WARNING FROM MOTHER NATURE
قسط نمبر#26
قدرتی اشیاء میں پلاسٹک: پرندوں کی چونچیں، پنجے، انسانوں اور جانوروں وغیرہ کی ہڈیاں،ناخن اور جانوروں کے کھر، بال اور پر وغیرہ ۔۔۔انسان اور اللہ کے خلق کیے ہوئے پلاسٹک میں فرق کیا ہے ہم اسے بھی سامنے رکھتے ہیں۔
اللہ کا خلق کیا ہوا پلاسٹک دوبارہ واپس اسی حالت میں لوٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے وہ وجود میں آیا یعنی اگر قدرتی پلاسٹک آپ کی غذا کے ذریعے آپ کے معدے میں جائے گا تو وہ ہضم ہو جائے گا لیکن اس کے برعکس انسان کا بنایا ہوا پلاسٹک جب ایک بار بن جائے تو پھر انسان میں اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ دوبارہ اسے اسی حالت میں لوٹا سکے جس سے اسے بنایا اور نہ ہی وہ پلاسٹک دوبارہ کسی کیمیائی عمل سے گزار کر دوبارہ پہلی حالت میں لوٹایا جا سکتا ہے۔
انسان کے بنائے ہوئے پلاسٹک کی دو اقسام ہیں ایک وہ جسے دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے اور دوسری قسم وہ جسے صرف ایک ہی بار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پہلی قسم کے پلاسٹک سے تیار شدہ اشیاء جب ناکارہ ہو جاتی ہیں یا اپنی مدت پوری کر جاتی ہیں تو انہیں پگھلا کر ان سے کوئی اور شئے تیار کر لی جاتی ہے لیکن دوسری قسم کے پلاسٹک کا استعمال وہیں کیا جاتا ہے جہاں صرف ایک ہی بار اس سے فائدہ حاصل کر لیا جائے اور اس سے پلاسٹک کے بیگ یعنی شاپر تیار کیے جاتے ہیں اس کے علاوہ لاتعداد مختلف اشیاء کی پیکنگ میں اسی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً موجودہ دور میں پلاسٹک میں پیک کی جانے والی تمام اشیاء جیسے کھانے
پینے کی اشیاء دالیں، مصالحے،وغیرہ سبزیاں، فروٹ، ٹوتھ پیسٹ سمیت لاتعداد اشیاء ۔
جب آپ یا کوئی بھی شخص کوئی ایسی شئے خریدتا ہے جو شاپر میں لاتا ہے یا پلاسٹک کی پیکنگ میں تو وہ اس پلاسٹک کو کوڑے دان میں پھینکتا ہے۔ موجودہ دور میں دو طرح کے معاشرے ہیں ایک معاشرہ وہ جہاں جدید صفائی کا دجل نما نظام ہے جس میں پورا مغرب اور نام نہاد ترقی یافتہ ایشیائی ممالک بھی آتے ہیں اور دوسری طرح کا معاشرہ جہاں صفائی کا کوئی خاطر خواہ نظام نہیں جسے تیسری دنیا کے ممالک کا نام بھی دیا جاتا ہے جس میں انڈیا، پاکستان کا نام بھی آتا ہے۔
تیسری دنیا کے ممالک میں صفائی کا جدید نظام نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کوڑا مختلف جگہوں یعنی گلی محلوںمیں پھینک دیا جاتا ہے جس میں جنگل، کھلے میدان وغیرہ سر فہرست ہیں ۔ ہوائیںاس کوڑے میں موجود پلاسٹک کو اڑائے پھرتی ہیں اور وہ پورے علاقے میں پھیل جاتا ہے جس سے مختلف جانور، پرندے اور آب و ہوا کو نقصان پہنچتا ہے۔ زمین میں پیداوار کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے کیونکہ پلاسٹک ایسی زہریلی گیسیں پیدا کرتا ہے جو ہر قسم کی حیات کے لیے زہر قاتل ہوتی
ہیں۔
وَلَہٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْھًا وَّاِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ ۔ آل عمران ۸۳
اور جو وجود موجود ہے اسی وجود کو سرنڈر کیا ہوا ہے سر خم تسلیم یعنی خود کو اسی کے حوالے کیا ہوا ہے جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے یا کراہت سے اور
اسی کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔
وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْھًا ۔ الرعد ۱۵
اور اللہ کے لیے گویا کہ خود ہی اپنے آپ کو مکمل جھکائے ہوئے ہے جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے چاہتے ہوئے خوشی سے یا نہ چاہتے ہوئے بھی کراہت
سے ۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ وَکَثِیْر’‘ مِّنَ النَّاسِ ۔ الحج ۱۸
کیا نہیں دیکھا اس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ تھا گویا کہ خود ہی اپنے آپ کو مکمل طور پر جھکائے ہوئے ہے سجدہ کیے ہوئے ہے جو وجود موجود ہے اس کو جو بھی آسمانوں میں ہے اور جو بھی زمین میں ہے اور سورج، اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور تیر کررینگ کر چل کر اور اڑ کر حرکت کرنے والے اور لوگوں میں سے بھی ایک بڑی تعداد ہے جو اسی کو سجدہ کیے ہوئے ہے یعنی خود کو اس کے آگے مکمل طور پر جھکائے ہوئے ہیں وہی کر رہے ہیں جس کا وہ ذات حکم دے
رہی ہے۔
وَلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ عِنْدَہٗ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَلَا یَسْتَحْسِرُوْن۔ الانبیاء ۱۹
اور جو وجود موجود ہے اسی کا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اورجووجود موجود ہے اس کے ہاں ہے یعنی جو کچھ بھی اللہ کے ہاں ہے یعنی اللہ کے وجود میں ہے جو وجود موجود ہے اس میں جو بھی ہے نہیں خود کو بڑا کہہ رہے یعنی اپنی من مانی اپنی مرضیاں نہیں کر رہے اس کی غلامی کے حوالے سے اور نہ ہی کوئی خسارہ کر رہے
ہیں۔
یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ ۔ الانبیاء ۲۰
جیسا کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے فوراً تیزی سے اس پر عمل کررہے ہیں رات اوردن نہیں افتراء کر رہے یعنی وہی کر رہے ہیں جو انہیں حکم دیا جا رہا ہے وہ خود سے اپنی من مانی اپنی مرضی نہیں کر رہے کہ انہیں وہ کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے جو وہ اپنی مرضی کریں اور انہیں حکم اس کا دیا ہی نہ گیا ہویا یہ کہ جو اسنے حکم دیا اس کے برعکس وہ ایسا کچھ نہیں کرتے کہ اس کی بجائے اس میں فائدہ ہے اس لیے ہم یہ کر رہے ہیں وہ ایسا کچھ نہیں کرتے صرف وہی کررہے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جارہا ہے۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ کُلّ’‘ قَدْ عَلِمَ صَلَا تَہٗ وَتَسْبِیْحَہٗ ۔ النور ۴۱
کیا نہیں دیکھا اس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ تھا گویا کہ خود ہی اس پر تیزی سے اسی طرح عمل کر رہا ہے جو کرنے کا حکم دیا گیا اس کے لیے جو وجود موجود ہے جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہے اور فضا میں تیرنے والے صفوں میں ، تمام کے تمام کو جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے سب کو علم ہے جو قدر میں کر دیا گیا ان کی صلاۃ کا یعنی انہیں خلق کرنے کا جو مقصد ہے اور جس مقصد کے لیے انہیں وجود میں لایا گیا جو ان کا مقصد ہے جب انہیں کرنے کا کہا گیا ہے جو وہ بغیر کسی حیلے
بہانے اور عذر کے کر رہے ہیں۔
وَلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کُلّ’‘ لَّہٗ قٰنِتُوْن۔ الروم ۲۶
اور جو وجود موجود ہے اسی وجود کا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کے لیے قناعت کر رہے ہیں یعنی ان کو اگر ان کی ضروریات نہیں مل رہیں یا ان کے کیساتھ ظلم و زیادتیاں ہو رہی ہیں ان کیساتھ ظلم کیا جا رہا ہے اس کے باوجود وہ کوئی شکایت کیے بغیر صبر کر رہے ہیں برداشت کر رہے ہیں تو اسی وجود کے لیے کر
رہے ہیں جو وجود موجود ہے ۔
سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْض۔ الحشر ۱
جیسے ہی اور جو انہیں حکم دیا جاتا ہے فوراً تیزی سے اس پر عمل کرتے ہیں اللہ کے لیے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں۔
یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْض۔ الحشر ۲۴
جو بھی گویا کہ خود تیزی سے عمل کر رہے ہیں اسی وجود کے لیے کر رہے ہیں جو وجود موجود ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔
سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ الحدید ۱
جیسے ہی اور جو انہیں حکم دیا جاتا ہے فوراً تیزی سے اس پر عمل کرتے ہیں اللہ کے لیے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ ۔ الذاریات ۵۶
اور نہیں خلق کیا گیا جن اور انس کو مگر اپنی غلامی کے لیے۔ جن اور انس کو جمع کرنے سے انسان بنتا ہے جن و انس یعنی انسانوں کو نہیں خلق کیا اگر کیا ہے تو جس
وجود نے جس ذات نے انہیں خلق کیا اس نے اپنی غلامی کے لیے انہیں خلق کیا ہے۔
ان آیات میں اللہ نے واضح کر دیا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے یعنی تمام کی تمام مخلوقات سب اللہ کی غلام ہیں سب کی سب اللہ کے حکم پر عمل کر رہی
ہیںسب کی سب مسلم ہیں سوائے نا فرمان جن و انس کے جن سے غلامی کا تقاضہ کیا جا رہا ہے۔
کیسے یہ سب مسلم ہیں؟ مثلاً پرندوں کو ہی لے لیجئے انہیں جو حکم اللہ نے دے دیا وہ اسی پر عمل کر رہے ہیں ہمیں تو وہ صرف کھاتے ہوئے اور اڑتے پھرتے نظر آرہے ہیں لیکن بہت سے پرندے ایسے ہیں جو اللہ کی ایسی فیکٹریاں ہیں جو بالکل وہی کام کررہے ہیں جیسے ہم سکریپ کو ریسائیکل کر کے دوبارہ قابل استعمال بنا دیتے ہیں۔ یہ پرندے جو اللہ کے چلتے پھرتے کارخانے ہیں اللہ نے ان کے اندر یہ بات رکھ دی یعنی ان کی پروگرامنگ کر دی جو انہیں کرنا ہے جو بھی انہیں کھانا ہے وہ وہی کھاتے ہیں اسی طرح بہت سے پرندے ایسے ہیں جو ایسی اشیاء کھاتے ہیں جن میں پلاسٹ پایا جاتا ہے ۔ اب جب آپ مصنوعی پلاسٹک
جگہ جگہ پھینکتے ہیں تو وہ پرندے اٹھا کر کھاتے ہیں اور ان کی اس سے موت واقع ہو جاتی ہے۔
(جاری ہے)۔۔۔
قدرتی اشیاء میں پلاسٹک: پرندوں کی چونچیں، پنجے، انسانوں اور جانوروں وغیرہ کی ہڈیاں،ناخن اور جانوروں کے کھر، بال اور پر وغیرہ ۔۔۔انسان اور اللہ کے خلق کیے ہوئے پلاسٹک میں فرق کیا ہے ہم اسے بھی سامنے رکھتے ہیں۔
اللہ کا خلق کیا ہوا پلاسٹک دوبارہ واپس اسی حالت میں لوٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے وہ وجود میں آیا یعنی اگر قدرتی پلاسٹک آپ کی غذا کے ذریعے آپ کے معدے میں جائے گا تو وہ ہضم ہو جائے گا لیکن اس کے برعکس انسان کا بنایا ہوا پلاسٹک جب ایک بار بن جائے تو پھر انسان میں اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ دوبارہ اسے اسی حالت میں لوٹا سکے جس سے اسے بنایا اور نہ ہی وہ پلاسٹک دوبارہ کسی کیمیائی عمل سے گزار کر دوبارہ پہلی حالت میں لوٹایا جا سکتا ہے۔
انسان کے بنائے ہوئے پلاسٹک کی دو اقسام ہیں ایک وہ جسے دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے اور دوسری قسم وہ جسے صرف ایک ہی بار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پہلی قسم کے پلاسٹک سے تیار شدہ اشیاء جب ناکارہ ہو جاتی ہیں یا اپنی مدت پوری کر جاتی ہیں تو انہیں پگھلا کر ان سے کوئی اور شئے تیار کر لی جاتی ہے لیکن دوسری قسم کے پلاسٹک کا استعمال وہیں کیا جاتا ہے جہاں صرف ایک ہی بار اس سے فائدہ حاصل کر لیا جائے اور اس سے پلاسٹک کے بیگ یعنی شاپر تیار کیے جاتے ہیں اس کے علاوہ لاتعداد مختلف اشیاء کی پیکنگ میں اسی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً موجودہ دور میں پلاسٹک میں پیک کی جانے والی تمام اشیاء جیسے کھانے
پینے کی اشیاء دالیں، مصالحے،وغیرہ سبزیاں، فروٹ، ٹوتھ پیسٹ سمیت لاتعداد اشیاء ۔
جب آپ یا کوئی بھی شخص کوئی ایسی شئے خریدتا ہے جو شاپر میں لاتا ہے یا پلاسٹک کی پیکنگ میں تو وہ اس پلاسٹک کو کوڑے دان میں پھینکتا ہے۔ موجودہ دور میں دو طرح کے معاشرے ہیں ایک معاشرہ وہ جہاں جدید صفائی کا دجل نما نظام ہے جس میں پورا مغرب اور نام نہاد ترقی یافتہ ایشیائی ممالک بھی آتے ہیں اور دوسری طرح کا معاشرہ جہاں صفائی کا کوئی خاطر خواہ نظام نہیں جسے تیسری دنیا کے ممالک کا نام بھی دیا جاتا ہے جس میں انڈیا، پاکستان کا نام بھی آتا ہے۔
تیسری دنیا کے ممالک میں صفائی کا جدید نظام نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کوڑا مختلف جگہوں یعنی گلی محلوںمیں پھینک دیا جاتا ہے جس میں جنگل، کھلے میدان وغیرہ سر فہرست ہیں ۔ ہوائیںاس کوڑے میں موجود پلاسٹک کو اڑائے پھرتی ہیں اور وہ پورے علاقے میں پھیل جاتا ہے جس سے مختلف جانور، پرندے اور آب و ہوا کو نقصان پہنچتا ہے۔ زمین میں پیداوار کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے کیونکہ پلاسٹک ایسی زہریلی گیسیں پیدا کرتا ہے جو ہر قسم کی حیات کے لیے زہر قاتل ہوتی
ہیں۔
وَلَہٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْھًا وَّاِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ ۔ آل عمران ۸۳
اور جو وجود موجود ہے اسی وجود کو سرنڈر کیا ہوا ہے سر خم تسلیم یعنی خود کو اسی کے حوالے کیا ہوا ہے جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے یا کراہت سے اور
اسی کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔
وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْھًا ۔ الرعد ۱۵
اور اللہ کے لیے گویا کہ خود ہی اپنے آپ کو مکمل جھکائے ہوئے ہے جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے چاہتے ہوئے خوشی سے یا نہ چاہتے ہوئے بھی کراہت
سے ۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ وَکَثِیْر’‘ مِّنَ النَّاسِ ۔ الحج ۱۸
کیا نہیں دیکھا اس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ تھا گویا کہ خود ہی اپنے آپ کو مکمل طور پر جھکائے ہوئے ہے سجدہ کیے ہوئے ہے جو وجود موجود ہے اس کو جو بھی آسمانوں میں ہے اور جو بھی زمین میں ہے اور سورج، اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور تیر کررینگ کر چل کر اور اڑ کر حرکت کرنے والے اور لوگوں میں سے بھی ایک بڑی تعداد ہے جو اسی کو سجدہ کیے ہوئے ہے یعنی خود کو اس کے آگے مکمل طور پر جھکائے ہوئے ہیں وہی کر رہے ہیں جس کا وہ ذات حکم دے
رہی ہے۔
وَلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ عِنْدَہٗ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَلَا یَسْتَحْسِرُوْن۔ الانبیاء ۱۹
اور جو وجود موجود ہے اسی کا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اورجووجود موجود ہے اس کے ہاں ہے یعنی جو کچھ بھی اللہ کے ہاں ہے یعنی اللہ کے وجود میں ہے جو وجود موجود ہے اس میں جو بھی ہے نہیں خود کو بڑا کہہ رہے یعنی اپنی من مانی اپنی مرضیاں نہیں کر رہے اس کی غلامی کے حوالے سے اور نہ ہی کوئی خسارہ کر رہے
ہیں۔
یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ ۔ الانبیاء ۲۰
جیسا کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے فوراً تیزی سے اس پر عمل کررہے ہیں رات اوردن نہیں افتراء کر رہے یعنی وہی کر رہے ہیں جو انہیں حکم دیا جا رہا ہے وہ خود سے اپنی من مانی اپنی مرضی نہیں کر رہے کہ انہیں وہ کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے جو وہ اپنی مرضی کریں اور انہیں حکم اس کا دیا ہی نہ گیا ہویا یہ کہ جو اسنے حکم دیا اس کے برعکس وہ ایسا کچھ نہیں کرتے کہ اس کی بجائے اس میں فائدہ ہے اس لیے ہم یہ کر رہے ہیں وہ ایسا کچھ نہیں کرتے صرف وہی کررہے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جارہا ہے۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ کُلّ’‘ قَدْ عَلِمَ صَلَا تَہٗ وَتَسْبِیْحَہٗ ۔ النور ۴۱
کیا نہیں دیکھا اس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ تھا گویا کہ خود ہی اس پر تیزی سے اسی طرح عمل کر رہا ہے جو کرنے کا حکم دیا گیا اس کے لیے جو وجود موجود ہے جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہے اور فضا میں تیرنے والے صفوں میں ، تمام کے تمام کو جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے سب کو علم ہے جو قدر میں کر دیا گیا ان کی صلاۃ کا یعنی انہیں خلق کرنے کا جو مقصد ہے اور جس مقصد کے لیے انہیں وجود میں لایا گیا جو ان کا مقصد ہے جب انہیں کرنے کا کہا گیا ہے جو وہ بغیر کسی حیلے
بہانے اور عذر کے کر رہے ہیں۔
وَلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کُلّ’‘ لَّہٗ قٰنِتُوْن۔ الروم ۲۶
اور جو وجود موجود ہے اسی وجود کا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کے لیے قناعت کر رہے ہیں یعنی ان کو اگر ان کی ضروریات نہیں مل رہیں یا ان کے کیساتھ ظلم و زیادتیاں ہو رہی ہیں ان کیساتھ ظلم کیا جا رہا ہے اس کے باوجود وہ کوئی شکایت کیے بغیر صبر کر رہے ہیں برداشت کر رہے ہیں تو اسی وجود کے لیے کر
رہے ہیں جو وجود موجود ہے ۔
سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْض۔ الحشر ۱
جیسے ہی اور جو انہیں حکم دیا جاتا ہے فوراً تیزی سے اس پر عمل کرتے ہیں اللہ کے لیے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں۔
یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْض۔ الحشر ۲۴
جو بھی گویا کہ خود تیزی سے عمل کر رہے ہیں اسی وجود کے لیے کر رہے ہیں جو وجود موجود ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔
سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ الحدید ۱
جیسے ہی اور جو انہیں حکم دیا جاتا ہے فوراً تیزی سے اس پر عمل کرتے ہیں اللہ کے لیے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ ۔ الذاریات ۵۶
اور نہیں خلق کیا گیا جن اور انس کو مگر اپنی غلامی کے لیے۔ جن اور انس کو جمع کرنے سے انسان بنتا ہے جن و انس یعنی انسانوں کو نہیں خلق کیا اگر کیا ہے تو جس
وجود نے جس ذات نے انہیں خلق کیا اس نے اپنی غلامی کے لیے انہیں خلق کیا ہے۔
ان آیات میں اللہ نے واضح کر دیا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے یعنی تمام کی تمام مخلوقات سب اللہ کی غلام ہیں سب کی سب اللہ کے حکم پر عمل کر رہی
ہیںسب کی سب مسلم ہیں سوائے نا فرمان جن و انس کے جن سے غلامی کا تقاضہ کیا جا رہا ہے۔
کیسے یہ سب مسلم ہیں؟ مثلاً پرندوں کو ہی لے لیجئے انہیں جو حکم اللہ نے دے دیا وہ اسی پر عمل کر رہے ہیں ہمیں تو وہ صرف کھاتے ہوئے اور اڑتے پھرتے نظر آرہے ہیں لیکن بہت سے پرندے ایسے ہیں جو اللہ کی ایسی فیکٹریاں ہیں جو بالکل وہی کام کررہے ہیں جیسے ہم سکریپ کو ریسائیکل کر کے دوبارہ قابل استعمال بنا دیتے ہیں۔ یہ پرندے جو اللہ کے چلتے پھرتے کارخانے ہیں اللہ نے ان کے اندر یہ بات رکھ دی یعنی ان کی پروگرامنگ کر دی جو انہیں کرنا ہے جو بھی انہیں کھانا ہے وہ وہی کھاتے ہیں اسی طرح بہت سے پرندے ایسے ہیں جو ایسی اشیاء کھاتے ہیں جن میں پلاسٹ پایا جاتا ہے ۔ اب جب آپ مصنوعی پلاسٹک
جگہ جگہ پھینکتے ہیں تو وہ پرندے اٹھا کر کھاتے ہیں اور ان کی اس سے موت واقع ہو جاتی ہے۔
(جاری ہے)۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://lnkd.in/gM4QHnrd
Part 2
https://lnkd.in/gHdHQuJm
Part 3
https://lnkd.in/gvr7KhMT
Part 4
https://lnkd.in/g2fv5fPx
Part 5
https://lnkd.in/gK4APFry
Part 6
https://lnkd.in/gm3ZMm86
Part 7
https://lnkd.in/gysSgU7y

No comments:
Post a Comment