WARNING FROM MOTHER NATURE
قسط نمبر24
خام تیل: یہ کالے رنگ کا کیچڑ ہوتا ہے جسے زمین کی گہرائی سے نکالا جاتا ہے۔
بنیادی طور پر یہ زمین کا خون ہے جس سے زمین پر حیات وجود میں لائی جاتی ہے لیکن جب انسان نے اسے نکال کر اس سے الدجّال کو خلق کیا تو یہ اب زمین کا
خون نہیں بلکہ الدجّال کا خون ہے جسے آج آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
عام طور پر اسے فوسل فیولز کا نام دیا جاتا ہے یعنی جانداروں کی باقیات سے بننے والے ایندھن۔
جسے آج قدرتی تیل، قدرتی گیس اور قدرتی کول یعنی کوئلے کے نام دیئے جاتے ہیں یا ان ناموں سے جانا اور پہچانا جاتا ہے اورپوری دنیا کے لوگ اپنی زندگی میں روزانہ کی بنیاد پراستعمال کر رہے ہیں، ہزاروں اقسام کی گاڑیوںمیں، انجنوںمیں، مشینوں اور جہازوںکے علاوہ بڑی سطح پر استعمال کر رہے ہیں حتیٰ کہ کھانا پکانے سمیت بڑی مقدار میں گھریلو سطح پر بھی استعمال کر رہے ہیں۔
یوں سمجھ لیجئے کہ خام تیل موجودہ دور میں جس نظام میں آپ رہ رہے ہیں اس نظام اور آپ کی زندگی میں ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ جیسے گاڑی کے پہیے اس کے ستون کہلاتے ہیں یا کسی عمارت کے ستون جن پر عمارت کھڑی ہوتی ہے اگر ان میں سے کسی ایک ستون کو بھی گرا دیا جائے تو گاڑی یا عمارت وغیرہ گر کر تباہ ہو جائے گی بالکل اسی طرح موجودہ دور میں خام تیل بھی موجودہ نظام کے بنیادی ستونوں میں سے ایک بنیادی ستون ہے تب تک جب تک کہ
اسے کسی متبادل ستون سے بدل نہیں دیا جاتا۔
ایندھن کی ان اقسام کوجانداروں کی باقیات سے بننے والا ایندھن کہنے کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں علم کے نام پر جہالت و دھوکے کی بنیاد پر قائم کیے جانے والے نظریے کے د و رخ بیان کیے جاتے ہیںجن میں ایک یہ کہ آج سے اربوں، کھربوں ہا سال پہلے زمین پر بڑے بڑے اور چھوٹے مختلف اقسام کے جانور موجود تھے جن کے مرنے کے بعد زمین مختلف عوامل سے گزری جس کی وجہ سے ان کی لاشوں پر مٹی کی تہیں چڑھ گئیں یہاں تک کہ ان تہوں کی موٹائی ہزاروں
میٹر ہو گئی جہاں انہیں حرارت ملنے سے ان مردہ اجسام نے خام تیل اور گیسوں کی صورت اختیار کر لی ۔
جب سوالات اٹھانے والوں نے سوالات اٹھائے تو جھوٹ افشاں ہونے اور دھوکہ و دجل چاک ہونے کے خوف سے اس نظریے کوایک دوسرا رخ دیا گیا کہ زمین پر کھربوں سال پہلے بڑے بڑے اور چھوٹے لاتعداد اقسام کے جانور موجود تھے ان کی اموات کے بعدان کے اجسام تحلیل ہو کر سطح زمین کے نیچے چلے
گئے جہاں حرارت ملنے سے ان باقیات نے خام تیل اور گیس کی صورت اختیار کر لی۔
ایسے نظریات کی بنیاد رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو خود کو سائنسدان کہلواتے ہیں جو سائنس کے دعویدار ہیں اور ان نظریات کو بھی سائنس ہی کا نام دیا جاتا ہے ان
میں کتنی صداقت ہے اور کتنا جھوٹ اس پر بھی آگے چل کر بات کریں گے ۔
لیکن سب سے پہلی بات تو یہ سامنے آتی ہے کہ خام تیل زمین کے اندر پایا جاتا ہے نہ کے باہر۔ اسے اللہ نے انسان سے چھپا کر رکھا اور پھر اس کا بالکل واضح علم بھی نہیں دیا ۔ بہر حال علم دینے کی بات تو تب آتی جب اس کی موجودگی کا علم دیا جاتا جب اس کی موجودگی کا ہی علم نہیں دیا تھا تو پھر باقی علم دینے کا تو تصور
ہی ناپید ہو جاتا ہے۔
خام تیل کو اللہ نے انسان سے چھپا کر رکھ دیا تو یہ اللہ کے غیب میں سے ہے جس کیساتھ مومن بننے کا حکم دیا گیا۔ اس کو قرآن میں اللہ نے برکت بھی کہا ہے اور برکت اس لیے کہا کہ اسی سے زمین آراستہ ہوتی ہے یعنی اس سے زمین کی زینت نکلتی ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کے خام تیل اللہ کا زمین کے اندر رکھا ہوا خام مال ہے جسے زمین پر موجود درختوں سمیت مختلف فیکٹریاں استعمال کر کے ہمارے لیے ہماری ضروریات خلق کرتی ہیں۔ مثلاً ہمارے جسم کو جن جن اجزاء جنہیں ہم مختلف وٹامنز اور کیمیکلز کا نام دیتے ہیں کی ضرورت ہوتی ہے اس کے علاوہ زمین پر جتنی بھی مخلوقات ہیں سب کا کسی نہ کسی ذریعے سے ہمارے ساتھ کوئی نہ کوئی تعلق ہے جیسے خوراک کے لیے پھل ،سبزیاں، گوشت وغیرہ، ہماری سواری کے ذرائع، ہمارے سانس لینے کے لیے آکسیجن سمیت سب کچھ اسی سے آتا ہے جسے اللہ نے ہمارے دیئے گئے نام خام تیل کی صورت میں زمین کی گہرائی میں رکھ دیا۔ خام تیل زمین پر وجود میں آنے والی حیات کا خام مال ہے یعنی خام تیل
وہ خام مال کا زیر زمین ذخیرہ ہے جس سے زمین پر حیات وجود میں آتی ہے۔
حلال جانور اللہ کے وہ کارخانے ہیں جو ہمارے لیے گوشت بناتے ہیں، درخت اور فصلیں یہ اللہ کے وہ کارخانے ہیں جو ہمارے لیے پھل، سبزیاں سمیت طرح طرح کے غذائی اجناس اور ہمارے سانس لینے کے لیے آکسیجن بناتے ہیں۔ سورج اللہ کا وہ کارخانہ ہے جو ان تمام کارخانوں کو ہماری ضرورت کی اشیاء بنانے کے لیے درکار حرارت یعنی ایندھن اور قوت مہیا کرتا ہے اور زمین پر موجود اللہ کے لاتعداد کارخانے اسی طرح ہمارے لیے کچھ نہ کچھ بنانے میں مصروف
ہیں جس کے لیے وہ خام مال زمین سے خام تیل میں موجود مواد سے حاصل کرتے ہیں۔
زمین میں موجود خام تیل کو ہم کئی مثالوں سے سمجھ سکتے ہیں مثال کے طور پر بہت سے کار خانے ہوں جو پلاسٹک سے الگ الگ ایک سے بڑھ کر ایک شئے بنا رہے ہوں اور آپ کے پاس پلاسٹک خام مال کی صورت میں موجود ہو اب خام مال تو صرف آپ کے پاس ایک ہی جگہ موجود ہے لیکن وہ تمام کارخانے ایک ہی جگہ سے ایک ہی خام مال سے لا تعداد اشیاء بنا رہے ہیں بالکل اسی طرح زمین کے اندر خام تیل اللہ کی طرف سے وہ خام مال ہے جس میں اس دنیا میں
موجود تمام کارخانوں کی پیداوار کے لیے درکار مواد موجود ہے۔
اب خام تیل کو صرف اسی حد تک کے لیے اللہ نے خلق نہیں کیا بلکہ اس کا زمین کے وجود سے بہت گہرا تعلق ہے یوں سمجھ لیجئے کہ جیسے ہمارے جسم میں خون کی اہمیت ہے بالکل وہی اہمیت خام تیل اور گیس کی زمین میں ہے یہ زمین کا خون ہے اگر اسے زمین سے نکالا جائے گا تو یہ بہ صرف زمین کی تہوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو گا بلکہ زمین پر موجود سارے کا سارہ نظام ہی تباہ و برباد ہو جائے گا جس سے زلزلے، سیلاب، طوفان وغیرہ آئیں گے، موسموں میں تباہ کن تبدیلیاں پیدا ہوں گی جس سے ہر شئے متاثر ہو گی سمندروں میں موجود مخلوقات کا خاتمہ ہو گا، سمندروں کا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور اگرخام تیل کو نکالنے کے عمل کو نہ روکا گیا تو یہ تباہیاں دن بہ دن بڑھتی چلی جائیں گی اور پھر وہ دن بھی دور نہیں ہو گا جس دن یہ دنیا اس تباہی سے دوچار ہو گی جس سے اس پر موجود تمام کے تمام
کارخانے یعنی تمام جاندار مخلوقات ختم ہو جائیں گی اور بالآخر یہی زمین جہنم میں بدل جائے گی وہی جہنم جس کا وعدہ کیا گیا۔
ہم مزید غورو فکر کر کے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کس طرح یہ ثابت ہوتا ہے کہ خام تیل اللہ کی طرف سے زمین پر مخلوقات کی تخلیق کے لیے خام مال ہے۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ پیٹرولیم یعنی خام تیل سے ہی نائیلون بنایا جاتا ہے جس سے پھر لاکھوں کی تعداد میں روز مرہ کے استعمال کی اشیاء تیار کی جاتی ہیں۔ مثلاً مصنوعی بال، دانت صاف کرنے کے برش،بیگ، پرس،بیلٹ،جوتے،تاریں، برتن، کپڑا، ٹائروں سمیت لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں مصنوعات۔
اس سے ہمیں یہ علم حاصل ہو گیا کہ نائیلون بنیادی طور پر کس کام کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا استعمال ہوتا ہے۔
(جاری ہے)
خام تیل: یہ کالے رنگ کا کیچڑ ہوتا ہے جسے زمین کی گہرائی سے نکالا جاتا ہے۔
بنیادی طور پر یہ زمین کا خون ہے جس سے زمین پر حیات وجود میں لائی جاتی ہے لیکن جب انسان نے اسے نکال کر اس سے الدجّال کو خلق کیا تو یہ اب زمین کا
خون نہیں بلکہ الدجّال کا خون ہے جسے آج آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
عام طور پر اسے فوسل فیولز کا نام دیا جاتا ہے یعنی جانداروں کی باقیات سے بننے والے ایندھن۔
جسے آج قدرتی تیل، قدرتی گیس اور قدرتی کول یعنی کوئلے کے نام دیئے جاتے ہیں یا ان ناموں سے جانا اور پہچانا جاتا ہے اورپوری دنیا کے لوگ اپنی زندگی میں روزانہ کی بنیاد پراستعمال کر رہے ہیں، ہزاروں اقسام کی گاڑیوںمیں، انجنوںمیں، مشینوں اور جہازوںکے علاوہ بڑی سطح پر استعمال کر رہے ہیں حتیٰ کہ کھانا پکانے سمیت بڑی مقدار میں گھریلو سطح پر بھی استعمال کر رہے ہیں۔
یوں سمجھ لیجئے کہ خام تیل موجودہ دور میں جس نظام میں آپ رہ رہے ہیں اس نظام اور آپ کی زندگی میں ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ جیسے گاڑی کے پہیے اس کے ستون کہلاتے ہیں یا کسی عمارت کے ستون جن پر عمارت کھڑی ہوتی ہے اگر ان میں سے کسی ایک ستون کو بھی گرا دیا جائے تو گاڑی یا عمارت وغیرہ گر کر تباہ ہو جائے گی بالکل اسی طرح موجودہ دور میں خام تیل بھی موجودہ نظام کے بنیادی ستونوں میں سے ایک بنیادی ستون ہے تب تک جب تک کہ
اسے کسی متبادل ستون سے بدل نہیں دیا جاتا۔
ایندھن کی ان اقسام کوجانداروں کی باقیات سے بننے والا ایندھن کہنے کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں علم کے نام پر جہالت و دھوکے کی بنیاد پر قائم کیے جانے والے نظریے کے د و رخ بیان کیے جاتے ہیںجن میں ایک یہ کہ آج سے اربوں، کھربوں ہا سال پہلے زمین پر بڑے بڑے اور چھوٹے مختلف اقسام کے جانور موجود تھے جن کے مرنے کے بعد زمین مختلف عوامل سے گزری جس کی وجہ سے ان کی لاشوں پر مٹی کی تہیں چڑھ گئیں یہاں تک کہ ان تہوں کی موٹائی ہزاروں
میٹر ہو گئی جہاں انہیں حرارت ملنے سے ان مردہ اجسام نے خام تیل اور گیسوں کی صورت اختیار کر لی ۔
جب سوالات اٹھانے والوں نے سوالات اٹھائے تو جھوٹ افشاں ہونے اور دھوکہ و دجل چاک ہونے کے خوف سے اس نظریے کوایک دوسرا رخ دیا گیا کہ زمین پر کھربوں سال پہلے بڑے بڑے اور چھوٹے لاتعداد اقسام کے جانور موجود تھے ان کی اموات کے بعدان کے اجسام تحلیل ہو کر سطح زمین کے نیچے چلے
گئے جہاں حرارت ملنے سے ان باقیات نے خام تیل اور گیس کی صورت اختیار کر لی۔
ایسے نظریات کی بنیاد رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو خود کو سائنسدان کہلواتے ہیں جو سائنس کے دعویدار ہیں اور ان نظریات کو بھی سائنس ہی کا نام دیا جاتا ہے ان
میں کتنی صداقت ہے اور کتنا جھوٹ اس پر بھی آگے چل کر بات کریں گے ۔
لیکن سب سے پہلی بات تو یہ سامنے آتی ہے کہ خام تیل زمین کے اندر پایا جاتا ہے نہ کے باہر۔ اسے اللہ نے انسان سے چھپا کر رکھا اور پھر اس کا بالکل واضح علم بھی نہیں دیا ۔ بہر حال علم دینے کی بات تو تب آتی جب اس کی موجودگی کا علم دیا جاتا جب اس کی موجودگی کا ہی علم نہیں دیا تھا تو پھر باقی علم دینے کا تو تصور
ہی ناپید ہو جاتا ہے۔
خام تیل کو اللہ نے انسان سے چھپا کر رکھ دیا تو یہ اللہ کے غیب میں سے ہے جس کیساتھ مومن بننے کا حکم دیا گیا۔ اس کو قرآن میں اللہ نے برکت بھی کہا ہے اور برکت اس لیے کہا کہ اسی سے زمین آراستہ ہوتی ہے یعنی اس سے زمین کی زینت نکلتی ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کے خام تیل اللہ کا زمین کے اندر رکھا ہوا خام مال ہے جسے زمین پر موجود درختوں سمیت مختلف فیکٹریاں استعمال کر کے ہمارے لیے ہماری ضروریات خلق کرتی ہیں۔ مثلاً ہمارے جسم کو جن جن اجزاء جنہیں ہم مختلف وٹامنز اور کیمیکلز کا نام دیتے ہیں کی ضرورت ہوتی ہے اس کے علاوہ زمین پر جتنی بھی مخلوقات ہیں سب کا کسی نہ کسی ذریعے سے ہمارے ساتھ کوئی نہ کوئی تعلق ہے جیسے خوراک کے لیے پھل ،سبزیاں، گوشت وغیرہ، ہماری سواری کے ذرائع، ہمارے سانس لینے کے لیے آکسیجن سمیت سب کچھ اسی سے آتا ہے جسے اللہ نے ہمارے دیئے گئے نام خام تیل کی صورت میں زمین کی گہرائی میں رکھ دیا۔ خام تیل زمین پر وجود میں آنے والی حیات کا خام مال ہے یعنی خام تیل
وہ خام مال کا زیر زمین ذخیرہ ہے جس سے زمین پر حیات وجود میں آتی ہے۔
حلال جانور اللہ کے وہ کارخانے ہیں جو ہمارے لیے گوشت بناتے ہیں، درخت اور فصلیں یہ اللہ کے وہ کارخانے ہیں جو ہمارے لیے پھل، سبزیاں سمیت طرح طرح کے غذائی اجناس اور ہمارے سانس لینے کے لیے آکسیجن بناتے ہیں۔ سورج اللہ کا وہ کارخانہ ہے جو ان تمام کارخانوں کو ہماری ضرورت کی اشیاء بنانے کے لیے درکار حرارت یعنی ایندھن اور قوت مہیا کرتا ہے اور زمین پر موجود اللہ کے لاتعداد کارخانے اسی طرح ہمارے لیے کچھ نہ کچھ بنانے میں مصروف
ہیں جس کے لیے وہ خام مال زمین سے خام تیل میں موجود مواد سے حاصل کرتے ہیں۔
زمین میں موجود خام تیل کو ہم کئی مثالوں سے سمجھ سکتے ہیں مثال کے طور پر بہت سے کار خانے ہوں جو پلاسٹک سے الگ الگ ایک سے بڑھ کر ایک شئے بنا رہے ہوں اور آپ کے پاس پلاسٹک خام مال کی صورت میں موجود ہو اب خام مال تو صرف آپ کے پاس ایک ہی جگہ موجود ہے لیکن وہ تمام کارخانے ایک ہی جگہ سے ایک ہی خام مال سے لا تعداد اشیاء بنا رہے ہیں بالکل اسی طرح زمین کے اندر خام تیل اللہ کی طرف سے وہ خام مال ہے جس میں اس دنیا میں
موجود تمام کارخانوں کی پیداوار کے لیے درکار مواد موجود ہے۔
اب خام تیل کو صرف اسی حد تک کے لیے اللہ نے خلق نہیں کیا بلکہ اس کا زمین کے وجود سے بہت گہرا تعلق ہے یوں سمجھ لیجئے کہ جیسے ہمارے جسم میں خون کی اہمیت ہے بالکل وہی اہمیت خام تیل اور گیس کی زمین میں ہے یہ زمین کا خون ہے اگر اسے زمین سے نکالا جائے گا تو یہ بہ صرف زمین کی تہوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو گا بلکہ زمین پر موجود سارے کا سارہ نظام ہی تباہ و برباد ہو جائے گا جس سے زلزلے، سیلاب، طوفان وغیرہ آئیں گے، موسموں میں تباہ کن تبدیلیاں پیدا ہوں گی جس سے ہر شئے متاثر ہو گی سمندروں میں موجود مخلوقات کا خاتمہ ہو گا، سمندروں کا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور اگرخام تیل کو نکالنے کے عمل کو نہ روکا گیا تو یہ تباہیاں دن بہ دن بڑھتی چلی جائیں گی اور پھر وہ دن بھی دور نہیں ہو گا جس دن یہ دنیا اس تباہی سے دوچار ہو گی جس سے اس پر موجود تمام کے تمام
کارخانے یعنی تمام جاندار مخلوقات ختم ہو جائیں گی اور بالآخر یہی زمین جہنم میں بدل جائے گی وہی جہنم جس کا وعدہ کیا گیا۔
ہم مزید غورو فکر کر کے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کس طرح یہ ثابت ہوتا ہے کہ خام تیل اللہ کی طرف سے زمین پر مخلوقات کی تخلیق کے لیے خام مال ہے۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ پیٹرولیم یعنی خام تیل سے ہی نائیلون بنایا جاتا ہے جس سے پھر لاکھوں کی تعداد میں روز مرہ کے استعمال کی اشیاء تیار کی جاتی ہیں۔ مثلاً مصنوعی بال، دانت صاف کرنے کے برش،بیگ، پرس،بیلٹ،جوتے،تاریں، برتن، کپڑا، ٹائروں سمیت لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں مصنوعات۔
اس سے ہمیں یہ علم حاصل ہو گیا کہ نائیلون بنیادی طور پر کس کام کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا استعمال ہوتا ہے۔
(جاری ہے)
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://lnkd.in/gM4QHnrd
Part 2
https://lnkd.in/gHdHQuJm
Part 3
https://lnkd.in/gvr7KhMT
Part 4
https://lnkd.in/g2fv5fPx
Part 5
https://lnkd.in/gK4APFry
Part 6
https://lnkd.in/gm3ZMm86
Part 7
https://lnkd.in/gysSgU7y

No comments:
Post a Comment