WARNING FROM MOTHER NATURE
DOWNLOAD MOTHER NATURE KRISHNA
قسط نمبر#11
یاجوج اور ماجوج کون ہیں کیا ہیں؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر دنیا کی مختلف زبانوں میں لا تعداد کتابیں مرتب کی گئیں وسیع پیمانے پر اس موضوع کو زیر بحث لاتے ہوئے تقاریر کی گئیں اور یاجوج اور ماجوج کے حوالے سے طرح طرح کے عقائد و نظریات کو نہ صرف گھڑ کر اخذ کیا گیا بلکہ ان کی خوب تشہیر کی گئی لیکن انتہائی دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اب تک سامنے آنے والے تمام تر مواد میں حقیقت کے برعکس اپنے اپنے تراشیدہ بے بنیاد و باطل عقائد ونظریات کی بنیاد پر من پسند کہانیوں کو ہی پروان چڑھایا گیا جن سے حق کو پہچاننا تو بہت دور کی بات انسان الٹا گمراہی کا شکار ہوگئے اور اس کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ ہی الکتاب سے دوری ہے۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ کوئی اللہ سے سوال کرے اور اللہ نے الکتاب میں یا قرآن میں اس سوال کا جواب نہ رکھا ہو۔ اس لیے ہم الکتاب کو معیار اور محور بناتے ہوئے اس موضوع کا
احاطہ کریں گے اور کوشش کریںگے کہ کسی بھی لحاظ سے کوئی بھی ایسی بات نہ کی جائے جس کی اجازت الکتاب یا قرآن نہ دیتا ہو۔
یاجوج اور ماجوج کو سمجھے بغیر فتنہ الدجّال کو سمجھنا بالکل ناممکن ہے اس لیے اس لحاظ سے بھی یاجوج اور ماجوج کو سمجھنا اشد ضروری ہے۔ قرآن میں صرف دو مقامات پر یاجوج اور ماجوج کے الفاظ کیساتھ ان کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ دونوں مقامات انتہائی غور طلب ہیں اور چونکا دینے والے ہیں۔ جب ہم ان دونوں مقامات کا احاطہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ یاجوج اور ماجوج کو ان کے اس صفاتی ناموں سے یعنی اسماء سے تو قرآن میں صرف دو ہی بار ذکر کیا گیا لیکن اس کے
علاوہ یاجوج اور ماجوج کا کثرت کیساتھ ذکر کیا گیا ہے۔
اس سے پہلے کہ ہم یاجوج اور ماجوج کو ہر لحاظ سے ہر پہلو سے کھول کھول کر واضح کریں پہلے ایک نظر ڈالتے ہیں ان عقائد و نظریات پر جو آج تک یاجوج اور
ماجوج کے حوالے سے پائے جاتے ہیں پھر اس کے بعد یاجوج اور ماجوج کو بالکل کھول کر واضح کریں گے۔
یاجوج اور ماجوج اور ان کے خروج سے متعلق آج تک نہ صرف ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں کتابیں لکھی جا چکیں بلکہ لا تعداد اس موضوع پر خطابات کیے گئے
لیکن ان سب کے باوجود آج تک یہ سوال کا سوال ہی رہا کہ یاجوج اور ماجوج کیا ہیں۔ اتنا لکھے اور بولے جانے کے باوجود بھی آج تک اکثریت اس موضوع پر ایک دوسرے سے اختلاف ہی کر رہی ہے یوں یہ موضوع مزید پیچیدگیوں اور الجھنوں کا شکار ہو گیا۔ سب سے پہلے یاجوج اور ماجوج کے بارے
میں پائے جانے والے عقائد و نظریات کو آپ کے سامنے رکھتے ہیں اس کے بعد اس کے برعکس حق ہر لحاظ سے کھول کھول کر آپ پر واضح کریں گے۔
خود کو قرآن کے ترجمان کہلوانے والوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ نوح کے تین بیٹے تھے جن کے نام سام، حام اور یافت تھے ان میں سے یافت کے دو بیٹوں کے نام یاجوج اور ماجوج تھے ان دونوں کی نسلوںسے وجود میں آنے والے دو قبائل کے نام یاجوج اور ماجوج ہیں اور پھر مزید کہا جاتا ہے کہ ذی القرنین نے انہیں ایک دیوار کے پیچھے بند کر دیا تھا جو قیامت کے قریب آزاد ہوں گے ہر بلندی سے اتریں گے ہر شئے کھا پی جائیں گے سب چشموں کا پانی اس طرح پی جائیں گے کہ پانی کا نام و نشان تک مٹ جائے گا وہ اہل زمین کا قتل عام کریں گے اس کے بعد وہ کہیں گے کہ اہل زمین کو تو قتل کیا جا چکا اب آسمان والوں کو قتل کرتے ہیں یوں وہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے اور اللہ اوپر آسمانوں سے ان کے تیر خون آلود کر کے واپس زمین کی طرف بھیجے گا جس سے وہ سمجھیں گے کہ ہم
آسمان والوں پر بھی غالب آ گئے پھر عیسیٰ رسول اللہ کی دعا سے ایک کیڑے یا ایک آگ سے ان کو ہلاک کر دیا جائے گا۔
خود کو مسلمان کہلوانے والوںکی اکثریت انہی عقائد و نظریات کی حامل ہے اکثریت کے نزدیک یاجوج اور ماجوج کسی فلمی کردار سے بڑھ کر کوئی اہمیت نہیں رکھتے کہ ایک دن وہ اچانک پہاڑوں سے سیلاب کی مانند اتریں گے اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ تباہ و برباد کر کے رکھ دیں گے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہی حق ہے؟ حقیقت یہی ہے یا پھر حقیقت اس کے بالکل برعکس کچھ اور ہے اور آج تک حقیقت کے برعکس یاجوج اور ماجوج کو دیو مالائی کہانی بنا کر اس کی
خوب تشہیر کی گئی جو زبان زد عام ہو گئی حالانکہ اس کا حقیقت کیساتھ کوئی تعلق نہیں؟
اس سوال کا جواب جاننے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ہو گا کہ یاجوج اور ماجوج کے حوالے سے پایا جانے والا یہ عقیدہ و نظریہ آیا کہاں سے؟ کیا یہ عقیدہ
و نظریہ قرآن سے اخذ کیا گیا یا پھر غیر قرآن سے اخذ کیا گیا؟
حقیقت تو یہ ہے کہ اس عقیدہ کی حامل اکثریت کا کہنا ہے کہ قرآن یاجوج اور ماجوج پر کھل کر بات نہیں کرتا پورے قرآن میں صرف دو مقامات پر یاجوج اور ماجوج کا ذکر آیا ہے اور دونوں مقامات پر ہی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یاجوج اور ماجوج کون ہیں کیا ہیں اور ان سے متعلق باقی کسی بھی سوال کا جواب ان دونوں مقامات پر نہیں ملتا یعنی ان عقائد و نظریات کے حامل اکثریت کا کہنا ہے نہ صرف کہنا ہے بلکہ دعویٰ ہے کہ پورا قرآن یاجوج اور ماجوج کے بارے میں راہنمائی کرنے سے قاصر ہے اس لیے یاجوج اور ماجوج سے متعلق سوالات کے جوابات کے لیے ہم نے احادیث کے نام پر روایات سے رجوع کیا اور احادیث کے نام پر روایات نے ہمیں یاجوج اور ماجوج سے متعلق ہمارے ہر سوال کا جواب دیا یوں روایات سے یاجوج اور ماجوج کے بارے میں پایا جانے والا عقیدہ اخذ کیایعنی اس عقیدے کے حاملین کا اپنی زبان سے یہ کہنا ہے کہ انہوں نے یہ عقیدہ قرآن سے نہیں بلکہ غیر قرآن سے اخذ کیا جو کہ روایات ہیں اور انہیں یہ
احادیث کا نام دیتے ہیں کہ محمد نے یاجوج اور ماجوج پر جو راہنمائی کی ہمارے وہی عقائد و نظریا ت ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ لوگ واقعتاً اپنے دعوے میں سچے ہیں کہ قرآن یاجوج اور ماجوج پر راہنمائی نہیں کرتا جو انہیں یاجوج اور ماجوج کے بارے میں راہنمائی کے لیے غیر قرآن سے رجوع کرنا پڑا؟ اور یاجوج اور ماجوج کے بارے میں ان کے جو عقائد و نظریات ہیں کیا واقعتاً محمد علیہ السلام نے بھی وہی سب
کہا؟
جیسے جیسے آگے بڑھیں گے تو آپ جان جائیں گے کہ اللہ نے قرآن میں کئی مقامات پر یہ بات واضح کر دی کہ کوئی ایک بھی سوال ایسا نہیں کوئی ایک بھی معاملہ یا مسئلہ ایسا نہیں جس کا جواب جس کا حل اس قرآن میں نہ ہو اور آپ پر آگے چل کر یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ یہ قرآن تو اپنے نزول سے لیکر الساعت کے قیام تک کی تاریخ ہے۔ قرآن کے نزول سے لیکر الساعت کے قیام تک جو کچھ بھی ہونا تھا اللہ نے آج سے چودہ صدیاں قبل ہی قرآن کی صورت میں اس کی مکمل اور احسن تاریخ اتار دی تھی اب اگر اس کے باوجود کوئی یہ کہتا ہے کہ قرآن میں اہم ترین موضوع یاجوج اور ماجوج کے حوالے سے راہنمائی نہیں کی گئی تو اس کا مطلب کہ وہ نہ صرف اس قرآن کے احسن الحدیثِ ہونے کا کفر کر رہا ہے بلکہ اس کا عملاً یہ دعویٰ ہے کہ وہ سچا اور اللہ جھوٹا ہے وہ سچا اور قرآن جھوٹا ہے، قرآن میں مکمل راہنمائی موجود نہیں ہے۔
(جاری ہے)۔۔۔۔
یاجوج اور ماجوج کون ہیں کیا ہیں؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر دنیا کی مختلف زبانوں میں لا تعداد کتابیں مرتب کی گئیں وسیع پیمانے پر اس موضوع کو زیر بحث لاتے ہوئے تقاریر کی گئیں اور یاجوج اور ماجوج کے حوالے سے طرح طرح کے عقائد و نظریات کو نہ صرف گھڑ کر اخذ کیا گیا بلکہ ان کی خوب تشہیر کی گئی لیکن انتہائی دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اب تک سامنے آنے والے تمام تر مواد میں حقیقت کے برعکس اپنے اپنے تراشیدہ بے بنیاد و باطل عقائد ونظریات کی بنیاد پر من پسند کہانیوں کو ہی پروان چڑھایا گیا جن سے حق کو پہچاننا تو بہت دور کی بات انسان الٹا گمراہی کا شکار ہوگئے اور اس کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ ہی الکتاب سے دوری ہے۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ کوئی اللہ سے سوال کرے اور اللہ نے الکتاب میں یا قرآن میں اس سوال کا جواب نہ رکھا ہو۔ اس لیے ہم الکتاب کو معیار اور محور بناتے ہوئے اس موضوع کا
احاطہ کریں گے اور کوشش کریںگے کہ کسی بھی لحاظ سے کوئی بھی ایسی بات نہ کی جائے جس کی اجازت الکتاب یا قرآن نہ دیتا ہو۔
یاجوج اور ماجوج کو سمجھے بغیر فتنہ الدجّال کو سمجھنا بالکل ناممکن ہے اس لیے اس لحاظ سے بھی یاجوج اور ماجوج کو سمجھنا اشد ضروری ہے۔ قرآن میں صرف دو مقامات پر یاجوج اور ماجوج کے الفاظ کیساتھ ان کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ دونوں مقامات انتہائی غور طلب ہیں اور چونکا دینے والے ہیں۔ جب ہم ان دونوں مقامات کا احاطہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ یاجوج اور ماجوج کو ان کے اس صفاتی ناموں سے یعنی اسماء سے تو قرآن میں صرف دو ہی بار ذکر کیا گیا لیکن اس کے
علاوہ یاجوج اور ماجوج کا کثرت کیساتھ ذکر کیا گیا ہے۔
اس سے پہلے کہ ہم یاجوج اور ماجوج کو ہر لحاظ سے ہر پہلو سے کھول کھول کر واضح کریں پہلے ایک نظر ڈالتے ہیں ان عقائد و نظریات پر جو آج تک یاجوج اور
ماجوج کے حوالے سے پائے جاتے ہیں پھر اس کے بعد یاجوج اور ماجوج کو بالکل کھول کر واضح کریں گے۔
یاجوج اور ماجوج اور ان کے خروج سے متعلق آج تک نہ صرف ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں کتابیں لکھی جا چکیں بلکہ لا تعداد اس موضوع پر خطابات کیے گئے
لیکن ان سب کے باوجود آج تک یہ سوال کا سوال ہی رہا کہ یاجوج اور ماجوج کیا ہیں۔ اتنا لکھے اور بولے جانے کے باوجود بھی آج تک اکثریت اس موضوع پر ایک دوسرے سے اختلاف ہی کر رہی ہے یوں یہ موضوع مزید پیچیدگیوں اور الجھنوں کا شکار ہو گیا۔ سب سے پہلے یاجوج اور ماجوج کے بارے
میں پائے جانے والے عقائد و نظریات کو آپ کے سامنے رکھتے ہیں اس کے بعد اس کے برعکس حق ہر لحاظ سے کھول کھول کر آپ پر واضح کریں گے۔
خود کو قرآن کے ترجمان کہلوانے والوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ نوح کے تین بیٹے تھے جن کے نام سام، حام اور یافت تھے ان میں سے یافت کے دو بیٹوں کے نام یاجوج اور ماجوج تھے ان دونوں کی نسلوںسے وجود میں آنے والے دو قبائل کے نام یاجوج اور ماجوج ہیں اور پھر مزید کہا جاتا ہے کہ ذی القرنین نے انہیں ایک دیوار کے پیچھے بند کر دیا تھا جو قیامت کے قریب آزاد ہوں گے ہر بلندی سے اتریں گے ہر شئے کھا پی جائیں گے سب چشموں کا پانی اس طرح پی جائیں گے کہ پانی کا نام و نشان تک مٹ جائے گا وہ اہل زمین کا قتل عام کریں گے اس کے بعد وہ کہیں گے کہ اہل زمین کو تو قتل کیا جا چکا اب آسمان والوں کو قتل کرتے ہیں یوں وہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے اور اللہ اوپر آسمانوں سے ان کے تیر خون آلود کر کے واپس زمین کی طرف بھیجے گا جس سے وہ سمجھیں گے کہ ہم
آسمان والوں پر بھی غالب آ گئے پھر عیسیٰ رسول اللہ کی دعا سے ایک کیڑے یا ایک آگ سے ان کو ہلاک کر دیا جائے گا۔
خود کو مسلمان کہلوانے والوںکی اکثریت انہی عقائد و نظریات کی حامل ہے اکثریت کے نزدیک یاجوج اور ماجوج کسی فلمی کردار سے بڑھ کر کوئی اہمیت نہیں رکھتے کہ ایک دن وہ اچانک پہاڑوں سے سیلاب کی مانند اتریں گے اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ تباہ و برباد کر کے رکھ دیں گے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہی حق ہے؟ حقیقت یہی ہے یا پھر حقیقت اس کے بالکل برعکس کچھ اور ہے اور آج تک حقیقت کے برعکس یاجوج اور ماجوج کو دیو مالائی کہانی بنا کر اس کی
خوب تشہیر کی گئی جو زبان زد عام ہو گئی حالانکہ اس کا حقیقت کیساتھ کوئی تعلق نہیں؟
اس سوال کا جواب جاننے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ہو گا کہ یاجوج اور ماجوج کے حوالے سے پایا جانے والا یہ عقیدہ و نظریہ آیا کہاں سے؟ کیا یہ عقیدہ
و نظریہ قرآن سے اخذ کیا گیا یا پھر غیر قرآن سے اخذ کیا گیا؟
حقیقت تو یہ ہے کہ اس عقیدہ کی حامل اکثریت کا کہنا ہے کہ قرآن یاجوج اور ماجوج پر کھل کر بات نہیں کرتا پورے قرآن میں صرف دو مقامات پر یاجوج اور ماجوج کا ذکر آیا ہے اور دونوں مقامات پر ہی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یاجوج اور ماجوج کون ہیں کیا ہیں اور ان سے متعلق باقی کسی بھی سوال کا جواب ان دونوں مقامات پر نہیں ملتا یعنی ان عقائد و نظریات کے حامل اکثریت کا کہنا ہے نہ صرف کہنا ہے بلکہ دعویٰ ہے کہ پورا قرآن یاجوج اور ماجوج کے بارے میں راہنمائی کرنے سے قاصر ہے اس لیے یاجوج اور ماجوج سے متعلق سوالات کے جوابات کے لیے ہم نے احادیث کے نام پر روایات سے رجوع کیا اور احادیث کے نام پر روایات نے ہمیں یاجوج اور ماجوج سے متعلق ہمارے ہر سوال کا جواب دیا یوں روایات سے یاجوج اور ماجوج کے بارے میں پایا جانے والا عقیدہ اخذ کیایعنی اس عقیدے کے حاملین کا اپنی زبان سے یہ کہنا ہے کہ انہوں نے یہ عقیدہ قرآن سے نہیں بلکہ غیر قرآن سے اخذ کیا جو کہ روایات ہیں اور انہیں یہ
احادیث کا نام دیتے ہیں کہ محمد نے یاجوج اور ماجوج پر جو راہنمائی کی ہمارے وہی عقائد و نظریا ت ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ لوگ واقعتاً اپنے دعوے میں سچے ہیں کہ قرآن یاجوج اور ماجوج پر راہنمائی نہیں کرتا جو انہیں یاجوج اور ماجوج کے بارے میں راہنمائی کے لیے غیر قرآن سے رجوع کرنا پڑا؟ اور یاجوج اور ماجوج کے بارے میں ان کے جو عقائد و نظریات ہیں کیا واقعتاً محمد علیہ السلام نے بھی وہی سب
کہا؟
جیسے جیسے آگے بڑھیں گے تو آپ جان جائیں گے کہ اللہ نے قرآن میں کئی مقامات پر یہ بات واضح کر دی کہ کوئی ایک بھی سوال ایسا نہیں کوئی ایک بھی معاملہ یا مسئلہ ایسا نہیں جس کا جواب جس کا حل اس قرآن میں نہ ہو اور آپ پر آگے چل کر یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ یہ قرآن تو اپنے نزول سے لیکر الساعت کے قیام تک کی تاریخ ہے۔ قرآن کے نزول سے لیکر الساعت کے قیام تک جو کچھ بھی ہونا تھا اللہ نے آج سے چودہ صدیاں قبل ہی قرآن کی صورت میں اس کی مکمل اور احسن تاریخ اتار دی تھی اب اگر اس کے باوجود کوئی یہ کہتا ہے کہ قرآن میں اہم ترین موضوع یاجوج اور ماجوج کے حوالے سے راہنمائی نہیں کی گئی تو اس کا مطلب کہ وہ نہ صرف اس قرآن کے احسن الحدیثِ ہونے کا کفر کر رہا ہے بلکہ اس کا عملاً یہ دعویٰ ہے کہ وہ سچا اور اللہ جھوٹا ہے وہ سچا اور قرآن جھوٹا ہے، قرآن میں مکمل راہنمائی موجود نہیں ہے۔
(جاری ہے)۔۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment