WARNING FROM MOTHER NATURE
DOWNLOAD MOTHER NATURE KRISHNA
قسط نمبر#12
جب احسن الحدیث قرآن کو ترک کر کے اوروں سے راہنمائی لی جائے گی غیر قرآن سے راہنمائی کے لیے رجوع کیا جائے گا تو کیا غیر قرآن آپ کی راہنمائی کر سکتا ہے؟ نہیںممکن ہی نہیں۔ اور جو بات بھی یا جس سوال کا جواب آپ غیر قرآن سے حاصل کریں گے وہ کبھی بھی درست اور احسن جواب ہو ہی نہیں سکتا وہ
صرف اور صرف صرف گمراہی ہی ہو گی۔
جیسا کہ آپ پر بالکل کھول کر واضح کر دیتے ہیں کہ محمد نے کبھی بھی کسی ایک موقع پر بھی یہ نہیں کہا کہ یاجوج اور ماجوج نوح کے بیٹے یافت کے دو بیٹوں کے نام
تھے اور انہی کی نسلوں سے وجود میں آنے والے دو قبائل یاجوج اور ماجوج ہیں یا ان کی نسلیں یاجوج اور ماجوج ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یاجوج اور ماجوج کا انتظار صرف اور صرف مسلمان ہی نہیں کر رہے بلکہ ان سے پہلے سے ہی یہود ی اور عیسائی بھی یاجوج اور ماجوج کے انتظار میں ہیں ، یہودیوں اور عیسائیوں میں یاجوج اور ماجوج کے متعلق بالکل وہی عقائد و نظریات پائے جاتے ہیں جو عقائد و نظریات مسلمان قوم میں پائے جاتے
ہیں۔
یاجوج اور ماجوج یافت کے دو بیٹوں کے نام تھے یہ بات یہودیوں اور عیسائیوں کے مذہبی مواد عہد نامہ قدیم یعنی اولڈ ٹیسٹا منٹ جسے خود کو مسلمان کہلوانے والے تورائت قرار دیتے ہیں وہاں سے اخذ کیے گئے اور حیران کن بات یہ ہے کہ خود کو مسلمان کہلوانے والوں کا دعویٰ تو یہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائی کے مذہبی مواد عہد نامہ قدیم میں یافت کے دو بیٹوں کے نام یاجوج اور ماجوج مذکور ہیں لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے اور حقیت جان کر آپ چونک جائیں گے کہ
کس طرح آج تک یہ بڑے بڑے علماء و مفسر قرآن کے طور پر معروف خود کو اور اکثریت کو دھوکا دیتے رہے۔
مثال کے طور پر ایسی ہی دو مشہور و معروف شخصیات کا اس بارے میں کیا کہنا ہے اس کو آپ کے سامنے رکھتے ہوئے اس دھوکے کو واضح کرتے ہیں۔ سب سے پہلے تو آپ یہ بات جان لیجیے کہ نوح اور ان کے بعد کی تاریخ بالخصوص نوح اور اس کے بیٹوں اور نوح کے بیٹوں کی نسلوں کی تاریخ کا دنیا میں ایک ہی ماخذ ہے اور وہ ہے بائبل۔ بائبل بہت سی کتابوں کا مجموعہ ہے جو مختلف انبیاء سے منسوب کی جاتی ہیں۔ بائبل دو حصوں میں تقسیم ہے پہلا حصہ پرانا عہد نامہ یعنی اولڈ ٹیسٹا منٹ کہلاتا ہے اور دوسرا حصہ نیا عہد نامہ یعنی نیو ٹیسٹا منٹ کہلاتا ہے۔ پرانے عہد نامے کی پہلی پانچ کتابوں کو یہودی اور عیسائی تورائت قرار دیتے ہیں اور نئے عہد نامے کو چونکہ یہودی تسلیم نہیں کرتے اس لیے عیسائی اسے انجیل قرار دیتے ہیں یوں خود کو مسلمان کہلوانے والے یہودیوں اور عیسائیوں کی اتباع میں بائبل کے پرانے عہد نامے کی پہلی پانچ کتابوں کو تورائت قرار دیتے اور نئے عہد نامے کو عیسائیوں کی اتباع میں انجیل قرار دیتے ہیںحالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ نہ
تو بائبل کے پہلے مجموعے کی پہلی کتابیں توارئت ہیں اور نہ ہی بائبل کا نیا عہد نامہ انجیل۔
بہر حال یہ بات جان لیجیے کہ نوح، اس کے بیٹوں اور نوح کے بیٹوں کی نسلوں کی تاریخ کا اول ماخذ صرف اور صرف بائبل کا عہد نامہ قدیم ہے اس کے علاوہ آپ
کو جہاں بھی اس بارے میں تاریخ ملے گی وہ بائبل عہد نامہ قدیم یعنی اولڈ ٹیسٹامنٹ سے ہی نقل کی گئی ہو گی۔
ڈاکٹر اسرار کا دعویٰ ہے کہ نوح کے بیٹے یافت کے کئی بیٹے تھے ان میں سے دو کے نام یاجوج اور ماجوج تھے اور جاوید غامدی نے بھی وہی بات کی لیکن جاوید غامدی نے کہا کہ یافت کے دس گیارہ بیٹے تھے ان میں سے دو یاجوج اور ماجوج تھے لیکن حیران کن اور دہلا کر رکھ دینے والی بات تو یہ ہے کہ جہاں سے یہ اپنی بات اخذ کرنے کے دعویدار ہیں وہاں یعنی عہد نامہ قدیم جسے مسلمان تورائت قرار دیتے ہیں اس میں نہ تو یافت کے بیٹوں کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ یافت کے کئی بیٹے تھے اور نہ ہی یہ لکھا ہے کہ یافت کے دس گیارہ بیٹے تھے اور پھر اس سے بھی بڑھ کر چونکا دینے والی بات تو یہ ہے کہ یہ بھی نہیں لکھا ہوا کہ یافت کے دو
بیٹوں کے نام یاجوج اور ماجوج تھے۔
حقیقت کیا ہے؟ عہد نامہ قدیم جسے مسلمان یہودیوں اور عیسائیوں کی اتباع میں تورائت قرار دینے پر بضد ہیں اس میں جو لکھا ہے وہ آپ کے سامنے رکھتے ہیں تا کہ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر یہ فیصلہ کر سکیں کہ جن کو بڑے بڑے علماء اور قرآن کے ترجمان کے طور پر جانا جاتا ہے جو دنیا میں اللہ کے نمائندے بنے
پھرتے ہیں ان کی حقیقت کیا جب بڑوں کی حقیقت یہ ہے تو پھر چھوٹے ملّاں جو انہی کی اتباع کرتے ہیں ان کا کیا حال ہو گا۔
بائبل عہد نامہ قدیم کی پہلی کتاب پیدائش ۱۹،۱۸ :۹ میں لکھا ہے۔
نوح کے بیٹے جو کشتی سے باہر آئے تھے سم، حام اور یافث تھے۔۱۸
نوح کے یہی تین بیٹے تھے اور ان کی نسل ساری زمین پر پھیل گئی۔ ۱۹
پھر آگے ۲ :۱۰ میں لکھا ہے
یافت کے یہ بیٹے ہیں۔
جُمر، ماجوج، مادی، یاوان، توبل، مسک اور تیراس۔
اسی بائبل کا ہی حوالے دیتے ہوئے ڈاکٹر اسرار کا کہنا تھا کہ یافت کے کئی بیٹے تھے اور ان میں سے دو کے نام یاجوج اور ماجوج تھے اور جاوید غامدی کابھی اسی بائبل کا ہی حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ یافت کے دس گیارہ بیٹے تھے جن میں سے دو کے نام یاجوج اور ماجوج تھے لیکن حقیقت دونوں کے ہی بالکل برعکس
ہے۔
نہ تو یافت کے کئی بیٹے تھے جو کہ گنتی میں نہیں آ رہے تھے اور نہ ہی بقول جاوید غامدی دس گیارہ بیٹے تھے بلکہ بائبل میں تو واضح الفاظ میں یافت کے سات بیٹوں کا ذکر کیا گیا اور ان ساتوں کے نام بھی درج ہیں۔ اور پھر ڈاکٹر اسرار اور جاوید غامدی کے بقول ان میں سے دو کے نام یاجوج اور ماجوج تھے یہ بات بھی سو فیصد
غلط ہے دو نہیں بلکہ ایک ہی بیٹے کا نام ماجوج تھا۔
اب آپ خود فیصلہ کریں کہ جن کو آج تک آپ اتنے بڑے بڑے علماء و مفسر قرآن کے نام پر جانتے اور پہچانتے رہے ان کی حقیقت کیا ہے جب اتنے بڑے بڑے علماء و مفسر قرآن کے دعویداروں کایہ حال ہے کہ جو بات وہ کر رہے ہیں وہ بالکل بے بنیاد اور غلط ہے اس کے باوجود وہ ڈنکے کی چوٹ پر اپنی بے بنیاد اور
باطل بات بغیر کسی خوف کے پیش کر رہے ہیں تو ان کی اتباع کرنے والوں کی حالت کیا ہو گی۔
اور یہ بات بھی جان لیں کہ یہ صرف ڈاکٹر اسرار اور جاوید غامدی کی بات نہیں ہو رہی بلکہ سو فیصد ملّاؤں کی بات ہو رہی ہے ان دو کو تو بطور مثال سامنے رکھا گیا ہے کیونکہ ڈاکٹر اسرار اور جاوید غامدی نے کوئی نئی بات پیش نہیں کی بلکہ انہوں نے بھی اسی کو نقل کیا جو نسل در نسل چلا آ رہا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ ان کا نقل
کرنے کا اپنا انداز ہے۔
اب آپ خود فیصلہ کریں کہ یاجوج اور ماجوج کے اکثریت کے عقائد و نظریات کی جب بنیاد ہی غلط ہے من گھڑت ہے تو پورے عقیدے کی کیا اہمیت و حیثیت رہ
جاتی ہے اس میں کس قدر صداقت ہو گی یہ فیصلہ کرنا کوئی مشکل نہیں رہا۔
مسلمانوں میںیاجوج اور ماجوج سے متعلق پائے جانے والے عقائد و نظریات وہی ہیں جو یہودیوں اور عیسائیوں میں پائے جاتے ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتا
جب احسن الحدیث قرآن کو ترک کر کے اوروں سے راہنمائی لی جائے گی غیر قرآن سے راہنمائی کے لیے رجوع کیا جائے گا تو کیا غیر قرآن آپ کی راہنمائی کر سکتا ہے؟ نہیںممکن ہی نہیں۔ اور جو بات بھی یا جس سوال کا جواب آپ غیر قرآن سے حاصل کریں گے وہ کبھی بھی درست اور احسن جواب ہو ہی نہیں سکتا وہ
صرف اور صرف صرف گمراہی ہی ہو گی۔
جیسا کہ آپ پر بالکل کھول کر واضح کر دیتے ہیں کہ محمد نے کبھی بھی کسی ایک موقع پر بھی یہ نہیں کہا کہ یاجوج اور ماجوج نوح کے بیٹے یافت کے دو بیٹوں کے نام
تھے اور انہی کی نسلوں سے وجود میں آنے والے دو قبائل یاجوج اور ماجوج ہیں یا ان کی نسلیں یاجوج اور ماجوج ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یاجوج اور ماجوج کا انتظار صرف اور صرف مسلمان ہی نہیں کر رہے بلکہ ان سے پہلے سے ہی یہود ی اور عیسائی بھی یاجوج اور ماجوج کے انتظار میں ہیں ، یہودیوں اور عیسائیوں میں یاجوج اور ماجوج کے متعلق بالکل وہی عقائد و نظریات پائے جاتے ہیں جو عقائد و نظریات مسلمان قوم میں پائے جاتے
ہیں۔
یاجوج اور ماجوج یافت کے دو بیٹوں کے نام تھے یہ بات یہودیوں اور عیسائیوں کے مذہبی مواد عہد نامہ قدیم یعنی اولڈ ٹیسٹا منٹ جسے خود کو مسلمان کہلوانے والے تورائت قرار دیتے ہیں وہاں سے اخذ کیے گئے اور حیران کن بات یہ ہے کہ خود کو مسلمان کہلوانے والوں کا دعویٰ تو یہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائی کے مذہبی مواد عہد نامہ قدیم میں یافت کے دو بیٹوں کے نام یاجوج اور ماجوج مذکور ہیں لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے اور حقیت جان کر آپ چونک جائیں گے کہ
کس طرح آج تک یہ بڑے بڑے علماء و مفسر قرآن کے طور پر معروف خود کو اور اکثریت کو دھوکا دیتے رہے۔
مثال کے طور پر ایسی ہی دو مشہور و معروف شخصیات کا اس بارے میں کیا کہنا ہے اس کو آپ کے سامنے رکھتے ہوئے اس دھوکے کو واضح کرتے ہیں۔ سب سے پہلے تو آپ یہ بات جان لیجیے کہ نوح اور ان کے بعد کی تاریخ بالخصوص نوح اور اس کے بیٹوں اور نوح کے بیٹوں کی نسلوں کی تاریخ کا دنیا میں ایک ہی ماخذ ہے اور وہ ہے بائبل۔ بائبل بہت سی کتابوں کا مجموعہ ہے جو مختلف انبیاء سے منسوب کی جاتی ہیں۔ بائبل دو حصوں میں تقسیم ہے پہلا حصہ پرانا عہد نامہ یعنی اولڈ ٹیسٹا منٹ کہلاتا ہے اور دوسرا حصہ نیا عہد نامہ یعنی نیو ٹیسٹا منٹ کہلاتا ہے۔ پرانے عہد نامے کی پہلی پانچ کتابوں کو یہودی اور عیسائی تورائت قرار دیتے ہیں اور نئے عہد نامے کو چونکہ یہودی تسلیم نہیں کرتے اس لیے عیسائی اسے انجیل قرار دیتے ہیں یوں خود کو مسلمان کہلوانے والے یہودیوں اور عیسائیوں کی اتباع میں بائبل کے پرانے عہد نامے کی پہلی پانچ کتابوں کو تورائت قرار دیتے اور نئے عہد نامے کو عیسائیوں کی اتباع میں انجیل قرار دیتے ہیںحالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ نہ
تو بائبل کے پہلے مجموعے کی پہلی کتابیں توارئت ہیں اور نہ ہی بائبل کا نیا عہد نامہ انجیل۔
بہر حال یہ بات جان لیجیے کہ نوح، اس کے بیٹوں اور نوح کے بیٹوں کی نسلوں کی تاریخ کا اول ماخذ صرف اور صرف بائبل کا عہد نامہ قدیم ہے اس کے علاوہ آپ
کو جہاں بھی اس بارے میں تاریخ ملے گی وہ بائبل عہد نامہ قدیم یعنی اولڈ ٹیسٹامنٹ سے ہی نقل کی گئی ہو گی۔
ڈاکٹر اسرار کا دعویٰ ہے کہ نوح کے بیٹے یافت کے کئی بیٹے تھے ان میں سے دو کے نام یاجوج اور ماجوج تھے اور جاوید غامدی نے بھی وہی بات کی لیکن جاوید غامدی نے کہا کہ یافت کے دس گیارہ بیٹے تھے ان میں سے دو یاجوج اور ماجوج تھے لیکن حیران کن اور دہلا کر رکھ دینے والی بات تو یہ ہے کہ جہاں سے یہ اپنی بات اخذ کرنے کے دعویدار ہیں وہاں یعنی عہد نامہ قدیم جسے مسلمان تورائت قرار دیتے ہیں اس میں نہ تو یافت کے بیٹوں کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ یافت کے کئی بیٹے تھے اور نہ ہی یہ لکھا ہے کہ یافت کے دس گیارہ بیٹے تھے اور پھر اس سے بھی بڑھ کر چونکا دینے والی بات تو یہ ہے کہ یہ بھی نہیں لکھا ہوا کہ یافت کے دو
بیٹوں کے نام یاجوج اور ماجوج تھے۔
حقیقت کیا ہے؟ عہد نامہ قدیم جسے مسلمان یہودیوں اور عیسائیوں کی اتباع میں تورائت قرار دینے پر بضد ہیں اس میں جو لکھا ہے وہ آپ کے سامنے رکھتے ہیں تا کہ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر یہ فیصلہ کر سکیں کہ جن کو بڑے بڑے علماء اور قرآن کے ترجمان کے طور پر جانا جاتا ہے جو دنیا میں اللہ کے نمائندے بنے
پھرتے ہیں ان کی حقیقت کیا جب بڑوں کی حقیقت یہ ہے تو پھر چھوٹے ملّاں جو انہی کی اتباع کرتے ہیں ان کا کیا حال ہو گا۔
بائبل عہد نامہ قدیم کی پہلی کتاب پیدائش ۱۹،۱۸ :۹ میں لکھا ہے۔
نوح کے بیٹے جو کشتی سے باہر آئے تھے سم، حام اور یافث تھے۔۱۸
نوح کے یہی تین بیٹے تھے اور ان کی نسل ساری زمین پر پھیل گئی۔ ۱۹
پھر آگے ۲ :۱۰ میں لکھا ہے
یافت کے یہ بیٹے ہیں۔
جُمر، ماجوج، مادی، یاوان، توبل، مسک اور تیراس۔
اسی بائبل کا ہی حوالے دیتے ہوئے ڈاکٹر اسرار کا کہنا تھا کہ یافت کے کئی بیٹے تھے اور ان میں سے دو کے نام یاجوج اور ماجوج تھے اور جاوید غامدی کابھی اسی بائبل کا ہی حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ یافت کے دس گیارہ بیٹے تھے جن میں سے دو کے نام یاجوج اور ماجوج تھے لیکن حقیقت دونوں کے ہی بالکل برعکس
ہے۔
نہ تو یافت کے کئی بیٹے تھے جو کہ گنتی میں نہیں آ رہے تھے اور نہ ہی بقول جاوید غامدی دس گیارہ بیٹے تھے بلکہ بائبل میں تو واضح الفاظ میں یافت کے سات بیٹوں کا ذکر کیا گیا اور ان ساتوں کے نام بھی درج ہیں۔ اور پھر ڈاکٹر اسرار اور جاوید غامدی کے بقول ان میں سے دو کے نام یاجوج اور ماجوج تھے یہ بات بھی سو فیصد
غلط ہے دو نہیں بلکہ ایک ہی بیٹے کا نام ماجوج تھا۔
اب آپ خود فیصلہ کریں کہ جن کو آج تک آپ اتنے بڑے بڑے علماء و مفسر قرآن کے نام پر جانتے اور پہچانتے رہے ان کی حقیقت کیا ہے جب اتنے بڑے بڑے علماء و مفسر قرآن کے دعویداروں کایہ حال ہے کہ جو بات وہ کر رہے ہیں وہ بالکل بے بنیاد اور غلط ہے اس کے باوجود وہ ڈنکے کی چوٹ پر اپنی بے بنیاد اور
باطل بات بغیر کسی خوف کے پیش کر رہے ہیں تو ان کی اتباع کرنے والوں کی حالت کیا ہو گی۔
اور یہ بات بھی جان لیں کہ یہ صرف ڈاکٹر اسرار اور جاوید غامدی کی بات نہیں ہو رہی بلکہ سو فیصد ملّاؤں کی بات ہو رہی ہے ان دو کو تو بطور مثال سامنے رکھا گیا ہے کیونکہ ڈاکٹر اسرار اور جاوید غامدی نے کوئی نئی بات پیش نہیں کی بلکہ انہوں نے بھی اسی کو نقل کیا جو نسل در نسل چلا آ رہا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ ان کا نقل
کرنے کا اپنا انداز ہے۔
اب آپ خود فیصلہ کریں کہ یاجوج اور ماجوج کے اکثریت کے عقائد و نظریات کی جب بنیاد ہی غلط ہے من گھڑت ہے تو پورے عقیدے کی کیا اہمیت و حیثیت رہ
جاتی ہے اس میں کس قدر صداقت ہو گی یہ فیصلہ کرنا کوئی مشکل نہیں رہا۔
مسلمانوں میںیاجوج اور ماجوج سے متعلق پائے جانے والے عقائد و نظریات وہی ہیں جو یہودیوں اور عیسائیوں میں پائے جاتے ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتا
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment