WARNING FROM MOTHER NATURE
قسط نمبر#28
خام تیل اللہ کے غیب میں سے ہے جس کیساتھ اللہ نے مومن بننے کا حکم دیا لیکن انسان ہے کہ ایمان لانے کی بجائے الٹا کفر کر رہا ہے آج اکثریت کفر کر رہی ہے اور اللہ کی ان متشابہات کو اپنی مرضی کی تاویلات پہنا رہے ہیں۔ اس طرح جب آپ غورو فکر کریں گے تو آپ کوسورۃ آل عمران کی اس آیت کی بھی سمجھ آ
جائے گی۔
ھُوَالَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ مِنْہُ اٰیٰت’‘ مُّحْکَمٰت’‘ ھُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ وَاُخَرُمُتَشٰبِھٰت’‘ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ زَیْغ’‘ فَیَتَّبِعُوْنَ مَاتَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَآئَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَآئَ تَاْوِیْلِہٖ وَمَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَہٗٓ اِلَّا اللّٰہُ وَالرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہٖ کُلّ’‘ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّا ٓ اُولُوا
الْاَلْبَابِ۔ آل عمران ۷
ھُوَ یعنی دیکھو کیا موجود ہے جو موجود ہے اور اور کرتے جاؤ جب تک کہ اور ختم ہو کر ماضی میں نہیں چلا جاتا جب اور ختم ہو کر ماضی میں چلا جائے گا تو جو وجود سامنے آئے گا وہی وجود ہی وہ ذات ہے جس نے تم پرالکتاب اتاری جو وجود موجود ہے اس سے آیات ہیں محکمات یعنی فیصلہ کن کہ ان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے ان کا استعمال کیا ہے ایسی جو آیات ہیں ام الکتاب ہیں یعنی الکتاب کی بنیاد جن کے پیچھے پڑنا ہے جن کے پیچھے پڑنے سے حق کھل کر واضح ہو جائے گا اللہ کیا ہے سامنے آ جائے گا جنہیں استعمال کرنے کی محدود اجازت دی گئی اور دوسری جو ہیں متشابہات ہیں یعنی وہ ہیں تو سامنے، سب کو نظر تو آ رہی ہیں لیکن ان کا مقصد کیا ہے اصل علم اللہ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ان کے بارے میں علم چھپا دیا ۔ پس ایسے لوگ جن کے دلوں میں زنگ ہے یعنی حیات الدنیا کا لالچ ہے پس وہ اتباع کرتے ہیں ان کی جو شبے والی ہیں یعنی جیسے ہی ان کی متشابہات تک رسائی ہوتی ہے تو جو انہیں کرتا دیکھتے ہیں ان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اس سے چاہتے ہیں فتنہ اور چاہتے ہیں اپنی مرضی کی تاویل یعنی اپنی مرضی کے مقاصد کی تکمیل کے لیے انہیں استعمال کرتے ہیں۔ اور نہیں علم کسی کو کہ ان کا کیا مقصد ہے یعنی متشابہات آیات کس مقصد کے لیے خلق کی گئیں سوائے اللہ کے اور ان کے جو علم میں راسخ ہیں، انہیں جب متشابہات کو اپنی مرضی کے مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اس کے ساتھ یہ تمام کی تمام ہمارے ربّ کے ہاں سے ہیں یعنی آسمانوں اور زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے ہر ایک کو اللہ نے کسی نہ کسی مقصد کے لیے خلق کیا ہے اگر ان میں سے کوئی بھی اس مقصد کو پورا نہیں کرے گی یا اسے جس مقصد کے لیے خلق کر کے اس مقصد کو پورا کرنے پر لگایا گیا اس کے برعکس استعمال کیا تو فساد ہو گا اور تباہی آئے گی اللہ کے قائم کیے ہوئے میزان میں خسارہ ہو گا آسمانوں و زمین کا نظام درہم برہم ہو جائے گا اگر ہم نے چھیڑ چھاڑ کی یا اپنی مرضی کیمطابق استعمال کیا تو فساد ہو گا اس لیے ہم ایسا نہیں کرتے یہ سب اللہ کی طرف سے ہیں اللہ کو علم ہے کہ اللہ نے انہیں کس کس مقصد کے لیے خلق کیایہ ہمارے استعمال کی نہیں ہیں ہمارے لیے یہ اللہ کا غیب تھے اگر آج ہم پر اللہ کے غیب میں سے یہ واضح ہو گئیں یا ہمیں ان کی موجودگی اور یہ کیا کر رہی ہیں یہ علم ہو گیا تو اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ ہمیں ان کے استعمال کی اجازت ہے ہرگز
نہیںاور نہیں ہے یاد دہانی مگر اولوالالباب کے لیے۔
اس آیت میں پہلے لفظ آیات کے معنی واضح ہونا ضروری ہیں آیات آیت کی جمع ہے اور قرآن میں اللہ نے کئی مقامات پر کہا ہے کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ
ان میں ہے سب کی سب اللہ کی آیات ہیں اور الکتاب سے مراد آسمان و زمین ہیں ۔
آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کی مثال ایک بشر کی سی ہے اور الحمد للہ پیچھے تفصیل کیساتھ یہ بات واضح کی جا چکی کہ اللہ نے آپ کو کس طرح خلق کیا؟ بالکل اسی طرح اللہ نے باقی تمام مخلوقات کو خلق کیا۔ آسمانوں اور زمین میں بہت کم مخلوقات ایسی ہیں جن کے بارے میں اللہ نے انسان کو واضح فیصلہ کن علم دیا جیسے کھانے پینے کی اشیاء ، ہم نے دنیا میں کیا کرنا ہے ، کیا ہمارے استعمال کا ہے کیا نہیں یہی الکتاب کی جڑ ہے جسے ہم نے پکڑنا ہے ان کے علاوہ جو کچھ بھی ہے خواہ وہ مکمل چھپا ہوا ہو جو کہ واضح غیب میں سے ہے یا وہ جو دیکھنے سننے اور محسوس کرنے میں تو واضح ہے لیکن اس کے بارے میں مکمل علم نہیں دیا گیا وہ سب متشابہات ہیں۔ متشابہ کہتے ہیں وہ شئے وہ بات جو بالکل سامنے تو ہو ہر کوئی دیکھ اور سن رہا ہو لیکن اس کے بارے میں علم اللہ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں اس کا علم نہیں دیا گیا اس کے بارے میں علم چھپا دیا گیا۔ ایسی آیات میں سے اگر انسان پر واضح ہوتی ہیں ان کا علم انسان کو حاصل ہوتا ہے تو بہت سے ایسے انسان ہیں جو ان کی اتباع کرتے ہیں جیسے کہ جن لہروں کو آج ریڈیولہروں کا نام دیکر پورے کا پورا ٹیلی کمیونیکیشن یعنی مواصلاتی نظام چلایا جا رہا ہے یہ لہریں اللہ کا غیب تھیں اور آج جب یہ غیب ظاہر ہو گیا تویہ متشابہات میں سے ہیں جب انسان کی ان تک رسائی ہوئی اس نے دیکھا کہ یہ لہریں ڈیٹا کو ادھر سے ادھر بغیر وقت کے منتقل کرتی ہیں تو انسان نے انہیں اپنی مرضی کے مطابق تاویل پہنا دی اپنی مرضی کے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا حالانکہ ان کی اصل تاویل یعنی ان کی موجودگی کا اصل مقصد کیاہے اس کا انہیں علم ہی نہیں۔ اس کا علم صرف اللہ کو ہے کیونکہ اسی نے ان کو رکھا اور پھر ان کے پاس علم ہے جو علم میں راسخ ہیں جنہوں نے غورو فکر کیا اور اللہ نے ان پر ان کا علم واضح کر دیا کہ کائنات میں یہ قوتیں اللہ کے ملائکہ ہیں جو آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کی ریکارڈنگ کر رہے ہیں ، پیغامات کو مخلوقات تک پہنچا رہے ہیں یہ وہی ملائکہ ہیں جو اس وجود میں پیغام رسانی کر رہے ہیں وغیرہ اور جب ان
متشابہات کو اپنی مرضی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو فتنہ کھڑا ہوتا ہے۔
فتنہ کہتے ہیں ایک شئے اصل ہو اس کے مقابلے پر ایک یا ایک سے زیادہ ایسی نقالوں کا آ جانا کہ ان میں سے اصل کو پہچاننے کے لیے انسان امتحان میں پڑ جائے کہ آیا ان میں سے کون سی اصل ہے یعنی اصل کے مقابلے پر ایسی نقل کا آ جانا کہ اصل و نقل کی پہچان مٹ جائے یوں نقل اصل کی جگہ لے لے اور کسی کو اس
کا شعور تک نہ ہو ہر کوئی اس کا شکار ہو جائے۔
بالکل اسی طرح اللہ نے انسان کو دنیا میں جس مقصد کو پورا کرنے کے لیے بھیجا اس کے مقابلے پر نئے مقاصد کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ ایک کی بجائے کئی ادیان یعنی دنیا میں کس مقصد کے لیے بھیجے گئے اور اسے پورا کیسے کرنا ہے اس طریقے کے مقابلے پر اور طریقے کھڑے کر دیئے جاتے ہیں کہ انسانوں کے لیے دنیا میں آنے کا اصل مقصد پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے اور وہ ان متشابہات کی تاویل سے کھڑے کیے ہوئے فتنوں کا شکار ہو کر دنیا میں انہی فتنوں کو اپنے مقاصد سمجھ اوربنا کر ان کے حصول کے لیے پیچھے لگ جاتے ہیں انہی کی عبادۃ کرنا شروع ہو جاتے ہیں یعنی جو کچھ بھی انہیں عطا کیا گیا انہی کے حصول کے لیے ان کے
پیچھے ان کا استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
لفظ فتنہ کی یہ بہت ہی مختصر وضاحت تھی۔ آج آپ قرآن کی اس آیت کو سامنے رکھتے ہوئے دنیا میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کو بہت ہی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں جسے انسان ترقی و خوشحالی کا نام دیتا ہے یوں وہ اللہ کے غیب کا نہ صرف کفر کر رہا ہے بلکہ اتنے فتنے کھڑے کر دیئے کہ اصل دین بالکل ناپید ہو چکا ہے ۔ ہر طرف اور ہر سطح پر فتنے ہی فتنے ہیں گویا کہ کالی سیاہ رات کی طرح فتنے ہیں اور کوئی بھی انہیں فتنہ کہنے کو تیار ہی نہیں ہر کوئی انہیں آسائشیں، ترقی، خوشحالی، ٹیکنالوجی، انسان کے عروج وغیرہ کے نام دے کر اللہ کے ساتھ کھلم کھلا کفر و شرک کر رہا ہے اللہ کا کھلم کھلا شریک بنا ہوا ہے اور ساتھ میں الٹا اللہ کی غلامی و مومن
ہونے کا دعویدار بھی ہے۔
اسی طرح زیر زمین اللہ کے غیب میں سے جسے آپ خام تیل کانام دیتے ہیں اس کی مثال ہے کہ کیسے آج اللہ کے غیب کا کفر کرتے ہوئے اسے اپنی مرضی کی تاویلات پہنائی جا رہی ہیں یعنی اپنی مرضی کے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے حالانکہ اللہ نے قرآن میں بار بار کہا کہ غورو فکر کرو۔ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ پہلے تم اموات تھے تمہیں کیسے حیا ت دی یعنی پہلے تم چھوٹے چھوٹے ذرات کی صورت میں پوری دنیامیں بکھرے پڑے تھے پھر کیسے ان ذرات کو
اکٹھا کر کے تمہیں وجود میں لایا۔
کیا تمہیں زمین سے نہیں اگایا؟ بہر حال غورو فکر کرنے والوں پر اولوالالباب پر تو اللہ نے واضح کر دیا کہ یہ خام تیل اللہ کا زمین میں رکھا ہوا وہ خام مال ہے جس سے اللہ زمین میں نباتات اگاتا ہے ان سے جاندار اور انہی سے اس بشر کو یعنی آپ کو خلق کیا جا رہا ہے۔ خام تیل کا مقصد کیا ہے زیر زمین خام تیل کی تاویل کیا ہے لیکن آج انسانوں کی اکثریت اپنی مرضی کی تاویلات پہنانے میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں اور ساتھ مومن و مسلمان ہونے کے دعویدار بھی ہیں یعنی کہ ہمارا ہر عمل اللہ کی مرضی و حکم کے مطابق ہے علی الاعلان یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ انہیں اللہ نے ہی اس کا حکم دیا حالانکہ اگر اللہ نے انہیں ایسا کرنے کا حکم دیا تو کوئی دلیل کیوں نہیں لاتے؟ جو ذات غیب کیساتھ مومن بننے کا حکم دے رہی ہے اور غیب سے کفر کرنے سے سختی سے منع کر رہی ہے بھلا وہ کیوں خود ہی
اپنے حکم کے خلاف کرنے کا حکم دے گی؟
(جاری ہے)۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment