WARNING FROM MOTHER NATURE
DOWNLOAD MOTHER NATURE KRISHNA
قسط نمبر#14
اب تک آپ پر یہ واضح ہو چکا کہ خود کو مسلمان کہلوانے والوں میں یاجوج اور ماجوج سے متعلق پائے جانے والے عقائد و نظریات قرآن کے برعکس بائبل سے اخذ کردہ یہودیوں اور عیسائیوں والے ہی عقائد و نظریات ہیں اور اگر بائبل سے اخذ کردہ یہودیوں اور عیسائیوں والے عقائد و نظریات حق اور سچ ہوتے تو محمد رسول اللہ کو بعث نہ کیا جاتا کیونکہ اللہ صرف اور صرف تب ہی رسول بعث کرتا ہے جب انسان سو فیصد ہر لحاظ سے گمراہیوں میں چلے جاتے ہیںاس لیے جب محمد
رسول اللہ کو بعث کیا گیا تو محمد کی بعثت کا مقصد یہودیوں اور عیسائیوں
کے عقائد و نظریات کی تائید و تصدیق کرنا نہیں تھا بلکہ اس کے بالکل برعکس ان کے تمام تر عقائد و نظریات کا رد کرتے ہوئے حق کو کھول کھول کر واضح کرنا تھایوں یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو جاتی ہے کہ خود کو مسلمان کہلوانے والوں میں یاجوج اور ماجوج سے متعلق پائے جانے والے یہودیوں اور عیسائیوں والے عقائد ونظریات کا حق کیساتھ کوئی تعلق نہیں بلکہ الٹا یہ من گھڑت اور بے بنیاد وباطل قصے و کہانیاں ہیں جو آج تک اس قوم میں بھی عام کر دی گئیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یاجوج اور ماجوج سے متعلق پائے جانے والے عقائد و نظریات کا حقیقت کیساتھ کوئی تعلق نہیں تو پھر یاجوج اور ماجوج کے بارے میں حق کیا ہے؟ حق جاننے کے لیے اب آتے ہیں قرآن کی طرف اور قرآن سے ہی راہنمائی لیتے ہیں، اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ یاجوج اور ماجوج کون ہیں ان کی پہچان کیا ہے یاجوج اور ماجوج کے بارے میں مکمل راہنمائی کرے اور پھر دیکھیں اللہ اس کے جواب میں کس قد آسان ترین الفاظ میں
اور کھول کھول کر واضح راہنمائی کرتا ہے۔
پورے قرآن میں صرف اور صرف دو مقامات پر ہی یاجوج و ماجوج کے الفاظ کا استعمال ہوا۔
جیسا کہ دونوں مقامات ذیل میں آپ کے سامنے ہیں۔
ان میں پہلا مقام سورۃ الکہف کی آیت نمبر ۹۴ہے
قَالُوْا ٰیذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَھَلْ نَجْعَلُ لَکَ خَرْجًا عَلٰٓی اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمْ سَدًّا۔ الکہف ۹۴
اور دوسرا مقام سورۃ الانبیاء کی آیت نمبر ۹۶ ہے۔
حَتّیٰٓ اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَھُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ ۔ الانبیائ۹۶
ان دونوں مقامات پر ہی نہ صرف سوالات موجود ہیں کہ یاجوج اور ماجوج کون ہیں کیا ہیں کب ان کا خروج ہو گا اور وہ کیا کریں گے بلکہ ان سوالات کے
جوابات بھی موجود ہیں۔ اور دوسری بات جو پہلے بھی واضح کی جا چکی اور آئندہ آگے چل کر اس پر مزید تفصیل کیساتھ بات ہو گی کہ اللہ نے اس قرآن میں نہ
صرف ہر معاملے ہر مسئلے پر بات کی بلکہ ایک سے زائد مقامات پر ہر پہلو سے پھیر پھیر کر اس کو مثلوں کیساتھ واضح کر دیا۔
اس بات کو ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے اگر اس قرآن میں دو مقامات پر یاجوج اور ماجوج کے الفاظ کا استعمال ہوا ہے تو یہ صرف ایک ہی پہلو سے ایسے لوگوں پر بات کی گئی جنہیں ان دو مقامات پر یاجوج اور ماجوج کہا جا رہا ہے ان لوگوں کا ایک پہلو سے یہاں ذکر کیا جا رہا ہے اور ان دو مقامات کے علاوہ انہی لوگوں پر او ر پہلوؤں سے بھی بات کی گئی جنہیں ان مقامات پر یاجوج اور ماجوج کہا گیا ہے اس لیے قرآن کے ان تمام مقامات کو سامنے رکھتے ہوئے یاجوج اور
ماجوج کو ہر پہلو سے کھول کھول کر آپ پر واضح کرتے ہیں۔
سورۃ الکہف میں مذکور واقعہ ذی القرنین میں جہاں یاجوج اور ماجوج کے الفاظ آتے ہیں تو اس سے آج تک کیا مراد لیا جاتا رہا سب سے پہلے اسے آپ پر واضح
کرتے ہیں اس کے بعد اصل حقیقت کیا ہے اسے آپ کے سامنے رکھیں گے۔
ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔ حَتّیٰٓ اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِہِمَا قَوْمًا لَّا یَکَادُوْنَ یَفْقَہُوْنَ قَوْلًا۔ قَالُوْا ٰیذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَھَلْ نَجْعَلُ لَکَ خَرْجًا عَلٰٓی اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمْ سَدًّا۔ الکہف ۹۲ تا ۹۴
ان آیات کا ترجمہ یوں کیا جاتا ہے۔
’’ پھر اس نے ایک اور سامان کیا۔ یہاں تک کہ دو دیواروں کے درمیان پہنچا تو دیکھا کہ ان کے اس طرف کچھ لوگ ہیں کہ بات کو سمجھ نہیں سکتے ۔ ان لوگوں نے کہا ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کرتے رہتے ہیں بھلا ہم آپ کے لئے خرچ (کا انتظام) کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار کھینچ دیں ۔ فتح محمد جالندھری‘‘
اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ اس قوم نے ذی القرنین سے کہا کہ اے ذی القرنین یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد یاجوج اور ماجوج پر اٹھنے والے سوالات کے جوابات کے لیے غیر قرآن سے رجوع کیا جاتا ہے حالانکہ ان لوگوں نے آج تک اس بات میں غورہی نہ کیا کہ بھلا ایک ایسی
قوم جو کسی بھی زبان کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی وہ روانی کیساتھ عربوں کی زبان میں کیسے بات کرسکتی ہے؟
اور پھر کیا ذی القرنین کی زبان عربوں کی زبان عربی تھی؟ جو ذی القرنین عربی بول رہا تھا؟
جب نہ ہی ذی القرنین کی زبان عربوں کی زبان تھی اور نہ ہی اس قوم کی زبان عربوں کی زبان تھی تو پھر اس قوم نے یاجوج اور ماجوج کے الفاظ کا استعمال نہیں کیا
تھا بلکہ ان الفاظ کا استعمال تو اللہ نے جب اس واقعہ کا قرآن میں ذکر کیا تب استعمال کیا اپنی طرف سے۔
آگے بڑھنے سے پہلے یہ بات جان لیں کہ ماضی میں اس وقت جو بھی ہوا تھا اللہ نے جب قرآن اتارا تو اللہ اس قرآن میں اپنے الفاظ میں اس واقعے کا ذکر کر رہا ہے ۔ ایسا نہیں تھا کہ جیسے اس قرآن میں عربی کے چند الفاظ میں بات کی گئی بالکل انہی عربی کے الفاظ میں ذی القرنین اور اس قوم کے درمیان مکالمہ ہوا بلکہ اس وقت جو بھی ہوا تھا اس واقعہ کو اللہ نے عربی میں آیات کی صورت میں قرآن میں اتارا ۔ عربی کے الفاظ کا چناؤ اور استعمال اللہ نے کیا۔
جیسے مثال کے طور پر اگر آپ کسی دوسرے ملک میں جاتے ہیں تو وہاں آپ کوئی واقعہ رونما ہوتا دیکھتے ہیں اور جب آپ واپس آکر اپنی قوم کے لوگوں کو وہ واقعہ بتائیں گے تو نہ صرف اپنی زبان میں بلکہ اپنی طرف سے بہتر سے بہتر الفاظ کا استعمال کریں گے وہ واقعہ بتانے کے لیے۔ ایسے ہی اس وقت جو واقعہ ہوا آج
اللہ نے اس قرآن میں جب وہ واقعہ بیان کیا تو نہ صرف عربوں کی زبان میں بلکہ اپنی طرف سے بہتر سے بہتر الفاظ کا استعمال کیا۔
اب آئیں اصل حقیقت کی طرف کہ انہی آیات میں نہ صرف یاجوج اور ماجوج سے متعلق سوالات موجود ہیں بلکہ ان سوالات کے جوابات بھی موجود ہیں۔
آیات کے لفظ بہ لفظ معنی آپ کے سامنے رکھتے ہیں جس سے حق بالکل کھل کر واضح ہو جائے گا۔
ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔ حَتّیٰٓ اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِہِمَا قَوْمًا لَّا یَکَادُوْنَ یَفْقَہُوْنَ قَوْلًا۔ قَالُوْا ٰیذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَھَلْ نَجْعَلُ لَکَ خَرْجًا عَلٰٓی اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمْ سَدًّا۔ الکہف ۹۲ تا ۹۴
ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔ ثُمَّ پھر اَ کیا، ثُمَّ اَ پھر جو کیا کیا کیا؟ یعنی ذی القرنین نے جب مغرب کی طرف جہاں خشکی ختم اور وہاں سے سورج گرم پانیوں میں غروب ہوتا نظر آتا ہے وہاں جو قوم پائی ان پر دسترس پا کر انہیں ان کے کیے کی سزا دی انہیں قتل و قید کیا زمین میں کیے جانے والے فساد کو روک کر زمین کی اصلاح کی پھر اسی طرح مشرق کی طرف وہ پہلی قومیں جن پر سب سے پہلے سورج طلوع ہوتا ہے ان کیساتھ بھی وہی کیا جو مغرب والی قوم کیساتھ کیا ان دونوں کے بعد پھر کیا کیا ذی القرنین نے ؟ تو اسی کاآگے جواب دیا جا رہا ہے َتْبَعَ سَبَبًا ذی القرنین کو جو ہر شئے سے اسباب دیئے تھے انہی اسباب میں سے ایک سبب کے ذریعے زمین کے ایک تیسرے مقام سے ہونے والے فساد کے بارے میں خبر آئی تو ذی القرنین زمین میں فساد کو روکنے اور زمین کی اصلاح کرنے کی غرض سے اس کے پیچھے پڑا حَتّیٰٓ اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ یہاں تک کہ وہ پہنچا بین السدین یعنی زمین کے مغرب میں جو سد اس نے کی تھی اور اس کے بعد مشرق میں جو سد کی تھی ان سدین کے درمیان پہنچا وَجَدَ مِنْ دُوْنِہِمَا قَوْمًا لَّا یَکَادُوْنَ یَفْقَہُوْنَ قَوْلًا تو وہاں بھی نہ صرف سدین یعنی دو رکاوٹوں کو پایا بلکہ ان سے ہٹ کر ایک قوم کو بھی پایا وہاں ۔یعنی جیسے زمین کے مغرب و مشرق میں ہونے والے فساد کی خبریں ذی القرنین کے پاس آئیں تو وہ زمین میں فساد کو روکنے اور اصلاح کی غرض سے وہاں پہنچا اور مفسدین کو کیفریکردار تک پہنچایا ایسے ہی زمین کے مغرب و مشرق کے درمیان ہونے والے فساد کی خبر بھی آئی تو ذی القرنین وہاں بھی جا پہنچا ، وہاں ایک ایسی قوم کو پایا جو فساد کر رہی تھی اور وہ قوم یعنی وہ لوگ کوئی ایک بھی بات سمجھ نہیں رہے تھے اس کے باوجود ذی القرنین نے اسباب میں سے سبب کے ذریعے ان سے کلام کیا کہ تم زمین میں کیوں فساد کر رہے ہو تو اس قوم نے جواب دیا کہ اس فساد کے ذمہ دار ہم لوگ نہیں ہیں بلکہ ہم تو ایک کمزور قوم ہیں اس پہاڑی سلسلہ کے دوسری طرف جو قوم آباد ہے وہ طاقتور قوم ہے یہاںزمین میں ہونے والے فساد کی اصل ذمہ دار وہ قوم ہے ۔ ہم اپنی خوشی سے زمین میں چھیڑ چھاڑ نہیں کر رہے پہاڑوں کی مائننگ کر کے ان میں سے قدرتی وسائل کے نام پر اللہ کے غیب سے نہیں نکال رہے بلکہ ہم تو یہ سب مجبوری میں کر رہے ہیں زمین سے جو کچھ بھی نکالا جا رہا ہے اصل میں تو یہ اس قوم کے لیے نکالا جا رہا ہے جو پہاڑی سلسلے کے دوسری طرف آباد ہے۔ اب اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ جو کچھ بھی کیا جا رہا ہے یہ فساد ہے اس کی اجازت نہیں ہے تو ہم نہیں کریں گے لیکن پہاڑوں کے دوسری طرف آباد قوم کے پاس اسباب و وسائل ہیں ان کے پاس طاقت ہے وہ ہمیں یہی سب کرنے پر مجبور کرے گی ان سے اور اس فساد سے بچنے کا ایک ہی رستہ ہے کہ اگر اس قوم کی اس طرف رسائی بند کر دی جائے تو یہ فساد رک سکتا ہے اور آپ کے پاس تو ایسی رکاوٹ کرنے کے تمام وسائل موجود ہیں اب اگر آپ ہمارے درمیان اور ان
کے درمیان رکاوٹ کر دیں تو ہم اس کے لیے آپ کو اس کی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔ (جاری ہے)
اب تک آپ پر یہ واضح ہو چکا کہ خود کو مسلمان کہلوانے والوں میں یاجوج اور ماجوج سے متعلق پائے جانے والے عقائد و نظریات قرآن کے برعکس بائبل سے اخذ کردہ یہودیوں اور عیسائیوں والے ہی عقائد و نظریات ہیں اور اگر بائبل سے اخذ کردہ یہودیوں اور عیسائیوں والے عقائد و نظریات حق اور سچ ہوتے تو محمد رسول اللہ کو بعث نہ کیا جاتا کیونکہ اللہ صرف اور صرف تب ہی رسول بعث کرتا ہے جب انسان سو فیصد ہر لحاظ سے گمراہیوں میں چلے جاتے ہیںاس لیے جب محمد
رسول اللہ کو بعث کیا گیا تو محمد کی بعثت کا مقصد یہودیوں اور عیسائیوں
کے عقائد و نظریات کی تائید و تصدیق کرنا نہیں تھا بلکہ اس کے بالکل برعکس ان کے تمام تر عقائد و نظریات کا رد کرتے ہوئے حق کو کھول کھول کر واضح کرنا تھایوں یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو جاتی ہے کہ خود کو مسلمان کہلوانے والوں میں یاجوج اور ماجوج سے متعلق پائے جانے والے یہودیوں اور عیسائیوں والے عقائد ونظریات کا حق کیساتھ کوئی تعلق نہیں بلکہ الٹا یہ من گھڑت اور بے بنیاد وباطل قصے و کہانیاں ہیں جو آج تک اس قوم میں بھی عام کر دی گئیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یاجوج اور ماجوج سے متعلق پائے جانے والے عقائد و نظریات کا حقیقت کیساتھ کوئی تعلق نہیں تو پھر یاجوج اور ماجوج کے بارے میں حق کیا ہے؟ حق جاننے کے لیے اب آتے ہیں قرآن کی طرف اور قرآن سے ہی راہنمائی لیتے ہیں، اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ یاجوج اور ماجوج کون ہیں ان کی پہچان کیا ہے یاجوج اور ماجوج کے بارے میں مکمل راہنمائی کرے اور پھر دیکھیں اللہ اس کے جواب میں کس قد آسان ترین الفاظ میں
اور کھول کھول کر واضح راہنمائی کرتا ہے۔
پورے قرآن میں صرف اور صرف دو مقامات پر ہی یاجوج و ماجوج کے الفاظ کا استعمال ہوا۔
جیسا کہ دونوں مقامات ذیل میں آپ کے سامنے ہیں۔
ان میں پہلا مقام سورۃ الکہف کی آیت نمبر ۹۴ہے
قَالُوْا ٰیذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَھَلْ نَجْعَلُ لَکَ خَرْجًا عَلٰٓی اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمْ سَدًّا۔ الکہف ۹۴
اور دوسرا مقام سورۃ الانبیاء کی آیت نمبر ۹۶ ہے۔
حَتّیٰٓ اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَھُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ ۔ الانبیائ۹۶
ان دونوں مقامات پر ہی نہ صرف سوالات موجود ہیں کہ یاجوج اور ماجوج کون ہیں کیا ہیں کب ان کا خروج ہو گا اور وہ کیا کریں گے بلکہ ان سوالات کے
جوابات بھی موجود ہیں۔ اور دوسری بات جو پہلے بھی واضح کی جا چکی اور آئندہ آگے چل کر اس پر مزید تفصیل کیساتھ بات ہو گی کہ اللہ نے اس قرآن میں نہ
صرف ہر معاملے ہر مسئلے پر بات کی بلکہ ایک سے زائد مقامات پر ہر پہلو سے پھیر پھیر کر اس کو مثلوں کیساتھ واضح کر دیا۔
اس بات کو ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے اگر اس قرآن میں دو مقامات پر یاجوج اور ماجوج کے الفاظ کا استعمال ہوا ہے تو یہ صرف ایک ہی پہلو سے ایسے لوگوں پر بات کی گئی جنہیں ان دو مقامات پر یاجوج اور ماجوج کہا جا رہا ہے ان لوگوں کا ایک پہلو سے یہاں ذکر کیا جا رہا ہے اور ان دو مقامات کے علاوہ انہی لوگوں پر او ر پہلوؤں سے بھی بات کی گئی جنہیں ان مقامات پر یاجوج اور ماجوج کہا گیا ہے اس لیے قرآن کے ان تمام مقامات کو سامنے رکھتے ہوئے یاجوج اور
ماجوج کو ہر پہلو سے کھول کھول کر آپ پر واضح کرتے ہیں۔
سورۃ الکہف میں مذکور واقعہ ذی القرنین میں جہاں یاجوج اور ماجوج کے الفاظ آتے ہیں تو اس سے آج تک کیا مراد لیا جاتا رہا سب سے پہلے اسے آپ پر واضح
کرتے ہیں اس کے بعد اصل حقیقت کیا ہے اسے آپ کے سامنے رکھیں گے۔
ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔ حَتّیٰٓ اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِہِمَا قَوْمًا لَّا یَکَادُوْنَ یَفْقَہُوْنَ قَوْلًا۔ قَالُوْا ٰیذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَھَلْ نَجْعَلُ لَکَ خَرْجًا عَلٰٓی اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمْ سَدًّا۔ الکہف ۹۲ تا ۹۴
ان آیات کا ترجمہ یوں کیا جاتا ہے۔
’’ پھر اس نے ایک اور سامان کیا۔ یہاں تک کہ دو دیواروں کے درمیان پہنچا تو دیکھا کہ ان کے اس طرف کچھ لوگ ہیں کہ بات کو سمجھ نہیں سکتے ۔ ان لوگوں نے کہا ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کرتے رہتے ہیں بھلا ہم آپ کے لئے خرچ (کا انتظام) کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار کھینچ دیں ۔ فتح محمد جالندھری‘‘
اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ اس قوم نے ذی القرنین سے کہا کہ اے ذی القرنین یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد یاجوج اور ماجوج پر اٹھنے والے سوالات کے جوابات کے لیے غیر قرآن سے رجوع کیا جاتا ہے حالانکہ ان لوگوں نے آج تک اس بات میں غورہی نہ کیا کہ بھلا ایک ایسی
قوم جو کسی بھی زبان کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی وہ روانی کیساتھ عربوں کی زبان میں کیسے بات کرسکتی ہے؟
اور پھر کیا ذی القرنین کی زبان عربوں کی زبان عربی تھی؟ جو ذی القرنین عربی بول رہا تھا؟
جب نہ ہی ذی القرنین کی زبان عربوں کی زبان تھی اور نہ ہی اس قوم کی زبان عربوں کی زبان تھی تو پھر اس قوم نے یاجوج اور ماجوج کے الفاظ کا استعمال نہیں کیا
تھا بلکہ ان الفاظ کا استعمال تو اللہ نے جب اس واقعہ کا قرآن میں ذکر کیا تب استعمال کیا اپنی طرف سے۔
آگے بڑھنے سے پہلے یہ بات جان لیں کہ ماضی میں اس وقت جو بھی ہوا تھا اللہ نے جب قرآن اتارا تو اللہ اس قرآن میں اپنے الفاظ میں اس واقعے کا ذکر کر رہا ہے ۔ ایسا نہیں تھا کہ جیسے اس قرآن میں عربی کے چند الفاظ میں بات کی گئی بالکل انہی عربی کے الفاظ میں ذی القرنین اور اس قوم کے درمیان مکالمہ ہوا بلکہ اس وقت جو بھی ہوا تھا اس واقعہ کو اللہ نے عربی میں آیات کی صورت میں قرآن میں اتارا ۔ عربی کے الفاظ کا چناؤ اور استعمال اللہ نے کیا۔
جیسے مثال کے طور پر اگر آپ کسی دوسرے ملک میں جاتے ہیں تو وہاں آپ کوئی واقعہ رونما ہوتا دیکھتے ہیں اور جب آپ واپس آکر اپنی قوم کے لوگوں کو وہ واقعہ بتائیں گے تو نہ صرف اپنی زبان میں بلکہ اپنی طرف سے بہتر سے بہتر الفاظ کا استعمال کریں گے وہ واقعہ بتانے کے لیے۔ ایسے ہی اس وقت جو واقعہ ہوا آج
اللہ نے اس قرآن میں جب وہ واقعہ بیان کیا تو نہ صرف عربوں کی زبان میں بلکہ اپنی طرف سے بہتر سے بہتر الفاظ کا استعمال کیا۔
اب آئیں اصل حقیقت کی طرف کہ انہی آیات میں نہ صرف یاجوج اور ماجوج سے متعلق سوالات موجود ہیں بلکہ ان سوالات کے جوابات بھی موجود ہیں۔
آیات کے لفظ بہ لفظ معنی آپ کے سامنے رکھتے ہیں جس سے حق بالکل کھل کر واضح ہو جائے گا۔
ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔ حَتّیٰٓ اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِہِمَا قَوْمًا لَّا یَکَادُوْنَ یَفْقَہُوْنَ قَوْلًا۔ قَالُوْا ٰیذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَھَلْ نَجْعَلُ لَکَ خَرْجًا عَلٰٓی اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمْ سَدًّا۔ الکہف ۹۲ تا ۹۴
ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔ ثُمَّ پھر اَ کیا، ثُمَّ اَ پھر جو کیا کیا کیا؟ یعنی ذی القرنین نے جب مغرب کی طرف جہاں خشکی ختم اور وہاں سے سورج گرم پانیوں میں غروب ہوتا نظر آتا ہے وہاں جو قوم پائی ان پر دسترس پا کر انہیں ان کے کیے کی سزا دی انہیں قتل و قید کیا زمین میں کیے جانے والے فساد کو روک کر زمین کی اصلاح کی پھر اسی طرح مشرق کی طرف وہ پہلی قومیں جن پر سب سے پہلے سورج طلوع ہوتا ہے ان کیساتھ بھی وہی کیا جو مغرب والی قوم کیساتھ کیا ان دونوں کے بعد پھر کیا کیا ذی القرنین نے ؟ تو اسی کاآگے جواب دیا جا رہا ہے َتْبَعَ سَبَبًا ذی القرنین کو جو ہر شئے سے اسباب دیئے تھے انہی اسباب میں سے ایک سبب کے ذریعے زمین کے ایک تیسرے مقام سے ہونے والے فساد کے بارے میں خبر آئی تو ذی القرنین زمین میں فساد کو روکنے اور زمین کی اصلاح کرنے کی غرض سے اس کے پیچھے پڑا حَتّیٰٓ اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ یہاں تک کہ وہ پہنچا بین السدین یعنی زمین کے مغرب میں جو سد اس نے کی تھی اور اس کے بعد مشرق میں جو سد کی تھی ان سدین کے درمیان پہنچا وَجَدَ مِنْ دُوْنِہِمَا قَوْمًا لَّا یَکَادُوْنَ یَفْقَہُوْنَ قَوْلًا تو وہاں بھی نہ صرف سدین یعنی دو رکاوٹوں کو پایا بلکہ ان سے ہٹ کر ایک قوم کو بھی پایا وہاں ۔یعنی جیسے زمین کے مغرب و مشرق میں ہونے والے فساد کی خبریں ذی القرنین کے پاس آئیں تو وہ زمین میں فساد کو روکنے اور اصلاح کی غرض سے وہاں پہنچا اور مفسدین کو کیفریکردار تک پہنچایا ایسے ہی زمین کے مغرب و مشرق کے درمیان ہونے والے فساد کی خبر بھی آئی تو ذی القرنین وہاں بھی جا پہنچا ، وہاں ایک ایسی قوم کو پایا جو فساد کر رہی تھی اور وہ قوم یعنی وہ لوگ کوئی ایک بھی بات سمجھ نہیں رہے تھے اس کے باوجود ذی القرنین نے اسباب میں سے سبب کے ذریعے ان سے کلام کیا کہ تم زمین میں کیوں فساد کر رہے ہو تو اس قوم نے جواب دیا کہ اس فساد کے ذمہ دار ہم لوگ نہیں ہیں بلکہ ہم تو ایک کمزور قوم ہیں اس پہاڑی سلسلہ کے دوسری طرف جو قوم آباد ہے وہ طاقتور قوم ہے یہاںزمین میں ہونے والے فساد کی اصل ذمہ دار وہ قوم ہے ۔ ہم اپنی خوشی سے زمین میں چھیڑ چھاڑ نہیں کر رہے پہاڑوں کی مائننگ کر کے ان میں سے قدرتی وسائل کے نام پر اللہ کے غیب سے نہیں نکال رہے بلکہ ہم تو یہ سب مجبوری میں کر رہے ہیں زمین سے جو کچھ بھی نکالا جا رہا ہے اصل میں تو یہ اس قوم کے لیے نکالا جا رہا ہے جو پہاڑی سلسلے کے دوسری طرف آباد ہے۔ اب اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ جو کچھ بھی کیا جا رہا ہے یہ فساد ہے اس کی اجازت نہیں ہے تو ہم نہیں کریں گے لیکن پہاڑوں کے دوسری طرف آباد قوم کے پاس اسباب و وسائل ہیں ان کے پاس طاقت ہے وہ ہمیں یہی سب کرنے پر مجبور کرے گی ان سے اور اس فساد سے بچنے کا ایک ہی رستہ ہے کہ اگر اس قوم کی اس طرف رسائی بند کر دی جائے تو یہ فساد رک سکتا ہے اور آپ کے پاس تو ایسی رکاوٹ کرنے کے تمام وسائل موجود ہیں اب اگر آپ ہمارے درمیان اور ان
کے درمیان رکاوٹ کر دیں تو ہم اس کے لیے آپ کو اس کی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔ (جاری ہے)
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment