Tuesday, November 1, 2022

                 WARNING FROM MOTHER NATURE



قسط نمبر#63

محمد علیہ السلام نے بات ایسے کی کہ گویا وہ حقیقت کے برعکس ہے یعنی کہ سورج زمین کے گرد گھوم رہا ہے جو کہ جھوٹ تھالیکن محمد علیہ السلام کے الفاظ نہ صرف بالکل حق پر مبنی تھے بلکہ بہت ہی پیچیدہ ترین بھی ، گہرائی میں جا کر سمجھے بغیر یہی لگتا ہے کہ محمد علیہ السلام نے یہ کہا کہ سورج مغرب سے طلوع ہو گا یعنی زمین الٹا گھومنا
شروع کر دے گی ۔
محمدرسول اللہ علیہ السلام گیارہ سال تک دعوت دیتے رہے اس عرصے میں محمد علیہ السلام کی دعوت نہ صرف پورے خطہ عرب میں پہنچ چکی تھی بلکہ ہند، فارس و روم تک بھی دعوت پہنچ گئی تو اس دعوت کے نتیجے میں گیارہ سال کے بڑے عرصے میں صرف اور صرف کم و بیش اسی کے قریب لوگ ایمان لائے یعنی اسی کے آس پاس ایسے لوگ تھے جنہوں نے محمد علیہ السلام کی دعوت کو دل سے تسلیم کیا اور اکثریت نے یہی کہا کہ یہ محمد ایک نیا دین لے آیا ہے جس کا نہ ہم نے نہ ہی ہمارے آباؤ اجداد نے کسی سے سنا تھا اس لیے ہم تو ہرگز اس کی دعوت کو نہیں ماننے والے ، ہم اپنے آباؤ اجداد سے جو نسل در نسل چلتا آیا اسے کسی بھی صورت ترک نہیں کرنے والے یوں اکثریت نے کفر کیا محمد علیہ السلام کی باتوں کو ماننے سے انکار کر دیا اور اس کے برعکس جب تلوار اٹھائی تو اکثریت اسلام لانے یعنی سرنڈر کرنے پر مجبور ہو گئی۔ اکثریت ان لوگوں کی تھی جو ایمان نہیں بلکہ ڈنڈے کے خوف سے اسلام لائے تھے یعنی وہ محمد علیہ السلام کی دعوت کو حق تسلیم نہیں کرتے تھے بلکہ وہ تلوار کے ڈر سے اپنی جان بچانے کے لیے سرنڈر کیے ہوئے تھے ان میں ایک بڑی تعداد منافقین کی تھی جو آئے روز محمد علیہ السلام کے خلاف طرح طرح کی افواہیں اڑاتے رہتے تھے وہ محمد علیہ السلام کو مجنون اور پاگل کہتے تھے وہ محمد علیہ السلام کے خلاف کوئی بھی ہاتھ آیا موقع ضائع نہیں کرتے تھے۔ جب محمد رسول اللہ علیہ السلام مسجد نبوی میں موجود تھے اور سامنے لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ان میں منافقین بھی موجود تھے جن کا مقصد صر ف اور صرف یہی ہوتا تھا کہ محمد سے کوئی ایسی بات ملے جس سے اسے بدنام کیا جا سکے اس کے خلاف سازشیں کی جا سکیں اور اسے نقصان پہنچایا جائے ان منافقین کو ذلیل و رسوا کرنے کے لیے اس وقت عام لوگوں کے سامنے سورج کے طلوع و غروب کے حوالے سے ایسی بات کہی جس سے یہ تاثر ملتا تھا کہ سورج سفر کر رہا ہے حالانکہ محمد علیہ السلام کے الفاظ کی گہرائی میں جایا جائے تو بالکل واضح یہ بات سامنے آئے گی کہ محمد علیہ السلام نے ایسا ہرگز نہیں کہا تھاکہ سورج سفر کر رہا ہے ہاں البتہ یہ تاثر ضرور ملتا ہے۔ اب اگر اس وقت محمد علیہ السلام دوٹوک الفاظ میں وہی کہہ دیتے جو بعد میں اندر عبد اللہ بن عباس کو بتایا تو نہ صرف منافقین کے ہاتھ محمد علیہ السلام کو بدنام کرنے کے لیے ہتھیار آ جاتا بلکہ اکثریت اس بات کو ماننے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیتی کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ سورج نہیں بلکہ زمین گھوم رہی ہے حالانکہ ہم تو اپنی آنکھوں سے یہ دیکھ رہے ہیں کہ سورج گھوم رہا ہے سورج طلوع اور غروب ہو رہا ہے۔ یہ وجہ تھی جو اس وقت محمد علیہ السلام نے انتہائی حکمت
کیساتھ کام لیا۔
یہاں تک یہ بات بھی بالکل کھل کر واضح ہو جاتی ہے کہ جب محمدعلیہ السلام کو حقیقت کا علم تھا کہ سورج کی بجائے زمین کے سورج پر گھمائے جانے سے طلوع اور غروب ہو رہا ہے، سورج تو غروب ہوتا ہی نہیں وہ تو ہر وقت ایک ہی حالت میں موجود ہے وہ طلوع و غروب نہیں ہوتا بلکہ ایسا نظر آتا ہے تو پھر محمد علیہ السلام یہ
کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب سورج الٹا سفر کرنا شروع کر دے گا؟
ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ نہ تو محمد علیہ السلام نے ایسا کہا اور نہ ہی کہیں پر آپ کو کہیں پر بھی عربی متن میں محمد علیہ السلام کے ایسے الفاظ ملیں گے ہاں البتہ تراجم و تفاسیر کے نام پر آپ کو بہت ساری خرافات محمد علیہ السلام سے منسوب ملیں گی جنہیںآج تک اکثریت محمد علیہ السلام کے الفاظ ہی سمجھتی رہی۔
حقیقت تو یہ ہے کہ محمد نے اسی وقت یہ بات واضح کر دی تھی کہ جہاں سورج غروب ہوتا ہوا نظر آ رہا ہوتا ہے سورج غروب نہیں ہوتا بلکہ وہ وہیں سے ایک دوسری قوم یعنی اور لوگوں پر طلوع ہو رہا ہوتا ہے۔ جہاں سے طلوع ہو رہا ہے وہیں سے ایک دوسری قوم پر غروب بھی ہو رہا ہوتا ہے۔ یہ بات اگر اس وقت لوگوں کو بتا دی جاتی تو جو اس سے پہلے ایمان لا چکے تھے ان کے علاوہ کوئی بھی اس بات پر ایمان نہ لاتا۔ لیکن جب انسانوں کی تکذیب کے سبب اللہ کی آیات آئیں گی تو ان میں جو سب سے پہلی آیات ہیں ان میں ایک یہ آیت آئے گی یہ آیت بیّن ہو گی کھل کر واضح ہو گی کہ سورج اس کے مغرب سے طلوع ہو رہا ہے تو سب ایمان لے آئیں گے یعنی سب اس بات کو تسلیم کر لیں گے کہ ہاں سورج نہیں بلکہ زمین کے گھومنے سے رات اور دن ہو رہے ہیں اور جو آج تک ہم اپنی آنکھوں سے سورج کو گھومتا دیکھتے آ رہے ہیں یہ غلط ہے سورج نہ ہی طلوع ہوتاہے اور نہ ہی غروب ہوتا ہے بلکہ سورج جہاں طلوع ہوتا نظر آتا ہے وہیں سے وہ دوسری قوم یعنی اور لوگوں پر غروب ہوتا نظر آ رہا ہوتا ہے اور جہاں سے ہم پر غروب ہوتادیکھ رہے ہوتے ہیں وہیں سے وہ دوسرے لوگوں پر طلوع ہو رہا ہوتا ہے۔
یہاں پر محمد رسول اللہ علیہ السلام کے الفاظ کو بغور دیکھیں طلوع الشمس من مغربہا طلوع ہو رہا ہے سورج اس کے مغرب سے ۔ یعنی عربی میں بالکل واضح یہ لکھا ہوا ہے کہ سورج طلوع ہو رہا ہے نہ کہ یہ کہا گیا کہ سورج طلوع ہو گا۔ آج سے چودہ صدیاں قبل محمد علیہ السلام نے کہا تھا کہ طلوع ہو رہا ہے لیکن تب کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ سورج جہاں غروب ہوتا ہے وہیں سے وہ طلوع بھی ہو رہا ہے اس وجہ سے اکثریت نے یہی سمجھا کہ سورج جہاں غروب ہوتا ہے وہاں سے طلوع ہو گا۔ حقیقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی اور اگر اس وقت لوگوں کو یہ بتا دیا جاتا تو سوائے چند کے کوئی بھی اس بات کو نہ مانتا۔ اور یہی محمد علیہ السلام نے اس وقت کہا تھا جب دنیا والوں پر یہ بات کھل جائے گی کہ طلوع ہو رہا ہے سورج وہیں سے جہاں سے وہ غروب ہوتا نظر آ رہا ہے تو تب اس وقت سب لوگ مان جائیں گے اس بات کو تسلیم کر لیں گے جو اگر آج کہی جائے تو کوئی بھی نہیں مانے گا سوائے ان کے جو پہلے سے ایمان لا چکے۔
اب ذرا غور کریں کہ جب تک یہ راز دنیا پر نہیں کھلا تھا کہ دنیا گیند کی طرح گول ہے ، رات اور دن سورج کے زمین کے گردگھومنے کی وجہ سے نہیں ہو رہے جیسا کہ آنکھوں سے نظر آتا ہے بلکہ زمین کے سورج کے گرد اپنے ہی محور پرگھومنے سے رات اور دن ہو رہے ہیں جب تک یہ راز نہیں کھلا تھا تو تب اگر کسی کو کہا جاتا
کہ سورج زمین کے گرد نہیں بلکہ اس کے برعکس زمین اپنے ہی محور پر سورج کے گردگھوم رہی ہے تو کیا وہ مان جاتا؟
کیا وہ یہ نہ کہتا کہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ سورج گھوم رہا ہے سورج طلوع ہوتا ہے سورج سفر کرتا ہے سورج ڈھلتا ہے سورج غروب ہوتا ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ سورج نہیں بلکہ زمین گھوم رہی ہے تم تو کوئی پاگل ہو اور اگر زمین گھوم رہی ہے تو پھر زمین پر کچھ بھی ہل کیوں نہیں رہا؟ یعنی بالکل واضح ہے کہ کوئی بھی نہ مانتا اور تب اگر اسے یہ کہا جاتا کہ جب تمہارے لیے یہ آیت آیت نہیں رہے گی یعنی یہ حقیقت ایسے کھل جائے گی کہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے کہ سورج جہاں غروب ہوتا ہے وہیں سے طلوع ہو رہا ہے تو تب تم مان جاؤ گے تو کیا اس کا مطلب یہ ہوتا کہ تب سورج الٹا گھومنا شروع کر دے گا؟
اصل بات تو یہ ہے کہ اس وقت محمد علیہ السلام نے کہا تھا کہ اگر آج یہ آیت لوگوں پر بیّن کر دی جائے تو کوئی اس آیت پر ایمان نہیں لائے گا یعنی کوئی بھی نہیں مانے گا کہ سورج جہاں ڈوبتا نظر آ رہا ہے وہیں سے وہ طلوع بھی ہو رہا ہے لیکن جب یہ آیت آیت نہیں رہے گی جب لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تب یہ
اس بات کو مان لیں گے کہ ہاں سورج جہاں ڈوبتا نظر آ رہا ہے وہیں سے طلوع ہو رہا ہے۔
یہ تھی حقیقت نہ کہ سورج نے الٹا سفر شروع کرنا تھا اور نہ ہی ایسا اللہ کے قانون میں ہے۔
آپ غور کریں آج جو لوگ اپنے آباؤ اجداد کے پجاری ہیں جو لوگ اندھوں کی طرح اپنے ملّاؤں کے پیچھے چل رہے ہیں اپنے آباؤاجداد سے جو منتقل ہواا سی کے پیچھے چل رہے ہیں اور جو لوگ سائنس کے پجاری ہیں جسے سائنس تسلیم کر ے اسے مانیں گے اور جسے سائنس تسلیم نہ کرے اسے نہیں مانیں گے تو ایسے لوگوں کو آج سے چودہ صدیاں قبل کہا جاتا یا جب تک یہ راز نہیں کھلا تھاتب کہا جاتا کہ زمین چپٹی نہیں بلکہ گیند کی طرح گول ہے اور سورج زمین کے گرد نہیں بلکہ زمین سورج کے گرد اپنے ہی محور پر گھوم رہی ہے جس سے رات اور دن ہو رہے ہیں تو کیا یہ سب لوگ مان جاتے؟ سوائے غوروفکر کرنے والوں کے؟
تو جواب بالکل واضح ہے کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کوئی بھی نہ مانتا۔ ملّاؤں سمیت سائنس کے پجاریوں کا اس وقت یہی کہنا ہوتا کہ یہ بات تو ہمارے مشاہدے کے خلاف ہے، ہمارے عقائد و نظریات کے خلاف ہے ہم نے آج تک ایسا کسی سے نہیں سنا اس لیے ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ اس لیے ہم نہیں مانیں گے کیونکہ ہم اپنی آنکھوں سے سورج کو طلوع ہوتا اوپر چڑھتا آگے سفر کرتا ڈھلتا اور غروب ہوتا دیکھ رہے ہیں اور تم کہتے ہو نہیں بلکہ زمین کے گھومنے سے ایسا ہو
رہا ہے۔
بالکل ایسے ہی جیسے آج یہی لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ سورج نہیں بلکہ زمین کے گھومنے سے رات اور دن ہو رہے ہیں اور اگر آج اس کے برعکس ان کو کہا جائے تو یہ کسی بھی صورت نہیں مانیں گے ان کا جواب یہی ہو گا کہ جب ہم حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں تو تمہاری بات کو کیسے سچ مان لیا جائے
اس لیے ایسا ممکن ہی نہیں کہ تمہاری بات کو سچ تسلیم کر لیا جائے۔
یہ تھی سورج کے جہاں ڈوبتا نظر آتا ہے وہاں سے طلوع ہونے کی حقیقت۔
(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...