Tuesday, November 22, 2022

  WARNING FROM MOTHER NATURE 


قسط نمبر#76

رسول اللہ ﷺ قال: ومعہ مثل الجنۃ ومثل النار، وجنتۃ غبراء ذات دخان، ونارہ روضۃ خضرائ۔ ابو یعلی، ابن عساکر
جنت۔ ایسا مقام جہاں سہولتیں و آسائشیں موجود ہوں جہاں بشر کو اس کی خواہشات کے مطابق اشیاء حاصل ہوں، جہاں آسانیاں ہی آسانیاں ہوں، آسائشیں
ہی آسائشیں ہوں جہاں مشقت نہ کرنی پڑے۔
النار۔ مخصوص آگ، تکلیف دہ شئے ، جلاکر تباہ کرنے والی شئے۔
غبرائ۔ گردو غبار سے بھری ہوئی
رسول اللہ ﷺ نے کہا: اور ساتھ ہو گا اس کے مثل جنت کے اور مثل آگ، اور جنت ہو گی اس کی گردو غبار سے بھری ہوئی جودخان ہوں گی یعنی طرح طرح
کی گیسیں ہوں گی دھواں ہوگا اور آگ اس کی سر سبز باغ۔
الدجّال کیساتھ جنت اور آگ ہو گی اور جنت اس کی گیسوں،دھویں کے غبار والی ہوگی اور آگ اس کی سرسبز باغات ہوں گے۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ جو الدجّال کی جنت میں داخل ہو گا حقیقت میں وہ آخرت میں جہنم میں ڈالا جائے گا اور جو الدجّال کی آگ میں کودے گا تو آخرت میں اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اس کا ایک پہلو تو یہ ہے لیکن اس کے علاوہ دنیا میں بھی الدجّال کی جنت حقیقت میں جہنم ہو گی۔ آسائشیں ، سہولتیں اور آرام تو بہت ہو گا دل لبھا دینے والی مزین اشیاء ہوں گی لیکن اس کی جنت دخان یعنی گیسوں سے بھری ہوئی ہو گی ، اس میں دھویں کے غبار کی وجہ سے لاتعداد بیماریاں ہوں گی، حادثات، طوفانوں، زلزلوں اور طرح طرح کی مصیبتوں کی وجہ سے الدجّال کی جنت دنیا میں بھی جہنم ہی ہو گی اور جو اس کی آگ ہو گی یعنی الدجّال کی آگ جس کو دنیا جہنم تصور کرے گی یعنی اس آگ کے دجل کا شکار ہو کر لوگ اس سے بچنے کی کوشش کریں گے وہ جہنم درحقیقت دنیا میں بھی سبز باغات ہوں گے کیونکہ دنیا میں واحد دشوار پہاڑی علاقے ہوں گے جو الدجّال یعنی ٹیکنالوجی کی پہنچ سے دور ہوں گے جہاں اہل ایمان پناہ لیں گے وہاں ان پر آگ برسائی جائے گی لیکن وہ جگہیں
فطرتی سرسبز باغات ہوں گی۔
’’عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ شہروں میں آلودگی کی سطح زہریلی حد تک پہنچ گئی ہے۔
دو ہزار شہروں سے حاصل کردہ اعدادو شمار کے مطابق بہت سے لوگ عالمی ادارہ صحت کی مقرر کردہ حد سے کہیں زیادہ آلودگی کے ماحول میں زندگیاں گزار رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق یہ آلودگی دنیا میں مرنے والے ہر آٹھویں فرد کی موت کی وجہ ہے اور اس کی وجہ سے دنیا بھر میں صرف سنہ ۲۰۱۲ میں ۷۰ لاکھ افراد ہلاک
ہوئے۔ بی بی سی: ۱۷ جنوری ۲۰۱۶‘‘
’’بیجنگ فضائی آلودگی کی لپیٹ میں، الرٹ جاری۔ بی بی سی : ۲۹ نومبر ۲۰۱۵‘‘
’’نئی دہلی کی ’’قاتل‘‘ فضا سے شہری پریشان۔
پوری دنیا کی طرح نئی دہلی کے لوگ بھی سمجھتے تھے کہ بیجنگ ہی دنیا کا آلودہ ترین شہر ہے لیکن گزشتہ مئی میں عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا کہ نئی دہلی کی ہوا اس سے دو گنا زیادہ زہریلی ہے۔ جس کا نتیجہ لوگوں کو پھیپھڑوں کی بیماریاں اور ہر سال ۱۳ لاکھ اموات ہیں۔ فضا میں آلودگی کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ بھارت میں
امراض قلب کے بعد سب سے زیادہ اموات فضائی آلودگی سے ہوتی ہیں‘‘ بی بی سی: ۱۹ اپریل ۲۰۱۵‘‘
’’چین کے دارالحکومت بیجنگ میں حکام نے ایک بار پھر سے فضائی آلودگی بڑھ جانے کے سبب ’ریڈ الرٹ‘ جاری کیا ہے۔ بی بی سی ، ۱۸ دسمبر ۲۰۱۵‘‘
’’ایران کے دارالحکومت تہران میں فضائی آلودگی کی سطح زہریلی سطح تک پہنچ گئی۔ پریس ٹی وی ایران: ۱۹ دسمبر ۲۰۱۵‘‘
’’تہران کی کلین ائیر کمیٹی کے ڈائریکٹر محمد ہادی حیدر زادے کے مطابق تہران کی فضا میں آلودگی بہت بڑھ چکی ہے اور صرف اکتوبر کے مہینے میں اس سے ۳۶۰۰ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔نئے اعداد و شمار کے مطابق ایران میں آلودگی کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور مارچ سنہ ۲۰۰۵ سے مارچ
سنہ ۲۰۰۶ تک ۹۹۰۰ ایرانی فضائی آلودگی کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ بی بی سی: ۹ جنوری ۲۰۰۷‘‘
’’کراچی میں دن رات لاکھوں گاڑیاں اور صنعتیں دھواں اگلتی ہیں اس آلودہ فضامیں رہنے والے ڈیڑھ کروڑ انسانوں میں سے ہر سال سینکڑوں فضائی آلودگی
کے سبب مارے جاتے ہیں۔ بی بی سی: ۲۰ جون ۲۰۰۷‘‘
’’عالمی موسمیاتی تنظیم نے اپنے سالانہ جائزے میں بتایا ہے کہ صنعتی انقلاب کے بعد سے فضا میںکاربن ڈائی اکسائیڈ کی مقدار میں چالیس فیصد اضافہ ہوا
ہے۔ بی بی سی: ۲۴ نومبر ۲۰۱۲‘‘

الدجّال جنت۔ جدید سہولتوں سے مزین شہری معاشرے جو کہ الدجّال جنت ہے لیکن درحقیقت یہ جہنم ہے دھویں سے بھری ہوئی جس دھویں کی وجہ سے لاتعداد بیماریاںہیں، اچانک اموات کی شرح بہت زیادہ، بے چینی ، بے سکونی، بے اطمینانی بہت زیادہ ہے، ہر طرف بھاگم بھاگ ہے، پریشانیاں اور طرح طرح کے مصائب ہیں لیکن اس کے باوجود اکثریت کو یہ سب نظر ہی نہیں آتا وہ انہی معاشروں میں رہنے کے خواب دیکھتے ہیں انہیں یہ معاشرے جنت نظر
آتے ہیں حالانکہ یہ نہ صرف دھوکہ ہے بلکہ اس کی حقیقت دنیا میں بھی جہنم اور آخرت میں بھی جہنم ہے۔
جو آج الدجّال جنت ہے یعنی جدید ٹیکنالوجی سے مزین معاشرے اسی ٹیکنالوجی اسی جدیدیت کی وجہ سے یہ زمین بالآخر جہنم بن جائے گی جس کے حق دار یہی
انسان ہوں گے جو اسے جہنم بنا رہے ہیں جو الدجّال کو اپنا مسیحا بنائے ہوئے ہیں۔
الدجّال جہنم۔ ظاہراً دنیا میں الدجّال جہنم میں بہت سختیاں ہیں، الدجّال کی جہنم ہر وہ جگہ ہے جو فطرت پر ہے جہاں یہ ایجادات موجود نہیں ہیں جو محمد علیہ السلام کے وقت نہیں تھیں اور آج دنیا میں موجود ہیں ایسی جگہ حقیقتاً سرسبز باغات اور خامیوں، نقائص اور بیماریوں سے پاک ہے یوں وہ حقیقتاً دنیا میں بھی جنت یعنی سر سبز باغ ہے جہاں نہ صرف مشقت نہیں بلکہ بالکل آزادی ہے اور آخرت میں بھی جنت ہے اور اس کے علاوہ ہر وہ جگہ جہاں دین قائم ہو وہ الدجّال کی
جہنم ہے۔
دین اللہ نے قرآن میں واضح کر دیا کہ فطرت ہے جہاں دین قائم کیا جائے گا یعنی جس جگہ کو فطرت پر لایا جائے گا تو شیاطین اور اولیاء الشیاطین کو اس سے بہت تکلیف ہو گی یوں وہ علاقہ ہر لحاظ سے جہنم کا منظر پیش کرے گا اس میں سختیاں، آزمائشیں ہوں گی، آگ و بارود کی بارش ہو گی لیکن درحقیقت وہ دنیا میں ایک آزمائش ہو گی جس کے بدلے مومن درجات میں بلند ہوتا جائے گا اور وہی درجہ آخرت میں جنت میں پا لے گا یوں الدجّال کی جہنم کی حقیقت آخرت میں جنت
کے بلند درجات کا حصول ہے نہ کہ حقیقتاً جہنم ہے۔
(جاری ہے)۔۔۔۔۔ 

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...