Warning from mother nature
DOWNLOAD WARNING FROM MOTHER NATURE
ان تمام دجّالوں کے بارے میں محمد علیہ السلام نے جو الفاظ استعمال کیے اس سے واضح کر دیا کہ وہ انسان ہوں گے جیسا کہ آپ درج ذیل روایات میں دیکھ سکتے
ہیں۔
رسول اللہ ﷺ قال: فی امتی کذابون ودجالون سبعۃ وعشرون، منھم اربعۃ نسوۃٍ، وانی خاتم النبین لا نبی بعدی۔ مسند احمد، الضیائ، طبرانی
رسول اللہ ﷺ نے کہا: میری امت میں ستائیس کذاب اور دجّال ہوں گے ان میں چار عورتیں ہوں گی اور میں خاتم النبیّن ہوں نہیں نبی میرے بعد۔
رسول اللہ ﷺ قال: کذابین یخرجان من بعدی، وکان احد ھما العنسی والآخر مسیلمۃ۔ بخاری، ترمذی، بیھقی، ابن ماجہ
رسول اللہ ﷺ نے کہا : میرے بعد دو کذاب نکلیں گے اور ان میں ایک عنسی اور دوسرا مسیلمہ ہو گا۔
اورمحمد علیہ السلام نے ان کی صفات سے بھی آگاہ کر دیاکہ یہ دین کو بدلیں گے ان دجّالوں کے بارے میں قطعاً یہ نہیں کہا کہ یہ بارش برسائیں گے،یہ زمین سے اگائیں گے یایہ زمین کو اپنے خزانے نکالنے کا حکم دیں گے لیکن ان کے برعکس جو الدجّال قیام الساعت کے قریب ظاہر ہو گا اس کے بارے میںمحمد علیہ السلام نے جو کہا اسے الگ رکھ کر سمجھنا پڑے گا۔ قرب قیام الساعت کا الدجّال جو الساعت کے آنے کا سبب بنے گا کے بارے میں محمد علیہ السلام کی بیان کردہ روایات کو کسی بھی صورت اس سے پہلے گزرنے والے دجّالوں کے حوالے سے روایات کیساتھ خلط ملط نہیں کیا جا سکتا اگر ایسا کیا جائے گا تو لامحالہ ایسا کرنے
والے اور ایسے لوگوں کے پیچھے چلنے والے صرف اور صرف گمراہی کا ہی شکار ہوں گے۔
ہر بات کو سمجھنے سے پہلے یہ ضرور ذہن میں رکھنا ہو گا کہ آج موجودہ انسانوں یعنی آپ کے اور محمد علیہ السلام کے درمیان ۱۴۰۰ سال سے زائد مدت کا فرق ہے اور جو روایات آج سے پہلے گزرنے والے زمانوں کے لیے تھیں ان کو الگ رکھنا پڑے گا۔ ایسا ہرگز نہیں کہ سب کی سب روایات صرف قرب قیام الساعت کے انسانوں کے لیے تھیں باقی جو ان سے پہلے تھے ان کی راہنمائی کے لیے کچھ تھا ہی نہیںاورپھر ہر وقت کے تقاضے الگ الگ ہوتے ہیںانہیں بھی ضرور ذہن میں
رکھنا ہو گا۔
عمر بن الخطاب نے ابن صیاد کے بارے میں قسم کھا ئی کہ یہی دجّال ہے نہ صرف عمر بن الخطاب بلکہ بہت سے اصحاب محمد اسے دجّال سمجھتے اور کہتے تھے یہاں تک کے ابن صیاد یثرب جو اس وقت مدینہ تھا میں پیدا ہوا اور وہیں اس کی موت ہوئی وہ مکہ بھی آتا جاتا تھا اور یہ جاننے کے باوجود کہ الدجّال مکہ اور مدینہ میں داخل نہیںہو سکتا وہ اسے دجّال کہتے رہے اس کی وجہ صرف اور صرف یہی تھی کہ محمد علیہ السلام نے الدجّال کے بارے میں راہنمائی ہی اسی طرح کی جو ہر وقت کا
احاطہ کرے ہر وقت کا انسان خود کوالساعت کے قریب تصور کرے اور دجّال سے بچنے کے لیے فکر مند رہے۔
محمدعلیہ السلام کے سامنے ابن صیاد کو دجّال کہا جانا اور محمد علیہ السلام کا خاموش رہنا قطعاً اس بات کا ثبوت نہیں کہ ابن صیاد ہی وہ الدجّال تھا جسے قرب قیام الساعت
ظاہر ہونا تھا اور خود اللہ کے رسول کو اس وقت اس کا علم نہیں تھا اور پھر اس سے یہ ثابت کیا جا سکے کہ ابن صیاد چونکہ انسان تھا تو الدجّال بھی انسان ہی ہو گا۔
کسی بھی معاملے میں محمد علیہ السلام کی خاموشی اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ کام حلال یا جائز ہو جاتا ہے یا حلال یا جائز ہے بلکہ جب ایسا نظریہ قائم کیا جائے گاتو لامحالہ ایسا نظریہ قائم کرنے والے محمد علیہ السلام کی رسالت کا انکار کر رہے ہوتے ہیں۔ رسول کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ کی مرضی کے مطابق گزرتا ہے رسول ہر لمحے ، نبوت کی پوری زندگی اللہ کی ہدایات کا محتاج اور پابندہوتا ہے رسول کو خود علم نہیں ہوتا کہ اس نے اگلے لمحے کیا کرنا ہے اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اللہ نے
رسول کو باقیوں کے لیے احسن نمونہ یعنی اسوہ حسنہ بنانا ہوتا ہے۔
خمر یعنی الکوحل نشہ آور شئے اور سود کی ہی مثال کو آپ کے سامنے رکھتے ہیں خمرکی حرمت کا اعلان ہجرت کے چوتھے سال کیا گیا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا محمد
علیہ السلام کو اس سے پہلے خمر کی حرمت کا علم نہیں تھا؟
تو اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ محمدعلیہ السلام کو خمر کی حرمت کا علم تھا اسی لیے تو انہوں نے خود نہ پیا لیکن انہیں اس بات کا بھی علم تھا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ بے شک خمر حرام ہے لیکن اس کی حرمت کا اعلان تب ہی کیا جائے گا جب اس کا وقت آئے گا اور وہ وقت کب آئے گا اس کا سب سے بہتر علم اللہ کو ہی ہے۔ جب اللہ نے خمر کی حرمت کا اعلان کرنے کو کہا تب اعلان کیا نہ کہ اس سے پہلے لیکن اس سے پہلے محمدعلیہ السلام کے ذریعے اللہ اس وقت کے مومنوں کو اس مقام
پر لے آیا جہاں پر آ کر خمر کو بھی ترک کرنا تھا۔
محمدعلیہ السلام نے خود اپنی پوری زندگی میں خمر کوسونگھاتک نہیں بچپن میں اللہ نے اس سے محفوظ رکھا اور جب با شعور ہوئے تو انہیں خود اس بات کا علم تھا کہ خمر حرام ہے۔ اسی طرح محمدعلیہ السلام کے بہت سے اصحاب ایسے تھے جنہوں نے پہلے بھی خمر نہ پیا اور بہت سے ایسے تھے جو خمر کی حرمت کے اعلان سے پہلے ہی اسے ترک کر چکے تھے اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ اس مقام پر پہنچ چکے تھے جہاں پر خمر انسان کے لیے اس طرح حرمت والا ہو جاتا ہے کہ پھر اگر وہ فعل انجام دیا جائے گا تو
سزاکے حق دار بن جائیں گے لیکن یہ انفرادی سطح پر معاملہ تھا نہ کہ اجتماعی سطح پر۔
اب ایسے ہی اصحاب محمد میں سے کچھ اگر کسی ایسے موقع پر سوال کرتے یعنی کہ ابھی خمر کی حرمت کا اعلان نہیں ہوا لیکن انہیں اس کا علم ہو چکا ہے کہ خمر حرام ہے لیکن جب وہ عام سطح پر لوگوں کو خمر پیتا دیکھتے تو محمدعلیہ السلام سے اگر عام لوگوں کے سامنے سوال کرتے تو محمدعلیہ السلام خاموش رہتے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی کہ وہ اللہ کے حکم کے محتاج ہیں جب تک کہ اس کی حرمت کا عام سطح پر اعلان کا وقت نہیں آجاتا اس سے پہلے اگر ہاں کریں گے تو فائدے کی بجائے الٹا نقصان ہو گا کیونکہ ابھی معاشرہ اس مقام پر نہیں پہنچا کہ خمر کی حرمت کا عام اعلان کر دیا جائے اور اگر اس کے باوجود ایسا کیا جاتا تو فائدے کی بجائے نقصان ہوتا یعنی اصلاح کی
بجائے الٹا فساد ہو تا اس وجہ سے محمد علیہ السلام خاموش رہتے تھے اور پھر ایسے اصحاب محمد اس خاموشی سے سمجھ جاتے اور اپنے سوال پر اصرار نہ کرتے۔
پھر نہ ہی محمدعلیہ السلام انکار کرتے کیونکہ جو شئے حرام ہے اس کو حلال کیسے قرار دیا جا سکتا ہے اس لیے اللہ کے رسول نہ ہاں اور نہ ہی ناں کہتے بلکہ خاموش رہتے لیکن جب ایسے کسی معاملے میں کسی ایسے شخص کی طرف سے سوال ہوتا جو براہ راست محمدعلیہ السلام کی بجائے اصحاب محمد سے ایسی بات سنتا اور یقین نہ ہونے کی وجہ سے وہ سوال کرتا اور محمد علیہ السلام خاموش رہتے اس کے باوجود اس کے بار بار اصرار کرنے پر محمد علیہ السلام کا چہرہ سرخ بھی ہو جاتا اور ایسا ہو بھی کیوں نہ
کیونکہ جب عام سطح پر ایسی بات نہیں کی جا سکتی اور کوئی اس کا اصرار کیے جا رہا ہو تو ظاہر ہے غصہ کیوں نہ آئے۔ (جاری ہے)
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

Comments