WARNING FROM MOTHER NATURE
بہت سے لوگوں کا سوال ہے کہ اگر سورج کا اس کے مغرب سے طلوع ہونا یہ ہو چکا ہے جس طرح آپ نے واضح کیا اس کا رد بھی ممکن نہیں ہے تو پھر اس کا مطلب کہ اب کسی کی بھی توبہ قبول نہیں ہو گی کیونکہ ہم آج تک یہی پڑھتے اور سنتے آئے کہ جب سورج مغرب سے طلوع ہو گا تب توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا
تب کسی کی توبہ قبول نہیں ہو گی۔ پہلی بات یہ جان لیں کہ نہ تو قرآن میں ایسی کوئی بات آئی ہے اور نہ ہی محمد علیہ السلام نے ایسا کبھی کہا کہ جب سورج مغرب سے طلوع ہو گا تو کسی کی توبہ قبول
نہیں ہو گی بلکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے اور حقیقت جاننے کے لیے سب سے پہلے لفظ توبہ کو جان لیں۔
اس میں اصل لفظ ہے ’’ تابا ، تَبَ‘‘ جس کے معنی ہیں اپنا رخ پلٹانا، پلٹنا۔ جب اس لفظ کے درمیان ’’و‘‘ کا استعمال ہو تو لفظ بن جائے گا ’’توب‘‘ جس کے معنی بنتے ہیں پلٹ رہے ہونا اور اس کے آخر میں ’’ہ‘‘ کا اضافہ کریں تو یہ لفظ بن جائے گا ’’توبہ‘‘ ہ کسی کی طرف اشارے کے لیے استعمال
ہوتی ہے یوں لفظ توبہ کے معنی بنتے ہیں کوئی اپنا رخ پلٹ رہا ہے، کوئی واپس پلٹ رہا ہے۔
توبہ کہتے ہیں کہ جب آپ نے اپنا رخ اللہ سے موڑا ہوتا ہے۔ اللہ نے آپ کو فطرت پر قائم ہونے کا کہا کہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فطرت کی طرف رخ کرو فطرت جو تمہیں مہیا کرے اسی پر انحصار کرو لیکن انسان فطرت کو چھوڑ کر اس کے برعکس دوسری طرف اپنا رخ کر لیتا ہے جیسا کہ آج آپ دیکھیں کہ آپ کی سواری کی حاجت پورا کرنے کے لیے فطرت نے کسے وجود دیا؟ اور جب بھی آپ کو سواری کی حاجت پیش آتی ہے توکیا آپ اسی کی طرف اپنا رخ کرتے ہیں؟ یا اس کے برعکس کسی اور کی طرف؟ حقیقت آپ کے سامنے ہے۔ جب آپ کو یہ کہا جائے کہ آپ اپنی اس حاجت کو پورا کرنے کے لیے فطرت کی طرف رخ کرو فطرت کی طرف پلٹو اللہ کی طرف پلٹو تو کیا آپ پلٹتے ہیں؟ نہیں بالکل نہیں۔ بلکہ جو آپ کو ایسا کہے کہ آپ ان جدید اور تیز رفتار گاڑیوں کو چھوڑ کر فطرتی ذرائع گدھے، گھوڑے، خچر اور اونٹ وغیرہ استعمال کرو ان پر انحصار کرو تو آپ اسے پاگل کہیں گے اس کا مذاق اڑائیں گے اسے طنز و
تحقیر کا نشانہ بنائیں گے۔
یہی کہا گیا تھا کہ توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا یعنی تب لوگ اللہ کی طرف پلٹنا بند ہو جائیں گے اللہ کی طرف پلٹنا بند ہو جائے گا۔
یہ کہنا کہ کسی کی توبہ قبول نہیں ہو گی تو یہ صریحاً کھلم کھلا جھوٹ اور اللہ و رسول پر بہتان عظیم ہے کیونکہ آپ جانتے ہیں اللہ کا ایک اسم ہے التواب۔ اگر توبہ قبول ہونا بند ہو جائے گی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ التواب ہی نہیں رہے گا؟ حالانکہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ توبہ قبول کرنا بند کر دے حالانکہ اللہ التواب ہے ؟ اللہ التواب ہے اس وقت تک اللہ توبہ قبول کرتا ہے جب تک کہ کوئی موت کو اپنے سامنے نہیں دیکھ لیتا جب تک کہ کسی کا وقت بالکل ختم نہیں ہو جاتا اور اس پرواضح نہیں کر دیا جاتا۔
یہی وہ موضوع ہے جس پر پیچھے یاجوج اور ماجوج کے موضوع پر بات کی جا چکی اس کا قرآن میں اللہ نے یوں ذکر کیا ہے۔
وَ حَرَام’‘ عَلٰی قَرْیَۃٍ اَھْلَکْنٰھَآ اَنَّھُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ۔ الانبیاء ۹۵
وَ اور حَرَام’‘ اس وقت تک حرام کر دیا ، اس وقت تک اجازت ہی نہیں دی گئی ، ممنوع کر دیا گیا عَلٰی پر قَرْیَۃٍ جتنی بھی قریہ ہیں یعنی جتنے بھی ایسے خطے، علاقے، بستیاں، شہر یا جگہیں ہیں جہاں دین موجود نہیں یعنی جہاں فطرت موجود نہیں بلکہ فطرت کی ضد مصنوعی ہے یا فطرت میں تبدیلی کی جا رہی ہے اَھْلَکْنٰھَآ کس نے ہلاک کیا؟ ہم نے ہلاک کیا اَنَّھُمْ اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ لوگ جو موجود ہیں جو ہلاکت کا شکار ہوئے لَا یَرْجِعُوْنَ نہیں رجوع کر رہے واپس فطرت کی طرف نہیں پلٹ رہے ہلاکت کے بعد اس سے سبق سیکھتے ہوئے اس سے عبرت حاصل کرتے ہوئے واپس اللہ کی طرف نہیں پلٹ رہے بلکہ وہی کر رہے ہیں جو پہلے کر رہے تھے جس وجہ سے ہلاکت آئی ، ایسے ہی جو ماضی میں تھے جیسے کہ قوم نوح، عاد، ثمود، لوط، مدین اور آل فرعون وہ بھی
رجوع نہیں کر رہے تھے۔
حَتّیٰٓ اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَھُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ۔ الانبیاء ۹۶
حَتّیٰٓ یہاں تک کہ اِذَا فُتِحَتْ جب تب کھل گئے یَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ یاجوج ہیں اور ماجوج ہیں وَھُمْ اور وہ جو اس وقت موجود ہیں جن کی وجہ سے ہلاکت کے بعد اس سے عبرت حاصل کرتے ہوئے اللہ سے رجوع نہیں کیا جا رہا مِّنْ کُلِّ تمام کی تمام سے حَدَبٍ جو ان کے کھلنے سے پہلے ہر کام کی حد تھی
یَّنْسِلُوْنَ اسے ان کی بنیاد ان کے بیج سے اس طرح آسانی سے کر رہے ہیں گویا کہ خود بخود ہو رہا ہے ۔
یعنی جب پہلی آیات آئیں گی جن میں یاجوج اور ماجوج کا کھلنا ہے تو جب یاجوج اور ماجوج کھل جائیں گے اور وہی سب کریں گے جو اللہ کے کام ہیں تب انسانوں پر اگر کوئی ہلاکت آئے گی تو وہ اللہ کی طرف پلٹنے کی بجائے اللہ سے رجوع کرنے کی بجائے یاجوج اور ماجوج کی طرف ہی رجوع کریں گے۔ تب اللہ کی طرف رجوع کرنا یعنی پلٹنا حرام ہو جائے گا اس پر پیچھے اپنے مقام پر یاجوج اور ماجوج پر بات کرتے ہوئے تفصیل کیساتھ بات کی گئی اور آج آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ ہے کوئی جو چھوٹی سے چھوٹی یا بڑی سے بڑی ہلاکت کے بعد بھی اللہ کی طرف پلٹ رہا ہے یعنی فطرت پر انحصار کر رہا ہے؟ جواب بالکل واضح ہے کہ نہیں بالکل نہیں کوئی بھی نہیں اور یہ تھی حقیقت اس بات کی کہ جب سب سے پہلی آیات میں سے یہ آیت انسانوں پر کھلے گی کہ جہاں وہ سورج کو غروب ہوتا دیکھ رہے ہیں وہ غروب نہیں ہوتا بلکہ وہیں سے وہ ایک دوسری قوم پر طلوع بھی ہو رہا ہے، جہاں سورج غروب ہو رہا ہے وہیں سے طلوع ہو رہا
ہے جب اس راز نے کھلنا تھا تب اللہ کی طرف پلٹنا حرام ہو جانا تھا جوکہ آج کب کا ہو چکا۔
(جاری ہے)۔۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment