WARNING FROM MOTHER NATURE
یہ زمین جس پر آپ موجود ہیں یہ بھی ایک وقت تھا کہ ایک ستارہ تھی جو بعد میں ارض یعنی ایک سیارہ بن گئی۔ ایک وقت تھا کہ یہ زمین بالکل سورج کی مانند آگ کا گولہ تھا کہ گیسیں پگھل رہی تھیں پھر اس پرکچھ شہابیوں کی بارشیں ہوتی رہی جس سے وہ شہابیے پگھلتے رہے اور ان کے پگھلنے سے ایک تو ان سے اس پر جھاگ کی ایک تہہ وجود میں آ گئی اور دوسرا ان سے گیسیں خارج ہو کر اس کے گرد اکٹھی ہوتی رہیں، زمین کے اپنے ہی محور پر گھومنے کی وجہ سے دباؤ پڑنے کی وجہ سے جیسے گاڑی چلنے پر پیچھے کو دباؤ پڑتا ہے وہ جھاگ جگہ جگہ سے اوپر کو اٹھ گئی اور باہر خارج ہونے والی گیسوں کی وجہ سے جھاگ جم کر چٹانی تہہ میں بدل گئی یوں آہستہ آہستہ ایک وقت ایسا آیا کہ ستارے کی آگ اندر چلی گئی اور اس پر وجود میں آنے والی جھاگ کی تہہ ٹھنڈی پڑگئی جس سے زمین ستارے سے سیارہ بن گئی ایسا سیارہ کہ جس کے اوپر تو چٹان نما پہاڑ اور چٹانی تہہ جھاگ کے ٹھنڈے ہونے سے وجود میں آ گئی لیکن اس چٹانی تہہ کے نیچے آگ ہے یعنی لاوا ہے، ویسے تو آگ کو اگر ڈھانپ دیا جائے تو وہ جلنا رک جاتی ہے کیونکہ اسے جلنے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے نہیں ملتی ایسے ہی زمین پر چٹانی تہہ وجود میں آنے سے نیچے آگ ٹھنڈی پڑ جانی چاہیے تھی لیکن وہ ٹھنڈی نہ پڑی اس کی وجہ یہ ہے کہ خلا سے جو پہلے مختلف اقسام کے شہابیے آئے ان میں ایسے عناصر موجود تھے جن کی وجہ سے اس آگ کو جلنے میں مدد مل رہی ہے اور تب تک زیر زمین یہ آگ جلتی رہے گی جب تک کہ وہ مواد جل جل کر ختم نہیں ہو جاتا جو جلنے میں مدد فراہم کر رہا ہے یوں جب جھاگ کی تہہ جم جانے سے چٹانی تہہ وجود میں آ گئی تو اس کے بعد زمین پرمزید شہابیوں کی بارشیں ہوتی رہیں، شہابیوں کی بارشوں سے آنے والے مواد کو چٹانی تہہ کے گرم ہونے کی وجہ سے حرارت ملنے سے مواد میں کیمیائی عوامل وقوع پذیر ہوتے رہے جس سے ان شہابیوں سے آنے والا مواد کریک ہو کر اس سے گیسیں خارج ہو کر زمین کے گرد اکٹھی ہوتی رہی یوں جب یہ مراحل مکمل ہو گئے تو زمین کے اپنے ہی محور پر گردش کی وجہ سے دباؤ پڑنے پر مٹی کی تہوں نے پھسلنا شروع کیا یوں ایک طرف چٹانوں نے انہیں روکا تو دوسری طرف سے دباؤ پڑنے کی وجہ سے یہ پھسل کر آپس میں دھنستی چلی گئیں یوں ایک تو یہ مٹی کی تہیں سکڑ گئیں جس سے جگہ جگہ گڑھے بن گئے اور دوسرانہ صرف نیچے کو بھی دھنسیں بلکہ اوپر کو بھی اٹھ گئیں جو کہ چٹانوں کے علاوہ پہاڑ وجود میں آئے۔ پھر جب یہ مراحل مکمل ہو گئے تو سورج کے وجود میں آنے سے سورج کی توانائی جب زمین کے گرد گیسوں کے مرکب میں داخل ہوئی تو ان میں کیمیائی عوامل وقوع پذیر ہوئے جس سے نہ صرف یہ گیسوں کا مرکب سات تہوں میں تقسیم ہو گیا بلکہ زمین پر آخری چار مراحل میں چار اقسام کے شہابیوں سے خارج ہونے والی گیسوں سے آکسیجن و ہائیڈروجن وجود میں آئیں اور پھر ان کے اختلاط سے پانی بارشوں کی صورت میں زمین پر اترا جو بلندیوں سے گہرائیوں کی طرف بہتا رہا جس سے زمین کا کٹاؤ ہو کر نالے، چشمے، نہریں اور دریا وجود میں آئے اور جو زمین کی تہوں کے پھسل کر سکڑنے سے گڑھے وجود میں آئے ان میں پانی بھرتے بھرتے سمندر وجود میں آ گئے اور بالآخر جب آکسیجن و ہائیڈروجن کا لیول اس سطح پر آ گیا کہ مزید اختلاط نہیں ہو گا تو بارشیں تھم گئی یوں اس کے بعد سمندروں سے پانی بخارات بن کر اڑنے لگا جس سے بارشیں اور موسم وجودمیں آئے ۔ یوں پانی سے زمین پر زندگی کا آغاز ہوا ایک طرف سمندروں میں جان وجود میں آئی اور دوسری طرف نباتات یوں دونوں طرف ارتقاء ہوتے ہوتے ایک طرف تیر کر، رینگ کر، چل کر اور اڑ کر حرکت کرنے والی
مخلوقات وجود میں آئی تو وہیں دوسری طرف ارتقاء کرتے کرتے زمین باغات میں بدل گئی۔
پانی بنیادی طور پر خلا میں چار اقسام کے شہابیوں میں سب اٹامک پارٹیکلز کی صورت میں موجود ہے وہ چار اقسام کے شہابیے جن کی سب سے آخر میں سیارے
پر بارشیں ہوتی ہیں اس لیے اس وقت اس زمین کے علاوہ پوری کائنات میں کسی دوسرے سیارے پر پانی کا وجود نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ کل کائنات میں یہ زمین واحد ایسا سیارہ ہے جو مکمل ہوا باقی جتنے بھی ہیں وہ ابھی تکمیلی کے مراحل سے گزر رہے ہیں جب تک کہ وہ مکمل نہیںہو جاتے ان پر پانی کا تصور بھی نہیں کیا جا
سکتا۔
زمین پر اس طرح پانی وجود میں آنے کے بعد ہی زمین پر حیات کا آغاز ہوا اورپانی کے بغیر زندگی کا وجود ناممکن ہے اس لیے خام تیل کے بارے میں وضع کیے
جانے والے عقائد ونظریات کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں وہ محض بے بنیاد اور باطل ہیں۔
اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنٰہُ بِقَدَر۔ القمر ۴۹
اس میں کچھ شک نہیں ہر شئے کو ہم خلق کر رہے ہیں قدر کیساتھ یعنی پورے حساب کتاب پوری کیلکولیشن کیساتھ نہ ہی رائی برابر بھی زیادہ اور نہ ہی رائی برابربھی کم
نہ ہی کسی میں کوئی کمی،کجی، یا کوتا ہی کی۔
قدر کہتے ہیں ہر لحاظ سے پورے حساب کتاب کیساتھ ، ناپ تول کر ،پوری کیلکولیشن سے، جتنی ضرورت ہو بالکل اتنی ہی ، نہ ہی رائی برابر بھی کم اور نہ ہی رائی
برابر بھی زیادہ، یعنی ہر لحاظ سے مکمل ناپ تول کر پیمائش کر کے، معیار وغیرہ بھی ہر لحاظ سے پورا پورا۔
اللہ ہر شئے کو قدر کے ساتھ خلق کر رہا ہے اور المیزان وضع کیا۔ پانی کی ایک مقدار نازل کر دی اسی سے سرکل چل رہا ہے۔ بالکل اسی طرح خام تیل کو بھی اللہ نے قدر کیساتھ خلق کیا ان ذرات کی صورت میں جن ذرات سے خام تیل وجود میں آ رہا ہے اس کے علاوہ اگر غورو فکر کریں تو حیران کن طور پر خام تیل اور گیس
زمین کی اسی تہہ میں پائے جاتے ہیں جس سے چٹان نما پہاڑ وجود میں آئے۔
اور قرآن میں اللہ نے یہ راز بھی کھول کر رکھ دیا۔
وَجَعَلَ فِیْہَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِھَا وَبٰرَکَ فِیْھَا۔ فصلت ۱۰
اور کر دیں اس میں چوٹیاں اس کے اوپر اور اس میں برکات کر دیں۔
انہی برکات کا اللہ نے قرآن کے متعدد مقامات پر ذکر کیا ہے کہ اللہ ان کو نباتات کی صورت میں زمین سے نکالتا ہے اور اس آیت میں اللہ نے پہلے چٹانوں اور پہاڑوں کا ذکر کیا اس کے فوراً بعد برکات کا۔ اور وہ برکات زمین میں خام تیل کی شکل میں ذخیرہ کر دیں یعنی خام تیل چٹان نما پہاڑوں میں بنتا ہے۔ اور شام اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں زیر زمین ذخیرہ کیا جاتا ہے جہاں زیر زمین اللہ نے ایسا پمپ لگایا ہوا ہے جیسے انسان کے جسم میں دل ہے جو خون کو پورے جسم میں پمپ کرتا ہے بالکل اسی طرح خطہ شام میں اللہ نے زیر زمین ایسا نظام بنایا ہوا ہے کہ وہیں سے یہ خام تیل پوری زمین میں زیرزمین پھیلایا جاتا ہے اور پھر اس سے زمین نباتات اگاتی ہے خطہ شام زمین کا دل ہے اور وہ مقام جہاں پر بیت اللہ کعبہ تعمیر ہے زمین کا دماغ ہے جہاں سے زمین کی تمام مخلوقات کو ہدایات
دی جا رہی ہیں زمین کی تمام مخلوقات کو کنٹرول کیا جا رہا ہے جیسے پورے جسم کو دماغ کنٹرول کرتا ہے۔
پہاڑوں میں اللہ نے ایسا مواد رکھا ہے جن سے خام تیل وجود میں آتا ہے۔ مثلاً وہ تمام مواد جن سے ہر قسم کا بارود اور تیزاب وغیرہ بنائے جاتے ہیں وہ سب اللہ نے پہاڑوں میں رکھا۔ پہاڑوں اور زمین میں چٹان نما وہ تہہ جس میں تیل اور گیس موجود ہے میں ایسا تعلق ہے جسے جان کر آپ چونک جائیں گے۔
جیسے ہمارے جسم میں شریانیں ہیں جن میں خون سفر کرتا ہوا جسم کے ہر خلیے تک پہنچتا ہے اسی طرح درختوں سمیت تمام مخلوقات میں ان کی تخلیق کے اعتبار سے یہ شریانی نظام ہے یعنی شریانیں ہیں بالکل اسی طرح پہاڑوں سے یہ شریانیں شروع ہوتی ہیں اور زمین کی اس تہہ سے ہوتی ہوئی زمین کی اوپر والی تہہ جس پر ہم رہ رہے ہیں جو اپنے اندر سے نباتات اگاتی ہے تک یہ شریانیں موجود ہیں۔ اس سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ نے زمین کو اگانے کے لیے جس جس شئے کی ضرورت ہے اسے خام مال کی صورت دنیا کے مختلف حصوں میں پہاڑوں میں رکھ دیا ان تمام پہاڑوں کے درمیان روابط ہیں باقاعدہ شریانیں ہیں جن کے
ذریعے وہ لین دین کرتے ہیں۔
جیسے کہ زمین کو نمکیات کی ضرورت ہوتی ہے اللہ نے نمک کا زمین پر کچھ جگہوں پر ذخیرہ کر دیا اسی طرح زمین کو باقی جن جن اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے اللہ نے دنیا میں مختلف پہاڑوں میں الگ الگ وہ تمام اجزاء رکھ دیئے۔ ان کے علاوہ کچھ پہاڑ جو کہ چٹانیں ہیں ایسی ہیں جو ان تمام پہاڑوں سے ان میں موجود اجزاء کو لیکر انہیں خام تیل میں بدل کر زمین کے نیچے چٹان کی تہہ میں پہنچا دیتے ہیں جہاں وہ خام تیل کی شکل میں محفوظ ہو جاتے ہیں اور وہاں سے شریانوں کے ذریعے خام تیل میں موجود اجزاء زمین کی اوپر والی سطح تک آتے ہیں جنہیں زمین ان نباتات میں استعمال کرتی ہے یعنی ان سے اور پانی اور سورج کی توانائی سے زمین نباتات اگاتی ہے جو ہمارے لیے اور جانداروں کے لیے اللہ کا دیا ہوا رزق ہے ۔ اللہ کا یہ کارخانہ بہت ہی عجیب و غریب اور حیران کن ہے یہ بہت ہی پیچیدہ کارخانہ ہے ۔ اس پورے نظام میں کہیں ایک جگہ بھی کوئی خرابی ہو جائے تو پوری دنیا پر اس کے تباہ کن منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مثلاً پہاڑوں میں اللہ نے ایسا مواد رکھا جس سے ہم مختلف بارود، تیزاب اور حتیٰ کہ ایٹمی بم بھی بناتے ہیں پہاڑاللہ کے ایسے کار خانے ہیں جہاں اس سب قدرتی موادکو استعمال کر کے اس سے مزید اشیاء تیار کی جاتی ہیں جو انتہائی پیچیدہ ترین مراحل سے گزر کر تیار ہوتی ہیں اگر ان پیچیدہ ترین مراحل میں کوئی چھوٹی سی چھوٹی
معمولی سی بھی غلطی ہو جائے تو پہاڑ پھٹ کر ایسے ریزہ ریزہ ہو جائیں جیسے دھول ۔
پہاڑ زمین پر خام مال کے وہ ذخائر ہیں جن میں وہ تمام کا تمام مواد ذخیرہ کیا گیا ہے جس سے زمین پر حیات وجود میں آتی ہے اور چٹانیں اللہ کے وہ کارخانے ہیں جو پہاڑوں سے اجزاء لیکر انہیں خام تیل میں بدلتے ہیں یعنی آپ اگر چٹانوں کو دیکھیں گے تو پہلی بات وہ ایسی جگہوں پر ہیں جہاں بارہ مہینے برف موجود رہتی ہے البتہ آج انسانوں کے اپنے ہی ہاتھوں سے کیے ہوئے فساد سے معاملہ بدل چکا لیکن جب سب کچھ فطرت پر تھا تو نہ صرف چٹانوں پر بارہ مہینے برف موجود رہتی بلکہ وہاں تک انسان کی رسائی نہیں تھی۔ چٹانوں کے اوپر برف اور ان کے نیچے جوش مارتا ہوا لاوا ہے اور ان کے درمیان پہاڑوں سے آنے والے
اجزاء کیمیائی عوامل سے گزر کر خام تیل میں تبدیل ہوتے ہیں یوں چٹانی علاقے زمین پر اللہ کے انسان کے لیے ممنوعہ علاقے تھے۔
الحمد للہ آپ پر بالکل کھول کر واضح کر دیا گیا کہ زمین میں خام تیل کس طرح وجود میں آتا ہے۔
ان کے باطل نظریات کا جواب قرآن اس طرح بھی دیتا ہے
الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَآئَ بِنَآئً وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّکُمْ ۔ البقرۃ ۲۲
اسی ذات نے کر دیا تمہارے لیے زمین کو فرش یعنی رہنے کے قابل بنا دیا اور آسمان کو محفوظ عمارت چھت کے کچھ بھی اوپر سے تم پرنہ آ گرے اور اتارا آسمان سے
پانی پس نکالا اس کیساتھ ثمرات سے تمہارے لیے رزق۔
اس آیت میں اللہ زمین کی تکمیل کے بعد پہلی بار جب زمین پر پانی اتارا اس کا ذکر کیا۔
اس آیت میں بھی آپ دیکھ سکتے ہیں اللہ نے پہلے زمین کو مکمل کیا اس میں جس جس شئے کی ضرورت تھی وہ سب رکھ دیا ہر شئے کو مکمل کر دیا اور اس کے بعد آخر میں پانی اتارا جس سے زمین پر حیات کا یعنی زندگی کا آغاز ہوا قرآن میں اللہ نے بتا دیا کہ زمین پر حیات کا آغاز پانی کے بعد کیا اور پانی تب اتارا جب زمین اپنے تکمیلی مراحل مکمل کر چکی۔ اس طرح اگر یہ کہا جائے کہ پانی سے پہلے زمین پر حیات آباد تھی جن کے مردار ہونے سے خام تیل وجود میں آیا یعنی کہ زمین
کے تکمیلی مراحل سے پہلے ہی حیات کا پانی کے بغیر وجود میں آجانا یہ سوائے بے بنیاد وباطل اور بے ہودہ باتوں کے اور کچھ نہیں۔
پھر انہی کے نظریات میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب وہ جانور مردار ہوئے تب زمین پر پانی موجود تھا یہ تب کہا گیا جب سائنس نے یہ ثابت کردیاکہ پانی کے بعد ہی زمین پر حیات کا آغاز ہوا تب انہوں نے اپنے جھوٹ کو مزید وسعت دی اور کہا کہ تب پانی بھی موجود تھا لیکن اس جھوٹ سے یہ باطل نظریہ مزید کھوکھلا
ہوگیا۔اللہ کہہ رہا ہے کہ زمین کے تکمیلی مراحل مکمل ہونے کے بعد جب حیات کا آغاز کرنا مقصود تھا تب پانی اتارا اور سائنس بذات خود اس بات کو جان چکی ہے اور یہی حق ہے لیکن ان کے اس نظریے کے مطابق چونکہ جب وہ جانور موجود تھے تب زمین اپنے تکمیلی مراحل میں تھی اور پانی بھی موجود تھا سے جھوٹ کھل کر واضح ہو
جاتا ہے۔
جیسے اللہ نے زیر زمین خام تیل کی صورت میں زمین پر تمام حیات کو وجود میں لانے کے لیے خام مال کا ذخیرہ کیا ہوا ہے اسی طرح پوری زمین میں واحد ایک ہی خطہ ہے جہاں زیر زمین اللہ نے اس تیل کو سر زمین شام اور اس کے ارد گرد کے علاقے میں ذخیرہ کیا ہوا ہے جن میں عرب و فارس کا شمار بھی ہوتا ہے۔ یہیں سے خام تیل پوری زمین میں پھیلتا ہے اور پھر پوری زمین میں نبات اگتی ہیں ان نبات سے جاندار اور انسان وجود میں آتے ہیں۔ یہی وہ زمین کے خزانے ہیں جن کے بارے میں تمام انبیاء اور محمد نے بھی کہا تھا کہ میں زمین کے خزانوں کی چابیاں دیکر بھیجا گیا ہوں میں زمین کے خزانوں کی حفاظت کے لیے بھیجا گیا
ہوں نہ کہ اس امانت میں خیانت کے لیے۔
(جاری ہے)۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment