WARNING FROM MOTHER NATURE
قسط نمبر#49
وَتَرَکْنَا بَعْضَھُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰھُمْ جَمْعًا۔ الکہف ۹۹
اس آیت کو احسن بیّن کرنے کے لیے اس میں استعمال ہونے والے بعض الفاظ کو بالکل کھول کر واضح کرنا ضروری ہے، پہلا لفظ ہے
یَوْمَئِذٍ: جس کے معنی ہیں وہ لمبی مدت جس کا اللہ نے وعدہ کیاتھا وہ مدت جس میں عالمین میں سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا جو قرآن کے نزول کے بعد
الساعت کے قیام کے قریب آنا تھی جس کی وجہ سے ہی الساعت کا قیام ہونا ہے۔ پھر اگلا لفظ ہے یموج۔
یَّمُوْجُ: موج سے ہے جس کے معنی ہیں جیسے لہر ہوتی ہے آپ دیکھتے ہیں کہ پانی کی ایک لائن مسلسل آگے کو بڑھتی ہے جب تک کہ وہ اپنے انجام کو یا کنارے
پر نہیں پہنچ جاتی بالکل اسی طرح کوئی کام مسلسل پراسس یعنی مراحل سے گزرتا ہوا آگے بڑھتا رہے یہاں تک کہ وہ مکمل نہ ہو جائے۔
مثال کے طور پر ایک سو لوگوں کی ایک لائن ہو ان میں سب سے پہلا شخص اینٹ اٹھاتا ہے اور اگلے کو پکڑا دیتا ہے وہ اس سے اگلے کو وہ اس سے اگلے کو یہاں تک کہ اینٹ اپنی منزل کو نہیں پہنچ جاتی اس طرح جب اینٹیں سفر کرتی ہوئی نظر آئیں تو آپ کو بالکل لہر کی مانند نظر آئیں گی جسے عربی میں موج کہا جاتا ہے۔
جیسے مثال کے طور پر ذرا غور کریں ایک گاڑی کیسے وجود میں آئی اگر اس کا سلو موشن تصور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ جگہ جگہ سے زمین پھٹ رہی ہے اس میں سے مختلف مواد نکالا جا رہا ہے وہ مواد آگے سفر کر رہا ہے یہاں تک کہ مختلف کارخانوں سے گزرتا ہوا مختلف دھاتوں کی صورت اختیار کرتا ہے وہاں سے آگے جا رہا ہے مختلف پرزوں میں ڈھل رہا ہے وہ پرزے آگے بڑھ رہے ہیں یہاں تک کہ گاڑی وجود میں آ جاتی ہے اس طرح کے پراسس یا مراحل کے تسلسل کو عربی میں
موج کہتے ہیں۔
پھر اگلا جملہ جو کہ مجموعی طور پر تین الفاظ ہیں َّنُفِخَ فِی الصُّوْر:
صور: صور کے معنی ہیںمادے کو کسی بھی صورت میں ڈھالنا، مثلاً آپ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں مختلف پھلوں کوجو کہ مختلف صورہ ہیں تمام کے تمام پھل مادے کی مختلف صورتیں ہیں اسی طرح جتنی بھی مخلوقات آپ کو نظر آ رہی ہیں یہ تمام کی تمام مخلوقات صورہ ہیں یہ مادہ ہی مختلف صورتوں میں ڈھالا گیا ہے۔
نفخ فی الصور کے معنی ہیں جو صورہ ہے اس میں نفخ ہونا یعنی اس میں ایسی قوت ڈالنا کہ اس میںوہ مقصد پورا کرنے کی صلاحیتیں آ جائیں جس مقصد کو پورا کرنے
کے لیے اسے خلق کیا گیا یعنی نفخ کہتے ہیں جو جسد کو جسم میں تبدیل کر دے یا صنم کو وثن میں بدل دے۔
جسد دو الفاظ کا مجموعہ ہے ’’جس‘‘ اور ’’سد‘‘ ۔ ’’جس‘‘ کے معنی مادی وجود کے ہیں اور ’’سد‘‘ کے معنی رکاوٹ کے ہیں جسد کہتے ہیں ایسے وجود کو جو محض رکاوٹ ہو اس سے بڑھ کر کچھ نہ ہو جیسے مثال کے طور پر آپ پتھر سے لکڑی سے یا کسی بھی شئے سے کچھ وضع کرتے ہیں کچھ بناتے ہیں جس میں کچھ بھی
کرنے کی صلاحیت نہیں یعنی صنم ہو تو اسے عربی میں جسد کہا جائے گا
اور جسم بھی دو الفاظ کا مجموعہ ہے ’’جس‘‘ اور ’’سم‘‘۔ ’’جس‘‘ کے معنی آپ پہلے ہی جان چکے ہیں ’’جس‘‘ کہتے ہیں کسی مادی وجود کو اور ’’سم‘‘ کے
معنی ہیں کچھ کرنے کی صلاحیتوں کا ہونا، خصوصیات، کوالٹیز۔ جسم کے معنی ہیں ایسا وجود جس میں کچھ کرنے کی صلاحیتیں ہوتی ہیں۔
جسد ایک صورہ ہے جب اس میں نفخ کیا جائے تو وہ جسد نہیں رہتا بلکہ جسد سے جسم بن جاتا ہے۔
فطرت یعنی اللہ کی ایسی خلق جو بے جان ہوتی ہے جو کوئی نہ کوئی مادی وجود تو ہوتا ہے لیکن بظاہر وہ محض رکاوٹ ہوتا ہے جیسے کہ پتھر کی ہی مثال لے لیں اسے جسد
کہا جاتا ہے اللہ کے برعکس انسان کے اپنے ہی ہاتھوں سے خلق کردہ تراشیدہ ایسی شئے کو عربی میں صنم کہا جاتا ہے۔
اسی طرح اللہ کی خلق کردہ ایسی شئے یعنی فطرت جو ایسی اشیاء کو وجود میں لاتی ہے جن میں کچھ کرنے کی صلاحیتیں ہوتی ہیں جیسے کہ حرکت کرنا، دیکھنا، سننا اس پر عمل کرنا یعنی کچھ کرنا وغیرہ انہیں عربی میں جسم کہا جاتا ہے اور اللہ کے برعکس انسان کی خلق کردہ ایسی اشیاء جن میں کچھ کرنے کی صلاحیتیں ہوتی ہیں یعنی انسان کی اپنے ہی ہاتھوں سے وضع کردہ ایسی مخلوقات جن میں کرنے کی صلاحیتیں ہوتی ہیں جیسے کہ آج طرح طرح کی مشینیں وغیرہ ہیں انہیں عربی میں جسم نہیں بلکہ
وثن اور اس کی جمع اوثان کہا جاتا ہے۔
نفخ فی الصور یہ ہے کہ ایک وقت تھا جب انسان اپنے ہی ہاتھوں سے صورتیں خلق کرتا تھا یعنی پتھروں سے صنم وغیرہ تراشتا تھا لکڑی سے صنم وغیرہ تراشتا تھا لوہے، لکڑی و مٹی وغیرہ سے مختلف صورتیں خلق کرتا تھا جن کا مقصد اپنی حاجات کو پورا کرنا ہوتا تھا جن میں اصنام یعنی بت اور باقی ضرورت کی اشیاء ہوتی تھیں لیکن ان میں نفخ کرنے کی صلاحیت انسان میں نہیں تھی یعنی انسان میں ایسی صلاحیتیں نہیں تھیں کہ وہ اپنے ہی ہاتھوں سے خلق کردہ صورتوں میں جان ڈال سکے انہیں اس
قابل بنا سکے کہ ان میں نفع و نقصان پہنچانے کی صلاحیتیں آ جائیں۔
یہی اللہ نے کہا تھا کہ جب نفخ فی الصور ہو گا یعنی ایک وقت آئے گا جب انسان اپنے ہی ہاتھوں سے خلق کردہ صورتوں کو صنم سے وثن بنانے کی صلاحیت حاصل کر لیں گے یہ جو صورۃ بھی خلق کریں گے اس میں جان ڈالنے یعنی اس میں کرنے کی صلاحیتیں ڈال دیں گے ان میں نفع و نقصان پہنچانے کی صلاحیتیں ڈال
دیں گے۔
اگلا لفظ ہے جمع ۔ جمع سے مراد اکٹھا کیا جانا کیا جاتا ہے جو کہ بالکل غلط ہے اکٹھا کرنے کو عربی میں حشر کہتے ہیں جمع کے معنی واضح کرنے کے لیے ایک مثال آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔ مثلاً آپ کے سامنے ایک مشین کے تمام کے تمام پرزے ایک ڈھیر کی صورت میں یا پھر بکھرے پڑے ہیں ان پرزوں کو ترتیب
میں لانا یعنی ایک کے بعد دوسرے پرزے کو جوڑتے جانا یہاں تک کہ مشین بن جائے جمع کرنا کہلاتا ہے۔
ایسے ہی مثلاً اگر آپ نے کوئی نمبر لکھنا ہے اور اس کے لیے دس تک ہندسے ڈھیر کی صورت میں یا پھر بکھرے پڑے ہوں اب مطلوبہ نمبر لکھنے کے لیے جو جو ہندسے درکار ہیں انہیں تریب میں لانا یا پھر اگر ایک سے دس تک گنتی لکھنی ہے اور اس کے لیے ہندسے بکھرے پڑے ہیں یا ڈھیر لگا ہوا ہے تو ان میں سے سب سے پہلے ایک کو لانا پھر ان میں سے دو کو اٹھا کر ایک کے بعدلانا پھر تین کو اٹھا کر دو کے بعد لانا اسی طرح تمام ہندسوں کو ان کی ترتیب میں لانا اسے عربی میں جمع کہتے ہیں ار دو میں جوڑنے کو جمع کہتے ہیں جیسے آپ کسی کو کہتے ہیں سو میں دس جوڑو تو کتنے بنیں گے سامنے والا جواب دے گا ایک سو دس۔
جمع عربی کا لفظ ہے اوراردو میں اس کا متبادل لفظ ہے جوڑنا اس کے علاوہ اردو میں جمع کا لفظ بھی استعمال کیا جاتا ہے لیکن جمع اردو کا نہیں بلکہ عربی کا لفظ ہے۔ مثلاً آپ کے سامنے ایک سو ایسے افراد موجود ہیں جن میں گاڑی کا کوئی نہ کوئی حصہ خلق کرنے کی صلاحیتیں موجود ہیں ان کو جمع کرنا یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو اس کی ذمہ داری پر لگا دینا جب ہر کوئی اپنے اپنے مقام پر اپنی اپنی ذمہ داری پوری کرے گا تو موج یعنی جیسے لہر ہوتی ہے اس طرح مواد سے پرزے اور
پرزوں سے گاڑی وجود میں آئے گی۔
وَتَرَکْنَا بَعْضَھُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰھُمْ جَمْعًا۔ الکہف ۹۹
پیچھے یہ بات بالکل کھول کر واضح کی جا چکی اور آئندہ بھی اس پر تفصیل کیساتھ بات ہو گی کہ اللہ نے اسی قرآن میں کہا کہ اللہ نے جو اتارا ہے یعنی یہ قرآن اپنے نزول سے لیکر الساعت کے قیام تک کی احسن تاریخ ہے ایسی بہترین تاریخ کہ اس سے بہتر کوئی تاریخ تھی ہے ہو گی نہ ہو سکتی ہے۔ اللہ نے آج سے چودہ صدیاں قبل اس آیت کی صورت میں آج کی تاریخ اتار دی تھی۔ آج اس وقت دنیا میں جو ہو رہا ہے اللہ نے آج سے چودہ صدیاں قبل ہی اس آیت کی صورت
میں بیان کر دیا تھا آج کی تاریخ اتار دی تھی عظیم نبا دے دی تھی۔
وَتَرَکْنَا بَعْضَھُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰھُمْ جَمْعًا۔ الکہف ۹۹
اللہ نے کہا تھا کہ جب اللہ کا وعدہ آئے گا وہ وعدہ کہ جب آسمانوں و زمین میںیعنی زمین اور اس کے گرد گیسوں کی سات تہوں میں کچھ بھی سلامت نہیں رہے گا کچھ بھی محفوظ نہیں رہے گا تب چھوڑ دیں گے ہم اس وقت دنیا میں جو انسان موجود ہوں گے ان بعض کو بعض میں جیسے لہریں ہوتی ہیں یعنی جب وہ ایک لمبی مدت آئے گی تب انسانوں کا معاملہ یہ ہو گا جیسے کہ لہر ہوتی ہے پوری دنیا کے انسان ایک دوسرے سے کنیکٹڈ ہوں گے جیسے ایک تنظیم یا نیٹ ورک ہوتا ہے ان کا مقصد یہ ہو گا کہ صورۃ خلق کرنا یعنی طرح طرح کی اشیاء خلق کرنا اور ان میں نفخ کرنا یعنی اوثان خلق کرنا ایسی مخلوقات جو انہیں نفع و نقصان پہنچانے کی صلاحیتیں رکھنے والی ہوں گی اس مقصد کے لیے پوری دنیا کے انسان اپنی اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے جمع ہو جائیں گے پوری دنیا کے انسان ایک منظم گروہ کی صورت اختیار کر
جائیں گے ہر کوئی اپنی اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے اپنی اپنی ذمہ داری کو پورا کرے گا اور ان کا مقصد ہو گا نفخ فی الصور۔
آج آپ خود غور کریں کیا آج بالکل وہی نہیں ہو رہا جو اللہ نے آج سے چودہ صدیاں قبل ہی بتا دیا تھا؟ جس کی آج سے چودہ صدیاں قبل ہی تاریخ اتار دی تھی؟ کیا آج انسان صورتیں خلق کر کے ان میں نفخ نہیں کر رہے اس مقصد کے لیے یہ جمع نہیں ہو چکے؟
ایک وقت تھا جب انسان اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی حاجات کو پورا کرنے کے لیے مختلف اشیاء خلق کرتے تھے ان میں سے کچھ اشیاء سے تو اپنی ضروریات کو پورا کرتے تھے اور جہاں وہ خود کو اللہ کا محتاج سمجھتے تو اس مقصد کے لیے بھی وہ اپنے ہی ہاتھوں سے صورتیں خلق کرتے اور ان کے سامنے گڑگڑاتے ان سے اپنی حاجت روائی کے لیے مناجات کرتے جو کہ اصنام یعنی بت تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انسان کو نفخ فی الصور کی صلاحیتیں بھی حاصل ہو گئیں۔ آج نہ صرف انسان صورہ خلق کرتا ہے بلکہ ان میں نفخ بھی کر رہا ہے جیسے آپ دیکھتے ہیں کہ ایک پنکھا عربی میں ایک صورہ ہے جو انسان کی خلق کردہ ہے انسان اسے ملائکہ کیساتھ منسلک کرتا ہے جسے بجلی کا نام دیا جاتا ہے بٹن دباتا ہے تو یہ نفخ فی الصور ہوتا ہے یعنی صورہ میں جان آ جاتی ہے وہ صورہ انسان کو نفع و نقصان پہنچانا شروع
کر دیتی ہے۔ اسی طرح آپ کسی بھی مشین کی مثال لے سکتے ہیں۔
پہلے انسان کوئی بھی ایک مشین جو کہ صورہ ہے وہ خلق کرتا ہے پھر جب اسے آن کرتا ہے یعنی اس میں نفخ کرتا ہے تو وہ مشین انسان کو نفع و نقصان پہنچانا شروع کر
دیتی ہے مخلوقات کو صور کرنا شروع کر دیتی ہے یعنی وہ آگے مزید صورہ خلق کرنا شروع کر دیتی ہے۔
یہ جان لیں کہ اس کے برعکس آج تک نفخ فی الصور کے جو معنی کیے جاتے رہے ان کا حقیقت کے ساتھ دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے وہ محض دیومالائی قصے و کہانیاں ہیں جو ملّاؤں کی خود ساختہ گھڑی ہوئی ہیں جنہیں یہ لوگ آج تک اللہ سے منسوب کرتے رہے کہ اسرافیل ایک فرشتہ ہے وہ اپنے منہ میں صور لیکر اس انتظار میں کھڑا ہے کہ اسے اجازت دی جائے کہ وہ اس میں پھونک مارے اور صور ایک سینگ کا خول ہے جس میں سوراخ ہیں جب وہ اس میں پھونک مارے گا
تو جیسے باجا بجتا ہے ایسے آواز آئے گی۔
نفخ فی الصور کیا ہے اللہ نے اس قرآن میں بعض مقامات پر خود ہی وضاحت کر دی۔
سب سے پہلے تو صور کیا ہے اسے جان لیں اس بارے میں اللہ کیا کہتا ہے۔
اللہ نے اس قرآن میں بشر کی تخلیق کے جو مراحل بیان کیے ان میں سے ایک اس بشر کو صور کرنا یعنی یہ بشر ایک صورہ ہے اسے صور کرنا جب صور یعنی صورہ مکمل ہو
جاتی ہے اس کے بعد اللہ اس میں نفخ کرتا ہے جیسا کہ آپ آیات میں دیکھ سکتے ہیں۔
ھُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَآئُ۔ آل عمران ۶
ھُوَ ہی وہ ذات ہے جو تمہیں صور کر رہی ہیں ارحام میں جیسے اس کا قانون ہے یعنی ماؤں کے پیٹوں میں کیسے صور کر رہی ہے کیسے تمہیں صورہ کر رہی ہے جیسے کہ اس نے قانون بنا دیا۔
اس آیت میں اللہ نے یہ بات واضح کر دی کہ تمہیں الارحام میں صور کیا جاتا ہے یعنی تم بشر جو کہ ایک صورہ ہو جیسے باقی مخلوقات صورہ ہیں تمہیں صور کیا جاتا ہے
الارحام میں اور پھر سورۃ السجدہ کی آیت نمبر ۹ میں اللہ نے کہا
ثُمَّ سَوّٰئہُ وَنَفَخَ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُوْنَ۔ السجدہ ۹
پھر اسے صور کرنا مکمل کیا اور نفخ کیا اس میں اپنی روح سے اور کر دیا تمہارے لیے سننا اور دیکھنا اور جو سنتے اور دیکھتے ہو اسے سمجھنا اور انتہائی کم ہیں جو اس مقصد کے لیے سننے دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کا استعمال کر رہے ہیں جس مقصد کے لیے تمہیں یہ صلاحیتیں دیں۔
قرآن میں ایسی اور بھی بہت سی آیات ہیں لیکن یہ آیات بالکل واضح ہیں جن میں اللہ نے کہا کہ تمہیں ماؤں کے پیٹوں میں صور کیا جاتاہے جیسے اس کا قانون ہے اور جب صور کرنا مکمل کر لیا جاتا ہے یعنی جب ماں کے پیٹ میں بشر جو کہ صورہ ہے اس کی تخلیق مکمل ہو جاتی ہے تب نفخ فیہ کیا جاتا ہے یعنی تب اس میں نفخ کیا
جاتا ہے جس سے اس میں جان آ جاتی ہے۔
اب آپ سے سوال ہے کہ آج کون نہیں جانتا کہ ماں کے پیٹ میں بشر کی تخلیق کیسے ہوتی ہے اور اس میں نفخ کرنا کیا ہے۔
پہلے چار مہینے میں ماں کے پیٹ میں بشر صور کیا جاتا ہے اور چار مہینے میں بچہ بالکل مکمل ہو جاتا ہے لیکن اس میں کوئی جان نہیں ہوتی وہ جسد ہوتا ہے چار ماہ کے
بعد اس میں جب نفخ کیا جاتاہے تو وہ جسد سے جسم میں تبدیل ہوجاتا ہے اس میں جان آجاتی ہے۔
نفخ فی الصور کو سمجھنے کے لیے اس سے بہتر راہنمائی ہو ہی نہیں سکتی اور نہ ہی کوئی اس کا رد کر سکتا ہے۔
جیسے چار مہینے تک ماں کے پیٹ میں بچہ بغیر نفخ کے ہوتا ہے تو وہ جسد ہوتا ہے جسد یعنی وہ مادے کو ایک صورت میں ڈھالی گئی محض ایک رکاوٹ ہوتی ہے جہاں رکھ دیں وہاں سے ہلائے بغیر ہل نہیں سکتی ۔ اللہ کی بغیر نفخ فی صور صورہ جسد کہلاتی ہے اور اللہ کے برعکس انسان کی خلق کردہ بغیر نفخ فی الصور صورہ جسد نہیں بلکہ صنم کہلاتی ہے۔ اور اللہ کی صورہ میں جب اللہ نفخ کرتا ہے یعنی جب اللہ نفخ فی الصور کرتا ہے تو وہ جسد سے جسم بن جاتی ہے اور اللہ کے برعکس انسان جب نفخ فی
الصور کرتا ہے تو وہ جسم نہیں بلکہ صنم سے وثن بن جاتی ہے۔
ایک وقت تھا جب انسان صورہ تو خلق کرتے تھے لیکن اس میں نفخ نہیں کر سکتے تھے اللہ نے کہا تھا کہ اللہ کا وہ وعدہ جب آئے گا تب انسان نفخ فی الصور کریں گے یعنی جو بھی خلق کریں گے توان میں نفخ بھی کریں گے اوثان خلق کریں گے انسانوں کے اپنے ہی ہاتھوں سے خلق کردہ مخلوقات انہیں نفع و نقصان پہنچائیں گی ان کے سائد ایفیکٹس سے آسمانوں و زمین میں یعنی زمین اور اس کے گرد گیسوں کی سات تہوں میں کچھ بھی محفوظ نہیں رہے گا سب کچھ درہم برہم ہو جائے گا، فساد عظیم ہو جائے گا اور آج آپ اُسی وقت میں موجود ہیں آج آپ یہ سب اپنی آنکھوں سے ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں یہ جو ہو رہا ہے اس کے بارے میں اللہ نے
مزید آگے کیا کہا اس پر بھی بات کرتے ہیں۔ (جاری ہے)۔۔۔۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment