Monday, September 5, 2022

                  WARNING FROM MOTHER NATURE


قسط نمبر#36

فوسل فیولز نظریے کی حقیقت

اب آتے ہیں اس نظریے کی طرف جس کے مطابق یہ کہا جاتا ہے اور عام کیا گیا ہے کہ خام تیل کھربوں سال پہلے جانوروں کے مردار ہونے سے ان کی باقیات
سے وجود میں آیا۔
اس نظریے میں بالکل بھی صداقت نہیں ہے اس کی کئی وجوہات ہیں جنہیں ہم دلائل کی بنیاد پر واضح کرتے ہیں۔
نظریے کے پہلے رخ میں کہا جاتا ہے کہ ان کی لاشوں پر زمین کی تہیں وجود میں آئیں یعنی جب ایسے جانور زمین پر موجود تھے تب زمین کی موجودہ سرسبز تہہ کا وجود ہی نہیں تھا اور جب اس کا وجود نہیں تھا یا پھر نامکمل تھی تو پھر ظاہر ہے پانی کا بھی کوئی وجود نہیں تھا کیونکہ اللہ نے قرآن میں بالکل واضح بیان کر دیا کہ زمین پر پانی اس وقت اتارا گیا جب زمین مکمل ہو گئی ۔ زمین مکمل ہونے کے بعد پانی اتارا اور اس کے بعد زمین کے گرد سات آسمان بنا دیئے تا کہ باہر سے کوئی اندر آ
کر تباہی نہ پھیلائے اور اندریہ پانی یا اور کچھ بے مقصدباہر نہ جا سکے۔
وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّکُمْ ۔ البقرۃ ۲۲
اور اتارا آسمان سے پانی پس نکالا اس کیساتھ ثمرات سے جو رزق ہے تمہارے لیے۔
وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ مَّآئٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَبَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ ۔ البقرۃ ۱۶۴
اور جو اتارا اللہ نے آسمان سے پانی پس اس کیساتھ حیاکیازمین کو اس کی موت کے بعد اور پھیلا دیئے اس میں تمام کے تمام تیر کر، رینگ کر، چل کر اور اڑ کر
حرکت کرنے والے جاندار۔
وَھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَخْرَجْنَا بِہٖ نَبَاتَ کُلِّ شَیْْئٍ ۔ الانعام ۹۹
اورھُوَ یعنی دیکھو کیا موجود ہے جو موجود ہے اور اور کرتے جاؤ جب تک کہ اور ختم ہو کر ماضی میں نہیں چلا جاتا جب اور ختم ہو کر ماضی میں چلا جائے گا تو جو وجود
سامنے آئے گا وہی وجود ہی وہ ذات ہے جس نے اتارا پانی آسمان یعنی بلندی سے پس نکالا ہم نے اس کے ساتھ اگائی تمام اشیائ۔
اسی طرح ان آیات میں بھی اللہ نے یہی کہا۔ الاعراف ۵۷، ابراہیم ۳۲، النحل ۶۵، الکہف ۴۵
ان آیات میں اللہ نے یہ واضح کر دیا کہ زمین پر موجود حیات پانی سے خلق کی۔ یعنی اگر پانی ہی موجود نہیں تو پھر زمین پر حیات کا تصور ہی بالکل باطل ہے۔ یہ تو
قرآن میں اللہ نے کہا جسے قرآن کی بات نہ ماننے والے اگر نہ بھی تسلیم کریں تو ان کے لیے جواب انہی کے ذریعے دیا جا سکتا ہے۔
یہ نظریہ تب قائم کیا گیا جب زیر زمین خام تیل دریافت ہوا جب پیٹرولیم کی نشاندہی ہوئی اور انہیں نکالنا شروع کیا گیا ۔ اس لیے تا کہ کوئی بھی اعتراض نہ کر سکے لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا تو سائنس نے خودہی ثابت کر دیا کہ ہر جاندار شئے پانی سے وجود میں آئی جس سے یہ نظریہ باطل ثابت ہو گیا۔ لیکن اس کے باوجود آج تک کسی نے اس پر نہ بات کی اور نہ ہی توجہ دی لیکن ہو سکتا ہے کوئی نہ کوئی ممکنہ طور پر اس میں غور کرے اور اس نکتے کو سامنے لا کھڑا کرے اور حقیقت دنیا پر کھل کر واضح ہو جائے اس ممکنہ خطرے کے پیش نظر پیٹرولیم کی تجارت کرنے والے ٹھیکیداروں نے اسی نظریے کو ایک دوسرا رخ دیا وہ یہ کہ وہ جانور مردار ہو کر ان کے اجسام تحلیل ہو کر خود ہی زیر زمین گہرائی میں چلے گئے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خام تیل و گیسوں میں بدل گئے۔ اس نظریے کو سچ ثابت کرنے کے لیے اسے زیادہ سے زیادہ عام کیا گیا، سکولوں، کالجوں اور یونورسٹیوں تک کے نصاب میں داخل کیا گیا نصاب کا حصہ بنایا گیا۔ میڈیا کے ذریعے اس کی بھرپور تشہیر کی گئی اور ساتھ پیٹرولیم کے وجود میں آنے کی حقیقت کو چھپانے کے لیے ان قوتوں کو کمزور اور ختم کیا گیا جنہوں نے بھی حقیقت آشکار کرنے کی
کوشش کی، حقیقت کو دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کی۔
اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ زیر زمین خام تیل کے ذخائر محدود ہیں تا کہ دنیا سے اپنی من مانی قیمتیں وصول کی جائیں جس کے لیے کئی طریقے کار بھی اپنائے
گئے اس بہتی گنگا میں کئی مفسدوں نے ہاتھ دھوئے۔
پیچھے ہم آپ پر بالکل کھول کر یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ پیٹرولیم اللہ کی طرف سے زمین میں رکھا ہوا وہ خام مال ہے جس سے زمین پر موجود مخلوقات کی حیات مشروط ہے یعنی اگر زیر زمین پیٹرولیم نہ ہوں تو زمین پر حیات کا تصور ہی ختم ہو جاتا ہے ۔ اس طرح تو ایسا کوئی بھی نظریہ سرے سے باطل ثابت ہو جاتا ہے کہ ’’خام تیل‘‘ کے بغیر ہی جاندار وجود میں آ گئے اور نہ صرف وجود میں آئے بلکہ انہی سے یہ خام تیل وجود میں آیا۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس اور یہ ہے کہ پیٹرولیم کو وجود میں لانے کا ذریعہ اللہ نے جانوروں کو نہیں بنایا بلکہ اس کا ذریعہ کچھ اور ہے۔ پیٹرولیم یعنی خام تیل کیسے وجود میں آیا؟ اس سوال کا جواب قرآن
سے ہی آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔
وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآئِ مَآئً بِقَدَرٍ فَاَسْکَنّٰہُ فِی الْاَرْضِ۔ المومنون ۱۸
اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی قدر کیساتھ یعنی پورے حساب کتاب پوری کیلکولیشن کیمطابق جتنی زمین پر نظام حیات کے لیے ضرورت تھی پس ٹھہرا دیا اسے
زمین میں۔
سب سے پہلے یہ جان لیں کہ زمین پر پانی کب ، کہاں سے اور کیسے آیا؟
خلا میں گیسوں کے اختلاط سے ستارے آگ کے گولے یعنی سورج وجود میں آتے ہیں وہ آگ کے گولے اس وقت تک جلتے ہیں جب تک کہ ان میں جلنے والی یعنی اختلاط ہونے والی گیسوں کے مالیکیولز مکمل طور پر نہیں ٹوٹ جاتے اور ان سے خارج ہونے والی مزید گیسوں سے اسی طرح ستارے یعنی سورج آگ کے گولے وجود میں آتے ہیں اور ان کے مالیکیولز بھی جب تک مکمل طور پر نہیں ٹوٹ جاتے وہ جلتے رہتے ہیں اس طرح کئی اقسام کے سورج یعنی آگ کے گولے جب اپنی جلنے کی مدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جاتے ہیں تب تک ان پر جھاگ کی ایک تہہ وجود میں آ چکی ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہو کر اوپر سے جم جاتی ہے یوں جو پہلے ایک ستارہ تھا یعنی آگ کا گولہ تھا وہ سیارے میں بدل جاتا ہے لیکن اندر آگ جلتی رہتی ہے ، اب باہر جھاگ کے جم جانے سے چٹانی تہہ وجود میں آنے کی وجہ سے اندر سے گیسیں باہر خارج نہیں ہو پاتیں جس وجہ سے گیسیں اندر بھرتی جاتی ہیں جو بالآخر اتنی بھر جاتی ہیں کہ گیسوں کے دباؤ سے وہ سیارے زور دار دھماکے سے پھٹ جاتے ہیں جس سے ان میں وجود میں آنے والا مادہ ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر اسی رفتار سے خلا میں سفر کرنا شروع کر دیتا ہے یعنی
ستارے کے پھٹنے سے شہابیے وجود میں آتے ہیں وہ اسی سمت میں خلا میں تیرنا شروع کر دیتے ہیں۔
اب وہ شہابیے کچھ ستاروں کے قریب سے جب گزرتے ہیں تو وہ ستارے انہیں اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں جس سے اس ستارے پر وقتاً فوقتاً شہابیوں کی بارشیں ہوتی ہیں جس سے آنے والا مواد پگھلتا ہے یوں نہ صرف اس سے گیسیں خارج ہو کر ستارے کے گرد جمع ہوتی رہتی ہیں بلکہ ستارے پر آہستہ آہستہ جھاگ کی ایک تہہ وجود میں آ جاتی ہے پھر بالآخری ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ستارے کی اپنے ہی محور پر گردش کی وجہ سے بالکل ایسے ہی دباؤ پڑنے سے جیسے گاڑی چلنے سے پیچھے کو دباؤ پڑتا ہے جھاگ کی تہہ جگہ جگہ سے اوپر کو اٹھ جاتی ہے اس کے بعد اس سے خارج ہونے والی گیسیں جو اس کے گرد اکٹھی ہوئی ہوتی ہیں ان کی وجہ سے جھاگ کی تہہ باہر سے ٹھنڈی ہو کر جم جاتی ہے جس سے انتہائی سخت چٹانی تہہ وجود میں آ جاتی ہے یوں جو پہلے ایک ستارہ یعنی آگ کا گولہ تھا وہ سیارے میں
بدل جاتا ہے اور آگے اپنے تکمیلی کے مراحل طے کرتا ہے ۔
(جاری ہے)__

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7


No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...