WARNING FROM MOTHER NATURE
قرآن میں دوسرے مقام پر یاجوج اور ماجوج کے الفاظ کا ذکر
ان آیات کے آج تک جتنے بھی تراجم و تفاسیر کیے گئے یا جو تراجم و تفاسیر موجود ہیں سب کے سب ۱۸۰ ڈگری الٹ اور غلط تراجم و تفاسیر کیے گئے۔ یہ آیات قرآن کے مشکل ترین مقامات میںسے تصور کی جاتی ہیں لیکن الحمد للہ ہم ان آیات کو ہر لحاظ سے بالکل کھول کھول کر آپ پر واضح کرتے ہیں جس سے آپ پر آج سے پہلے جو آج تک تراجم و تفاسیر کیے گئے ان کی حقیقت بھی بالکل کھل کر واضح ہو جائے گی اور جو آج تک دجل کیا گیا وہ بھی چاک ہو جائے گا۔
وَ حَرَام’‘ عَلٰی قَرْیَۃٍ اَھْلَکْنٰھَآ اَنَّھُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ ۔ حَتّیٰٓ اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَھُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ۔ الانبیاء ۹۵، ۹۶
ان آیات کو سمجھنے کے لیے پہلے ہم ان میں استعمال کیے جانے والے الفاظ کوآپ پر واضح کرتے ہیں کیونکہ جب تک ان الفاظ کو نہیں سمجھ لیا جاتا تب تک آیات کو
سمجھنا ممکن نہیں ہو گا۔
حَرَام’‘۔ ممنوع قرار دینا یا کسی کام کے کرنے یا استعمال وغیرہ سے روک دینا، جس کی اجازت نہیں دی گئی۔
قَرْیَۃ۔ اس کا مادہ ’’ق ر یعنی قر‘‘ ہے جس کے معنی ایک شئے پر دوسری شئے کے ٹکرانے سے ظاہر ہونے والا رد عمل۔ جیسے دروازے پر دستک دینے کو بھی عربی میں قر کہتے ہیں کہ دروازے پر کسی شئے کے ٹکرانے سے جو آواز پیدا ہوئی۔ اسی سے قرت بنا ہے جس کے معنی پڑھنے کے ہیں کہ کتاب پر انسان کی بصارت ٹکراتی ہے اور اس کے رد عمل میں حلق سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ اسی سے لفظ قریہ بنا جس کے معنی ایسی بستی ، ایسے علاقے یا ایسے خطے کے ہیں جس کے رہنے والے اللہ کے احکامات پر عمل کرنے کی بجائے نافرمانی کو ترجیح دیتے ہیں یعنی اللہ کے سامنے اپنی آواز بلند کرتے ہیں اللہ کے احکامات کے ردعمل میں
سرکشی و بغاوت کرنے والے لوگوں کی بستی، علاقہ یا خطہ وغیرہ۔ اس کا متضاد یعنی اس کی ضد ’’ مدینہ‘‘ ہے۔
یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ اگر کسی بھی لفظ یا شئے کی سمجھ نہیں آتی اور اسے سمجھنا مقصود ہو تو اس کی ضد کو جان لیا جائے تو اس لفظ یا شئے کی خود بخود ہی سمجھ آ جائے گی وہ خود بخود ہی کھل کر واضح ہو جائے گا۔ اس لیے اسی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا کرتے ہیں کہ قریہ کی ضد مدینہ کو جان لیتے ہیں جب مدینہ کو جان لیا جائے گا تو
قریہ کیا ہے اس کی خود بخود ہی کھل کر وضاحت ہو جائے گی۔
مدینہ جملہ ہے اور یہ تین الفاظ کا مجموعہ ہے ان میں پہلا لفظ ’’م‘‘ دوسرا لفظ ’’دین‘‘ اور تیسرا لفظ گول والی ’’ۃ یا ہ‘‘ ہے۔ ’’م‘‘ موجودگی کا اظہار کرتا ہے جس کے معنی ہیں وہ ، جو وغیرہ یعنی وہ یا جو موجود ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس کی موجودگی کا ذکر کیا جا رہا ہے ’’م‘‘ کس کی موجودگی کا اظہار کر رہا ہے تو آگے اسی سوال کا جواب موجود ہے ’’دین‘‘ دین موجود ہے اب م اور دین کو جمع کریں تو جملہ بنے گا مدین جس کے معنی بنیں گے دین موجود ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کہاں دین موجود ہے تو آگے اسی کا جواب دیا گیا گول والی ۃ یا ہ، ۃ براہ راست اس شئے ، مقام یا جگہ کا اظہار کرتاہے جس کا ذکر کیا جا رہا ہے اور گول والی ہ اس شئے، مقام یا جگہ وغیرہ کی طرف اشارے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یوں مدینہ کے معنی ہیں کسی شئے،
مقام، جگہ، خطے یا علاقے وغیرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ یہاں یا وہاں دین موجود ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دین کیا ہے تو قرآن میں ہی اللہ نے بالکل واضح کر دیا کہ دین فطرت ہے دین وہ فطرت تھی جس پر لوگوں کو وجود میں لایا گیا یعنی جب پہلی بار دنیا میں لوگوں کو لایا گیا تب کیا تھا کیسا تھا تب کیسے خلق ہورہا تھا تب کیسے بارشیں برس رہی تھیں تب جو کچھ بھی جیسا تھا وہ تھی فطرت یعنی جس میں
انسان کی رائی برابر بھی مداخلت نہیں تھی۔
فطرت کی ضد ہے جس میں انسان نے اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے مداخلت کر دی ہو غیر فطرتی مصنوعی یا فطرت میں تبدیلی، تبدیل شدہ۔ آگے چل کر
اس پر تفصیل کیساتھ بات ہو گی۔
اب جبکہ بالکل کھل کر واضح ہو چکا کہ مدینہ کیا ہے تو اس کی ضد قریہ کی خود بخود ہی وضاحت ہو جاتی ہے کہ قریہ کہتے ہیں اس بستی، اس خطے، مقام، جگہ، شئے یا علاقے کو جہاں دین موجود نہیں یعنی جہاں فطرت نہیں بلکہ سب مصنوعی ہے یا پھر فطرت کو تبدیل کیا جا چکا یا فطرت میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں فطرت میں چھیڑ
چھاڑ کی جا رہی ہے فطرت کو بدلا جا رہا ہے۔
اَھْلَکْنٰھَا۔ کس نے ہلاک کیا؟ ہم نے ہلاک کیا اسے۔ ہلاکت کسی بھی قسم کے عذاب یعنی انسانوں کے اپنی ہی ہاتھوں سے کیے جانے والے مفسد اعمال کے برے رد اعمال کو کہتے ہیں جسے اردو میں سزا کہتے ہیں۔ یعنی کہ اگر کسی نے کوئی ایسا کام کیا جو اللہ سے بغاوت و سرکشی کا سبب بنے اس کے نتیجے میں ملنے
والی سزا کو ہلاکت کہتے ہیں۔
مثلاً اگر آپ کوئی ایسی شئے کھاتے ہیں جو حرام ہے یعنی جس کے استعمال کی اجازت نہیں دی گئی جس کو اللہ نے آپ کے لیے ممنوع قرار دیا اور ظاہر ہے اللہ نے اسے اسی لیے حرام کیا کیونکہ وہ آپ کے لیے فائدہ مند نہیں بلکہ نقصان دہ ہے۔ جب آپ اس شئے کو کھاتے ہیں اسے استعمال کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں ظاہر ہونے والے نقصان کو ہلاکت کہتے ہیں۔ مثلاً کسی بھی قسم کی کوئی بیماری، مصیبت، تکالیف وغیرہ سب ہلاکت میں ہی شمار ہوتا ہے ہلاکت کے لیے لازم نہیں کہ موت کا آنا ضروری ہے بلکہ کسی بھی سطح پر اللہ کے احکامات کو دل سے تسلیم کرتے ہوئے ان پر عمل کرنے کی بجائے کفر کرنے کے نتیجے میں ہونے والے فساد کی وجہ سے آنے والی تباہی ہلاکت کہلاتی ہے۔ آیت میں کسی بھی قریہ کی ہلاکت کا ذکر ہے تو اس ہلاکت کو مجموعی سطح پر دیکھا جائے گا کہ جب کوئی معاشرہ ایسے کام کرتا ہے جو اللہ سے بغاوت و سرکشی کے زمرے میں آتے ہیں اور اسی کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیتے ہیں تو زمین میں فساد یعنی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں جو کسی بھی تباہی خواہ وہ زلزلہ، سیلاب، طوفان یا وباء وغیرہ سمیت کسی بھی صورت میں کسی بستی میں ظاہر ہوتی ہیں جس سے کچھ موت کا شکار ہوتے ہیں کسی کا مالی
نقصان ہوتا ہے یا کسی بھی قسم کے نقصان سے دوچار ہونا یہ ہلاکت کہلاتا ہے۔
یَرْجِعُوْن۔خود ہی رجوع کر رہے ہیں، رجوع کرنا۔ مثلاً آپ نے کوئی کام کیا جس سے آپ کا نقصان ہو گیا جس وجہ سے آپ کو نقصان ہوااس کا ادراک کر کے آئندہ اسے نہ کرنے کا عہد کرنا اور اس کام کے کرنے کے لیے واپس اسی طریقے پر آنا جو اس کا اصل طریقہ ہے اور اس پر قائم ہو جانا رجوع کہلاتا ہے۔
اسے ایک مثال سے سمجھ لیں مثال کے طور پر دو برتنوں میں مختلف کیمیکلز پڑے ہیں جو نظر آنے میں بالکل پانی کی طرح ہیں اور ان کو آپس میں ملانے سے دھماکہ یا آگ وغیرہ لگ جاتی ہے جس سے آس پاس کی اشیاء جل کر تباہ ہو جاتی ہیں۔ آپ کے پاس علم نہیں آپ انہیں پانی سمجھتے ہیں اور دونوں کو ایک ہی برتن میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہاں کوئی دوسراشخص جسے ان کے بارے میں علم ہے وہ آپ کو ایسا کرنے سے منع کرتا ہے مگر آپ اس کے باوجود ان کو ایک ہی برتن میں اکٹھا کرتے ہیں جس سے آس پاس پڑی اشیاء جل جاتی ہیں اب آپ کو اس کا ادراک ہو جاتا ہے اور دوبارہ کبھی بھی ایسا موقع آتا ہے تو آپ پہلے کی طرح کرنے کی بجائے اپنی غلطی سے سبق سیکھ کر اس شخص کی بات پر عمل کرتے ہیں جس کے پاس علم ہے جس نے آپ پر حق واضح کیا تھا یہ رجوع کرنا کہلائے گا۔ یعنی جس وجہ سے پہلے ہلاکت میں پڑے اس سے سبق سیکھ کر دوبارہ کبھی ایسا موقع آئے تو ویسا نہ کرنا بلکہ اس کام کے لیے اس کی طرف پلٹنا جو اس کی صحیح
راہنمائی کا اہل و حق دار ہے۔
حدب۔ کہتے ہیں کسی بھی کام، مقام ، عمل یا مرحلے کی نا ممکن حد تک مشکل کو۔ مثلاً اگر آپ کو کوئی ایسا کام کرنے کا کہا جائے جو ممکن تو ہو لیکن اس کا کرنا اتنا مشکل ہو جیسے ناممکن ہوتا ہے اس وجہ سے آپ کے لیے سوال پیدا ہو جائے کہ یہ کیسے کیا جا سکتا ہے یہ کرنا آپ کے لیے ممکن نہیں ہے آپ اس کام کی فلاں حد
سے آگے نہیں جا سکتے۔
آسان ترین معنی یہ ہیں فطرت پر رہتے ہوئے جو حدود ہیں جن سے آگے نہیں جایا جا سکتاکہ تھوڑا ماضی میں جائیں تو ہر کام کی ایک حد تھی جس سے آگے نہیں بڑھا جا سکتا تھا مثلاً سفر کے لیے رفتار کی ایک حد تھی کہ زیادہ سے زیادہ رفتار تیز رفتار گھوڑے کی رفتار تھی جو کہ حد تھی اس سے تیز رفتاری کا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا
اسے کہتے ہیں حدب ۔
ینسلون۔ اس میں اصل لفظ ’’ن س ل یعنی نسل ‘‘ ہے اور نسل کے معنی آگے پیدا کرنے کی صلاحیت کو کہتے ہیں یعنی جیسے ایک پودا ہوتا ہے اس میں اپنی نسل آگے بڑھانے کے لیے آگے پیدا کرنے کی صلاحیت نسل کہلاتی ہے اس کے علاوہ اسی کے تسلسل میںاس کے معنی کسی بھی شئے کے ابتدائی مرحلے یعنی بیج کو کہتے ہیں اور اس کے علاوہ ایک شئے سے دوسری شئے کے الگ ہونے کو کہتے ہیں۔ جیسے بیج سے پودا الگ ہو جاتا ہے، باپ سے اس کی اولاد الگ ہوتی ہے کہ پہلے اولاد باپ میں موجود ہوتی ہے جو نطفے جو کہ بیج ہوتا ہے کو عورت کے رحم میں بویا جاتا ہے پھرعورت نو ماہ بعد اسے جنم دیتی ہے یوں نہ صرف بچے کی ابتداء وہ
نطفہ یعنی بیج تھا بلکہ وہ بچہ نطفے یعنی بیج کی صورت میں والد سے الگ ہوا۔
ینسلون میں ان معنوں کے علاوہ یہ معنی بھی پایا جاتا ہے کہ کسی کام کا غیر معمولی حد تک آسان ہو جانا مثال کے طور پر ایک شئے جسے آپ بلندی کی طرف پھینکیں تو آپ کا زور لگے گا لیکن وہی شئے جب واپس زمین کی طرف آتی ہے تو اسے آپ کی طرف سے کوئی قوت درکار نہیں ہوتی وہ زمین کی اپنی طرف کھینچنے کی قوت کی وجہ سے بہت آسانی سے پھسلتی ہوئی آتی ہے۔ اسی طرح اگر آپ برف پر یا کیچڑ والی جگہ پر چل رہے ہوں تو پھسلنے کی صورت میں آپ خود بخود تیزی سے جیسے کہ دوڑنے کی رفتار ہوتی ہے سے آگے چلتے جائیں گے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ رفتار بڑھتی جائے گی۔ ینسلون کے معنی کسی کا م کے اس کی بنیاد سے اس حد
تک آسان ہو جانے کے ہیں کہ گویا وہ خود بخود ہو رہا ہو۔
وَ حَرَام’‘ عَلٰی قَرْیَۃٍ اَھْلَکْنٰھَآ اَنَّھُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ۔ الانبیاء ۹۵
وَ اور حَرَام’‘ اس وقت تک حرام کر دیا ، اس وقت تک اجازت ہی نہیں دی گئی ، ممنوع کر دیا گیا عَلٰی پر قَرْیَۃٍ جتنی بھی قریہ ہیں یعنی جتنے بھی ایسے خطے، علاقے، بستیاں، شہر یا جگہیں ہیں جہاں دین موجود نہیں یعنی جہاں فطرت موجود نہیں بلکہ فطرت کی ضد مصنوعی ہے یا فطرت میں تبدیلی کی جا رہی ہے اَھْلَکْنٰھَآ کس نے ہلاک کیا؟ ہم نے ہلاک کیا اَنَّھُمْ اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ لوگ جو موجود ہیں جو ہلاکت کا شکار ہوئے لَا یَرْجِعُوْنَ نہیں رجوع کر رہے واپس فطرت کی طرف نہیں پلٹ رہے ہلاکت کے بعد اس سے سبق سیکھتے ہوئے اس سے عبرت حاصل کرتے ہوئے واپس اللہ کی طرف نہیں پلٹ رہے بلکہ وہی کر رہے ہیں جو پہلے کر رہے تھے جس وجہ سے ہلاکت آئی ، ایسے ہی جو ماضی میں تھے جیسے کہ قوم نوح، عاد، ثمود، لوط، مدین اور آل فرعون وہ بھی
رجوع نہیں کر رہے تھے۔
حَتّیٰٓ اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَھُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ۔ الانبیاء ۹۶
حَتّیٰٓ یہاں تک کہ اِذَا فُتِحَتْ جب تب کھل گئے یَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ یاجوج ہیں اور ماجوج ہیں وَھُمْ اور وہ جو اس وقت موجود ہیں جن کی وجہ سے ہلاکت کے بعد اس سے عبرت حاصل کرتے ہوئے اللہ سے رجوع نہیں کیا جا رہا مِّنْ کُلِّ تمام کی تمام سے حَدَبٍ جو ان کے کھلنے سے پہلے ہر کام کی حد تھی
یَّنْسِلُوْنَ اسے ان کی بنیاد ان کے بیج سے اس طرح آسانی سے کر رہے ہیں گویا کہ خود بخود ہو رہا ہے ۔
یہ لفظ بہ لفظ ترجمہ کیا ہے اسے بار بار پڑھیں تو واضح ہو گا کہ اللہ نے کیا کہا ہے۔ پہلی آیت میں ہے کہ اللہ نے یہ حرام کر دیا ہے کہ جس قریہ کو بھی ہلاک کیا کہ وہ نہ رجوع کرے۔ رجوع نہ کرنا حرام کیا گیا ہے نہ کہ رجوع کرنا حرام کیا۔ اگر تو رجوع کرنا حرام کیا جاتا تو اس کا مطلب تھا کہ وہ رجوع نہیں کریں گے لیکن یہاں اس کا الٹ ہے ۔ رجوع نہ کرنا حرام کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ رجوع کرنا ہی کرنا ہے۔ مطلب کہ جس قریہ کو بھی ہلاک کیا وہ ہلاکت کے بعد ضرور
رجوع کرے گی۔
جیسے مثال کے طور پر آپ کو کہا جائے کہ آپ پر کھانا کھانا حرام ہے تو اس کا مطلب ہو گا کہ آپ کو کھانا کھانے سے منع کر دیا گیا آپ کھانا نہیں کھا سکتے، کھانا
کھانے کی اجازت نہیں۔
لیکن اس کے بر عکس جب یہ کہا جائے کہ آپ پر کھانا ’’نہ‘‘ کھانا حرام ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو کھانا نہ کھانے کی اجازت نہیں یعنی کہ آپ نے کھانا
کھانا ہی کھانا ہے کھائے بغیر کوئی چارہ نہیں۔
یہی اللہ کہہ رہا ہے کہ تمام کی تمام وہ قریہ جنہیں ہلاک کیا ان پر حرام کر دیا کہ وہ اللہ کی طرف رجوع نہ کریں۔ رجوع نہ کرنا حرام کیا ہے یعنی رجوع نہ کرنے کی اجازت ہی نہیں دی مطلب یہ کہ رجوع کرنا ہی کرنا ہے وہ ہلاکت کے بعد رجوع کریں ہی کریں گی وہ ہلاکت کے بعد رجوع کر رہی ہیں۔
اسے مزید آسانی سے سمجھنے کے لیے کچھ مثالیں آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔ تصور کریں کہ آپ کسی بستی یا شہر میں رہتے ہیں وہاں صرف ایک ہی ڈاکٹر ہے جس
کا نام مزمل ہے اور اس کا کلینک ہے ۔
آپ جب کبھی بھی بیمار ہوںتو آپ کس سے رجوع کریں گے؟
بالکل آسان سا جواب ہے جب ایک ہی ڈاکٹر ہے تو اسی کی طرف جایا جائے گا اسی سے رابطہ کیا جائے گا۔ تو اسے یوں لے لیں کہ آپ پرحرام ہے کہ آپ جب کبھی بھی بیمار ہوں تو ڈاکٹر مزمل سے رجوع نہ کریں۔ مطلب یہ کہ جب ایک ہی ڈاکٹر ہے تو پھر ظاہر ہے اسی کے پاس جایا جائے گا کیونکہ دوسرا کوئی آپشن
موجود نہیں ہے۔ اس لیے وہ ڈاکٹر یہ کہے گا کہ آپ پر یہ حرام ہے کہ آپ جب کبھی بھی بیمار ہوں مجھ سے رجوع نہ کریں۔
اب اگلی آیت کو یوں لے لیں یہاں تک کے دوسرا ڈاکٹر آجائے اور اپنا کلینک کھول لے یعنی وہی کام کرنا شروع کر دے جو میں کر رہا ہوں اور نظر آنے میں وہ
مجھ سے کئی گنا بہتر ہو۔
اب دونوں حصوں کو ملائیں۔ آپ پر حرام ہے کہ آپ جب کبھی بھی بیمار ہوں تو آپ ڈاکٹر مزمل سے رجوع نہ کریں جب تک کہ دوسرا ڈاکٹر آکر اپنا کلینک کھول لے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک کوئی دوسرا ڈاکٹر آ کر اپنا کلینک نہیں کھول لیتا وہی کام جو پہلا ڈاکٹر کر رہا ہے نظر آنے میں اس سے کئی گنا اچھا نہ کرنا شروع کر دے تب تک آپ ڈاکٹر مزمل سے ہی رجوع کریں گے لیکن جیسے ہی کوئی دوسرا ڈاکٹر آ کر اپنا کلینک کھولے گا تو پھر آپ کے پاس آپشن موجود ہو
گاآپ پھر ڈاکٹر مزمل کی بجائے دوسرے ڈاکٹر سے بھی رجوع کرسکتے ہیں۔
(جاری ہے)۔۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment