سے اور تیسری مادے سے وجود میں آئیں۔ جس سے حرارت محسوس ہو وہ آگ کی خلق
ہے اور جسے چھوا نہ جا سکے جیسے ہمارے ارد گرد خلا ء ہے وہ نور ہے اور جسے چھو ا جا سکے وہ مادہ ہے۔
نور کی مخلوقات اللہ کی وہ فوجیں ہیں جو کائنات کے نظام پر معمور ہیں اور انہیں حکم دیتا ہے تو جو بھی حکم اللہ انہیں دیتا ہے وہ فوراً اس پر ویسے ہی عمل کرتی ہیں۔ اس کو سادہ سی مثال سے سمجھ لیتے ہیںجیسے آپ کسی سے بات کرتے ہیں تو جسے آپ آواز کا نام دیتے ہیں اس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں بلکہ آواز آپ کی دماغ کا محض ادراک ہے۔ اس آواز کی حقیقت لہریں ہیں یعنی ملائکہ ہیں۔ آپ کے حلق میں اللہ نے ایسا آلہ نصب کر دیا جو تھرتھراہٹ پیدا کرتا ہے جس تھر تھراہٹ سے خالی نظر آنے والی جگہ جو کہ نور سے بھری ہوتی ہے، میں لہریں وجود میں آتی ہیں بالکل ایسے ہی جیسے پانی میں پتھر وغیرہ پھینکنے سے لہریں وجود میں آتی ہیں۔ آپ کی زبان جب حرکت کرتی ہے تو وہ ان لہروں میں پیغام وضع کرتی ہے اب وہ لہریں سفر کرتی ہیں اور جب کسی بھی مخلوق کے اس آلے سے ٹکراتی ہیں جو ان لہروں کو موصول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جیسے انسان کے کان ہیں تو یہ آلہ ان لہروں کو موصول کر کے دماغ کو بھیجتا ہے اور دماغ ان لہروں کا ادراک کرتا ہے جسے آپ آواز کہتے ہیں اور ضروری نہیں کے ہر مخلوق کے ادراک کی صورت ایک ہی ہو یعنی جیسے آپ ان لہروں کا ادراک آواز کی صورت میں کرتے ہیں باقی کو
بھی ویسا ہی ادراک ہو ایسا ضروری نہیں بلکہ ضروری یہ ہے کہ ان میں موجود پیغام کا ادراک ہونا چاہیے۔
تو آپ نے ان لہروں یعنی ملائکہ کو یہ حکم دیا کہ میرے پیغام کو دوسروں تک پہنچاؤ۔ ایسے ہی اللہ ملائکہ کو حکم دیتا ہے اور ملائکہ اس حکم پر عمل کرتے ہیں یوں تخلیقات
ہوتی ہیں اور کائنات کا نظام چل رہا ہے۔
ہارپ ایسا ہی ایک آلہ ہے جو ملائکہ کو حکم دینے کی صلاحیت رکھتا ہے یہ آلہ انسان کی سوچ سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اس آلے سے ایسے ایسے کام کیے جا سکتے ہیں جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس سے زمین کا پورا نظام انسان اپنے اختیار میں لے سکتا جیسے بادلوں ، آب و ہوا، موسموں کا نظام وغیرہ ہے اسی طرح اس سے زمین میں کوئی بھی چھیڑ چھاڑ کی جا سکتی ہے حتیٰ کہ ایسا زلزلہ پیدا کیا جا سکتا ہے کہ زمین کے ہی پرخچے اڑ جائیں۔ زمین کے اندر کیا کیا کہاں کہاں کتنی کتنی مقدار میں موجود ہے اس کی تمام معلومات ٹھیک ٹھیک حاصل کی جا سکتی ہیں۔ انسانوں سمیت زمین کی تمام مخلوقات کے دل و دماغ میں جو جی چاہے سوچ، فکر داخل کی جا سکتی ہے حتیٰ کہ انسان سمیت زمین کی تمام مخلوقات کو مکمل اپنے اختیار میں لیا جا سکتا جیسے کہ ان کی اپنی حیثیت روبوٹ کی سی ہو۔ مختصراً یہ کہ اس
سے بہت کچھ غیر معمولی کیا جا سکتا ہے ۔
یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے ایسا نہیںہے کہ یہ سب کچھ انسان کر رہا ہے یا پھر وہ ایسا کر پائے گا بلکہ اگر انسان کو اتنی مہلت مل جائے جتنی درکار ہے تو بلا
شک و شبہ یہ سب ممکن ہے لیکن انسان کو اتنی مہلت ملے گی ہی نہیں اور یہی وجہ ہے شرک کے عظیم ہونے کی۔
یہی ٹیکنالوجی قوم نوح پر آنے والے طوفان کی اصل وجہ بنی۔ وہ اسی ٹیکنالوجی سے اللہ کے قائم کیے ہوئے زمین کے گرد حفاظتی حصار میں چھیڑ چھاڑ کرنے لگے تو ان گیسوں کی تہوں میں فساد ہو گیا جس کی وجہ سے خلا ء میں موجود بخارات پانی بن کر زمین پر اترے تو پوری زمین پانی میں ڈوب گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ زمین
کے گرد گیسوں کی تہوں میں پانی کی کثیر مقدار موجودہے ۔
آج بھی انسان یہی کچھ کرنے کے ارادے سے اس کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور شیطان نے اسے اسی دھوکے کا شکار کیا ہوا ہے کہ تجھے لازوال ملک حاصل ہو جائے گا تجھے موت نہیں آئے گی ۔ لیکن یہ مفسدین شیطان کے دھوکے میں مبتلا علم کے باوجود اندھے ہو چکے ہیں آنکھوں کے باوجود اندھے ہو چکے ہیں ان کے اپنے ہی کرتوتوں کی وجہ سے حق ان پر واضح ہو چکا ہے کہ جو کچھ یہ کر چکے عنقریب اس کاانجام کیا ہے لیکن اس کے باوجود یہ اپنی اس حرکت سے باز نہیں آ رہے ۔

زمین کے گرد گیسوںکی تہوں جنہیں اللہ نے سبع السماوات اور سبع طباق بھی کہا ہے میں ہارپ کے ذریعے فساد کیا جا رہا ہے۔ ہارپ ایک ایسا آلہ ہے جس کے ذریعے زمین کے گرد اللہ کی بچھائی ہوئی گیسوں میں دخل اندازی کر کے موسموں میں تبدیلیاں لائی جاتی ہیں۔ مثلاً بارشیں برسانا، طوفان پیدا کرنا، درجہ حرارت بڑھا دینے سمیت طرح طرح کے تجربات کیے جا رہے ہیں البتہ یہ ضروری نہیں کہ نتائج اپنی چاہت کیمطابق ہی نکلیں بلکہ انسان کی لاکھ کوششوں کے باوجود وہ زمین کے گرد اس نظام کی پیچیدگیوں کا مکمل علم حاصل نہیں کر سکتا اور اس کی چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ انتہائی بھیانک نکل رہا ہے ماضی میں بھی نکلا اور آئندہ بھی ایسا ہی نکلے گا۔ انسان کی دن رات کوشش یہی ہے کہ وہ اس نظام پر مکمل دسترس حاصل کر لے لیکن اس کے یہی خواب اس کے لیے دنیا و آخرت میں عظیم ہلاکت کا
سبب بنیں گے۔
آج پوری دنیا میں بارشوں و بادلوں کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ اللہ نے ایسا نظام بنایاتھا کہ جب زمین کو فصل اگانے کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی تھی تب اللہ بارش اتارتا لیکن آج اس کے بالکل برعکس ہو رہا ہے آج بارشیں تب آتی ہیں جب فصلیں پک کر تیار ہو چکی ہوں اور یوں وہ بارشیں عذاب کی صورت میں آتی ہیں جس سے فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں، سیلاب و طوفان آتے ہیں۔ آج پوری دنیا کے موسموں میں غیر معمولی تغیر و تبدل ہر ایک کے مشاہدے میں ہے ہواؤں کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے اور اس کی وجہ جہاں انسان کے اور بہت سے کرتوت ہیں تو وہیں ہارپ کا بھی اس میں بڑی حد تک عمل دخل ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ ہارپ غیر معمولی حد تک آسمان کے نظام میں فسادکی وجہ بنی ہے۔ درج ذیل تصاویر میں آپ کو عجیب و غریب مناظر نظر آئیں گے جو اسی ہارپ کی وجہ
سے ہیں۔
(جاری ہے)۔۔۔ 

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7


No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...