Wednesday, October 5, 2022

                                WARNING FROM MOTHER NATURE 


قسط نمبر#56

بالکل ایسی ہی ایک اور آیت آپ کو قرآن میں ملے گی اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ۔ المومنون ۱۴
خالقین جمع کا صیغہ ہے ایک سے زائد خلق کرنے والے ان میں اللہ احسن خالق ہے تو جوا حسن ہوجس سے حسن کوئی نہ ہو اسے اخذ کیا جائے گا یعنی ایسا نہیں ہے کہ اللہ خلق کرنے والوں میںا حسن خالق ہے اس بات کا محض زبان سے اقرار کرنا ہے اور اللہ کے علاوہ اوروں کو بھی خالق بنایا جا سکتا ہے یا اللہ احسن خالق ہے تو اس لیے اللہ کو اوپر رکھا جائے گا اور باقی خالقین کو نیچے رکھا جائے گا انہیں ترک نہیں کیا جائے گا نہیں بلکہ اللہ احسن خالقین کا مطلب ہے کہ اللہ سے حسن خالق کوئی نہیں ہے تو جو احسن خالق ہے اسے اخذ کیا جائے گا اس کے علاوہ باقی سب کی نفی کی جائے گی باقی سب کا رد کر دیا جائے گا باقی سب کو کوڑے دان میں پھینک دیا جائے گا بالکل ایسے ہی اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ جو حدیث یعنی تاریخ اللہ نے اتاری ہے وہ احسن ہے اس سے حسن کوئی حدیث یعنی تاریخ نہیں اس لیے جو احسن ہے اسے اخذ کیا جائے گا باقی سب کا رد کر دیا جائے گا۔ جب اللہ کسی بھی مسئلے یا معاملے کی راہنمائی کے لیے قرآن کو احسن الحدیثِ قرار دے رہا ہے تو اگر کوئی احسن تاریخ کو چھوڑ کر جو احسن نہیں ان سے راہنمائی لیتا ہے تو کیا وہ تاریخ کی کتابیں اس کی حاجت کو پورا کر سکتی ہیں؟ نہیں بالکل نہیں۔ جن
کی اپنی کوئی بنیاد نہیں جو خود خامیوں و خرابیوں سے بھرپور ہوں وہ کسی دوسرے کو نفع کیسے دے سکتی ہیں؟
جو احسن تاریخ ہے ہی نہیں کیا وہ اس کے سوال کا احسن جواب دے سکتی ہیں؟ نہیں بالکل نہیں۔ اب جب کہ اس قرآن کے علاوہ کوئی احسن تاریخ ہے ہی نہیں تو پھر اس قرآن کے علاوہ کسی کتاب سے راہنمائی نہیں لی جا سکتی اس قرآن کے علاوہ تاریخ کی ہر کتاب کو کوڑے دان میں پھینک دیا جائے گا ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے گا اگر کوئی اس قرآن کو چھوڑ کر کسی دوسری کتاب سے راہنمائی کے لیے رجوع کرتا ہے تو سوائے دھوکے کے اس کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔
اب آپ خود غور کریں جب اللہ اس قرآن کو احسن تاریخ قرار دے رہا ہے اور اس قرآن کے علاوہ کسی بھی تاریخ سے راہنمائی کی اجازت نہیں دے رہا بلکہ الٹا سختی کیساتھ روک رہا ہے تواس کے باوجود بھی جو ایسا کرتے ہیں تو اللہ کے نزدیک ایسے لوگوں کی حقیقت کیا ہو گی؟ جو ایسا کریں گے ان کے ہاتھ کیا آئے گا؟ ان کے ہاتھ سوائے باطل کے کچھ نہیں آئے گا اور جن لوگوں نے سکندر اعظم یا سائرس ایرانی کو ذی القرنین قرار دیا وہ لوگ تو خود اقرار کر رہے ہیں کہ ذی القرنین کے بارے میں جاننے کے لیے انہوں نے احسن تاریخ قرآن کے برعکس دوسری تاریخ سے رجوع کیا جس نے انہیں ان کے سوال کا جواب دیا۔ تو جب یہ جواب احسن تاریخ کا ہے ہی نہیں تو پھر جواب بھی احسن کیسے ہو سکتا ہے؟ بالکل نہیں ہو سکتا۔ غیر قرآن کا جواب بالکل بے بنیاد ، باطل اور محض
دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔
اور اس سے بڑھ کر تو یہ کہ جب آپ قرآن کو چھوڑ کر کسی دوسری تاریخ سے راہنمائی کے لیے رجوع کرتے ہیں تو آپ اپنے عمل سے اس قرآن کے احسن الحدیثِ ہونے کا کفر کرتے ہیں ظاہر ہے راہنمائی اسی سے لی جائے گی جو احسن ہے اور جب آپ نے قرآن کے برعکس کسی دوسری تاریخ سے راہنمائی لی تو
آپ نے اپنے عمل سے یہ دعویٰ کیا کہ آپ غیر قرآن کو احسن الحدیثِ تسلیم کر رہے ہیں اور قرآن کے احسن الحدیثِ ہونے کا انکار کر رہے ہیں۔

اب آتے ہیں اس طرف کہ اگر قرآن میں ہر سوال کا جواب موجود ہے تو پھر اس سوال کا جواب بھی ضرور ہونا چاہیے کہ ذی القرنین کون ہے۔ اللہ نے قرآن میں اس سوال کا جواب ایک نہیں بلکہ کئی مقامات پر بہت ہی صراحت کیساتھ واضح کر دیا اور ابھی جب حق آپ کے سامنے آئے گا تو آپ کو ان لوگوں کی عقل و ذہانت اور ان کے علم پر حیرانی ہو گی جو دین کے ٹھیکیدار بنے ہوئے تھے اور آج بھی بنے ہوئے ہیں اس کے باوجود وہ اندھے کے اندھے ہیں کہ قرآن میں ایک نہیں دو نہیں بلکہ کئی مقامات پر ذی القرنین کی حقیقت کھول کھول کر بیان کی باقائدہ اس کا کئی مقامات پر نام بھی ذکر کر دیا گیا اس کے باوجود یہ لوگ اندھے
رہے ان کو نظر ہی نہ آیا۔
وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْکُمْ مِّنْہُ ذِکْرًا۔ الکہف ۸۳
وَیَسْئَلُوْنَکَ یہ جملہ ہے جو کہ پانچ الفاظ کا مجموعہ ہے ’’و، ی، سئلو، ن، ک‘‘۔ ’’و‘‘ کے معنی اور آگے ’’ی‘‘ کا استعمال ہوا جو خودی کا اظہار کرتا ہے یعنی کہ آگے جس کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ ہو رہا ہے ۔ اگلا لفظ ہے ’’سئلو‘‘ جو کہ ’’سئل‘‘ سے ہے سئل کہتے ہیں حاجت روائی کے لیے کسی کی طرف لپکنا اور اس کے ساتھ ’’ و‘‘ کا استعمال اسے حال کا صیغہ بنا دیتا ہے کہ ایسا ہو رہا ہے یعنی کوئی حاجت ہے اس حاجت روائی کے لیے کسی کی طرف لپکا جا رہا ہے۔ اگلا لفظ ہے ’’ن‘‘ جس کے معنی ہیں ہم یعنی اللہ خود کا ذکر کر رہا ہے اور اگلا لفظ ہے ’’ک‘‘ جس کے معنی ہیں تُو یعنی جس سے اللہ مخاطب ہے اللہ کا رسول یعنی
اللہ کا بعث کیا ہوا اللہ کا نمائندہ جسے اللہ نے انسانوں کی راہنمائی کے لیے کھڑا کیا۔
اب آتے ہیں اس پورے جملے کی طرف کے کیا کہا جا رہا ہے وَیَسْئَلُوْنَک اور یہ جو حاجت روائی کے لیے لپکا جا رہا ہے وہ ہماری طرف لپکا جا رہا ہے ہماری
طرف سے تُو ہے تو ان کی حاجت روائی کر یعنی ان کے سوال کا جواب دے۔
ذرا غور کریں اگر کسی کے پاس علم ہی نہیں توکیا آپ اس کے پاس اپنا سوال لیکر جائیں گے؟ جو آپ کی حاجت روائی ہی نہیں کر سکتا اور آپ کو علم ہو تو کیا پھر بھی آپ اس کی طرف لپکیں گے اپنی حاجت روائی کے لیے؟ نہیں بالکل نہیں۔ آپ اسی کی طرف لپکیں گے جس کے بارے میں آپ کا گمان ہو گا کہ یہ آپ کی
حاجت روائی کر سکتا ہے یہ آپ کے سوال کا جواب دے سکتا ہے۔
اب ذرا غور کریں کہ پہلی بات قرآن اللہ کا کلام ہے یعنی اس قرآن میں جو کچھ بھی ہے یہ اللہ کی اول تا آخر تمام انسانوں سے کی ہوئی گفتگو ہے جسے آیات کی صورت میں بطور تاریخ درج کر دیا گیا۔ آیات آیت کی جمع ہے اور آیت کہتے ہیں پوری شئے کا چھپے ہوئے ہونا اور اس کا ایک چھوٹا سا پہلو سامنے ہونا جو تھوڑا سا حصہ سامنے ہوتا ہے اسے آیت کہا جاتا ہے جب آیت میں غور کیا جائے تو کیا چھپایا گیا تھا وہ سامنے آ جائے گا یعنی آیت بیّن ہو جائے گی۔
اب ذرا غور کریںقرآن میں کس کی آیات ہیں؟ کس نے آیات اتاریں؟ کیا اللہ کے علاوہ کوئی اور ایسا ہے جس کی یہ آیات ہوں؟ نہیں۔ قرآن میں اللہ کی آیات ہیں اللہ نے یہ سب آیات اتاری ہیں۔ جب یہ اللہ کی آیات ہیں تو پھر اللہ کے علاوہ کس کو علم ہو سکتا ہے کہ اللہ نے ان آیات کے پیچھے کیا چھپایا ہے؟ جو نظر آ رہا ہے اس کی اصل حقیقت کیا ہے؟ اللہ کے علاوہ کون ہے جو ان آیات کو بیّن کر سکتا ہے یعنی ہر لحاظ سے کھول کھول کر واضح کر سکتا ہے؟ جب یہ اللہ کی آیات ہیں تو اللہ کے علاوہ کوئی بھی یہ جواب نہیں دے سکتا کہ ان آیات کے پیچھے کیا چھپا یا ہے ان آیات کی اصل حقیقت کیا ہے ۔
اور اسی وجہ سے اللہ نے اس آیت کے شروع میں ہی کہا کہ یہ جو سوال کیا جا رہا ہے یہ سوال ہم سے ہے یعنی اللہ سے ہے اس لیے صرف اور صرف ہم ہی اس کا جواب دے سکتے ہیں اور ہم کون ہیں یا ہم کیسے جواب دیتے ہیں اسی کا اللہ نے آگے جواب دے دیا کہ تُو ہماری طرف سے ان کے اس سوال کا جواب دے یا یہ
بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہم تیری صورت میں ان کے اس سوال کا جواب دیتے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر سوال کیا ہے؟ تو آیت کے اگلے حصے میں یہ بھی بالکل کھول کر واضح کر دیا کہ سوال کیا ہے۔
عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ قرنین یعنی دو قرن اورذی القرنین کے معنی ہیں وہ شخص جسے دو مخصوص قرن حاصل تھے ۔ یعنی جو سوال کیا جا رہا ہے جس کے جواب کے
لیے کسی کی طرف لپکا جا رہا ہے وہ سوال دو قرن والے کے بارے میں ہے کہ یہ کون ہے جسے دو مخصوص قرن حاصل ہوئے؟
اب ذرا غور کریں کہ کیا ایسا سوال کیا جا رہا ہے؟ جب غور کریں گے تو آپ پر یہ بات بالکل واضح ہے کہ بالکل گزشتہ کئی صدیوں سے لیکر آج تک انسانوں کی اکثریت کا یہ سوال ہے کہ ذی القرنین کون ہے اور اپنی اس حاجت روائی کے لیے اس سوال کے جواب کے لیے ان لوگوں کی طرف لپک رہے ہیں جو انسانوں
کی راہنمائی کے دعویدار ہیں۔
اللہ کے علاوہ کوئی بھی نہیں جانتا کہ انسان کو دنیا میں کیوں لایا گیا اس کے دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے اور وہ مقصد کیسے پورا ہوگا اس لیے اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا راہنمائی بھی نہیں کر سکتا اور اللہ کیسے راہنمائی کرتا ہے یہ بھی اللہ نے قرآن میں کئی مقامات پر بالکل واضح کر دیا کہ تم انسان چونکہ بشر ہو تو تمہی میں سے کسی بشر کا انتخاب کیا جاتا ہے اور اللہ اس بشر کے ذریعے انسانوں کی راہنمائی کرتا ہے انسانوں کے سوالات کے جوابات دیتا ہے۔ اور اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت سے انسان بھی انسانوں کی راہنمائی کے دعویدار بن جاتے ہیں جو طرح طرح کے القابات سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں یعنی وہ زمین پر انسانوں کے درمیان خود کو اللہ کے نمائندے ظاہر کرتے ہیں خواہ اس بات کا اقرار و اظہار کریں یا نہ کریں ان کا عمل ان کی حقیقت کو واضح کر رہا ہوتاہے جو وہ عملاً انسانیت کی راہنمائی کے دعویدار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اصل کا رستہ روکنے کے لیے ایسے ایسے اصول و قوانین گھڑ کر پھیلا رکھے ہوتے ہیں کہ وہ خود عملی طور پر اللہ کی نمائندگی کے دعویدار تو بنے ہوتے ہیں لیکن زبان سے اس کا اقرار نہیں کرتے کیونکہ اگر زبان سے اس بات کا اقرار کریں گے تو اپنے ہی فتوؤں کی زد میں آ جائیں گے اور انسان ان کی پھیلائی ہوئی جہالت کی وجہ سے ان پر ٹوٹ پڑیں گے اور یہی وہ نہیں چاہتے کہ ان کا پردہ چاک ہو ان کی حقیقت کیا ہے انسانوں کے سامنے آئے ۔ یوں وہ زبان سے تو اس بات کا اقرار نہیں کرتے کہ وہ اللہ کے نمائندے ہیں اللہ کی طرف سے انسانوں کی راہنمائی پر معمور ہیں جسے عربوں کی زبان میں نبی کہا جاتا ہے مگر عملاً اللہ کے نمائندے ہونے کے دعویدار ہوتے ہیں عملاً نبی بنے ہوئے ہوتے ہیں اور جس معاملے میں انسانوں کی راہنمائی اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں کر سکتا تو انسان ان لوگوں کو اللہ کا نمائندہ سمجھتے ہوئے اپنے سوال کے جواب کے لیے اپنی حاجت روائی کے لیے ان کی طرف لپکتے ہیں۔
اور یہی اللہ نے اس آیت کے شروع میں کہا کہ یہ جو سوال کے جواب کے لیے اپنی حاجت روائی کے لیے لپکا جا رہا ہے یہ ہماری طرف لپکا جا رہا ہے انسانوں کا سوال ہم سے ہے وہ ان علماء ، حضرت، شیخ، علامہ، مفتی وغیرہ سمیت طرح طرح کے القابات سے معروف طبقے کی طرف اس لیے لپکتے ہیں کیونکہ انسان انہیں اللہ کا نمائندہ سمجھتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے نمائندے نہیں ہیں اس لیے یہ انسانوں کے سوال کا جواب کیسے دے سکتے ہیں؟ انسانوں کا سوال ہم سے ہے اور ہماری طرف سے تُو ہمارا نمائندہ ہے ہم تیری صورت میں ان کے سوال کا جواب دیں گے اور وہ سوال ہے دو قرن والے کے بارے میں۔
آپ خود غور کریں اگر یہ لوگ واقعتاًسچے ہوتے یہ اللہ کے نمائندے ہوتے تو کیا صدیوں سے چلا آ رہا یہ سوال آج تک سوال ہی رہتا؟ اگر یہ سچے ہوتے یہ اللہ کے نمائندے ہوتے تو یہ سوال سوال نہ رہتا۔ جو جواب اس سوال کا دیا جاتا دنیا کی کوئی طاقت چاہ کر بھی اس پر اعتراض نہ اٹھا سکتی اس کا رد نہ کر سکتی مگر حقیقت آپ جانتے ہیں یہ لوگ اس سوال کا جو جواب دیتے ہیں خود ہی اس پر اعتراضات بھی اٹھاتے ہیں اور اعتراضات بھی ایسے کہ پھر خود ہی لاجواب بھی ہو جاتے
ہیں ان کا جواب بالکل واضح غلط ثابت ہو جاتا ہے۔
ایک گروہ کہتا ہے کہ اس سوال کا جواب ہے کہ ذی القرنین سکندر اعظم یونانی تھا اور دوسرا گروہ اس پر ایسے اعتراضات اٹھاتا ہے کہ سکندر اعظم یونانی کو ذی القرنین کہنے والے لاجواب ہوجاتے ہیں اور خود اس بات کو تسلیم کرتے نظر آتے ہیں کہ ہاں ان اعتراضات کی روشنی میں سکندر اعظم یونانی ذی القرنین قطعاً نہیں ہو سکتا۔ پھر ایک طبقہ ایک نئی شخصیت کو ذی القرنین قرار دیتا ہے کہ سائرس ایرانی ذی القرنین تھا اور پھر اس پر بھی اٹھائے جانے والے اعتراضات
سائرس ایرانی کو ذی القرنین تسلیم کرنے یا یہ نظریہ دینے والوں کو لاجواب کر دیتے ہیں یوں آج تک یہ سوال، سوال ہی بنا رہا۔
آپ خود غور کریں اگر یہ سب لوگ اللہ کے نمائندے ہوتے یہ سچے ہوتے تو اس معاملے میں یہ سب کے سب کیسے جھوٹے ثابت ہو گئے؟
جس جس کو انہوں نے ذی القرنین ثابت کرنے کی سر توڑ کوشش کی اسی میں ناکام و نامراد ثابت ہوئے جھوٹے، بے بنیاد اور غلط ثابت ہوئے تو سوال یہ پیدا
ہوتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کے نمائندے کیسے ہو سکتے ہیں؟
یہ سوال ان لوگوں سے تو تھا ہی نہیں کیونکہ یہ سوال تو اللہ سے ہے اللہ کے علاوہ کوئی انسان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اس لیے جب یہ سوال ان لوگوں سے تھا ہی نہیں تو پھر یہ لوگ اس سوال کا جواب کیسے دے سکتے تھے کیونکہ یہ سوال اللہ سے ہے اور اس کا جواب سوائے اللہ کے کسی کے پاس نہیں۔ جب یہ سوال اللہ سے ہے تو پھر ظاہر ہے اس سوال کے جواب کا اصل حقدار اللہ ہے اگر اللہ کے علاوہ کوئی اس کا جواب دینے کا دعویدار بنتا ہے تو لا محالہ وہ مشرک اعظم تو ہو سکتا ہے اپنی خواہشات کی اتباع کرنے والا اپنی خواہشات کو الٰہ بنائے ہوئے تو ہو سکتا ہے مگر اللہ کا غلام نہیں ہو سکتا وہ اللہ کا نمائندہ نہیں ہو سکتا ہرگز مومن نہیں ہو سکتا۔
وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْکُمْ مِّنْہُ ذِکْرًا۔ الکہف ۸۳
اس آیت کے شروع میں اللہ کا کہنا ہے کہ یہ جو سوال کیا جا رہا ہے انسان اپنی اس حاجت روائی کے لیے اللہ کے نمائندے ہونے کے دعویداروں کی طرف لپک رہے ہیں یہ سوال ان جھوٹے مکار اور اللہ کے شریکوں سے نہیں ہے بلکہ یہ سوال اللہ سے ہے اور اللہ تیری صورت میں ان کے اس سوال کا جواب دے گا ، اے
میرے رسول ہم تیری صورت میں ان کے سوال کا جواب دے رہے ہیں۔
سوال ہے ذی القرنین یعنی دو مخصوص قرن والے کے بارے میں کہ وہ کون ہے جسے دو مخصوص قرن حاصل ہوئے؟
قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْکُمْ مِّنْہُ ذِکْرًا۔ الکہف ۸۳
کہو انہیں ابھی تلاوہ کر رہا ہوں یعنی پوری ترتیب کیساتھ کھول کھول کر واضح کر رہا ہوںتم پر اس سے یا د دہانی یعنی جو تمہیں بھلا دیا گیا ۔
آگے بڑھنے سے پہلے لفظ ذی القرنین کے بارے میںـ جان لینا بہت ضروری ہے اور پھر لفظ ذی القرنین کی جو بھی وضاحت کی جائے دیکھنا یہ ہے کہ کیا قرآن اس کی تصدیق بھی کرتا ہے یا نہیں۔ کیونکہ قرآن العزیز الحکیم ہے قرآن میں ترتیب ایسی ہے کہ اگر کسی لفظ کا ذکر کیا جا رہا ہے تو ساتھ ہی آگے اس کی وضاحت بھی قرآن خود ہی کر رہا ہوتا ہے۔ مثلاً اگر اس آیت میں لفظ ذی القرنین استعمال کیا گیا تو ساتھ ہی آگے اگلی آیات میں اس کی وضاحت بھی قرآن نے کر دی۔ جو اس بات کو بالکل کھول کر واضح کر دے گی کہ آیا آپ نے ذی القرنین کا معنی وہی سمجھا جو قرآن بیان کر رہا ہے یا پھر کہیں ایسا تو نہیں قرآن کچھ اور بیان
کر رہا ہے اور آپ قرآن کے برعکس اپنی ہی کوئی کہانی گھڑ رہے ہیں اپنے خود ساختہ معنی پہنا رہے ہیں۔
تو آگے بڑھنے سے پہلے لفظ ذی القرنین کو واضح کر دیتے ہیں اور پھر آگے یہ بھی دیکھیں گے کہ کیا قرآن ان معنوں کی تصدیق کرتا ہے یا نہیں۔
ذی القرنین جملہ ہے جو کہ تین الفاظ کا مجموعہ ہے ’’ذی، ال، قرنین‘‘۔ ’’ذی‘‘ کے معنی ہے حاصل شدہ یعنی جو آپ کو یا کسی کو حاصل ہو چکا یعنی جو مذکور کو حاصل ہو چکا ہو جو اس کے پاس ہو۔ اگلا لفظ ہے ’’ال‘‘ کسی بھی لفظ کے شروع میں ’’ال‘‘ کا استعمال اسے مخصوص بنا دیتا ہے یعنی کسی عام شئے کاذکر نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ کسی خاص شئے کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ اگلا لفظ ہے ’’قرنین‘‘ ویسے تو صرف اور صرف واحد اور جمع کا صیغہ ہوتا ہے لیکن عربی میں ایسا نہیں ہے اللہ نے ہر شئے سے اس کا جوڑا خلق کیا تو عربی میں جوڑے کا صیغہ بھی پایا جاتا ہے جسے تثنیہ کہا جاتا ہے یعنی واحد تثنیہ اور جمع۔ عربی میں تین صیغے استعمال ہوتے ہیں۔ قرنین تثنیہ کا صیغہ ہے یعنی جوڑے کا صیغہ اس کا واحد ’’قرن‘‘ ہے۔ ایک بات بہت عام کر دی گئی کہ قرن کے معنی سینگ کے ہیں لیکن یہ حقیقت نہیں ہے قرن عربی میں کہتے ہیں ایک شئے کے بیک وقت دو ظہور ہونا۔ یہ خصوصیت عموماً سینگ میں پائی جاتی ہے کہ سینگ کا بیک وقت دو مقامات پر ظہور ہوتا ہے اس وجہ سے سینگ کو بھی قرن کہا جاتا ہے لیکن اس آیت میں نہ صرف دو قرن کا ذکر کیا جا رہا ہے بلکہ شروع میں ال کا استعمال کیا گیا ہے
جس کا مطلب ہے کہ یہاں کسی عام دو قرن کا ذکر نہیں ہے بلکہ خاص دو قرن کا ذکر کیا جا رہا یہ کوئی مخصوص دو قرن ہیں۔
اور یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ سورج کے مقام طلوع یا مقام غروب کو عربی میں قرن کہا جاتا ہے اور اسی وجہ سے قرن کہا جاتا ہے کیونکہ سورج جہاں آپ کو غروب ہوتا نظر آ رہا ہوتا ہے وہیں سے وہ ایک دوسری قوم پر طلوع ہوتا ہوا بھی نظر آ رہا ہوتا یعنی سورج کے بیک وقت دو ظہور ہوتے ہیں اس وجہ سے سورج
کے مقام طلوع یا مقام غروب کو قرن کہا جاتا ہے۔
اب ذرا غور کریں جہاں آپ کو سورج غروب ہوتا ہوا نظر آ تا ہے وہیں سے زمین کے دوسری طرف کے لوگوں کو ان پر طلوع ہوتا ہوا نظر آرہا ہوتا ہے یوں یہ ایک ہی مقام پر بیک وقت سورج کے دو ظہورہوتے ہیں یہ ایک قرن ہو گیا اور جہاں آپ کو طلوع ہوتا ہوا نظر آ رہا ہوتا ہے تو وہیں سے ایک دوسری قوم یعنی اور لوگوں کو غروب ہوتا ہوا نظر آ رہا ہوتا ہے یوں ایک یہ مقام جہاں سورج کے بیک وقت دو ظہور ہوتے ہیں ایک قرن یہ بن گیا۔ ان دونوں کو عربی میں قرنین کہا جائے گا
اور یہ عام قرنین نہیں ہیں بلکہ یہ خاص قرنین ہیں اس لیے انہیں القرنین کہا جائے گا۔
اب آئیں لفظ ذی القرنین کی طرف۔ ذی القرنین کسی شخصیت کا نہ تو لقب ہے اور نہ ہی کنیت بلکہ یہ اسم ہے اور اسم کہتے ہیں صلاحیتوں ، خصوصیات و صفات کو جو کسی میں موجود ہوتی ہیں اردو میں اسم کا ترجمہ نام کیا جاتا ہے یا عربوں کی اکثریت میں اسم سے مراد نام لیتی ہے جو کہ بالکل غلط العام ہے۔
قرآن میں اس مقام پر جس شخصیت کو ذی القرنین کہا جا رہا ہے اسے لوگ ذی القرنین لفظ سے نہیں جانتے پہچانتے تھے بلکہ وہ شخصیت دنیا میں کسی اور لقب یا کنیت یعنی نام سے جانی پہچانی جاتی تھی ذی القرنین لفظ صرف اور صرف اللہ نے قرآن میں استعمال کیا اور یہ آیت ہے بیّن نہیں ہے یعنی اس لفظ کا استعمال اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ لفظ اپنے اندر بہت سی تفصیلات سموئے ہوئے ہیں ان تفصیلات کو اگر کم سے کم وقت اور کم سے کم الفاظ یا چھوٹے سے چھوٹے لفظ یا جملے میں بیان کیا جا سکتا تھا تو وہ صرف اور صرف یہی ایک جملہ تھا، اللہ الحکیم ہے اس لیے اس جملے کا استعمال اللہ کی حکمت ہے۔ قرآن اللہ کا کلام ہے اور ذی القرنین خالص عربوں کی زبان عربی کا جملہ ہے جسے اسی وجہ سے اللہ نے قرآن میں استعمال کیا کہ کوئی ایسی شخصیت جسے یہ دو مخصوص قرن حاصل ہوئے اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ ایسی شخصیت جسے زمین کے مغرب و مشرق تک حاصل ہوئے یعنی اگر آپ یہ کہیں کہ فلاں کی حکومت مغرب تک ہے جہاں تم سورج غرب ہوتا ہوا دیکھتے ہو وہاں تک ہے تو آپ چلتے جائیں اس مقام پر پہنچنے کے لیے تو آپ اس مقام تک نہیں پہنچ پائیں گے کہ خشکی ختم ہو جائے گی اور سورج آپ کو اتنا ہی آگے غروب ہوتا ہوا نظر آئے گا بالکل اسی طرح مشرق کی طرف کا بھی کہا جائے گا تو مطلب یہ کہ زمین کے چپے چپے کا اختیار جس شخصیت کو حاصل تھا۔
یہ ہیں ذی القرنین یعنی مخصوص دو قرن کے معنی۔
(جاری ہے)۔۔۔۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...