Wednesday, July 27, 2022

WARNING FROM MOTHER NATURE



 DOWNLOAD WARNING FROM MOTHER NATURE

قسط نمبر#10

محمد علیہ السلام نے جب فتنہ الدجّال سے حفاظت کے لیے سورت الکہف کی تلاوت کا حکم دیا تو اس کا مطلب ہے کہ سورت الکہف میں فتنہ الدجّال اور اس فتنے سے بچنے کا مکمل علم موجود ہے یعنی کہ ایسا قطعاً نہیں ہو سکتا کہ محمد علیہ السلام فتنہ الدجّال سے حفاظت کے لیے سورت الکہف کی تلاوت کا حکم دیں اور کوئی یہ کہے کہ سورت الکہف تو دور کی بات پورے قرآن میں ہی فتنہ الدجّال کا کوئی ذکر موجود ہی نہیں۔ اگر کوئی ایسا کہتا ہے یا آپ کہتے یا مانتے ہیں، ایسا عقیدہ یا نظریہ اخذ
کریں گے تو گویا کہ آپ نے محمد علیہ السلام پر افتراء کیا، بہتان عظیم باندھا۔
یہ بالکل ایسا ہی ہو گا کہ آپ کسی ڈاکٹر کے پاس جائیں کہ آپ کو دانتوں کا مرض ہو لیکن ڈاکٹر آپ کو پاؤں درد کی دوا تھما دے یعنی کہ نہ اس میں بیماری کی تشخیص کرنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی اس کی دوا تجویز کرنے کی۔ محمد علیہ السلام پر کسی قسم کا بہتان باندھنے کی بجائے سورت الکہف کے ذریعے مرض یعنی فتنہ
الدجّال کی تشخیص بھی کریں گے اور اس کے علاج کے لیے اس کی دوا بھی اسی سے اخذ کریں گے ۔
موضو ع لمبا ہونے کی وجہ سے ہم پوری سورت الکہف پر بات تو نہیں کریں گے لیکن ہم موضوع کے اعتبار سے سورۃ الکہف میں ان بنیادی نکات کو سامنے رکھتے
ہوئے بات کریں گے جن سے ایک تو پوری سورت کا احاطہ ہو جائے اور دوسرا ہمارے موضوع کی صراحت کیساتھ وضاحت ہو جائے۔
سورت الکہف میں سب سے پہلے بنی اسرائیل میں سے ان کا ذکر آتا ہے جو عیسٰی ابن مریم کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں یعنی کہ عیسائی اور ان کے فوراً بعد اصحاب الکہف کا ذکر کیا گیا ہے جن کو اس معاشرے کو چھوڑنا پڑا اور جن وجوہات کی بنا پر اس معاشرے کو چھوڑنا پڑا ان کی سختی کو ان کی اللہ سے کی گئی دعا سے با آسانی سمجھا
جا سکتاہے اور اسی دعا کے نتیجے میں اللہ نے ان کی حفاظت کی اس کی صراحت کے ساتھ وضاحت آگے اپنے مقام پر آئے گی۔
عیسیٰ ابن مریم کے گزر جانے کے کچھ عرصے بعدبنی اسرائیل جو کہ یہود میں سے تھے ان کی حکومت قائم تھی اور دینی حالات ایسے تھے جیسے کہ آج موجودہ دنیا میں حالات ہیں اس دوران سات نوجوان عیسیٰ ابن مریم پر ایمان لائے اور اس معاشرے میں دین پر قائم رہنا ناممکن حد تک مشکل تھا جس کی وجہ سے انہیں ہجرت کرنا پڑی اور دنیا کے حالات ایسے تھے کہ جیسے اللہ کی زمین پر کوئی ایک بھی ایسا خطہ ان کی پہنچ میں نہیں تھا جہاں پر رہ کر وہ ایمان لانے کا حق ادا کر سکیں۔
بیلے میں یعنی ایسے علاقے میں جہاں انسان آباد نہیں تھے وہاںایک غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے اور اللہ سے دعا کی کہ اے وہ ذات جس نے ہمیں خلق کیا اور کسی نہ کسی مقصد کے لیے خلق کیا اور جس مقصد کے لیے خلق کیا اگر ہم وہ مقصد پورا نہ کریں گے تو نہ صرف ہم خود خسارے میں رہیں گے بلکہ تیرے وضع کردہ المیزان میں بھی خسارے کا باعث بنیں گے اس لیے اگر ہم نے وہ مقصد پورا نہ کیا تو ہم خسارے میں رہیں گے چونکہ اب ہم اس مقصد کو جان چکے ہیں ہم پر حق واضح ہو چکا ہے اور تُو جانتا ہے کہ اس وقت دنیا کے ایسے حالات ہو چکے ہیں کہ وہ مقصد پورا کرنا ممکن نہیں اس لیے صرف تو ہی ایک ایسی ذات ہے جو ہماری حفاظت کر سکتی ہے اس لیے خالص اپنی ہی طرف سے ہماری حفاظت کر جس کے جواب میں اللہ نے یعنی فطرت نے انہیں تب تک ایسی حالت میں کر دیا کہ ان پر وقت اثر انداز نہ ہو اور وہ ایسی کیفیت میں رہے کہ جیسے انسان آنکھیں کھول کرسویا ہوا ہواور کروٹیں بدلتا رہے لیکن دیکھنے والے اسے جاگتا ہوا محض لیٹا ہوا
تصور کریں جب تک کہ اس خطے میں دین قائم نہ ہو گیا۔
سورۃ الکہف کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کے دونوں گروہوں کا ذکر ملتا ہے یہود یوںکا بھی اورعیسائیوں کا بھی اور عیسائی وہی تھے جو پہلے یہود تھے عیسیٰ ابن مریم پر ایمان نہیں لائے تھے لیکن جیسے جیسے عیسیٰ ابن مریم پر ایمان لانے والوں کی کثرت ہوتی گئی اور علاقے فتح ہوتے گئے تو یہ یہود بھی عیسیٰ پرایمان لا چکے
تھے جن کی پہلے حکومت تھی جن کی وجہ سے اصحاب الکہف یعنی کہ خالص اللہ پر ایمان لانے والے آزمائش کا شکار ہوئے۔
اس سے جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ کہ فتنہ الدجّال کی ابتداء کرنے والوں میں پیچھے یہودی ہوں گے لیکن بظاہر پوری دنیا پر عیسائی غالب آ جائیں گے۔ دنیا پر ان کا غلبہ یا غلبے کے لیے جب جدوجہد شروع ہو جائے گی تو فتنہ الدجّال کی راہ ہموار ہو نا شروع ہو جائے گی اگر ان کا رستہ نہ روکا گیا انہیں مغلوب نہ کیا گیا تو پھر مومنوں کے لیے یہ دنیا کے حالات بالکل ویسے ہی کر دیں گے جیسے اصحاب الکہف کے لیے ہو گئے تھے دنیا کے حالات ایسے تھے کہ وہ جس مقصد کے لیے دنیا
میں بھیجے گئے اس مقصد کو پورا نہیں کر سکتے تھے۔
پھر تیسرا واقعہ موسیٰ اور اللہ کے ایک غلام کا ہے اورپھر چوتھا واقعہ ذی القرنین کا ہے جس میں یاجوج اور ماجوج کا واضح ذکر موجود ہے۔ یاجوج اور ماجوج کا فتنہ الدجّال سے بہت گہرا تعلق ہے اس لیے فتنہ الدجّال کو سمجھنے کے لیے یاجوج اور ماجوج کو سمجھنا بہت ضروری ہے اور پھر یاجوج اور ماجوج کا ذی القرنین کے واقعے میں ذکر کیا جانا یہ بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے جس سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ذی القرنین کے بارے میں بھی جاننا اشد ضروری ہے۔ اس کے علاوہ جب مجموعی طور پر سورت الکہف میں نظر دوڑائیں تو اللہ نے دنیا وی مال و متاع، دنیا کی زینت یعنی وہ اشیاء جو آخرت سے غافل اور دنیا کی طرف رغبت
دلاتی ہیں سے بچنے کے لیے بہت زور دیا ہے۔
ہم ان ساری باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے کتاب میں سب سے پہلے الکتاب اورقرآن کی روشنی میں یاجوج اور ماجوج کو کھول کھول کر واضح کریں گے اس کے بعد ذی القرنین کے بارے میں حق کھول کھول کر واضح کریں گے تا کہ آپ پر مزید حقائق کھل کر واضح ہو جائیں پھر انہی سے متعلقہ وہ تمام معاملات جو سامنے آتے جائیں گے ان کو بھی ہر لحاظ سے کھول کھول کر واضح کریں گے اس طرح جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے جائیں گے تو ہر شئے کی حقیقت کھل کر واضح ہو جائے گی اورآپ فتنہ الدجّال کو بالکل کھل کر پہچان جائیں گے اس میں کسی بھی قسم کا کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہے گا۔ اب سب سے پہلے یاجوج اور ماجوج کو کھول کر

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...