WARNING FROM MOTHER NATURE
اب آئیے دوسرے پہلو کی طرف۔
مثال کے طور پر آپ ایک مشین بناتے ہیں اس میں ایک پرزہ خراب ہو جاتا ہے یا ٹھیک سے کام نہیں کرتا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کیا کریں گے؟ کیا اس پرزے کو وہیں رہنے دیں گے یا نکال دیں گے؟ اگر نکال دیں گے تو کیا ہمیشہ کے لیے نکال دیں گے یا پھر عارضی طور پر نکالیں گے ؟ تو اس کا جواب بالکل آسان اور واضح ہے کہ اس پرزے کو نکال دیں گے اور اسے مرمت کر کے دوبارہ واپس لایا جائے گا نہ کہ اسے ہمیشہ کے لیے نکالا جائے گا یعنی اسے عارضی طور پر نکالا جائے گاکیونکہ اگر ہمیشہ کے لیے نکالنا ہوتا یا نکالا جا سکتا تھا تو پھر اسے وجود میں لایا ہی کیوں گیا تھا اس لیے پہلی بات کہ ایسے پرزے کو نکال دیں گے دوسری بات کہ اسے ہمیشہ کے لیے نہیں نکالیں گے بلکہ دوبارہ واپس لائیں گے اگر ہمیشہ کے لیے نکالنا ہوتا یا نکالا جا سکتا تھا تو اسے وجود میں ہی نہ لایا جاتا جب
وجود میں لائے تو ظاہر ہے بغیر مقصد کے تو وجود میں نہیں لائے۔
بالکل اسی طرح ذرا غور کریں فطرت آپ کو وجود میں لائی کیا بغیر کسی مقصد کے فطرت آپ کو وجودمیں لائی؟
دوسری بات اگر آپ اس مقصد کو پورا نہیں کرتے جس مقصدکے لیے فطرت آپ کو وجود میں لائی یعنی آپ فطرت سے مطابقت نہیں رکھتے تو کیا فطرت آپ کو
رہنے دے گی؟ آپ کا وجود برداشت کرے گی یا پھر نکال باہر کرے گی آپ کو دوبارہ کالعدم کر دیا جائے گا؟
تیسری بات کیا دوبارہ واپس نہیں لایا جائے گا؟ کیونکہ اگر دوبارہ واپس نہیں لایا جانا تھا تو پہلی بار وجود میں ہی کیوں لایا گیا؟
جب تک وہ مشین موجود ہے تب تک آپ کو کالعدم نہیں کیا جا سکتا یہ بشر یعنی آپ اس زمین کا ایک پرزہ ہو اور مشین پرزے کے بغیر مکمل نہیںاس لیے خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے آپ کو دوبارہ لایا جانا نا گزیر ہے۔ اس پہلو سے بھی سائنس تو کیا دنیاکی کوئی طاقت دوبارہ اٹھائے جانے کا رد نہیں کر سکتی ہاں البتہ انکار کیا جا سکتا ہے لیکن جان لیں تب تک جب تک کہ وقت نہیں آجاتا جب وقت آ جائے گا تب کہا جائے گا کہ اب انکار کرو مگر تب مانیں گے تب ماننے کی ضد کریں گے
اور تب ماننا کوئی نفع نہیں دے گا۔
آتے ہیں تیسرے پہلو کی طرف۔
آپ ایک محاورہ سنتے ہیں جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔
اس کائنات میں یہ نہ صرف قانون ہے بلکہ اٹل حقیقت ہے جس کا رد سائنس بھی نہیں کر سکتی کہ ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے۔
ایک چھوٹی سی مثال آپ کے سامنے رکھتے ہیں مثلاً آپ کا کوئی ناقابل برداشت نقصان کرتا ہے تو کیا آپ اسے ایسے ہی چھوڑ دیں گے؟
نہیں بالکل نہیں بلکہ آپ اسے اس کا پورا پورا بدلہ دیں گے اسے اس کے کیے کی سزا دیں گے۔ تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ فطرت اپنے ہی بنیادی اصول و قوانین کے خلاف کرے؟ آپ فطرت کیساتھ دشمنی کریں زمین اور اس کے گرد گیسوں کی تہوں میں سب کچھ تباہ و برباد کر دیں اور آپ کو فطرت کوئی سزا ہی نہ دے؟
یہ ممکن ہی نہیں کہ فطرت آپ کو ایسے ہی چھوڑ دے۔
ذر اغور کریں جب آپ اس زمین کو خود اپنے ہاتھوں سے جہنم بنا رہے ہیں تو فطرت اس جہنم میں کسی اور کو لا کر رکھے گی ؟ سزا کسی اور کو دے گی؟ ایسا ہو ہی نہیں
سکتا۔ اس لیے آپ کو دوبارہ وجود میں لایا جانا نا گزیر ہے یہ ہو کر رہے گا دنیا کی کوئی طاقت اس کا رد نہیں کر سکتی۔
یاجوج اور ماجوج ہوں، نفخ فی الصور ہو، انسانوں کا جمع کیا جانا ہو، آخرت ہو ، جنت اور جہنم ہو یا پھر موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا یہ حقائق آپ پر بالکل کھول کر واضح کر دیئے گئے یہ کوئی دیومالائی کہانیاں نہیں ہیں جن کا حقیقت کیساتھ کوئی تعلق نہ ہو بلکہ یہ وہ حق ہے جس کا دنیاکی کوئی طاقت رد نہیں کر سکتی اور اگر انکار کرتے ہیں تو جان لیں کہ عنقریب وہ وقت بھی آ جائے گا بلکہ ایسے ہی جیسے آپ صبح سوچتے ہیں کہ رات ابھی بہت دور ہے اور وہ بھی آ جاتی ہے آپ اسی وقت میں موجود
ہوتے ہیں ایسے ہی وہ وقت بھی آ جانا ہے تب آپ کیسے انکار کریں گے؟
اسی طرح آپ سوچتے ہیںکہ موت بہت دور ہے اتنی دور کہ جیسے آنی ہی نہیں لیکن بلآخر وہ وقت بھی آ جاتا ہے جب آپ موت کو اپنے سب سے قریب دیکھتے ہیں اس سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہوتی بالکل ایسے ہی ابھی واضح کردہ آخرہ نے بھی آ جانا ہے آج آپ نہیں مانتے اورانکار ہی کرتے ہیں آنکھیں بند کر کے اپنے آباؤ اجداد کے پیچھے ہی چلتے ہیں تو پھر جان لیں منوانا رسول کا کام نہیں بلکہ رسول پر صرف اور صرف کھول کھول کر پہنچا دینا ہے جب وقت آ ئے گا تب میرا ربّ خود ہی منوا لے گا اور ایسا منوائے گا کہ تب آپ کو کہا جائے گا کہ اب انکار کرو مگر تب آپ ماننے کی ضد کرو گے جیسے آج انکار کرنے کی ضد کر رہے ہو۔
سورۃ الکہف کی اگلی آیات میں یہی اللہ نے واضح کیا کہ کس طرح جہنم سامنے لائی جا رہی ہے اور کون ہیں کافرین جن کے لیے جہنم سامنے لائی جا رہی ہے اور وہ
کیا کر رہے ہیں کیوں کر رہے ہیں جو کر رہے ہیں وہ کیا ہے اور انہیں کیا کرنا چاہیے تھا۔
الَّذِیْنَ کَانَتْ اَعْیُنُھُمْ فِیْ غِطَآئٍ عَنْ ذِکْرِیْ وَکَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۔ الکہف ۱۰۱
اس آیت میں اللہ نے ان کافرین کا ذکر کیا یعنی جو حق کو مان ہی نہیں رہے اور الٹا حق کی تکذیب کر رہے ہیں آسمانوں و زمین میں فساد کر رہے ہیں جو یاجوج اور ماجوج ہیں الَّذِیْنَ کَانَتْ اَعْیُنُھُمْ فِیْ غِطَآئٍ عَنْ ذِکْرِی ایسے لوگ تھے ان کی آنکھیں غطائٍ میں میرے ذکر بارے۔ غطاء کہتے ہیں اس شئے کو یا اسے
جسے دیکھنے سے اصل نظر آنا بند ہو جائے اصل پردے میں چلا جائے وہ شئے اصل پر پردہ بن جائے۔
مثلاً اسے ایک مثال سے سمجھ لیں آج آپ کسی سے بھی پوچھتے ہیں کہ یہ خام تیل کیا ہے تو وہ جب خام تیل کو دیکھے گا تو اسے آج جو کچھ بھی خام تیل سے بن رہا ہے وہ سب نظر آئے گا وہ خام تیل کو آج اس دور کا سب سے قیمتی ترین خزانے کہے گا اسے خام تیل سب سے قیمتی خزانہ نظر آئے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ خام تیل
تو اللہ کے غیب میں سے اللہ کی آیت ہے۔
خام تیل کو دیکھ کر اس میں غور کرنے سے تو جو بھلا دیا گیا تھا یعنی اللہ، اللہ یاد آ جانا چاہیے تھا لیکن کسی کو بھی خام تیل کو دیکھ کر اللہ نظر نہیں آتا اللہ یاد نہیں آتابلکہ دنیا
جنت نظر آتی ہے خام تیل سے بننے والی سہولتیں نظر آتی ہیں۔
اسی طرح آپ گاڑیوں کے بارے میں سوال کر لیں تو کسی کو بھی یہ الدابۃ الارض نظر نہیں آئے گا بلکہ ہر کسی کو یہ ترقی و جدیدیت نظر آئے گی حالانکہ اگر غور کیا جائے تو اللہ یا د آ جاتا ہے کہ کیسے الدابۃ الارض وجودمیں آیا۔ اللہ کی آیات ہیں جن میں پنگے لیکر اللہ کی آیات کا کذب کر کے الدابۃ الارض وجود میں لایا گیا لیکن کسی کو بھی اللہ کی آیات نظر نہیں آ رہیں بلکہ وہی نظر آ رہا ہے جو ان کی آنکھوں کے سامنے ہے جسے یہ ترقی کا نام دیتے ہیں اور جسے یہ ترقی کا نام دیتے ہیں اس
سب نے ان کے لیے اللہ پر پردہ ڈال دیا ۔ تو آج جو کچھ بھی آنکھیں دیکھ رہی ہیں، ہے کوئی جو غوروفکر کرے اور اللہ کو یاد کر لے؟
آج یہ حق آپ کے سامنے ہے اللہ نے ان آیات کی صورت میں آج کی تاریخ اتاری تھی پھر آگے اللہ کا کہنا ہے وَکَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا اور تھے نہیں استطاعت رکھ رہے جو سنایا جا رہا ہے اسے سن کر اس کی اطاعت کریں یعنی یہ اس قدر عقل کے اندھے ہیں چلو مان لیا کہ یہ فتنہ الدجّال اتنا سخت اور عظیم فتنہ ہے کہ اسے خود سے سمجھنا بہت مشکل ہے ناممکن کے قریب تر ہے لیکن اب تو تمہیں تمہاری ہی آواز میں تمہاری ہی زبان میں کھول کھول کر سنایا جا رہا ہے تم میں سننے کی بھی استطاعت نہیں ؟ اب جب سنایا جا رہا ہے تو سن کر ہی اطاعت کر لو جو کہا جا رہا ہے وہ کرو لیکن اے عقل کے اندھو تمہارا معاملہ تو یہ ہے کہ تمہیں کھول کھول کر سب کچھ سنایا جا رہا ہے اس کے باوجود تم میں سننے تک کی بھی استطاعت نہیں۔ سن کر عمل بھی نہیں کر سکتے اس سے بڑی بد بختی کوئی اور ہو سکتی ہے اور ہو گی؟
آپ خود غور کریں کیا آج سب کچھ کھول کھول کر نہیں واضح کیا جا رہا ہے؟ کیا آج سب کچھ کھول کھول کر نہیں سنایا جا رہا ہے لیکن ہے کوئی جو سن کر ماننے کی
استطاعت رکھنے والا ہو؟ کیا اس سے بھی بڑھ کر حق کھولا جا سکتا ہے؟
اب تو ایک ایک بات ہر لحاظ سے ہر پہلو سے کھول کھول کر واضح کی جا رہی ہے کھول کھول کر سنایا جا رہا ہے لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ۔ انسانیت کی راہنمائی کے دعویدار جنت و جہنم کے ٹھیکیدار ملّاں بھی کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر بیٹھے ہوئے ہیں آنکھیں بند کی ہوئی ہیں اور گونگے ہو چکے ہیں ۔ زبان سے اللہ کی غلامی کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن یہ اللہ کے دشمن ہیں یہ خواہشات کے پجاری ہیں۔ ان پر فرض تھا کہ اب جب ان پر حق بالکل کھول کھو ل کر واضح کیا جا رہا ہے تو یہ لوگ حق کی تائید و تصدیق کرتے لوگوں کو دنیا و آخرت میں ہلاکت سے بچاتے لیکن نہ یہ خود جہنم سے بچنا چاہتے ہیں اور نہ
ہی یہ چاہتے ہیں کہ یہ اکیلے جہنم میں جائیں بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ آنکھیں بند کر کے ان کے پیچھے چلنے والی اکثریت کو بھی اپنے پیچھے جہنم میں لیکر جائیں ۔
(جاری ہے)۔۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment