WARNING FROM MOTHER NATURE
قسط نمبر#35ارض پر اللہ نے آکسیجن و کاربن گیس کا انتہائی غیر معمولی اور احسن ترین میزان وضع کر دیا۔ اسی آکسیجن کے ذریعے نہ صرف انسان زندہ رہ سکتا ہے بلکہ لاتعداد مخلوقات کی بقا ء آکسیجن سے مشروط ہے۔ اللہ نے آکسیجن کا جو مقام رکھا اگر اس میں تبدیلی کی جائے گی، کوئی کمی یا زیادتی کی جائے گی، کوئی ملاوٹ کی جائے گی تو آکسیجن کے مقام میں تبدیلی ہو گی جس سے فساد ہو گا۔ یعنی نہ صرف آکسیجن میں خرابیاں ہوں گی بلکہ اس آکسیجن کا استعمال کرنے والی تمام مخلوقات کو نقصانات اور خرابیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جیسے کہ اگر انسان کو آکسیجن میں کاربن گیس ملا کر دی جائے تو وہ انسان کے لیے مضر ہو گی جس سے انسان طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہو گا۔ جب بھی کوئی شئے جلتی ہے تو اس میں موجود کاربن فضا میں شامل ہو جاتا ہے۔ اللہ نے جو نظام وضع کیا اس میں ایسا توازن قائم ہے کہ کتنی مخلوقات ایسی ہیں جنہیں کاربن کی ضرورت ہے اتنا ہی کاربن دوسری مخلوقات خارج کرتی ہیں ۔ اگر اس مقدار سے زیادہ کاربن خارج ہو گا تو فضا میں کاربن کی مقدار بڑھ جائے گی جس سے توازن بگڑ جائے گا اور پھر خرابیاں اور تباہیاں ہوں گی۔ جب بھی آپ کوئی شئے جلاتے ہیں تو اس میں موجود کاربن
فضا میں شامل ہو کر فضا میں کاربن کی مقدار کو بڑھا دیتا ہے جس سے فضا فساد زدہ ہو جاتی ہے۔
تو آج اگرآپ غور کریں تو پتا چلے گا کہ ارض میں اللہ کی پھیلائی ہوئی آکسیجن یعنی آب و ہوا میں بھی کس طرح بہت بڑی سطح پر فساد کیا جا رہاہے۔ گاڑیوں اور کارخانوں وغیرہ سے خارج ہونے والے الدخانٍ یعنی کاربن و مختلف زہریلے عناصر والی گیسیںکس طرح آکسیجن یعنی آب و ہوا میں فساد کا موجب
بن رہے ہیں۔ جسے آپ ذیل میں دی گئی تصاویر کی مدد سے بھی سمجھ سکتے ہیں۔
یوں آج آپ کو سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ۷ کی بھی کھل کر سمجھ آ گئی ۔
ھُوَالَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ مِنْہُ اٰیٰت’‘ مُّحْکَمٰت’‘ ھُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ وَاُخَرُمُتَشٰبِھٰت’‘ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ زَیْغ’‘ فَیَتَّبِعُوْنَ مَاتَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَآئَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَآئَ تَاْوِیْلِہٖ وَمَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَہٗٓ اِلَّا اللّٰہُ وَالرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہٖ کُلّ’‘ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّا اُولُوا
الْاَلْبَابِ۔ آل عمران ۷
ھُوَ یعنی دیکھو کیا موجود ہے جو موجود ہے اور اور کرتے جاؤ جب تک کہ اور ختم ہو کر ماضی میں نہیں چلا جاتا جب اور ختم ہو کر ماضی میں چلا جائے گا تو جو وجود سامنے آئے گا وہی وجود ہی وہ ذات ہے جس نے تم پرالکتاب اتاری جو وجود موجود ہے اس سے آیات ہیں محکمات یعنی فیصلہ کن کہ ان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے ان کا استعمال کیا ہے ایسی جو آیات ہیں ام الکتاب ہیں یعنی الکتاب کی بنیاد جن کے پیچھے پڑنا ہے جن کے پیچھے پڑنے سے حق کھل کر واضح ہو جائے گا اللہ کیا ہے سامنے آ جائے گا جنہیں استعمال کرنے کی محدود اجازت دی گئی اور دوسری جو ہیں متشابہات ہیں یعنی وہ ہیں تو سامنے، سب کو نظر تو آ رہی ہیں لیکن ان کا مقصد کیا ہے اصل علم اللہ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ان کے بارے میں علم چھپا دیا ۔ پس ایسے لوگ جن کے دلوں میں زنگ ہے یعنی حیات الدنیا کا لالچ ہے پس وہ اتباع کرتے ہیں ان کی جو شبے والی ہیں یعنی جیسے ہی ان کی متشابہات تک رسائی ہوتی ہے تو جو انہیں کرتا دیکھتے ہیں ان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اس سے چاہتے ہیں فتنہ اور چاہتے ہیں اپنی مرضی کی تاویل یعنی اپنی مرضی کے مقاصد کی تکمیل کے لیے انہیں استعمال کرتے ہیں۔ اور نہیں علم کسی کو کہ ان کا کیا مقصد ہے یعنی متشابہات آیات کس مقصد کے لیے خلق کی گئیں سوائے اللہ کے اور ان کے جو علم میں راسخ ہیں انہیں جب متشابہات کو اپنی مرضی کے مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اس کے ساتھ یہ تمام کی تمام ہمارے ربّ کے ہاں سے ہیں یعنی آسمانوں اور زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے ہر ایک کو اللہ نے کسی نہ کسی مقصد کے لیے خلق کیا ہے اگر ان میں سے کوئی بھی اس مقصد کو پورا نہیں کرے گی یا اسے جس مقصد کے لیے خلق کر کے اس مقصد کو پورا کرنے پر لگایا گیا اس کے برعکس استعمال کیا تو فساد ہو گا اور تباہی آئے گی اللہ کے قائم کیے ہوئے میزان میں خسارہ ہو گا آسمانوں و زمین کا نظام درہم برہم ہو جائے گا اگر ہم نے چھیڑ چھاڑ کی یا اپنی مرضی کیمطابق استعمال کیا تو فساد ہو گا اس لیے ہم ایسا نہیں کرتے یہ سب اللہ کی طرف سے ہیں اللہ کو علم ہے کہ اللہ نے انہیں کس کس مقصد کے لیے خلق کیایہ ہمارے استعمال کی نہیں ہیں ہمارے لیے یہ اللہ کا غیب تھے اگر آج ہم پر اللہ کے غیب میں سے یہ واضح ہو گئیں یا ہمیں ان کی موجودگی اور یہ کیا کر رہی ہیں یہ علم ہو گیا تو اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ ہمیں ان کے استعمال کی اجازت ہے ہرگز
نہیںاور نہیں ہے یاد دہانی مگر اولوالالباب کے لیے۔
اب آج آپ خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ کیا آج زمین میں فساد نہیں کیا جا رہا؟ کیا آج آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے سب کے سب کو فساد زدہ نہیں کیا جا چکا اور پھر جو فساد کر رہے ہیں وہ کون ہیں؟ کیا اب بھی آپ یاجوج اور ماجوج کا انتظار ہی کرتے رہیں گے حالانکہ حقیقت تو یہ کہ نہ صرف آج پوری دنیا میں یاجوج اور ماجوج دھندناتے پھر رہے ہیں پوری زمین ان سے بھر چکی ہے بلکہ آپ خود یاجوج اور ماجوج میں شمار ہیںاگر آپ نے حق کھول کھول کر واضح کر دیئے جانے پر اسے دل سے تسلیم کرتے ہوئے اصلاح نہ کی تو جان لیں یہ حق ہے جس کا دنیا کی کوئی طاقت رد نہیں کر سکتی بالآخر آپ کو ماننا پڑے گا آپ خود گواہی دیں گے کہ ہاں میں مانتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ یہی حق ہے لیکن تب آپ کا ماننا آپ کو کوئی نفع نہیں دے گا بلکہ تب آپ کا ماننا فرعون اور ان لوگوں کے ماننے کی مثل ہو گا جو اس سے پہلے کذب کر چکے جنہیں ہلاک کر دیا گیا جو صفحہ ہستی سے عبرت ناک انجام کے ذریعے مٹا دیئے گئے۔
(جاری ہے)۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment