Friday, July 15, 2022

               
                    WARNING FROM  MOTHER NATURE 



 DOWNLOAD MOTHER NATURE


قتل الدجّال بباب لد۔ قسط نمبر#01
الدجّال کا پس منظر
محمد علیہ السلام نے الدجّال کے بارے میںجس طرح انسانیت کی راہنمائی کی اس کو نظر انداز کر کے آج تک اپنے اپنے ظن کے مطابق الدجّال کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی رہی ۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آج تک الدجّال کے بارے میں جو عقائد و نظریات تخلیق کیے گئے ان میں حقیقت کا رائی برابر بھی عنصر شامل نہیں وہ محض ظن اور مفروضوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ان کا علم سے دور دور تک کا کوئی تعلق نہیں اگر ان میں سے کسی ایک عقیدے کو بھی صحیح مان لیا جائے تو نہ صرف قرآن کا انکار ہوتا ہے بلکہ محمد علیہ السلام کی بہت سی وہ باتیں جو روایات کی صورت میں ہم تک پہنچیں ہیں وہ مشکوک بن جاتی ہیںجنہیں طرح طرح کی تاویلات پہنا کر، عربی متن کو چھپا کر ، روایات کو من گھڑت قرار دے کر تسلی کرنے کی کوشش توکی جاتی ہے لیکن پھر بھی ایسا کرنے والے نہ صرف اپنے نظریے کو تقویت پہنچانے میں ناکام رہتے ہیں بلکہ الٹا ان کے عقائد و نظریات کی بنیادیں مزید کھوکھلی اور واضح ہو جاتی ہیں جس سے ان کے خود ساختہ بے بنیاد و باطل عقائد و
نظریات پر لا تعداد سوالات کھڑے ہو جاتے ہیں جن کے جوابات دینا ایسے لوگوں کے بس سے باہر ہو جاتا ہے۔
ہم ہر لحاظ سے اس موضوع کا احاطہ کریں گے تا کہ ہر کسی پر حق ہر لحاظ سے کھل کر واضح ہو جائے اور کسی بھی معاملے کو سمجھنا بالکل آسان ہو جائے۔
محمدعلیہ السلام نے فتنہ الدجّال کے ضمن جس حکمت کا مظاہرہ کیا وہ کسی بھی طور پر غیر معمولی اہمیت و حیثیت سے کم نہیں اور ایسا صرف اور صرف ایسا بشر ہی کر سکتا ہے جس کا براہ راست خالق و مالک و الٰہ اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق ہو جو اللہ کی زبان ہو جس کی زبان پر اللہ بول رہا ہو۔ یہ صرف اور صرف اللہ کی راہنمائی سے
ہی ممکن تھا اس کے علاوہ یہ ناممکن تھا۔
محمدعلیہ السلام نے اس ضمن میں جو الفاظ استعمال کیے وہ بالکل ایسے ہی ہیں جیسے قرآن کے الفاظ ہیں جو وقت کی قید سے آزاد نہ صرف ہر وقت کا احاطہ کرتے ہیں بلکہ ہر بات ہر شئے کا مکمل طور پر احاطہ کرتے ہیںحالانکہ محمد علیہ السلام چاہتے تو ایسے الفاظ استعمال کرتے جو صرف اسی وقت کا احاطہ کرتے جس وقت الدجّال کا خروج ہونا تھا مگر اس کا کسی بھی سطح پر فائدہ نہیں ہو سکتا تھاکیونکہ اگرمحمد علیہ السلام ایسے الفاظ استعمال کرتے تو پھر ہر ایک پر واضح ہو جاتا کہ الدجّال تو تیرہ صدیاں بعد قیام الساعت کے قریب ہی نکلنا ہے لہذا تیرہ صدیاں تک کے ایمان لانے والے ا سے نظر انداز کر دیتے اور کوئی بھی اہمیت نہ دیتے کیونکہ ظاہر ہے اگر آپ
آج سے ہزار سال پہلے موجود ہوتے تو آپ بھی الدجّال کے حوالے سے بالکل بے فکر ہو جاتے۔
اور دوسری بات یہ کہ آج جب الدجّال موجود ہے سب پر اس کی حقیقت عیاں ہوتی اس کے باوجود اگر کوئی اس کے فتنے کا شکار ہوتا تو اس پر اتمام حجت ہو جاتی لیکن جبکہ یہ فتنہ اتنا سخت ہے کہ دنیا کا کوئی بھی انسان اس سے بچ نہیں سکتا تو پھر اس کا ذکر صرف اسی انداز میں کرنا ہی ہر صورت مفید تھا کہ کسی پر اگر اتمام حجت
ہو تو صرف تب ہی جب کہ وہ اس کا حق دار ہو۔
پھر یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دجّالی قوتیں ایسے واضح علم کو دنیا کے انسانوں تک پہنچنے دیتیں؟ ظاہر ہے الدجّال کو ربّ تسلیم کرنے والے کسی بھی صورت حق کو
انسانوں تک نہ پہنچنے دیتے بلکہ وہ اسے اپنے مقصد میں رکاوٹ سمجھتے ہوئے اسے ہر ممکن حد تک چھپادیتے یا اس میں رد و بدل کر کے حق کا حلیہ بگاڑ دیتے۔
اس کے علاوہ اور بھی بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں اور سب کا جواب صرف اور صرف اسی میں تھا کہ محمد علیہ السلام نے اللہ کی طرف سے ایسے الفاظ استعمال کیے کہ دنیا کا کوئی بھی انسان اس فتنے کے ڈر اور خوف سے خالی نہ رہے جس تک اس کی بھنک بھی پڑے اور سب اپنے اپنے وقت میں اس کو سمجھنے اور اس سے بچنے کی فکر میں رہیں یوں ہر وقت کے مومن الدجّال سے بچنے کے لیے حق سے چمٹے رہیں۔ دنیا میں ہر وقت کے مومن الدجّال کے خروج سے پہلے تک اس وقت کے اعتبار سے ہر اس شئے کو دجّال قرار دیتے اور اس سے بچتے رہے جو شئے بھی انہیں آخرت سے غافل اور دنیاوی مال و متاع کے قریب کرتی، ہر اس شئے کو دجّال قرار دیتے رہے جس سے دنیا مزین نظر آئے جو دنیا کو مزین بنا دے جس سے انسان آخرت سے غافل ہو جائیںاور یہی وہ وجہ تھی جس وجہ سے محمدعلیہ السلام نے ایسے الفاظ استعمال کیے کہ دنیا میں ہر وقت کے مومن دجّال کے فتنے کے ڈر اور خوف کی وجہ سے دنیا کو لات مارتے اور آخرت سے حب
کرتے رہے۔
بلا شبہ ہر وہ شئے دجّال ہے جو ایسا دھوکہ ہو جس سے دنیا مزین ہو جائے اور انسان اس زینت کی وجہ سے دھوکے کا شکار ہو کر آخرت کا عملاً انکار کر بیٹھے خواہ وہ
زبان سے مومن ہونے کے لاکھوں دعوے کرتا رہے ۔
ہر وقت کا دجّال الگ تھا وہ یہ الدجّال نہیں تھا جس کا خروج قیام الساعت کے قریب ہونا تھا جو اشراط الساعت میں سے ہے یعنی جس کی وجہ سے زمین پر وہ عظیم زلزلہ آنا ہے جس میں تمام کے تمام بشر مارے جائیں گے۔ یہ الدجّال صرف انسان نہیں ہے لیکن جو اس سے پہلے دجّال گزرے ہیں وہ ضرور انسانوں میں سے تھے وہ کھانے پینے اور بازاروں میں چلنے کے محتاج تھے جنسی حاجات کو پورا کرنے کے محتاج تھے یعنی ہر اس شئے کے محتاج تھے جس کا کوئی بھی بشر محتاج ہو سکتا
ہے لیکن وہ دجّال اپنے زمانے کے لحاظ سے قرب قیام الساعت نکلنے والے الدجّال سے الگ اور مختلف تھے۔ (جاری ہے)..
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7



No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...