Monday, August 29, 2022

                                      WARNING FROM MOTHER NATURE


قسط نمبر#29

خام تیل سے جو کچھ بھی حاصل کیا جا رہا ہے اور اسے اپنی مرضی کے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جارہا ہے وہ سب آپ کو اللہ کی تمام مخلوقات میں ضرور ملے گا اور یہ جاننے کے لیے آپ کو اللہ کا شکر کرنا ہو گا یعنی جو کچھ بھی آپ کو عطا کیا جو کچھ بھی آپ کو دیا گیا خواہ وہ مال ہو، اولاد ہو، کوئی عہدہ یا مقام ہو، ذہانت ہو یا کچھ بھی کرنے کی صلاحیتیں ہوں ، آپ کے جسم کے اعضاء ہوں یا کچھ بھی دیا گیاان سب کے سب کا اس مقصد کے لیے استعمال کرنا ہے جس مقصد کے لیے
آپ کو یہ سب عطا کیا گیا۔
وَاللّٰہُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ النحل ۷۸
اور اللہ ہے نکالا تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نہیں علم سکھایا گیاتھا تمہیں کسی شئے کا اور کر دیا تمہارے لیے سننا یعنی سننے کی صلاحیت دی اور دیکھنے کی صلاحیت دیکھنا کر دیا اور جو سنتے اور دیکھتے ہیں اس کو سمجھنے کی صلاحیت بھی کر دی اور یہ سب اس لیے کیا تاکہ تم ان سب کا اسی مقصد کے لیے استعمال کرو جس مقصد کے لیے تمہیں یہ سب دیا گیا جس مقصد کے لیے تمہارے لیے یہ سب کیا گیا یعنی تمہیں اگر سننے کی صلاحیت دی گئی تو اسی لیے کہ بہت سی آوازیں اپنا وجود رکھتی ہیں ان کا سننا تمہارے لیے لازم تھا اس لیے تمہیں سننے کی صلاحیت دی گئی کہ تم ان آوازوں کو سنو ایسے ہی تمہیں دیکھنے کی صلاحیت دی گئی تو اسی لیے کہ جو اپنا وجود رکھتا ہے اسے دیکھنا تمہارے لیے لازم تھا اسے دیکھو اور پھر جو سن اور دیکھ رہے ہو اسے سمجھنا تمہارے لیے لازم تھا اس لیے تمہیں سمجھنے کی صلاحیت دی اب اگر ان صلاحیتوں کا اسی مقصد کے لیے استعمال کرتے ہو تو ہی تم اس مقصد کو پورا کر سکتے ہو جس مقصد کو پورا کرنے کے لیے تمہیں وجود میں لایا گیا۔
وَھُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَ لَکُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَۃَ قَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَ۔ المومنون ۷۸
اورھُوَ یعنی دیکھو کیا موجود ہے جو موجود ہے اور اور کرتے جاؤ جب تک کہ اور ختم ہو کر ماضی میں نہیں چلا جاتا جب اور ختم ہو کر ماضی میں چلا جائے گا تو جو وجودسامنے آئے گا نہ صرف ایک ہی وجود سامنے آئے گا کہ اس کے علاوہ اور کچھ ہے ہی نہیں بلکہ وہی وجود ہی وہ ذات ہے جس نے تمہیں خلق کیا اگر قانون میں کیا کہ تم سن رہے ہو تو ظاہر ہے اسی لیے تمہارا سننا قانون میں کیا تا کہ تم سن سکو تمہارے لیے سننا ناگزیر ہے اور اگر قانون میں کیا تم کو کہ تم دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہو تو ظاہر ہے اسی لیے کہ تم اسے دیکھو جو اپنا وجود رکھتا ہے اور پھر جو سن اور دیکھ رہے ہو اس کو سمجھنے کی صلاحیت تمہارے لیے قانون میں کی تو ظاہر ہے اسی لیے کہ تم جو سن اور دیکھ رہے ہو اسے سمجھو۔ اس لیے تمہیں سننے دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں دیں تا کہ تم سنو دیکھو اور جو سن اور دیکھ رہے ہو اسے سمجھو انتہائی تھوڑے ہیں جو ان صلاحیتوں کا اسی مقصدکے لیے استعمال کر رہے ہیں جس مقصد کے لیے یہی صلاحیتیں تمہارے لیے قانون میں کی تھیں۔
ثُمَّ سَوّٰئہُ وَنَفَخَ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُوْنَ ۔ السجدہ ۹
پھر اسے مکمل کیا اور پھونکا اس میں اپنی روح سے اور کر دیا تمہارے لیے سننے والا اور دیکھنے والا اور جو سنتے اور دیکھتے ہو اس کو سمجھنے کی صلاحیت رکھنے والا۔ بہت
ہی کم ہیں جو ہماری ان دی ہوئی صلاحیتوں کو اسی مقصد کے لیے استعمال کررہے ہیں جس مقصد کے لیے دیں۔
قُلْ ھُوَ الَّذِیْ ٓ اَنْشَاَ کُمْ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُوْنَ ۔ الملک ۲۳
تمہیں یہ کہنا پڑے گا ھُوَ ہی وہ ذات ہے ھُوَ یعنی دیکھو کیا موجود ہے جو موجود ہے اور اور کرتے جاؤ جب تک کہ اور ختم ہو کر ماضی میں نہیں چلا جاتا جب اور ختم ہو کر ماضی میں چلا جائے گا تو جو دجود سامنے آئے گا وہی وجود ہی وہ ذات ہے کہ جس نے تمہارا سننا دیکھنا اور سمجھنا قانون میں کیا اور ظاہر ہے اگر اس نے تم کو سننے اور دیکھنے اورجو سنتے اور دیکھتے ہو اس کو سمجھنا قانون میں کیا تو اسی لیے کہ تم سنو دیکھو اور جو کچھ بھی سن اور دیکھ رہے ہو اسے سمجھو ، بہت ہی کم ہیں جو ہماری ان دی ہوئی صلاحیتوں کو ہماری دی ہوئی ان اشیاء کو اسی مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں جس مقصد کے لیے ہم نے یہ صلاحیتیں و اشیاء دیں جس مقصد کے لیے
تمہارے لیے یہ سب کیا بہت ہی کم ہیں جو ان سب کا اسی مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں جس مقصد کے لیے یہ سب کیا گیا ،تم کو ایسا کیا۔
وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَھَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ لَھُمْ قُلُوْب’‘ لَّا یَفْقَھُوْنَ بِھَا وَلَھُمْ اَعْیُن’‘ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِھَا وَلَھُمْ اٰذَان’‘ لَّایَسْمَعُوْنَ بِھَا
اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْنَ ۔ الاعراف ۱۷۹
انسان کہتا ہے کہ اللہ نے انسانوں کی اکثریت کو جہنم کے لیے بنایا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اللہ نے پہلے ہی اکثریت کو جہنم کے لیے بنایا تو پھر جسے بنایا ہی جہنم کے لیے ہے وہ کیسے جنت میں جا سکتا ہے؟ کل کو جب اس سے حساب لیا جائے گا تو کیا ا سکے پاس یہ عذر یہ بہانہ نہیں ہو گاکہ اے اللہ تُو نے مجھے بنایا ہی جہنمی تھا اس میں میرا کیا قصور تھا میں کیا کر سکتا تھا اس لیے آج حساب کس بات کا؟ اس آیت میں اس بات کی بالکل نفی کی گئی ہے کہ اللہ نے انسانوں کی اکثریت کو جہنم کے لیے نہیں بنایا بلکہ اللہ الٹا انسان کو کہہ رہاہے وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَھَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اور تحقیق کہ یعنی تم اپنے گھوڑے دوڑا لو تم اپنی تحقیق کر لو جو بات ہم کہہ رہے ہیں یہی حق ہے اور بالآخر یہی تمہارے سامنے آئے گاکہ جب تم غوروفکر کرو گے تم تحقیق کرو گے تو تم پر واضح ہو جائے گا کہ اللہ نے نہیں بلکہ ہم نے ذرات کی کثرت کو جہنم کے لیے کر دیا جس سے الجن و الانس یعنی انسان خلق ہو رہے ہیں مطلب یہ کہ اللہ نے ایسا نہیںکیا بلکہ اللہ نے تو زمین کو جنت بنایا تھا زمین کا ایک ذرا بھی جہنم کے لیے نہیں بنایا تھا یہ تم لوگ خود ہی ہو جو اپنے ہاتھوں سے کیے جانے والے مفسد اعمال سے زمین میں فساد کر کے ان ذرات کی کثرت کو جہنم کے لیے بنا رہے ہو جس سے انسان خلق ہو رہے ہیں اب ظاہر ہے جب جہنمی مواد سے اپنا وجود بنایا جائے گا تو انجام بھی تو جہنم ہی ہو گا نا اور اسی کے بارے میں آگے کہا گیا جوآج تک اللہ پر بہتان باندھا جاتا رہا کہ لَھُمْ قُلُوْب’‘ لَّا یَفْقَھُوْنَ بِھَا اس وقت جو دنیامیں موجود ہیں ان کو دل دیئے گئے اور دل میں وہ سننے دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھی جو آنکھوں سے دیکھا نہیں جا سکتا کانوں سے سنا نہیں جا سکتا اور دماغ سے سمجھا نہیں جا سکتا اس کے باوجود یہ سمجھ ہی نہیں رہے اس کیساتھ یعنی جو دل انہیں دیئے اس کیساتھ یہ سمجھ ہی نہیں رہے اس کااس مقصد کے لیے استعمال ہی نہیں کر رہے جس مقصد کے لیے انہیں دل دیا وَلَھُمْ اَعْیُن’‘ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِھَا اور ان کو آنکھیں دیں یہ لوگ ان آنکھوں کے ساتھ بھی نہیں دیکھ رہے یعنی خود ان کی آنکھوں کے سامنے انسان زمین کے ذرات کو جہنمی ذرات میں بدل رہے ہیں فساد کر کے اور یہ ہیں کہ خود اپنے ہی کرتوتوں کو ان آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے انہیں نظر ہی نہیں آ رہا وَلَھُمْ اٰذَان’‘ لَّایَسْمَعُوْنَ بِھَا اوران کو سننے کی صلاحیت رکھنے والے کان دیئے یہ لوگ ان کانوں کیساتھ سن بھی نہیں رہے یعنی چلو مان لیا کہ تمہارے دل اندھے مردہ ہو چکے ہیں فتنوں کا شکار ہونے کی وجہ سے لیکن آنکھیں تو ہیں کان تو ہیں کیا تمہیں تمہی میں سے ایک بشر کے ذریعے کھول کھول کر سنایا اور دکھایا نہیں جا رہا؟ اس کے باوجود بھی تم سن اور دیکھ نہیں رہے تو ایسے لوگ کون سے ہیں کیا ہیں؟ اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ یہی لوگ ہیں جو بالکل جانوروں کی طرح ہیں جیسے جانوروں کے سینے میں دل کا کام خون کو پمپ کرنا ہے ان کے سینوں میں بھی دل کا وہی کام ہے یہ دل سے وہی کام لے رہے ہیں جیسے جانور جو سنتے اور دیکھتے ہیں تو اسے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جب تک کہ وہ اس کا شکار نہیں ہو جاتے بالکل اسی طرح یہ بھی جو سنتے اور دیکھتے ہیں اس کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسے وہ صرف کھانے پینے اور زندگی گزارنے کے لیے سنتے اور دیکھتے ہیں ان کا بھی بالکل یہی معاملہ ہے تو ان میں اور جانوروں میں فرق کیا ہوا؟ جس مواد سے یہ وجود میں آئے ہیں یہ مواد پہلے ان چار پائیوں جانوروں کی شکل میں موجود تھا اب اس چار پائے کی صورت میں موجود ہے اس لیے ان میں اور جانوروں میں کوئی فرق نہیں بَلْ ھُمْ اَضَلُّ بلکہ یعنی نہیں یہ جانوروں کی طرح بھی نہیں ہیں بلکہ ان سے جانور بہتر ہیں کیونکہ جانوروں کو جس مقصد کے لیے خلق کیا گیا وہ اس کو پورا کر رہے ہیں یہ لوگ تو ایسے گمراہ ہیں کہ ان سے بڑھ کر کوئی گمراہ ہو ہی نہیں سکتا اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْن ایسے اس وقت جو دنیا میں موجود ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں انہیں کوئی فکر ہے ہی نہیں ان میں سنجیدگی نام کی کوئی شئے ہے ہی نہیں یعنی یہی ہیں وہ اس وقت جو موجود ہیں جوغوروفکر نہیں کر رہے جو کھول کھول کر سنانے کے باوجود سن نہیں رہے، جو کھول کھول کر ہر لحاظ سے واضح کر دیئے جانے کھول کھول کر سامنے رکھ دیئے جانے کے باوجود دیکھ نہیں رہے سمجھ نہیں رہے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں یعنی انہیں کوئی پرواہ ہی نہیں کوئی فکر ہی نہیں کہ انہیں کس مقصد کے لیے وجود میں لایا گیا اگر یہ اسے پورا
نہیںکرتے تو ان کا انجام کیا ہونے والا؟ وہ بھی بالکل کھول کھول کر واضح کر دیا۔
(جاری ہے)۔۔۔


Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7


No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...