Monday, August 29, 2022

                               WARNING FROM MOTHER NATURE


قسط نمبر#30

صُمّ’‘ بُکْم’‘ عُمْی’‘ فَھُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ۔ البقرۃ ۱۸
بہر ے ہیں ان کو نہیں سنایا جا سکتا نہ یہ سن سکتے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں پس یہ خود ہی نہیں رجوع کر رہے یعنی جب تک کہ ان کے سر پر نہیں پڑے گی تب
تک یہ نہیں سننے ، بولنے اور دیکھنے والے واپس پلٹنے والے کہ انہیں جس مقصد کے لیے خلق کیا گیا اسے پہچان کر اسے پورا کریں۔
شکر کرنا یہ ہے کہ اللہ نے جو کان، آنکھیںاور دل سمیت جو کچھ بھی دیا ان سب کا اسی مقصد کے لیے استعمال کرنا جس مقصد کے لیے اللہ نے سب یا ان میں سے کچھ بھی دیا۔ آپ کو بھی کان، آنکھیں اور دل دیئے اور جانوروں کو بھی لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ آپ کو ان کا استعمال جانوروں سے بڑھ کر کرنا ہے آپ کو اللہ کی آیات میں جو کہ آپ بذات خود اللہ کی آیت ہیں آپ کے جسم کے تمام اعضاء حتیٰ کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے سب اللہ کی آیات ہیں اور وہ سب بھی جن میں غورو فکر کرنے سے یا کسی بھی طرح انسان اللہ کو پہچان سکے ، شئے کی حقیقت تک پہنچ سکے ، دنیا میں آنے کے مقصد کو سمجھ سکے اور پورا کیسے کرنا ہے جان سکے وہ سب اللہ کی آیات ہیں ان میں غورو فکر کرنے کے لیے سننے ، دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں دیں تا کہ جب آپ انہیں اس مقصد کے لیے استعمال کریں تو آپ پر آپ کی اس دنیا میں موجودگی کا راز کھل جائے ، آپ پر حق بالکل کھل کر واضح ہو جائے اور آپ اس مقصد کو جان اور پہچان کر اسے پورا کر سکیں۔
ورنہ آپ چاہتے ہوئے بھی وہ مقصد پورا نہیں کر سکتے، پورا کرنا تو دور کی بات آپ اسے جان تک نہیں سکتے اور آپ کا شمار بھی جانوروں میں ہو گا کہ آپ محض ان کا استعمال اپنا پیٹ پالنے اور اپنی خواہشات کو پورا کرنیکی غرض سے کریں گے اور اللہ کے عظیم کار خانے میں صرف اور صرف فساد کا ہی موجب بنیں گے۔
جانور تو پہلے ہی اللہ کی غلامی میں ہیں یہ جن و انس یعنی انسان ہیں جن کو مرضی کا اختیار ان کے مطالبے پر انہیں دیا گیا۔ اس لیے ان پر فرض ہے کہ یہ ان کا اسی مقصد کے لیے استعمال کریں جس مقصد کے لیے انہیں یہ سب دیا گیا یعنی انہیں سننے ، دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت دی گئی تو اسی لیے کہ یہ سنیں دیکھیں اور جو سن اور دیکھ رہے ہیں اسے سمجھیں پھر ان کے سینوں میں جو دل ہیں دل کو ایسا خلق کیا گیا کہ دل کو وہ سننے ، دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت دی جو دماغ کانوں سے نہیں سن سکتا آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا یعنی انسان کو ظاہر و باطن سننے دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں دی گئیں تو اسی لیے کہ یہ ظاہر و باطن کو سنیں دیکھیں اور اسے سمجھیں اس کے بعد ہی کوئی بھی عمل کریں جب تک کسی بھی کام کو کسی بھی بات کو مکمل طور پر سمجھ نہیں لیتے تب تک عمل کے قریب بھی مت جائیں ورنہ آسمانوں و زمین میں فساد
ہو گا۔
جب آپ ان صلاحیتوں کا اسی مقصد کے لیے استعمال کریں گے تو آپ پر بالکل کھل کر واضح ہو جائے گاکہ آپ کیا کر رہے ہیں نہ کہ آپ اندھوں کی طرح اور بندر کی طرح بغیر علم کے دوسروں کے پیچھے چلتے رہیں اور فساد در فساد کرتے رہیں ، آپ کو یہ سب اس لیے دیا گیا تا کہ آپ غوروفکر کریں حق کو پہچانیں اور اللہ کی غلامی کر سکیں، آسمانوں اور زمین میں فساد کا موجب نہ بنیںاور اگر ایسا نہیں کرتے تو پھر آپ میں اور جانوروں میں کوئی فرق نہیں بلکہ جانور تو اس کے مکلف ہی
نہیں اور آپ تو مکلف ہیں اس لیے آپ سے بڑھ کر ایسے لوگوں سے بڑھ کر گمراہ ترین اور کوئی نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح اگر آپ غورو فکر کریں کہ آپ کا گوشت کہاں سے وجود میں آیا کیسے بنا؟
زمین پر انسانوں کے مختلف رنگ ہیں انسانوں کے یہ مختلف رنگ کہاں سے آئے؟
زمین پر رنگ برنگے جانور، پھل، پھول، فصلیں، چرند، پرند اور جانور وغیرہ ہیں ان سب کے رنگ کہاں سے آئے؟
جسم میں طرح طرح کے تیزاب اور لا تعداد کیمیائی اجزاء پائے جاتے ہیں وہ کہاں سے آئے؟
اسی طرح جیسے جیسے غورو فکر کرتے چلے جائیں گے لا تعداد سوالات پیدا ہوتے چلے جائیں گے اور ان سب سوالات کا ایک ہی جواب ہے کہ یہ سب اللہ نے
زمین میں رکھ دیا جسے آج آپ خام تیل کا نام دیتے ہیں۔
اس سے ہمیں یہ بھی پتہ چل گیا کہ اللہ نے خام تیل کو کیوں خلق کیا اور خلق کر کے اسے اس کے مقام زمین کی گہرائی میں کیوں رکھ دیا اور پھر یہ بھی سمجھ آ جاتی ہے کہ
انسان سے چھپا کر کیوں رکھا۔
اللہ نے اسے خلق کر کے اس کے مقام پر رکھ دیا ۔ اب کون ہیں جو اللہ کی ان مخلوقات جو کہ انسان کے لیے اللہ کا غیب تھا کے مقامات میں تبدیلی کر کے فساد کر رہے ہیں؟ جو فساد کر رہے ہیں آیا وہ دو طرح کے انسان ہیں ایک وہ جو قیادت کر رہے ہیں جو کہ جن ہیںاور دوسرے وہ جو اندھوں کی طرح بغیر علم کے اپنی
خواہشات کی اتباع میں یہ سب کر رہے ہیں وہ انس ہیں؟ اگر تو یہ دونوں طرح کے انسان موجود ہیں تو پھر یہی ہیں جنہیں یاجوج اور ماجوج کہا گیا۔
(جاری ہے۔۔۔۔ 

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7


No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...