WARNING FROM MOTHER NATURE
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے آخر وہ شخصیت کون تھی اس کا نام کیا تھا یعنی ذی القرنین کس کو کہا گیا؟ وہ شخص کون تھا؟ کیا قرآن اس شخصیت کا نام بتانے سے عاجز ہے؟ قرآن اس شخصیت کا نام نہیں بتاتا اس پر خاموش ہے؟ جو آج تک اس سوال کے جواب کے لیے قرآن کو ترک کرکے قرآن کے برعکس اور کتابوں یا
تاریخ کی طرف رجوع کیا جاتا رہا۔
آپ یہ بات جان کر چونک جائیں گے کہ کیسے قرآن اس شخصیت کا نام بتاتا ہے۔
آپ پیچھے یہ بات جان چکے ہیں کہ قرآن میں کوئی ایک بھی شئے ایسی نہیں کہ جسے صرف ایک ہی پہلو سے بیان کر کے چھوڑ دیا گیا ہو بلکہ قرآن میں جس موضوع پر بھی بات کی گئی تو اس پر قرآن میں مختلف مقامات پر بات کی گئی ایک مقام پر اس پر ایک پہلو سے بات کی گئی تو دوسرے مقام پر دوسرے پہلو سے اسی طرح باقی
مقامات پر بھی بات کی گئی یہاں تک کہ ہر پہلو سے بات کی گئی اس کا کوئی پہلو بھی پوشیدہ نہ رہنے دیا گیا۔
بالکل اسی طرح اس مقام پر قرآن میں ایک شخصیت کا ذکر کیا جا رہا ہے تو اس مقام پر اس کا ایک پہلو سے ذکر کیا جا رہا ہے اسی شخصیت کا قرآن میں کسی دوسرے
مقام پر دوسرے پہلو سے ذکر کیا گیا کسی تیسرے مقام پر تیسرے پہلو سے ۔
جب یہ بات واضح ہو جائے گی کہ وہ شخصیت کون ہے تو آپ پر یہ بات بھی بالکل واضح ہو جائے گی کہ سوال اس وقت بنی اسرائیل کی طرف سے ہی تھا لیکن انہوں نے اس وقت جب سوال کیا تھا تو لفظ ذی القرنین کا استعمال نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے اس شخصیت کا وہی نام استعمال کیا جس نام سے وہ شخصیت جانی پہچانی جاتی ہے مگر قرآن میں اللہ نے اس کے لیے ذی القرنین جملے کا استعمال کیا اور اس بات کی وضاحت بھی اسی آیت میں موجود ہے قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْکُمْ مِّنْہُ ذِکْرًا ذکر کہتے ہیں جسے بھول چکے اسے یاد کرنے کو اور بھولا اسے جاتا ہے جو پہلے یاد ہو یا یاد کروا دیا گیا ہو۔ اس آیت میں آپ بالکل واضح الفاظ میں دیکھ سکتے ہیں کہ اللہ کہہ رہا ہے انہیں کہو ابھی تلاوہ کر رہا ہوں یعنی پوری ترتیب کیساتھ کھول کھول کر واضح کر رہا ہوں تم پر اس سے جو تمہیں یاد تو کروا دیا گیا تھا مگر
تم بھول چکے ۔
یعنی جب یہ قرآن اتارا گیا تب ہر کسی کو علم تھا کہ ذی القرنین کس شخصیت کو کہا جا رہا ہے اس وقت یہ سوال نہیں تھا کہ ذی القرنین کون ہے بلکہ اس وقت جس شخصیت پر اعتراض تھا اس کے بارے میں پوچھا جا رہا تھا کہ آیا وہ مومن تھی یا مشرک تو جب واضح کیا گیا کہ وہ مشرک نہیں بلکہ مومن شخصیت تھی تب اس شخصیت کے بارے میں اس قرآن میں لفظ ذی القرنین کا استعمال کیا گیا اور یہی وجہ تھی جس وجہ سے اس وقت کسی نے یہ نہیں کہا تھا کہ ذی القرنین کون ہے بلکہ یہ سوال تو بعد میں جا کر کھڑا ہوا جو آج تک چلا آ رہا ہے اور آج اس سوال کا پہلی بار جواب دیا جا رہا ہے جو کہ ذی القرنین کے بارے میں ہے ۔ اب دیکھتے ہیں کہ قرآن
آگے کیا کہتا ہے اس سوا ل کا جواب کیا دیتا ہے۔
اِنَّا مَکَّنَّا لَہٗ فِی الْاَرْضِ وَاٰتَیْنٰہُ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ سَبَبًا۔ الکہف ۸۴
اس میں کچھ شک نہیں مکن دیا تھا ہم نے اس کو یعنی اختیار و اقتدار دیا تھا ہم نے اس کو زمین میں۔
اس سے پہلے آیت کے اگلے حصے کی طرف بڑھیں پچھلی آیت کے پہلے حصے میں یہ ذی القرنین کے بارے میں سوال ہے اسی آیت کے اگلے حصے میں کہا جا رہا ہے کہ ابھی تلاوہ کر رہے ہیں یعنی ابھی تم پر اس سے ذکر کھول کھول کر پوری ترتیب کیساتھ واضح کر رہے ہیں اور اگلی آیت کے پہلے حصے میں اب جواب دیا جا رہا
ہے کہ ذی القرنین وہ شخصیت تھی جسے ہم نے زمین میں اقتدار و اختیار دیا تھا ۔
آگے بڑھنے سے پہلے یہ جاننا ہو گا کہ کس کو زمین میں اختیار وا قتدار دیا گیا؟ اور آپ جانتے ہیں کہ زمین میں تو بہت سوں کو اختیاو اقتدار دیا گیا کوئی ایک شخصیت تو ہے نہیں لیکن یہاں تک قرآن نے اتنا واضح کر دیا کہ ذی القرنین ان لوگوں میں سے ہے جن کو زمین میں مکن یعنی اقتدار و اختیار دیا گیا تھا زمین میں حکومت دی گئی تھی۔ یوں کھرب ہا کھرب میں سے صرف ہزاروں یا لاکھوں پیچھے رہ جاتی ہیں وہ شخصیات جن کو زمین میں حکومت دی گئی جس سے ذی القرنین
کی پہچان بہت حد تک آسان کر دی گئی۔
اب جب قرآن سے ہی سوال کیا جائے کہ زمین میں کس کو مکن یعنی اقتدار واختیار دیا گیا تو قرآن بھی کسی ایک کا نام نہیں بتاتا بلکہ قرآن بہت سوں کا ذکر کرتا ہے
تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اے اللہ مکن تو زمین میں بہت سوں کو دیا گیا آخر ان میں سے وہ شخصیت کون سی ہے؟ اس کا نام کیا ہے؟
جب یہ سوال کیا جائے تو اسی آیت کے اگلے حصے میں اس سوال کا جواب بھی دے دیا گیا
وَاٰتَیْنٰہُ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ سَبَبًا۔ الکہف ۸۴
اور دئیے تھے ہم نے اس کو تمام کے تمام اشیاء سے اسباب یعنی ہر شئے سے سبب دیا تھا ۔
اب غور کریں کہ سوال تھا ذی القرنین کے بارے میں تو اس سوال کا جواب دیا گیا کہ ابھی جواب دے دیتے ہیں تو اگلی آیت میں جواب دیا گیا کہ ذی القرنین وہ شخصیت ہے کہ جسے ہم نے زمین میں مکن یعنی اقتدار و اختیار دیا تھا زمین میں حکومت دی تھی لیکن یہاں پھر سوال پیدا ہوا کہ زمین میں حکومت تو بہت زیادہ شخصیات کو حاصل ہوئی آخران میں سے کون سی شخصیت ہے؟ اس کا نام کیا ہے؟ تو آگے اس سوال کا جواب بھی دے دیا گیا کہ وہ شخصیت وہ ہے جسے ہم نے
ہر شئے سے اسباب دئیے تھے ’’مِنْ کُلِّ شَیْئٍ ‘‘ ۔
اب اللہ سے سوال ہے کہ وہ کون سی شخصیت ہے جسے ’’مِنْ کُلِّ شَیْئٍ ‘‘ یعنی ہر شئے سے دیا گیا تو اللہ نے اس سوال کا جواب بھی قرآن میں رکھ دیا۔
اب قرآن میں جملہ ’’مِنْ کُلِّ شَیْئٍ ‘‘ کو تلاش کریں۔
جب قرآن میں جملہ ’’مِنْ کُلِّ شَیْئٍ ‘‘ کو تلاش کیا جائے تو۱۲۱ مقامات پر آپ کو ’’ کُلِّ شَیْئٍ ‘‘ ملے گا اور ان میں ’’مِنْ کُلِّ شَیْئٍ ‘‘ کو تلاش کیا جائے تو
صرف چھ مقامات پر ’’مِنْ کُلِّ شَیْئٍ ‘‘ کے الفاظ ملیں گے۔
ان چھ مقامات پر کسی کو ’’مِنْ کُلِّ شَیْئٍ ‘‘ سے دیا گیا اس کا ذکر تین مقامات پر ملے گاجیسا کہ درج ذیل آیات آپ کے سامنے ہیں۔
۱۔ اِنَّا مَکَّنَّا لَہٗ فِی الْاَرْضِ وَاٰتَیْنٰہُ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ سَبَبًا۔ الکہف ۸۴
۲۔ وَوَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ ٰٓیاَیُّھَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَاُوْتِیْنَا مِنْ کُلِّ شَیْئٍ اِنَّ ھٰذَا لَھُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْن۔ النمل ۱۶
۳۔ اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَۃً تَمْلِکُھُمْ وَاُوْتِیَتْ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ وَّلَھَا عَرْش’‘ عَظِیْم’‘ ۔ النمل ۲۳
پہلا مقام یہی سورت الکہف کا مقام ہے جو کہ سوال ہے اور دوسرا مقام سورت النمل کی آیت نمبر ۱۶ ہے جس میں سلیمان کا ذکر کیا جا رہا ہے اور سلیمان علیہ السلام
خود اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ انہیں ’’مِنْ کُلِّ شَیْئٍ ‘‘ سے دیا گیا۔
پھر تیسرا مقام سورت النمل کی ہی آیت نمبر ۲۳ ہے جس میں ایک عورت کے بارے میں کہا گیا جسے ملکہ سبا کے نام سے جانا جاتا ہے اسے ’’مِنْ کُلِّ شَیْئٍ ‘‘
سے دیا گیا۔
تو سوال یہ تھا کہ وہ شخصیت کون ہے ؟ اس کا نام کیا ہے ؟ جس کو ’’مِنْ کُلِّ شَیْئٍ ‘‘ سے دیا گیا تو قرآن نے صرف اور صرف دو شخصیات کا ذکر کیا ان میں پہلی شخصیت ایک مرد اور دوسری شخصیت ایک عورت ہے۔ اللہ نے مرد کا باقاعدہ نام بیان کیا کہ وہ سلیمان علیہ السلام ہیں اور عورت کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ویسے بھی ذی القرنین ایک مرد تھے نہ کہ عورت تو اگر ذی القرنین ہیں تو وہ اللہ کے کلام کیمطابق سلیمان علیہ السلام تھے۔ سلیمان علیہ السلام ہی وہ شخصیت ہیں جنہیں زمین کے انگ انگ پر اقتدار دیا گیا جنہیں دونوں مخصوص قرن حاصل تھے یعنی مغرب و مشرق تک ان کی حکومت تھی یوں ذی القرنین جس کو دو مخصوص
قرن حاصل تھے وہ سلیمان بن داؤدعلیہ السلام تھے نہ کہ کوئی اور۔
یہاں تک اگر غور کیا جائے تو قرآن نے اپنے دعوے کے مطابق اس سوال کا بالکل کھول کر جواب دے دیا کہ ذی القرنین سلیمان علیہ السلام ہیں۔ اللہ نے قرآن میں نہ صرف ہر سوال کا جواب رکھا بلکہ اسے ہر پہلو سے پھیر پھیر کر بیان کر دیا وہ لوگ جو قرآن کو چھوڑ کر اس کے متبادل گھڑتے ہیں ان کی طرف رجوع کرتے ہیں اپنے مسائل کے حل کے لیے تو قرآن کے علاوہ کون ہے جو ان کے سوال کا جواب دے سکے؟ اگر کوئی ہے تو جائیں اس سے جواب حاصل کر لیں
اگر یہ لوگ سچے ہیں۔
اب آپ خود غور کریں کہ جب اللہ نے اس قدر آسان اور واضح الفاظ میں اس سوال کا جواب قرآن میں دے دیا تو پھر وہ لوگ جو آج تک قرآن کی ترجمانی کے دعویدار بنے ہوئے تھے اور بنے ہوئے ہیں جو اللہ کی نمائندگی کے دعویدار بنے ہوئے تھے اور بنے ہوئے ہیں اپنے نام کے ساتھ بڑے بڑے القابات لگاتے ہیں اونچی اونچی مسندوں پر بیٹھتے ہیں اور لوگوں کے مال سے اپنے اور اپنی ذریت کے پیٹ پالتے ہیں دین کا لبادہ اوڑھ کر دین کیساتھ ہی کھلواڑ کرتے ہیں ان
کی حقیقت کیا ہے آج آپ کے سامنے ہے۔
ان کو کس نے یہ اختیار دیا کہ جو یہ آج تک کہتے آئے کہ قرآن میں ذی القرنین کا ذکر تو آیا ہے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ ذی القرنین کون ہے۔ کیا یہ لوگ سچے اور
قرآن جھوٹا ہو گیا اللہ جھوٹا اور یہ سچے ہوگئے؟ ان لوگوں نے کس طرح اللہ اور قرآن پر بہتان تراشی کی جرأت کی؟
بڑھتے ہیں آگے اور آپ کے سامنے رکھتے ہیں کہ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اور بہت سے پہلوؤں سے بھی اللہ نے قرآن میں بالکل کھول کھول کر واضح کر دیا کہ ذی
القرنین سلیمان علیہ السلام تھے بڑھتے ہیں ان پہلوؤں کی طرف۔
اِنَّا مَکَّنَّا لَہٗ فِی الْاَرْضِ وَاٰتَیْنٰہُ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ سَبَبًا۔ الکہف ۸۴
اس میں کچھ شک نہیں مکن دیا تھا ہم نے یعنی زمین میں اختیار و اقتدار حکومت دی تھی اسے اور دیئے تھے تمام کی تمام اشیاء اسے اسباب۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے زمین میں حکومت کیوں دی اور تمام کی تمام اشیاء سے اسباب کیوں دیئے؟ تو پہلے اس کا جواب قرآن سے ہی حاصل
کرتے ہیں اس کے بعد انتہائی آسان مثال کیساتھ اس کے جواب کو ایک دوسرے پہلو سے بھی واضح کریں گے۔
جب اللہ سے سوال کیا جائے تو اللہ اس سوال کا قرآن میں یوں جواب دیتا ہے۔
اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْر۔ الحج ۴۱
ایسے لوگ اگر انہیں مکن دیا جاتا ہے ارض میں یعنی جنہیں زمین میں اختیار و اقتدار حکومت دی جاتی ہے تو کیوں دی جاتی ہے؟ اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ قائم کر رہے ہوں الصلاۃ اور دے رہے ہیں الزکاۃ اور امر کر رہے ہیں معروف سے یعنی انہیں جو اختیار دیا جو حکومت دی تو وہ اس اختیار کا استعمال کرتے ہوئے انسانوں سے وہ کام کرواتے ہیں جن کے کرنے کا حکم دیا گیا اور روکتے ہیں ان کاموں سے ان معاملات سے جن سے رکنے کا کہا گیا لیکن اس طرح جس طرح اللہ نے قانون بنا دیا اللہ کے قانون کے مطابق کہ زمین میں ایسے حالات پیدا کرتے ہیں کہ لوگ خود ہی حق کو جان کر پہچان کر جو کہا گیا وہ اعمال کریں اور جن سے روکا گیا اس سے رک جائیں اور اللہ کے لیے ہے تمام کے تمام کاموں کا انجام یعنی جنہیں زمین میں حکومت دی جاتی ہے زمین میں اقتدار و اختیار دیا جایا تو جس مقصد کے لیے حکومت، اقتدار و اختیار دیا جاتا ہے وہ بالکل واضح کر دیا اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر جان لیں ایسا نہیں کہ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں وہ زمین پر اقتدار و اختیار ملنے پر جو جی میں آئے کرتے رہیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، انہیں کوئی زوال نہیں بلکہ اللہ نے سب کچھ قدر یعنی پورے حساب کتاب کیساتھ خلق کیا ہے اس لیے ہر کام کا انجام، نتیجہ وہی نکلے گا جو اللہ نے طے کر دیا اگر زمین میں حکومت ملنے پر اس کا حق ادا نہیں کیا جاتا جس مقصد کے لیے زمین میں حکومت دی گئی اس مقصد کو پورا نہیں کیا جاتا تو وقتی طور پر تو زمین میں ان کے پاس اختیار ہے وہ جو جی چاہے کریں لیکن بالآخر جب نتائج سامنے آئیں تو نتائج
ان کی مرضی کے مطابق نہیں بلکہ وہی سامنے آئیں گے جو اللہ نے طے کر دئیے۔
(جاری ہے)۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment