Monday, August 22, 2022

          WARNING FROM MOTHER NATURE


قسط نمبر#25

اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ مَا خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَابَیْنَھُمَآاِلَّا بِالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّی وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآیِٔ رَبِّھِمْ
لَکٰفِرُوْنَ ۔ الروم ۸
کیا اور نہیں خود ہی تفکر کر رہے غور و فکر، سوچ و بچارکر رہے اپنی ہی ذاتوں میں، نہیں خلق کیا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو بھی ان کے درمیان ہے مگر حق کیساتھ اور اجل مسمیٰ، اور اس میں کچھ شک نہیں ایک بڑی تعداد لوگوں سے اپنے ربّ سے ملنے یعنی جس سے وجود میں آئے واپس اسی میں ملنے سے جو ان کا
ربّ ہے اس کا انکار کر رہے ہیں۔
اب قرآن کی اس آیت میں حکم کے مطابق اگر ہم اپنی ہی ذاتوں اور باقی میں غورو فکر کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ ہمارے سر پر بال، ہمارے جسم پر بال،ہماری پلکیں، ہمارے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کے ناخن یہ سب نائیلون ہی سے تو بنے ہوئے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے جسم پر یہ نائیلون کہا
ںسے آیا؟ تو اس کا جواب بھی اللہ کی اس آیت میں موجود ہے۔
کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ البقرۃ ۲۸
کیسے کس طرح کفر کر رہے ہو یعنی جو بھی اعمال تم کر رہے ہو تم عملاً انکار کر رہے ہو اللہ سے اور تھے تم اموات یعنی پوری زمین میں ذرات کی شکل میں بکھرے پڑے تھے پس تمہیں حیا کیا یعنی ان ذرات کو کیسے اکٹھا کر کے تمہیں وجود دیا، پھر تمہیں موت دی جا رہی ہے اور حیا کیا جا رہا ہے پھر اسی کی طرف پلٹائے جا رہے
ہو۔
اس آیت میں اللہ نے کہا کہ تم پہلے اموات تھے ۔ اموات موت کی جمع ہے جس کے معنی ایک شئے کا ان ذرات میں تحلیل ہو جانا جن سے وہ وجود میں آئی یا یہ کہہ لیں وہ مواد موت کہلاتا ہے جس مواد سے شئے وجود میں آتی ہے یعنی آپ پہلے اس پوری دنیا میں اس کے اوپر اور اس کی گہرائیوں میں نہ نظر آنے والے چھوٹے چھوٹے ذرات کی شکل میں بکھرے پڑے تھے اور اللہ نے آپ کو حیا کیا یعنی ان ذرات کو اکٹھا کر کے آپ کوایک جیتا جاگتا بشر بنا دیا۔ اللہ نے یہ کیسے کیا یہ بھی آپ کو سمجھنا ہو گایعنی اللہ نے کیسے ان ذرات کو اکٹھا کیا اور آپ کو وجود دیا تو اس کے لیے اللہ نے ایک مکمل نظام وضع کیا ہوا ہے آپ غور کریں کہ جب آپ پیدا ہوئے توآپ کا تقریباً دو سے پانچ کلو وزن تھا اور آج یہ ساٹھ، ستر، اسی کلو اس سے کم یا زیادہ وزن کہاں سے آ گیا؟
غور کرنے سے پتہ چلا کہ جو کھاتے ہیں ، جو پیتے ہیں اس سے ہمارا وزن بڑھتا ہے یعنی جسم بڑھتا ہے گوشت پیدا ہوتا ہے ہڈیاں پرورش پاتی ہیں اور ہم کیا کھاتے ہیں جب غور کریں تو پتہ چلا کہ پھل، سبزیاں،گوشت وغیرہ۔ اب یہ سب کہاں سے اور کیسے وجود میں آیا؟ جب اس میں غور و فکر کریں تو پتہ چلا کہ مثلاً اگر ہم گوشت کھاتے ہیں تو بکرے وغیرہ سے حاصل کیا، بکرا گھاس پھوس سے وجود میں آیا اور گھاس پھوس زمین سے نکلی۔ اسی طرح ہم سبزیاں ، پھل، فروٹ وغیرہ کھاتے ہیں یہ سب بھی زمین سے ہی نکلتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب زمین سے کیسے نکلا؟ زمین نے پانی، سورج سے حاصل ہونے والی توانائی اور ان اجزاء کے ملاپ سے گھاس پھوس، پھلوں، سبزیوں وغیرہ کو اپنے اندر سے نکالا جو اجزاء اللہ نے خام تیل کی صورت میں زمین کو
امانت کے طور پر دیئے ہوئے ہیں۔
اس سے ہم پر واضح ہو جاتاہے کہ ہمارے جسم پر موجود نائیلون جو بالوں کی شکل میں واضح ہے وہ زمین میں موجود خام تیل سے آیا۔ جب اللہ کی باقی مخلوقات میں غورو فکر کریں تو پتہ چلے گا کہ جانوروں کے جسم پر بال اور پرندوں کے پر وغیرہ یہ سب نائیلون ہے۔ اب بالکل واضح ہوجانا چاہیے کہ اللہ نے زمین کے
اندر خام تیل کی صورت میں نائیلون کیوں رکھا اور آپ کو سورۃ البقرۃ کی اس آیت کی بھی واضح سمجھ آ جانی چاہیے۔
ھُوَالَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ۔ البقرۃ ۲۹
ھُوَ وہ ذات ہے جس نے خلق کیا تمہیں جو کچھ بھی زمین میں ہے وہ بتدریج ایک کے بعد ایک تم ہی کو خلق کیا یعنی زمین میں جو کچھ بھی خلق کیا وہ تمہیں ہی خلق کیا
تم ہی کو خلق کیا کسی نہ کسی صورت میں تم ہی موجود ہو۔
(جاری ہے)۔۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://lnkd.in/gM4QHnrd
Part 2
https://lnkd.in/gHdHQuJm
Part 3
https://lnkd.in/gvr7KhMT
Part 4
https://lnkd.in/g2fv5fPx
Part 5
https://lnkd.in/gK4APFry
Part 6
https://lnkd.in/gm3ZMm86
Part 7
https://lnkd.in/gysSgU7y  

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...