Monday, September 26, 2022

               WARNING FROM MOTHER NATURE



قسط نمبر#50

اگلی آیت میں اللہ نے کہا۔
وَّعَرَضْنَا جَھَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْکٰفِرِیْنَ عَرْضَا۔ الکہف ۱۰۰
وَّعَرَضْنَا جَھَنَّمَ یَوْمَئِذٍ آج سے چودہ صدیاں قبل اللہ نے کہا تھا کہ جب وہ مدت آئے گی اور انسان نفخ فی الصور کر رہے ہوں گے تو وہ اصل میں کیا ہو رہا ہو گا؟ وہ جو ہو رہا ہو گا وہ جہنم تھی جسے ہم سامنے لا ئیں گے وہ جہنم سامنے لائی جا رہی ہو گی ۔ آگے اس سوال کا جواب ہے کہ کن کے لیے جہنم سامنے لائی جائے گی لِّلْکٰفِرِیْنَ عَرْضَا کافرین کے لیے سامنے لائی گئی یعنی ان کے لیے جنہوں نے اس بات کو تسلیم ہی نہ کیا کہ آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے یہ اللہ کی آیات ہیں اللہ نے ان سب کے سب کو کسی نہ کسی مقصد کے لیے خلق کیا ہے جو نظر آ رہی ہیں صرف یہی نہیں ہیں بلکہ ان سے کئی گنا زیادہ تو ایسی ہیں جنہیں انسان سے چھپا دیا گیا جو کہ غیب ہے ۔ جو کچھ بھی ظاہر ہے اور جو کچھ بھی غیب ہے سب کے سب کی تخلیق کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے اور جس جس مقصد کے لیے خلق کیا گیا اسے پورا کرنے کے لیے ہر ایک کو اس کے مقام پر قائم کر دیا گیا یوں بہترین المیزان وضع کر دیا اور المیزان تب تک قائم رہے گا جب تک کہ تمام کی تمام مخلوقات اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داری کو پورا کریں گی ورنہ اگر ان میں رائی برابر بھی تبدیلی کی گئی تو المیزان میں خسارہ ہو جائے گا فساد ہو جائے گا جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آسمانوں و زمین میں سب کچھ درہم برہم ہو جائے گا یہ زمین جہنم بن جائے گی۔ جنہوں نے یہ ماننے سے انکار کر دیا اور الٹا یہی
کیا تو ان کے لیے جہنم سامنے لا رکھی گئی کہ یہ ہے وہ جہنم جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔
ذرا غور کریں کہ جہنم کیا ہے اور کیسے سامنے لائی جا رہی ہے؟
آپ کو اس زمین پر وجود دیا گیا اس زمین کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا گیا پہلا مرحلہ دنیا آج جس میں آپ موجود ہیں آپ کو اس دنیا میں امتحان کی غرض سے محدود مدت کے لیے لایا گیا یہ جو مدت آپ کو دی گئی اس میں جو آپ کریں گے اسی کا بدلہ آپ کو دوسرے مرحلے میں ملے گا دوسرا مرحلہ جسے اس قرآن میں الآخرۃ کہا
گیا۔
کل کائنات میں زمین پہلا ایسا سیارہ ہے جو سب سے پہلے مکمل ہوا، جیسے کسی بھی عمارت کی سب سے پہلی اینٹ ہوتی ہے اسی طرح یہ زمین کائنات کی پہلی اینٹ سمجھ لیں یہ زمین سب سے پہلے اپنی تکمیل کو پہنچی۔ کائنات میں اس زمین کے علاوہ جتنے بھی سیارے آپ کو نظر آ رہے ہیں اور ابھی نامکمل ہیں تکمیلی کے
مراحل سے گزر رہے ہیں۔
ایک وقت آئے گا جب وہ مکمل ہو کرجنتوں میں یعنی سر سبز و شاداب باغات میں بدل جائیں گے جیسے زمین جب مکمل کی گئی تھی تو یہ جنت تھی سر سبز و شاداب باغ تھی۔ آپ کو اس دنیا میں جو مدت بطور امتحان دی گئی اگر آپ زمین کی اصلاح یعنی اسے جنت بنانے والے اعمال کرتے ہیں تو آپ کو آخرہ میں یعنی اگلے مرحلے میں آج جو سیارے نامکمل نظر آ رہے ہیں تب جنتیں بن چکی ہوں گی ان میں سے آپ کے درجے کے مطابق جنت دی جائے گی اور اگر آپ آج اپنی خواہشات کی اتباع میں اندھوں کی طرح زمین میں فساد کرتے ہیں تو نتیجہ کیا نکلے گا اسے سمجھنا اب کوئی مشکل نہیں رہا اس کا انجام آپ سمیت پوری دنیا اپنی
آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔
ترقی و جدیدیت کے نام پر انسانیت کی فلاح و احسان کے نام پر آج ہر کوئی زمین میں فساد کر رہا ہے زمین کو چیر پھاڑ رہا ہے، پہاڑوں کو پھاڑ رہا ہے، فضا میں طرح طرح کی زہریلی گیسیں بھر رہا ہے تو آج جو بھی ترقی و جدیدیت کے نام پر انسانیت کی خدمت کے نام پر فساد عظیم کیا جا رہا ہے اس کی وجہ سے آسمان پھٹ چکا، اس میں الدخانٍ یعنی گیسیں بھرنے سے گدلا ہو چکا،، موسم درہم برہم ہو گئے، زمین سے قدرتی وسائل کے نام پر زمین کا خون اورزمین کے جودل گردے نکالے جا رہے ہیں پہاڑوں کو کاٹا جا رہا ہے اس سے زلزلے آ رہے ہیں، سونامی آ رہے ہیں طوفان آ رہے ہیں درجہ حرارت دن بہ دن بڑھتا چلا جا رہا ہے، فضا
گیسوں کی وجہ سے دن بہ دن زہریلی ہوتی جا رہی ہے تو انسانوں کے ان اعمال کے یہ رد اعمال دن بہ دن بڑھتے ہی چلے جائیں گے۔
درجہ حرارت دن بہ دن بڑھتا چلا جائے گا جس سے گلیشیئرز پگھل جائیں گے پانی بخارات بن کر اڑتا جائے گا، زلزلے بڑھتے جائیں گے، لاوے پھٹنا بڑھتے جائیں گے، فضا میں گیسیں کیمیائی عوامل سے گزر کر فضا تباہ ہوتی جائے گی ۔ درجہ حرات اتنا بڑھ جائے گا یہاں تک کہ زمین پر پانی کا ایک قطر ہ بھی نہیں رہے گا زمین کے اندر سے بھی پانی ختم ہو جائے گا پانی ختم تو تمام جاندار ختم، نباتات ختم۔ زلزوں، زمین کے دھنسنے ، لاوے پھٹنے اور فضا میں خارج کی ہوئی طرح طرح کی زہریلی گیسوں کے رد اعمال جب آنا تھم جائیں گے تو جو نتیجہ سامنے آئے گا جو اینڈ پروڈکٹ سامنے آئے گی یہ ہے وہ ہے جہنم جو آج آپ دیکھ رہے ہیں آپ
کے بالکل سامنے لائی جا رہی ہے۔
جب انسانوں کے ترقی کے نام پر انسانیت کی خدمت کے نام پر مفسد اعمال کے رد اعمال تھم جائیں گے تب یہ زمین مکمل جہنم میں بدل چکی ہو گی اس میں سوائے
آگ اور پتھروں کے کچھ نظر نہیں آئے گا اور کائنات میں باقی سیارے جنتوں میں یعنی سر سبز و شاداب باغات میں بدل چکے ہوں گے۔
جس ذات نے آپ کو پہلی بار وجود دیا وہی ذات آپ کو دوبارہ وجود میں لائے گی اور جس جس نے دنیامیں یعنی پہلے مرحلے میں جو جو جتنا جتنا کیا تھا اس کو آخرہ میں پورا پورا بدلہ دیا جائے۔ جس جس نے جتنا زمین کے جہنم بننے میں حصہ ڈالا ہو گا اسے اتنا ہی اس جہنم کو بھگتنا ہو گا، خود کو علماء کہلوانے والے انسانیت کے
دشمن اور ان کے اندھے مقلد آنکھیں بند کر کے ان کے پیچھے چلنے والے کبھی بھی اس جہنم سے نہیں نکل سکیں گے۔ وہ جو خود کو انسانیت کے محسن قرار دیتے ہیں سائنسدان، انجنیئرز، پروفیسرز، ڈاکٹرز،بینکرز، لیڈران اور ایسے باقی تمام کے تمام لوگ جو زمین کو جہنم بنا رہے ہیں اور الٹا وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ تو بہت اچھے
اعمال کر رہے ہیں انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں وہ کبھی بھی نہیں نکل پائیں گے اس جہنم سے۔
رہی بات دوبارہ زندہ کرنے کی جو اکثریت کے لیے تسلیم کرنا بہت مشکل ہے تو ان سے سوال ہے کہ ذرا غور کرو اس سوال کا جواب دو کہ جب تمہیں پہلی بار وجود میں لایا گیا تو کیا تم سے پوچھ کر تم سے اجازت لے کر وجود میں لایا گیا؟ اگر تو تمہاری مرضی تمہاری اجازت سے اور تمہیں پوچھ کر یا تمہیں بتا کر دنیا میں لایا گیا تب تو ٹھیک ہے ورنہ اگر ایسا نہیںہوا تو عقل کے اندھو جس ذات نے تمہیں پہلی بار وجود میں لایا کیا وہ دوبارہ وجود میں نہیں لا سکتی؟
مذہبی طبقہ آخرت جنت و جہنم کو زبان سے تو تسلیم کرتا ہوا نظر آتا ہے لیکن آخرت جنت و جہنم کے بارے میں جو دیومالائی کہانیاں مذہبی طبقے نے گھڑ رکھی ہیں خود ان کو بھی اس کا یقین نہیں ہے اور ظاہر ہے یقین کیا بھی کیسے جا سکتا ہے جب جنت و جہنم سے منسوب کر کے ایسی خود ساختہ دیومالائی کہانیاں گھڑ رکھی ہیں جن کا
کوئی وجود ہی نہیں تو پھر یقین کیسے ہو گا۔
دوسری طرف خود کو ملحد، لبرل و پڑھے لکھے کہلوانے والے مذہبی طبقے کی آخرت جنت و جہنم کے بارے میں خود ساختہ گھڑ رکھی ہوئی دیومالائی کہانیوں کا انکار کرنے کی بجائے الٹا آخرت کا ہی انکار کر دیتے ہیں جنت و جہنم کا ہی انکار کر دیتے ہیں خود کو بہت بڑے عاقل سمجھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ سب سے
بڑے بے وقوف اور جاہل ہیں۔ یہ مذاہب اور مذہبی طبقے کی دشمنی میں حق کا ہی انکار کر ریتے ہیں ۔
بات کی جائے ان کے علم کی ان کی سائنس کی جس کا آج ہر کسی کو بخار چڑھا ہوا ہے کہ جس کی تصدیق سائنس کرے اسے تسلیم کریں گے جس کی تصدیق سائنس نہیں کرتی یا جسے سائنس رد کرتی ہے اسے تسلیم نہیں کریں گے ۔ ہم آخرت ان کے سامنے رکھ رہے ہیں کہ آخرت کیا ہے جنت و جہنم کیا ہے اور ہم انہیں اور ان
کی سائنس کو چیلنج کرتے ہیں کہ یہ اس حق کا رد کر کے دکھائیں اسے غلط ثابت کر کے دکھائیں۔
رہی بات دوبارہ اٹھا کھڑا کرنے کی تو اس کا بھی دنیا کی کوئی طاقت رد نہیں کر سکتی نہ ہی ان کی سائنس اس کا رد کر سکتی ہے بلکہ الٹا تصدیق ہی کرے گی۔
سائنس جن بنیادوں پر کھڑی ہے وہ ہیں قوانین فطرت۔ جن قوانین فطرت کو جس حد تک دریافت کر لیا جاتا ہے وہ سائنس کی بنیاد ہے۔
سائنس کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اصول ہے جس کا رد یا انکار پوری کی پوری سائنس کا ردیا انکار تسلیم کیا جاتاہے وہ یہ ہے کہ اگر ممکنات ثابت ہو جائیں تو ان کاانکار نہیں کیا جا سکتا انہیں رد نہیں کیا جا سکتایعنی اگر آپ اس کائنات میں ایک کام ہوتا ہوا دیکھتے ہیں تو وہ ممکنات میں سے ہے اب اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً آپ دیکھتے ہیں کہ دو مختلف مخلوقات کے اختلاط سے ایک نئی تیسری مخلوق وجود میں آ جاتی ہے تو یہ ممکنات میں شامل ہو گیا اب اس کا انکار نہیں کیا جا
سکتا ۔
اسی طرح اگر آپ کچھ ہوتا ہوا اپنی آنکھوں سے تو نہیں دیکھتے یعنی مشاہدہ نہیں کرتے لیکن آپ کے پاس اس کے بارے میں اتنا علم آ جاتا ہے کہ اس کا انکار نہیں
کیا جا سکتا تو وہ ممکنات میں شامل ہو جائے گا جس کا نہ تو رد اور نہ ہی انکار کیا جا سکتا ہے۔
اب ذرا غور کریں سائنس کے اسی بنیادی اصول و قانون کے تحت کیا اس بشر کو دوبارہ وجود میں لائے جانے کا انکار کیا جا سکتا ہے؟
اس بشر کو جب وجود میں لایا گیا تو اسے وجود میں لانے سے پہلے نہ تو اس سے پوچھا گیا نہ اس سے اجازت لی گئی اور نہ ہی بتایا گیا اور اسی طرح اس کو مٹانے یعنی
اسے موت دینے کے حوالے سے بھی نہ تو اسے بتایا گیا نہ پوچھا گیا اور نہ ہی اس سے اجازت لی گئی۔
اب یہ بات سائنس کے بنیادی اصول و قانون کے تحت ممکنات میں شمار ہو گئی اس کا انکار گویا کہ سائنس کا ہی انکار ہے۔ اب جب یہ ممکنات میں سے ہے تو پھر دوبارہ اٹھا کھڑا کرنے کا انکار یا رد کس بنیاد پر کیا جا سکتا ہے؟ ایسا کیسے ممکن ہے کہ دوبارہ وجود میں نہ لایا جائے؟ اور اگر دوبارہ وجود میں لانے کا کہاجاتا ہے تو
اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔
حالانکہ سائنس یہاں تک جا چکی ہے کہ کائنات میں جو کچھ بھی وجود میں آ رہا ہے اس کے پیچھے ساونڈ ویوز ہیں یعنی آواز کی لہریں۔ آواز کی ہر فریکوینسی ایک مخلوق کو وجود میں لاتی ہے یعنی آپ اگر اپنی تخلیق میں غور کرتے ہیں تو یہ ایک لمبا پراسس ہے آپ بہت سے مراحل اور ایک لمبی مدت طے کرنے کے بعد وجود میں آتے ہیں لیکن آپ کو وجود میں لانے کا صرف یہی ایک طریقہ نہیں ہے بلکہ اس سے کئی گنا تیز اور آسانی کیساتھ بھی آپ کو وجود میں لایا جا سکتا اور وہ ہے آواز
کی لہروں سے۔
ایک طرف آواز کی لہریں اپنی فریکوینسی پر موجود ذرات کو ایک خاص مقام پر زبردستی دھکیلتی ہوئی لائیں اور دوسری طرف حرارت سے ان ذرات میں کیمیائی عوامل کے ذریعے جڑنے کی کیفیت پیدا کی جائے تو آپ کو بہت جلد اور انتہائی آسانی سے وجود میں لایا جا سکتا جس کے لیے نہ تو پانی کی ضرورت نہ ہی لمبے چوڑے مراحل کی ضرورت ہے اس کے لیے صرف اور صرف ذرات کی صورت میں زمین میں بکھرے ہوئے اس مواد کی ضرورت ہے جو پہلے ایک بار وجود بن
چکا ہو یعنی وجود بن کر تحلیل ہو چکا ہو جس وجہ سے اس میں وہ تمام اجزاء موجود ہوں گے جن کی وجود میں لانے کے لیے ضرورت ہے۔
اب جب کہ آپ کو وجود میں لایا گیا اور موت دی جائے گی دوبارہ ذرات میں تحلیل کر دیا جائے گا تو اس کے بعد کبھی بھی کسی بھی وقت آپ کو بہت جلد اور انتہائی
آسانی سے وجود میں لایا جا سکتا ہے اس حوالے سے سائنس تو کیا دنیا کی کوئی طاقت دوبارہ وجود میں لانے کا رد نہیں کر سکتی۔
(جاری ہے)۔۔۔۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...