WARNING FROM MOTHER NATURE
DOWNLOAD MOTHER NATURE KRISHNA
قسط نمبر#15
بالکل ایسے ہی جیسے آج دنیا میں کچھ قومیں قوت میں بہت بڑھ کر ہیں جن کے پاس اسباب ہیں اسلحہ و بارود ہے جیسے کہ امریکہ، چین و جاپان، یورپ و روس وغیرہ
اور ان کے برعکس کچھ قومیں قوت میں کم ہیں کمزور ہیں جیسے کہ ایشیائی ممالک، افریقہ و عرب ممالک ہیں۔
ایشیا ، عرب و افریقی ممالک میں جو قومیں آباد ہیں وہ کمزور ہیں لیکن جن خطوں میں یہ قومیں آباد ہیں یہاں کی زمین میں اللہ کے خزانے موجود ہیں جنہیں آج
قدرتی وسائل کا نام دیا جاتا ہے جیسے کہ خام تیل سر فہرست ہے۔
یہ غریب یا کمزور قومیں اپنے خطوں میں زمین میں فساد کر رہی ہیں زمین کو چیر پھاڑ کر اس میں سے اللہ کے غیب سے نکال رہی ہیں لیکن یہ اپنے لیے نہیں بلکہ
طاقتورقوموں کے لیے نکال رہی ہیں اُن کے لیے زمین میں فساد کر رہی ہیں بالکل یہی اُس وقت ہو رہا تھا۔
امریکہ و یورپ نہ صرف عرب ، ایشیاء و افریقی ممالک سے وہیں بسنے والی قوموں کے ذریعے زمین سے اللہ کے غیب میں سے نکال رہے ہیں بلکہ الٹا ان قوموں
پر جنگیں بھی مسلط کی ہوئی ہیں، ان کی قتل و غارت بھی کر رہے ہیں بالکل یہی اُس وقت ہو رہاتھا۔
جب ذی القرنین نے اس قوم سے کیے جانے والے فساد کے بارے حساب لیا تو ان کی طرف سے جو بات سامنے آئی وہ یہی تھی کہ وہ کمزور قوم ہیں اور ایک دوسری طاقتور قوم کے دباؤ میں زمین میں فساد کر رہے ہیں قَالُوْا ٰیذَا الْقَرْنَیْنِ یہ کہا تھا انہوں نے ذی القرنین کو اور اللہ نے اس کو اپنی طرف سے عربی کے ان چند الفاظ میں بیان کیا اِنَّ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ اس میں کچھ شک نہیں یاجوج تھے اور ماجوج تھے یعنی وہ قوم جو دو رکاوٹوں سے ہٹ کر ذی القرنین کو ملی تھی جو زمین میں فساد کر رہی تھی اور پہاڑی سلسلے کی دوسری طرف آباد قوم جس کے دباؤ میں فساد کیا جا رہا تھا وہ قومیں یاجوج اور ماجوج تھے اللہ نے انہیں یاجوج اور ماجوج کہا۔ کون ہیں یاجوج اور ماجوج تو آگے اسی کا اللہ نے جواب دے دیا مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وہ جو اس وقت زمین میں فساد کر رہے ہیں یعنی زمین کی مخلوقات کو ان کے مقامات سے ہٹا رہے ہیں جس سے زمین میں اللہ کا قائم کردہ توازن بگڑ کر تباہیاں آ رہی ہیں زلزلے آ رہے ہیں طوفان و سونامی آ رہے ہیں آندھیاں آ رہی ہیں زمین جگہ جگہ سے دھنس رہی ہے زمین کے پیدا کرنے کی صلاحیت غیر معمولی حد تک متاثر ہو چکی ہے
بیماریاں ، مصائب تکالیف، تباہیاں ہلاکتیں دن بہ دن بڑھ رہی ہیں بالکل ایسے ہی اُس وقت بھی زمین میں وہ قومیں فساد کر رہی تھی۔
اُس قوم نے یہ نہیں کہا تھا کہ یاجوج اور ماجوج فساد کرتے ہیں بلکہ وہ قوم تو خود فساد کر رہی تھی کیونکہ ذی القرنین تو وہاں پہنچا تھا جہاں زمین میں فساد ہو رہا تھا اور وہاں جس قوم کو پایا وہ قوم فساد کر رہی تھی جیسے آج زمین میں فساد کیا جا رہا ہے پہاڑوں کی مائننگ کی جا رہی ہے زمین سے اور پہاڑوں سے اللہ کے غیب میں سے نکالا جا رہا ہے اللہ کی آیات سے کذب کیا جا رہا ہے بالکل ایسے ہی وہ قوم بھی کر رہی تھی لیکن وہ قوم ایک دوسری قوم کے دباؤ میں آ کر کر رہی تھی ایک دوسری
قوم تھی جو طاقت ور تھی جو قوت میں اسلحے و بارود میں ان سے بڑھ کر تھی۔
اللہ نے اس قرآن میں ان دونوں قوموں کو یاجوج اور ماجوج کہا ہے کہ وہ یاجوج اور ماجوج تھے۔ ایک وہ قوم جس کے دباؤمیں فساد کیا جا رہا تھا جیسے آج امریکہ و یورپ کے دباؤ میں فساد کیا جا رہا ہے خام تیل وغیرہ نکالا جا رہا ہے اور دوسری وہ قوم جو دباؤ میں آ کر فساد کر رہی تھی جیسے آج عرب ، ایشیائی و افریقی قومیں طاقتور امریکی و یورپی قوموں کے دباؤ میں فساد کر رہی ہیں زمین میں پنگے لیے جا رہے ہیں زمین کی چیر پھاڑ کی جا رہی ہے زمین سے خام تیل سمیت بہت کچھ
نکالا جا رہا ہے۔
اسی بات کو ایک دوسرے پہلو سے بھی آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔
اللہ نے اس قرآن کو نہ صرف احسن الحدیثِ کہا بلکہ اسے مثانی بھی قرار دیا جیسا کہ آپ اس آیت کوذیل میں دیکھ رہے ہیں۔
اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتٰبًا مُّتَشَابِھًا مَّثَانِیَ ۔ الزمر ۲۳
مثانی کہتے ہیں جیسے ایک کے بعد دو دو کے بعد تین تین کے بعد چار اور چار کے بعد پانچ آتا ہے ، ایک کے بعد دو ہی آئے گا تو ایک اور دو کا آپس میں ربط قائم ہو گا ایک کے بعد تین نہیں آ سکتا یا دو کے علاوہ کچھ بھی نہیں آ سکتا کیونکہ ایک کے بعد دو آئے گا تو دونوں کا آپس میں ربط قائم ہو گا۔ جیسے مشین کے ہر پرزے کا دوسرے پرزے کیساتھ ربط قائم ہوتا ہے جیسے آپ کے جسم میں تمام اعضاء کا آپس میں مضبوط ربط قائم ہے اس طرح ایک کے بعد دوسری شئے کا آنا کے
دونوں کا آپس میں ربط قائم ہو جائے اسے عربی میں مثانی کہا جا تا ہے۔
اللہ نے اس قرآن کو مثانی کہا ہے یعنی پورے کے پورے قرآن میں ایسا ربط ہے جیسے مشین میں تمام پرزوں کا یا جسم میں تمام اعضاء کا آپس میں ربط قائم ہوتا ہے۔ اس قرآن کی آیات کا آپس میں ایسے ربط قائم ہے جیسے ایک ، ایک کے بعد دو ، دو کے بعد تین ، تین کے بعد چار ، ایسے ہی آیات کے حصے اور آیات کے الفاظ مثانی ہیں ان کا آپس میں گہرا ربط قائم ہے ۔ اگر کہیں بھی آپ اس ربط کا خیال نہیں رکھتے یا کہیں بھی آیات یا آیات میں الفاظ کا آپس میں ربط قائم نہیں ہوتا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ قرآن آپ پر نہیں کھل رہا اور اس کے باوجود اگر آپ آگے بڑھتے ہیں تو آپ اپنے عمل سے قرآن کے مثانی ہونے کا کفر
کرتے ہیں۔
آپ جان چکے ہیں کہ قرآن مثانی ہے قرآن کی آیات اور ہر آیت کے الفاظ کا آپس میں گہرا ربط قائم ہے۔ کوئی لفظ استعمال ہوتا ہے تو اگلے ہی الفاظ پچھلے
لفظ کی وضاحت کر رہے ہوتے ہیں اگر کہیں سوال پیدا ہو رہا ہوتا ہے تو اگلے ہی الفاظ یا اگلی ہی آیات میں اس کا جواب ہوتا ہے۔
اب ذرا دیکھیں جب قرآن میں یہ الفاظ آتے ہیں یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ تو اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں علم کہ یاجوج اور ماجوج کیا ہیں اللہ کن کو یاجوج اور ماجوج کہہ رہا ہے یوں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ یاجوج اور ماجوج کیا ہیں اب اگر قرآن مثانی ہے تو آگے اس سوال کا جواب بھی موجود ہونا چاہیے کہ یاجوج اور ماجوج کیا ہیں اور دیکھیں حیران کن طور پر آگے اس سوال کا جواب بھی موجود ہے کہ یاجوج اور ماجوج کون ہیں کیا ہیں مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وہ جو فساد کر رہے ہیں زمین میں وہ ہیں یاجوج اور ماجوج۔ اللہ نے نہ صرف یہ کہا یاجوج اور ماجوج بلکہ اس سوال کا جواب بھی دے دیا کہ یاجوج اور ماجوج کون ہیں کیا ہیں۔ یاجوج اور ماجوج وہ ہیں جو زمین میں فساد کر رہے ہیں اور ماضی میں یاجوج اور ماجوج وہ تھے جو زمین میں فساد کر رہے تھے بالکل ایسے ہی جیسے آج فساد
کیا جا رہا ہے۔
اب سب سے پہلے زمین میں فساد کو سمجھنا بہت ضروری ہے جب تک زمین میں فساد کی سمجھ نہیں آئے گی یاجوج اور ماجوج کی پہچان نہیں ہو سکے گی اس لیے اب
آپ پر واضح کرتے ہیں فساد فی الارض کیا ہے اور پھر اگر فساد فی الارض ہو رہا ہو تو جو فساد فی الارض کر رہے ہیں ان کو اللہ نے یاجوج اور ماجوج کہا۔
فساد بنا ہے ’’فسد‘‘ سے اور ’’ فسد‘‘ دو الفاظ کا مجموعہ ہے فس اور سد۔
فس اسی سے فسق، فاسق،فاسقین، فاسقون وغیرہ جیسے الفاظ بنے ہیں اور فس کے معنی ہیں بدلنے کے، تبدیلی ہونا یعنی شئے کا اصل حالت میں نہ رہنا اس میں کوئی
تبدیلی کا واقع ہو جانا کسی شئے کا اپنے اصل مقام سے ہٹ جانا اس میں کوئی بدلاؤ کا آ جانااور ’’ سد‘‘ کے معنی ہیں رکاوٹ۔
اب ان دونوں الفاظ کو ’’ فس‘‘ اور ’’سد ‘‘ کو جمع کریں تو لفظ جو کہ بنیادی طور پر جملہ ہے وجود میں آئے گا ’’ فسد‘‘ اور فسد کے معنی بنیں گے شئے میں
تبدیلی ہونا یعنی شئے کا اصل حالت میں نہ رہنا جس سے اس میں رکاوٹ کا پیدا ہونا اس میں نظم تسلسل کا ٹوٹ جانا۔
یہ ضد ہے ’’ صل‘‘ کی جب فسد کے معنی سمجھ آ گئے تو ظاہر ہے یہ اسی کی ضد ہو سکتا ہے کہ شئے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا نہ ہونا شئے کا اپنی اصل حالت پر رہنا ، رہنے دینا ، رکھنا یا کرنا کسی بھی شئے کا جو اس کا مقام ہے اسی پر رہناجس سے اس میں کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو یعنی اس میں نظم تسلسل ربط وغیرہ بحال
رہے اور اسی سے یعنی ’’صل ‘‘ سے الصلاۃ بنا ہے۔
لفظ فساد کے معنی آپ جان چکے ہیں فساد فی الارض کو سمجھنے کے لیے اب الارض کو بھی سمجھ لیں۔
الارض اس سیارے کو کہتے ہیں جس پر آپ رہائش پذیر ہیں جسے اردو میں زمین ہندی میں پریتھوی اور انگلش میں ارتھ کہا جاتا ہے۔ زمین کی مثال بالکل آپ کے جسم کی سی ہے یا ایک مشین کی سی جیسے آپ کا جسم لا تعداد مخلوقات کا مجموعہ ہے بہت سے اعضاء کا مجموعہ ہے ہر عضو کی تخلیق کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے اس کا کوئی نہ کوئی مقام ہے اور جب تک تمام اعضاء اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داری کو پورا کریں گے تب تک جسم کے تمام اعضاء میں ربط برقرار رہے گا جس سے جسم کے تمام اعضاء میں تسلسل اور نظم قائم رہے گا یوں پورا جسم صحیح سلامت رہے گا لیکن اگر جسم میں کہیں بھی کوئی بھی چھیڑ چھاڑ کی جائے کسی عضو کو اس کے مقام سے ہٹا دیا جائے جسم میں کوئی تبدیلی کی جائے تو اس میںقائم ربط ٹوٹ جائے گا جس سے اس میں تسلسل
ٹوٹ کر نظم میں رکاوٹ پیدا ہو جائے گی۔
بالکل ایسے ہی یہ زمین لا تعداد مخلوقات کا مجموعہ ہے جو کہ اس زمین کے اعضاء ہیں جیسے مشین کے پرزے ہوتے ہیں بالکل ایسے ہی زمین کے اندر اور باہر لا تعداد مخلوقات زمین کے اعضاء ہیں زمین کے پرزے ہیں ان سب کی تخلیق کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے ہر کسی کا کوئی نہ کوئی مقام ہے اللہ نے نہ صرف ان تمام مخلوقات کو خلق کیا بلکہ سب کی سب مخلوقات کو ان کے مقامات پر قائم کر دیا جس سے تمام مخلوقات کا آپس میں ربط قائم ہو کر زمین
میں بہترین نظم قائم ہو گیا یوں زمین کا نظام چل رہا تھا اور جب
تک تمام کی تمام مخلوقات اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داری کو پورا کریں گی تو پوری زمین صحیح سلامت رہے گی زمین میں کوئی خرابی نہیں ہو گی زمین میں تسلسل نظم برقرار رہے گا یوں زمین میں جو کچھ بھی ہے سب کا سب سلامت رہے گا لیکن اگر زمین کی مخلوقات کو ان کے مقامات سے ہٹا دیا جاتا ہے ان میں چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے ان میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں تو زمین کی مخلوقات میں قائم ربط ٹوٹ کر اس کے نظام میں رکاوٹ پیدا ہو جائے گی جس سے زمین میں
خرابیاں اور بالآخر تباہیاں آئیں گی اور زمین پر تمام مخلوقات ان تباہیوں کا شکار ہوں گی۔
زمین میں چھیڑ چھاڑ کرنا زمین کی مخلوقات کو ان کے مقامات سے ہٹا دینا ان میں پنگے لینا یہ ہے فساد فی الارض۔
(جاری ہے)۔۔۔
بالکل ایسے ہی جیسے آج دنیا میں کچھ قومیں قوت میں بہت بڑھ کر ہیں جن کے پاس اسباب ہیں اسلحہ و بارود ہے جیسے کہ امریکہ، چین و جاپان، یورپ و روس وغیرہ
اور ان کے برعکس کچھ قومیں قوت میں کم ہیں کمزور ہیں جیسے کہ ایشیائی ممالک، افریقہ و عرب ممالک ہیں۔
ایشیا ، عرب و افریقی ممالک میں جو قومیں آباد ہیں وہ کمزور ہیں لیکن جن خطوں میں یہ قومیں آباد ہیں یہاں کی زمین میں اللہ کے خزانے موجود ہیں جنہیں آج
قدرتی وسائل کا نام دیا جاتا ہے جیسے کہ خام تیل سر فہرست ہے۔
یہ غریب یا کمزور قومیں اپنے خطوں میں زمین میں فساد کر رہی ہیں زمین کو چیر پھاڑ کر اس میں سے اللہ کے غیب سے نکال رہی ہیں لیکن یہ اپنے لیے نہیں بلکہ
طاقتورقوموں کے لیے نکال رہی ہیں اُن کے لیے زمین میں فساد کر رہی ہیں بالکل یہی اُس وقت ہو رہا تھا۔
امریکہ و یورپ نہ صرف عرب ، ایشیاء و افریقی ممالک سے وہیں بسنے والی قوموں کے ذریعے زمین سے اللہ کے غیب میں سے نکال رہے ہیں بلکہ الٹا ان قوموں
پر جنگیں بھی مسلط کی ہوئی ہیں، ان کی قتل و غارت بھی کر رہے ہیں بالکل یہی اُس وقت ہو رہاتھا۔
جب ذی القرنین نے اس قوم سے کیے جانے والے فساد کے بارے حساب لیا تو ان کی طرف سے جو بات سامنے آئی وہ یہی تھی کہ وہ کمزور قوم ہیں اور ایک دوسری طاقتور قوم کے دباؤ میں زمین میں فساد کر رہے ہیں قَالُوْا ٰیذَا الْقَرْنَیْنِ یہ کہا تھا انہوں نے ذی القرنین کو اور اللہ نے اس کو اپنی طرف سے عربی کے ان چند الفاظ میں بیان کیا اِنَّ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ اس میں کچھ شک نہیں یاجوج تھے اور ماجوج تھے یعنی وہ قوم جو دو رکاوٹوں سے ہٹ کر ذی القرنین کو ملی تھی جو زمین میں فساد کر رہی تھی اور پہاڑی سلسلے کی دوسری طرف آباد قوم جس کے دباؤ میں فساد کیا جا رہا تھا وہ قومیں یاجوج اور ماجوج تھے اللہ نے انہیں یاجوج اور ماجوج کہا۔ کون ہیں یاجوج اور ماجوج تو آگے اسی کا اللہ نے جواب دے دیا مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وہ جو اس وقت زمین میں فساد کر رہے ہیں یعنی زمین کی مخلوقات کو ان کے مقامات سے ہٹا رہے ہیں جس سے زمین میں اللہ کا قائم کردہ توازن بگڑ کر تباہیاں آ رہی ہیں زلزلے آ رہے ہیں طوفان و سونامی آ رہے ہیں آندھیاں آ رہی ہیں زمین جگہ جگہ سے دھنس رہی ہے زمین کے پیدا کرنے کی صلاحیت غیر معمولی حد تک متاثر ہو چکی ہے
بیماریاں ، مصائب تکالیف، تباہیاں ہلاکتیں دن بہ دن بڑھ رہی ہیں بالکل ایسے ہی اُس وقت بھی زمین میں وہ قومیں فساد کر رہی تھی۔
اُس قوم نے یہ نہیں کہا تھا کہ یاجوج اور ماجوج فساد کرتے ہیں بلکہ وہ قوم تو خود فساد کر رہی تھی کیونکہ ذی القرنین تو وہاں پہنچا تھا جہاں زمین میں فساد ہو رہا تھا اور وہاں جس قوم کو پایا وہ قوم فساد کر رہی تھی جیسے آج زمین میں فساد کیا جا رہا ہے پہاڑوں کی مائننگ کی جا رہی ہے زمین سے اور پہاڑوں سے اللہ کے غیب میں سے نکالا جا رہا ہے اللہ کی آیات سے کذب کیا جا رہا ہے بالکل ایسے ہی وہ قوم بھی کر رہی تھی لیکن وہ قوم ایک دوسری قوم کے دباؤ میں آ کر کر رہی تھی ایک دوسری
قوم تھی جو طاقت ور تھی جو قوت میں اسلحے و بارود میں ان سے بڑھ کر تھی۔
اللہ نے اس قرآن میں ان دونوں قوموں کو یاجوج اور ماجوج کہا ہے کہ وہ یاجوج اور ماجوج تھے۔ ایک وہ قوم جس کے دباؤمیں فساد کیا جا رہا تھا جیسے آج امریکہ و یورپ کے دباؤ میں فساد کیا جا رہا ہے خام تیل وغیرہ نکالا جا رہا ہے اور دوسری وہ قوم جو دباؤ میں آ کر فساد کر رہی تھی جیسے آج عرب ، ایشیائی و افریقی قومیں طاقتور امریکی و یورپی قوموں کے دباؤ میں فساد کر رہی ہیں زمین میں پنگے لیے جا رہے ہیں زمین کی چیر پھاڑ کی جا رہی ہے زمین سے خام تیل سمیت بہت کچھ
نکالا جا رہا ہے۔
اسی بات کو ایک دوسرے پہلو سے بھی آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔
اللہ نے اس قرآن کو نہ صرف احسن الحدیثِ کہا بلکہ اسے مثانی بھی قرار دیا جیسا کہ آپ اس آیت کوذیل میں دیکھ رہے ہیں۔
اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتٰبًا مُّتَشَابِھًا مَّثَانِیَ ۔ الزمر ۲۳
مثانی کہتے ہیں جیسے ایک کے بعد دو دو کے بعد تین تین کے بعد چار اور چار کے بعد پانچ آتا ہے ، ایک کے بعد دو ہی آئے گا تو ایک اور دو کا آپس میں ربط قائم ہو گا ایک کے بعد تین نہیں آ سکتا یا دو کے علاوہ کچھ بھی نہیں آ سکتا کیونکہ ایک کے بعد دو آئے گا تو دونوں کا آپس میں ربط قائم ہو گا۔ جیسے مشین کے ہر پرزے کا دوسرے پرزے کیساتھ ربط قائم ہوتا ہے جیسے آپ کے جسم میں تمام اعضاء کا آپس میں مضبوط ربط قائم ہے اس طرح ایک کے بعد دوسری شئے کا آنا کے
دونوں کا آپس میں ربط قائم ہو جائے اسے عربی میں مثانی کہا جا تا ہے۔
اللہ نے اس قرآن کو مثانی کہا ہے یعنی پورے کے پورے قرآن میں ایسا ربط ہے جیسے مشین میں تمام پرزوں کا یا جسم میں تمام اعضاء کا آپس میں ربط قائم ہوتا ہے۔ اس قرآن کی آیات کا آپس میں ایسے ربط قائم ہے جیسے ایک ، ایک کے بعد دو ، دو کے بعد تین ، تین کے بعد چار ، ایسے ہی آیات کے حصے اور آیات کے الفاظ مثانی ہیں ان کا آپس میں گہرا ربط قائم ہے ۔ اگر کہیں بھی آپ اس ربط کا خیال نہیں رکھتے یا کہیں بھی آیات یا آیات میں الفاظ کا آپس میں ربط قائم نہیں ہوتا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ قرآن آپ پر نہیں کھل رہا اور اس کے باوجود اگر آپ آگے بڑھتے ہیں تو آپ اپنے عمل سے قرآن کے مثانی ہونے کا کفر
کرتے ہیں۔
آپ جان چکے ہیں کہ قرآن مثانی ہے قرآن کی آیات اور ہر آیت کے الفاظ کا آپس میں گہرا ربط قائم ہے۔ کوئی لفظ استعمال ہوتا ہے تو اگلے ہی الفاظ پچھلے
لفظ کی وضاحت کر رہے ہوتے ہیں اگر کہیں سوال پیدا ہو رہا ہوتا ہے تو اگلے ہی الفاظ یا اگلی ہی آیات میں اس کا جواب ہوتا ہے۔
اب ذرا دیکھیں جب قرآن میں یہ الفاظ آتے ہیں یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ تو اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں علم کہ یاجوج اور ماجوج کیا ہیں اللہ کن کو یاجوج اور ماجوج کہہ رہا ہے یوں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ یاجوج اور ماجوج کیا ہیں اب اگر قرآن مثانی ہے تو آگے اس سوال کا جواب بھی موجود ہونا چاہیے کہ یاجوج اور ماجوج کیا ہیں اور دیکھیں حیران کن طور پر آگے اس سوال کا جواب بھی موجود ہے کہ یاجوج اور ماجوج کون ہیں کیا ہیں مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وہ جو فساد کر رہے ہیں زمین میں وہ ہیں یاجوج اور ماجوج۔ اللہ نے نہ صرف یہ کہا یاجوج اور ماجوج بلکہ اس سوال کا جواب بھی دے دیا کہ یاجوج اور ماجوج کون ہیں کیا ہیں۔ یاجوج اور ماجوج وہ ہیں جو زمین میں فساد کر رہے ہیں اور ماضی میں یاجوج اور ماجوج وہ تھے جو زمین میں فساد کر رہے تھے بالکل ایسے ہی جیسے آج فساد
کیا جا رہا ہے۔
اب سب سے پہلے زمین میں فساد کو سمجھنا بہت ضروری ہے جب تک زمین میں فساد کی سمجھ نہیں آئے گی یاجوج اور ماجوج کی پہچان نہیں ہو سکے گی اس لیے اب
آپ پر واضح کرتے ہیں فساد فی الارض کیا ہے اور پھر اگر فساد فی الارض ہو رہا ہو تو جو فساد فی الارض کر رہے ہیں ان کو اللہ نے یاجوج اور ماجوج کہا۔
فساد بنا ہے ’’فسد‘‘ سے اور ’’ فسد‘‘ دو الفاظ کا مجموعہ ہے فس اور سد۔
فس اسی سے فسق، فاسق،فاسقین، فاسقون وغیرہ جیسے الفاظ بنے ہیں اور فس کے معنی ہیں بدلنے کے، تبدیلی ہونا یعنی شئے کا اصل حالت میں نہ رہنا اس میں کوئی
تبدیلی کا واقع ہو جانا کسی شئے کا اپنے اصل مقام سے ہٹ جانا اس میں کوئی بدلاؤ کا آ جانااور ’’ سد‘‘ کے معنی ہیں رکاوٹ۔
اب ان دونوں الفاظ کو ’’ فس‘‘ اور ’’سد ‘‘ کو جمع کریں تو لفظ جو کہ بنیادی طور پر جملہ ہے وجود میں آئے گا ’’ فسد‘‘ اور فسد کے معنی بنیں گے شئے میں
تبدیلی ہونا یعنی شئے کا اصل حالت میں نہ رہنا جس سے اس میں رکاوٹ کا پیدا ہونا اس میں نظم تسلسل کا ٹوٹ جانا۔
یہ ضد ہے ’’ صل‘‘ کی جب فسد کے معنی سمجھ آ گئے تو ظاہر ہے یہ اسی کی ضد ہو سکتا ہے کہ شئے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا نہ ہونا شئے کا اپنی اصل حالت پر رہنا ، رہنے دینا ، رکھنا یا کرنا کسی بھی شئے کا جو اس کا مقام ہے اسی پر رہناجس سے اس میں کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو یعنی اس میں نظم تسلسل ربط وغیرہ بحال
رہے اور اسی سے یعنی ’’صل ‘‘ سے الصلاۃ بنا ہے۔
لفظ فساد کے معنی آپ جان چکے ہیں فساد فی الارض کو سمجھنے کے لیے اب الارض کو بھی سمجھ لیں۔
الارض اس سیارے کو کہتے ہیں جس پر آپ رہائش پذیر ہیں جسے اردو میں زمین ہندی میں پریتھوی اور انگلش میں ارتھ کہا جاتا ہے۔ زمین کی مثال بالکل آپ کے جسم کی سی ہے یا ایک مشین کی سی جیسے آپ کا جسم لا تعداد مخلوقات کا مجموعہ ہے بہت سے اعضاء کا مجموعہ ہے ہر عضو کی تخلیق کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے اس کا کوئی نہ کوئی مقام ہے اور جب تک تمام اعضاء اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داری کو پورا کریں گے تب تک جسم کے تمام اعضاء میں ربط برقرار رہے گا جس سے جسم کے تمام اعضاء میں تسلسل اور نظم قائم رہے گا یوں پورا جسم صحیح سلامت رہے گا لیکن اگر جسم میں کہیں بھی کوئی بھی چھیڑ چھاڑ کی جائے کسی عضو کو اس کے مقام سے ہٹا دیا جائے جسم میں کوئی تبدیلی کی جائے تو اس میںقائم ربط ٹوٹ جائے گا جس سے اس میں تسلسل
ٹوٹ کر نظم میں رکاوٹ پیدا ہو جائے گی۔
بالکل ایسے ہی یہ زمین لا تعداد مخلوقات کا مجموعہ ہے جو کہ اس زمین کے اعضاء ہیں جیسے مشین کے پرزے ہوتے ہیں بالکل ایسے ہی زمین کے اندر اور باہر لا تعداد مخلوقات زمین کے اعضاء ہیں زمین کے پرزے ہیں ان سب کی تخلیق کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے ہر کسی کا کوئی نہ کوئی مقام ہے اللہ نے نہ صرف ان تمام مخلوقات کو خلق کیا بلکہ سب کی سب مخلوقات کو ان کے مقامات پر قائم کر دیا جس سے تمام مخلوقات کا آپس میں ربط قائم ہو کر زمین
میں بہترین نظم قائم ہو گیا یوں زمین کا نظام چل رہا تھا اور جب
تک تمام کی تمام مخلوقات اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داری کو پورا کریں گی تو پوری زمین صحیح سلامت رہے گی زمین میں کوئی خرابی نہیں ہو گی زمین میں تسلسل نظم برقرار رہے گا یوں زمین میں جو کچھ بھی ہے سب کا سب سلامت رہے گا لیکن اگر زمین کی مخلوقات کو ان کے مقامات سے ہٹا دیا جاتا ہے ان میں چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے ان میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں تو زمین کی مخلوقات میں قائم ربط ٹوٹ کر اس کے نظام میں رکاوٹ پیدا ہو جائے گی جس سے زمین میں
خرابیاں اور بالآخر تباہیاں آئیں گی اور زمین پر تمام مخلوقات ان تباہیوں کا شکار ہوں گی۔
زمین میں چھیڑ چھاڑ کرنا زمین کی مخلوقات کو ان کے مقامات سے ہٹا دینا ان میں پنگے لینا یہ ہے فساد فی الارض۔
(جاری ہے)۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment