Monday, September 12, 2022

                     WARNING FROM  MOTHER NATURE

قسط نمبر#42

آج سے چند صدیاں قبل وفات پانے والا مومن اگر آج زندہ ہوجائے اور دنیا کے حالات دیکھے تو اسے یقین ہی نہیں آئے گا کہ وہ اسی دنیا میں واپس آیا ہے وہ یہ سب دیکھ کر پاگل ہو جائے گا اور اگر اسے یہ یقین دلا دیا جائے کہ وہ اسی دنیا میں ہے جس میں پہلے تھا اور اگر اس کے پاس الدجّال کے بارے میں رائی برابر بھی علم ہو تو وہ چیخ چیخ کر کہے گا کہ دنیا والوںنے ربّ اللہ کی بجائے الدجّال کو بنایا ہوا ہے۔ ایسا وہ اس لیے کہے گا کیونکہ اسے علم ہے کہ اللہ اپنی سنت کو تبدیل نہیں کرتااگر پہلے اس نے سفر کے لیے گدھے ، گھوڑے، خچر اوراونٹ وغیرہ دیئے تو اس کی سنت میں سفر کے ذرائع صرف وہی ہیں اور آج جو موجود ہے وہ اس کے خلق کردہ نہیں بلکہ اس کے علاوہ کسی اور کے ہیں جو اللہ کے مقابلے پر ربّ بنا ہوا ہے اور وہ صرف الدجّال ہی ہے کیونکہ وہی ایک ہے جو اللہ کے مقابلے پر ربّ بننے کا دعویٰ کرے گا اور انسانوں کی اکثریت اسے اپنا ربّ بنا لے گی جو کہ آج نظر آ رہا ہے ہر طرف اسی کی آیات نظر آ رہی ہیں نہ کہ اللہ کی۔ اللہ کی آیات
پر اس کی آیات غالب آ چکی ہیں۔
اللہ کی آیات میں تو گدھے، گھوڑے،خچر اور اونٹ سمیت ہر شئے وہ تھی جو فطرت پر ہے لیکن یہاں تو سب کچھ اس کے برعکس نظر آ رہا ہے۔ تو جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ اگر اللہ کی آیات نہیں تو پھر اسی کی آیات ہیں جس نے ربّ ہونے کا دعویٰ کرنا تھا۔ اور وہ صرف الدجّال اکبر ہے جسے قرب قیام الساعت نکلنا تھا جو کہ الساعت کی علامات و اشراط میں سے ہے اس شخص کو ایسا کہنے میں اس لیے مشکل پیش نہیں آئے گی، الدجّال کو اس کی آیات سے پہچاننے میں اس لیے مشکل پیش نہیں آئے گی کیونکہ وہ الدجّال کے ان فتنوں میں پیدا نہیں ہوا تھا، ان میں پلا بڑھا نہیں تھا اس کے ارد گرد سب فطرت پر تھا اس کے لیے یہ سب کچھ نیا ہو گا اس لیے اس کو پہچاننے میں کوئی بھی مشکل نہیں ہو گی اور آج آپ کیوں نہیں پہچان پا رہے اور مشکلات کا شکار ہیں اس کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کیونکہ آپ نے ان فتنوں کے درمیان آنکھ کھولی انہی میں پلے بڑھے، جوان ہوئے اور انہیں میں مر رہے ہیں آپ کے لیے یہ سب کچھ نیا نہیں ہے اور یہ سب کچھ ہر اس شخص کے لیے نیا نہیں ہو گا جو مومن نہیں ہے کیونکہ جو مومن ہو گاتو وہ جب بھی کچھ سوچے گاتو پہلے خود کو اس معیار پر لائے گا جو معیار اللہ نے اس کے لیے مقرر کر دیااور وہ ہے فطرت۔ وہ سب سے پہلے یہ تصور کرے گا کہ وہ اس وقت میں اور وہاں موجود ہے جہاں اللہ کا دین قائم ہے یعنی جہاں سب کچھ فطرت پر ہے اور پھر وہاں سے اچانک اپنی نظر اس دور پر دوڑائے گا اور جب وہ سب کچھ فطرت پر نہیں دیکھے گا تو فوراً بے ساختہ بول اٹھے گا ’’سبحان اللہ‘‘ کہ اللہ اس سے پاک ہے۔ وہ اپنی سنت تبدیل نہیں کرتا وہ اپنی خلق تبدیل نہیں کرتا اور آج جو سب کچھ بدلا ہوا ہے یہ اس کا تو ہرگز کام نہیں ہے یہ اسی کا کام ہے جو اس کا شریک ہونے کا دعویٰ کرے جو اس کی جگہ ربّ ہونے کا دعویٰ کرے اور وہ صرف الدجّال ہی ہے اس کے علاوہ اور کوئی نہیں اورالدجّال کا خالق اللہ نہیںبلکہ
یاجوج اور ماجوج ہیں۔
اور جو مومن نہیں ہو گا تو پھر اس کے لیے یہ سب اس کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے سہولتوں کے نام پر جنت ہو گی اور اس کا ایمان الدجّال کے ربّ ہونے پر ہوگا وہ عملاً الدجّال کو اپنا ربّ بنائے ہوئے ہو گاخواہ وہ زبان سے کتنا ہی یہ ورد کیوں نہ کرتا پھرے کہ اللہ ہی میرا ربّ ہے وہ زبان سے اللہ کو دھوکا نہیں دے سکتا
البتہ خود کو ہی دھوکا دے رہا ہے۔

یاجوج اور ماجوج مزید ایک اور پہلو سے
قرآن سے ہی ایک اور پہلو سے یاجوج اور ماجوج کو بالکل کھول کر واضح کرتے ہیں اور آج جس وقت میںآپ موجود ہیں اس وقت کے بارے میں اللہ نے
قرآن میں کیا کہا اسے بالکل کھول کر واضح کرتے ہیں۔
الحمد للہ پیچھے ہر لحاظ بالکل کھول کھول کر آپ پر واضح کیا جا چکا کہ یاجوج اور ماجوج کون ہیں قرآن میں جب صرف یاجوج اور ماجوج کے الفاظ آئیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یاجوج اور ماجوج کون ہیں تو اللہ نے ساتھ ہی اس سوال کا جواب بھی دے دیا کہ یاجوج اور ماجوج کون ہیں اِنَّ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ اس میں کچھ شک نہیں یاجوج تھے اور ماجوج تھے وہ جو زمین میں فساد کر رہے تھے اس میں کچھ شک نہیں وہ ہیں یاجوج اور ماجوج جو
زمین میں فساد کر رہے ہیں ۔
ماضی میں جو لوگ زمین میں فساد کرتے رہے اللہ نے انہیں یاجوج اور ماجوج قرار دیا اور جو لوگ اس قرآن کے نزول کے بعد الساعت کے قیام کے قریب
زمین میں فساد کریں گے وہ ہیں یاجوج اور ماجوج۔
قرآن میں اسی قرآن کو اللہ نے احسن الحدیثِ کہا ہے اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ۔ الزمر ۲۳
یعنی یہ قرآن اپنے نزول سے لیکر الساعت کے قیام تک کی احسن تاریخ ہے ایسی بہترین تاریخ کے اس سے بہتر تاریخ ناکوئی ہے اور نہ ہی ہوسکتی ہے لیکن جب اس قرآن میں دیکھا جائے تو اس میں ان کا ذکر ہے جو ماضی میں گزر چکے جیسے کہ نوح اور قوم نوح، عاد اور قوم عاد اور ان کی طرف بھیجے گئے ھود، اسی طرح ثمود ہوںان کی طرف بھیجا گیا صالح ہو، مدین ہوں یا ان کی طرف بھیجا گیا شعیب ہو، لوط اور قوم لوط ہو ، آل فرعون ہوں یا بنی اسرائیل قرآن میں ان سب کا ذکر جگہ جگہ موجود ہے پورا قرآن ان کے ذکر سے بھرا پڑا ہے اور کون نہیں جانتا کہ یہ سب تو گزر چکے ماضی کا قصہ بن چکے جس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ قرآن میں
تو اس کے دعوے کے برعکس ماضی کی تاریخ ہے۔
تو اس غلط فہمی کو بھی اللہ نے دور کر دیا کہ ایسا نہیں ہے کہ اس قرآن میں ماضی کی تاریخ ہے بے شک تمہیں اس قرآن میں ان کا ذکر نظر آ رہا ہے جو ماضی میں گزر چکے لیکن یہ قرآن اپنے نزول سے لیکر الساعت کے قیام تک کی ہی بہترین تاریخ ہے کیونکہ اللہ نے کہاکہ اللہ نے اس قرآن میں اس کے نزول سے لیکر الساعت کے قیام تک جو کچھ بھی ہونا ہے اس کی مثلوں سے تاریخ اتاری سب کا سب مثلوں سے بیان کیا وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ یعنی ماضی میں جو کچھ بھی ہوا اس میں سے وہ اور ایسے الفاظ میں بیان کیا جو ہو بہو اس قرآن کے نزول سے لیکر الساعت کے قیام تک وقوع پذیر ہونا تھا جو معاملہ یا
مسئلہ لوگوں کو پیش آنا تھا ہر بات ہر شئے کا ذکر کیا گیا اس قرآن میں مثلوں سے۔
آپ دیکھتے ہیں کہ اس قرآن میں ان لوگوں کا ذکر ملتا ہے جو اس قرآن کے نزول سے پہلے گزر چکے جیسے کہ قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، اخوان لوط، قوم شعیب،آل فرعون اور امت بنی اسرائیل وغیرہ لیکن یہ جان لیں کہ اس قرآن میں اللہ نے ان کے قصے و کہانیاں بیان نہیں کیں یہ اساطیر الاولین نہیں ہیں یعنی جو ماضی میں گزر چکے جو کہ الاولین ہیں ان کی لائنیں نہیںہیں بلکہ الاولین کو اللہ نے سلف یعنی گزرا ہوا کر دیا اور انہیں نہ صرف گزرا ہوا کر دیا بلکہ مثل کر دیا
الآخرین یعنی بعد والوں کے لیے اسی کا ذکر اللہ نے سورۃ الزخرف کی درج ذیل آیت میں بھی کیا ۔
فَجَعَلْنٰہُمْ سَلَفًا وَّمَثَلاً لِّلْْاٰ خِرِیْنَ۔الزخرف ۵۶
پس کر دیا ہم نے انہیں سلفاً یعنی ایک ایک کو گزرے ہوئے کر دیا جو اس قرآن کے نزول سے پہلے دنیا میں آئے تھے اب گزرے ہوئے ہو چکے اور جنہیں ایک ایک کو گزرے ہوئے کر دیا انہیں مثل کر دیا الآخرین کے لیے یعنی بعد والوں کے لیے اس قرآن کے نزول سے لیکر الساعت کے قیام تک آنے والوں کے لیے۔
اس قرآن کے نزول سے پہلے جو قومیں بھی اس دنیا میں آئیں ان سب کے سب کو گزرا ہوا کر دیا اورانہیں نہ صرف گزرا ہوا کر دیا بلکہ انہیں مثل کر دیا اس قرآن کے نزول سے لیکر الساعت کے قیام تک آنے والوں کے لیے۔ اس لیے اس قرآن میں جہاں جہاں بھی گزشتہ قوموں کا ذکر کیا گیا تو وہ اصل میں ان کا ذکر کرنا
مقصود نہیں تھابلکہ وہ اس قرآن کے نزول سے لیکر الساعت کے قیام تک آنے والوں کی مثلوں سے تاریخ اتاری گئی۔
اس قرآن میں اس قرآن کے نزول سے پہلے گزر جانے والے وہ لوگ جو زمین میں فساد کرتے رہے ان کا ذکر کرتے ہوئے ان کے بارے میں کہا گیا کہ وہ یاجوج اور ماجوج تھے اور قرآن میں انہیں یاجوج اور ماجوج کہنا یہ اساطیر الاولین نہیں یعنی جو گزر چکے ان کی سطریں نہیں ہیں بلکہ ان کی مثلوں سے قرآن کے نزول کے بعد الساعت کے قریب آنے والے مفسدون فی الارض جو کہ یاجوج اور ماجوج ہیں ان کی تاریخ اتاری گئی۔ اس لیے اب قرآن سے ہی آپ پر واضح کرتے ہیں کہ وہ کون سے لوگ تھے جو اس قرآن کے نزول سے قبل دنیا میں آئے اور وہ زمین میں فساد کرتے رہے انہوں نے کیسے اور کس طرح زمین میں فساد کیااورپھر بالآخر اسی اپنے ہاتھوں سے کیے ہوئے فساد کے سبب ہلاک ہوئے اور جیسے اللہ نے ان کا قرآن میں ذکر کیاکیا آج بھی ان کی مثل لوگ موجود
ہیں جو ان کی مثل زمین میں فساد کر رہے ہیں؟
یہ اللہ کا قانون ہے کہ اللہ نے ہر قوم کے شروع اور آخر میں رسول بھیجا یعنی اللہ کا قانون ہے کہ اللہ کسی بھی قوم کے شروع میں ایک رسول اور پھر اس کے آخر میں
بھی ایک رسول بعث کرتا ہے رسول بھیجا جاتا ہے البیّنات کیساتھ یعنی رسول آ کر سب کچھ کھول کھول کر واضح کر دیتا ہے۔
کسی بھی قوم کے شروع میں جب رسول بعث کیا جاتا ہے تو رسول آکر انسانوں پر ان کی اس دنیا میں موجودگی کا مقصد اور اس مقصد کو پورا کیسے کرنا ہے اور اگر اس مقصد کو جان پہچان کر اسے پورا نہیں کیا جاتا تو اس کے کیا نقصانات ہوں گے کن کن تباہیوں و ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑے گا سب کچھ کھول کھول کر واضح کرتا
ہے۔
جب آپ زمین و آسمانوں میں غوروفکر کریں تو آپ کو زمین و آسمانوں میں کوئی ایک بھی شئے ایسی نہیں ملے گی جس کی تخلیق کا کوئی نہ کوئی مقصد نہ ہو اور وہ اس
مقصد کو پورا نہ کر رہی ہو سوائے حضرت انسان کے۔
یہ انسان واحد ایسی مخلوق ہے جسے دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے اس کا علم ہونا تو دور بلکہ اسے خود اپنی ہی ذات کا علم نہیں کہ وہ کون ہے مثلاً اگر آپ کے ہاتھ کی طرف اشارہ کر کے آپ سے پوچھا جائے کہ یہ کیا ہے تو آپ فوراً جواب دیں گے کہ یہ ہاتھ ہے اور جب یہ سوال کیاجائے کہ کس کا ہے تو آپ فوراً کہیں گے کہ میرا ہے اسی طرح پاؤں کی طرف اشارہ کر کے پوچھا جائے یہ کیا ہے تو آپ فوراً جواب دیں گے کہ یہ پاؤں ہے اور جب یہ سوال کیا جائے کس کا ہے تو فوراً جواب دیں گے کہ میرا ہے۔ اسی طرح بتدریج آپ کے جسم کے تمام کے تمام اعضاء کے بارے میں سوال کرتے ہوئے آپ کے پورے جسم کی طرف اشارہ کیا
جائے کہ یہ کیا ہے تو آپ جواب دیں گے یہ جسم ہے اور جب یہ پوچھا جائے کہ کس کا ہے تو آپ کہیں گے میرا ہے یہ جسم میرا ہے۔
آپ اس جسم کو بالکل ایسے ہی میرا جسم کہیں گے جیسے آپ کے پاس کوئی بکری، کوئی جانور یا کوئی شئے جو آپ کی ملکیت ہو تو اس کے بارے میں پوچھا جائے کہ یہ کس کی ہے تو آپ کہیں گے یہ میری ہے یعنی اس شئے کو آپ اپنا آپ نہیں قرار دے رہے آپ یہ نہیں کہہ رہے کہ یہ میں ہوں بلکہ آپ کہتے ہیں کہ یہ میری ہے آپ اس کی ملکیت کا دعویٰ کر رہے ہیں آپ الگ ہیں اور وہ شئے الگ بالکل ایسے ہی جب آپ سے آپ کے جسم کے بارے میں پوچھا گیا کہ یہ کس کا ہے تو آپ نے کہا میرا جس کا مطلب بالکل واضح ہے کہ یہ جسم آپ نہیں ہیں بلکہ آپ کوئی اور ہیں آپ اس جسم کی ملکیت کا دعویٰ کر رہے ہیں یہ جسم آپ نہیں ہیں اور اگر کوئی یہ کہے بھی کہ یہ جسم ہی میں ہوں تو پھر سوال یہ پیدا ہو گا کہ اس جسم سے پہلے تم کیا تھے کون تھے کہاں تھے اور جب یہ جسم مَیں مَیں میرا میرا کرنا چھوڑ دیتا
ہے یعنی اس کی موت ہو جاتی ہے تو تب تم کہاں جاتے ہو وہ کہاں چلا جاتا ہے جو مَیں مَیں میرا میرا کہہ رہا تھا وہ کون ہے؟
جب بھی کسی سے یہ سوال کیا جائے کہ اب بتاؤ تم کون ہو؟ وہ کون ہے جو اس جسم کو میرا میرا کہہ رہا ہے؟ تو شاید ہی کسی کے پاس اس سوال کا جواب ہو۔ کیونکہ اس سے پہلے تک تقریباً ہر انسان اسی پانچ سے چھ فٹ کے جسم کو ہی اپنا آپ سمجھتا رہا اور اپنی ہی ذات کو بھولا رہا اسے علم ہی نہیں تھا کہ یہ جسم وہ نہیں بلکہ یہ جسم اس کا ہے جس وجہ سے اس کے پاس اس سوال کا جواب ہی نہیں ہو گا کہ وہ کون ہے اس کی اپنی حقیقت کیا ہے جس سے یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت انسان تو خود اپنی ہی ذات کو بھول چکا ہے وہ اپنے آپ کو ہی ایسے بھولا ہوا ہے جیسے کہ اس کا اپنا کوئی وجود ہی نہ ہو اور وہ آج تک اس پانچ چھ فٹ کے جسم کو اپنا آپ سمجھتا رہا یہ معنی ہیں عربی کے لفظ انسان کے ۔ انسان کے معنی ہیں جو اپنی ہی ذات کو پورے کا پورا بھولا ہوا ہے۔ اب جسے اپنی ہی ذات کا علم نہیں بھلا اسے یہ کیسے علم ہو سکتا ہے کہ وہ اس مادی بشری جسم کیساتھ اس دنیامیں کیا لینے آیا کیا کرنے آیا اس کی تخلیق کا مقصد کیا ہے؟
یوں جب انسان کو جب اس مقصد کا علم ہی نہیں تو وہ اس مقصد کو پورا بھی کیسے کر پائے گا ؟ اسی حقیقت کو رسول آ کر واضح کرتا ہے کہ دیکھو آسمانوں و زمین میں کوئی ایک بھی مخلوق ایسی نہیں جو بے مقصد خلق کی گئی ہو، آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے اس کی تخلیق کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہے اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے ہر مخلوق کا اپنا اپنا مقام ہے جب تک تمام کی تمام مخلوقات اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داری کو پورا کریں گی تب ہی وہ مقصد پورا ہو گا
جس مقصد کو پورا کرنے کے لیے انہیں خلق کیا گیا۔
آسمانوں و زمین کی مثال بالکل تمہارے جسم کی سی ہے، آسمانوں و زمین کی مثال ایک مشین کی سی ہے جیسے تمہارا جسم لاتعداد مخلوقات کا مجموعہ ہے بہت سے اعضاء ہیں جن کا آپس میں گہرا ربط ہے جسم میںہر عضو اور ہر عضو میں تمام کی تمام مخلوقات کا اپنا اپنا مقام و ذمہ داری ہے جسے پورا کرنے کے لیے ان کی ضروریات ہیں اور ان کی ضروریات بھی الگ الگ ہیں ان کی مقدار اور معیار الگ الگ ہے جب تک ان کی ضروریات کا معیار اور مقدار ٹھیک رہے گی وہ اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داری کو پورا کر پائیں گی جس سے جسم میں ایک بہترین میزان یعنی توازن قائم ہے اور قائم رہے گا اور اگر جسم میں کوئی ایک بھی مخلوق اپنے مقام سے ہٹ جاتی ہے اپنی ذمہ داری کو پورا نہیں کرتی یا سستی و لاپرواہی کرتی ہے تو جسم میں قائم توازن بگڑ جائے گا جس سے جسم میں
خرابیاں اور بالآخر جسم ایک بڑی تباہی یعنی موت سے دوچار ہو جائے گا بے کار ہو جائے گا بالکل یہی مثال آسمانوں و زمین کی ہے۔
اس حقیقت کے کھلنے پرجب انسان آسمانوں و زمین میں غورو فکر کرتا ہے تووہ دیکھتا ہے کہ سوائے اس کے یعنی سوائے انسان کے تمام کی تمام مخلوقات نہ ہی اپنے مقام سے ہٹتی ہیں اورنہ ہی وہ کسی قسم کی کمی، کجی یا کوتاہی برتتی ہیں یہ واحد انسان ہے جس کو نہ تو اپنی تخلیق کے مقصد کا علم ہے اور نہ ہی اس مقصد کو پورا کرنے کا علم ، اور یہ واحد انسان ہی ہے جو دن رات لاعلمی میں ایسے ایسے اعمال کر رہا ہے کہ جس سے نہ صرف اپنے مقام سے ہٹا ہوا ہے بلکہ باقی مخلوقات کو بھی زبردستی ان کے مقامات سے ہٹا رہا ہے یا آسمانوں و ز مین میں تبدیلیوں کا باعث بن رہا ہے جس سے لامحالہ آسمانوں و زمین میں قائم توازن بگڑ کر آسمانوں و زمین میں تباہیاں آئیں گی جو آسمانوں و زمین کو تباہ برباد کر کے رکھ دیں گے جن کا ذمہ دار یہ حضرت انسان ہو گااور ان سے بچنے کا واحد ایک ہی حل ہے کہ یا تو اپنی حقیقت کو جان لیا جائے اپنے آپ کو یاد کر لیا جائے کہ اپنی حقیقت کیا ہے یا پھر کم از کم یہ واضح ہو جائے کہ اس کی تخلیق کا مقصد کیا ہے اسے اس دنیامیں کیوں بھیجا گیا یوں انسان دو گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں ایک وہ جن کا مقصد یہ بن جاتا ہے کہ وہ اپنی ذات کو پہچانیں اپنی ذات کو یاد کریں کہ وہ کون ہیں کیا ہیں ان کا اول و آخر کیا ہے ان کی حقیقت کیا ہے یوں باقی تمام تر راز و حقائق خود بخود واضح ہو جائیں گے اور دوسرے وہ جن کا مقصد یہ بن جاتا ہے کہ ان پر کسی بھی صورت حق واضح ہو جائے کہ ان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے انہیں اس دنیامیں کیوں بھیجا گیااور اس مقصد کو پورا کیسے کرنا ہے۔ یوں رسول دونوں طرح کے انسانوں سمیت ہر
ایک پر حق بالکل کھول کھول کر واضح کرتا ہے۔
کسی بھی شئے کی تخلیق کا مقصد کیا ہے اسے جاننے کا سب سے بہترین اور آسان ترین ذریعہ یہ ہے کہ اس شئے میں جھانک کر دیکھا جائے کہ اس میں کیا کیا
صلاحیتیں پائی جاتی ہیں کسی بھی شئے میں پائی جانے والی صلاحیتیں ہی اس شئے کے مقصد وجود کو واضح کرتی ہے۔
مثلاًآپ دیکھتے ہیں کہ کتا اور بکری دونوں ہی جانور ہیں دونوں ہی مادے سے وجود میں آئے لیکن آپ جو کام کتے سے لیتے ہیں وہی کام آپ بکری سے نہیں
لے سکتے۔
یعنی اگر آپ کو کہا جائے کہ آپ بکری کو اپنی مال کی رکھوالی کے لیے رکھیں تو کیا ایسا ممکن ہے؟ کیا بکری مال کی رکھوالی کر پائے گی؟ نہیں بالکل نہیں۔ اب آپ خود غور کریں کہ کیوں ؟ آخر وہ کیا وجہ ہے کہ جو کام آپ کتے سے لے رہے ہیں وہ بکری سے کیوں نہیں لیا جا سکتا وہ کتے سے ہی کیوں لیا جا سکتا ہے؟ تو جواب بالکل واضح ہے کہ اس کام کے کرنے کے لیے جو صلاحیتیں درکار ہیں وہ صلاحیتیں کتے میں پائی جاتی ہیں نہ کہ بکری میں اگر وہی صلاحیتیں و خصوصیات بکری میں پائی جائیں تو بکری سے وہی کام لیا جا سکتا ہے اور اگر وہ صلاحیتیں کتے میں نہ ہوں تو کتے سے وہ کام نہیں لیا جا سکتا ۔ جس سے یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو جاتی ہے کہ مال کی رکھوالی کے لیے کتے کا ہونا شرط نہیں ہے بلکہ صلاحیتوں کا ہونا لازم ہے جس میں وہ صلاحیتیں پائی جائیں گی اس سے وہ کام لیا جائے
گا کسی بھی شئے میں موجود صلاحیتیں اس کے مقصد وجود مقصد تخلیق کو واضح کرتی ہیں۔
ایسے ہی اگر آپ کو پیاس لگتی ہے تو کیا آپ آگ سے پیاس بجھا سکتے ہیں یا پھر صرف اور صرف اس شئے سے پیاس بجھا سکتے ہیں جس میں پیاس بجھانے کی صلاحیتیں موجود ہوں؟ جیسے کھانا پکانے کے لیے آگ کا ہونا لازم نہیں بلکہ حرارت کا ہونا شرط ہے جس شئے میں بھی ایسی صلاحیتیں پائی جائیں اس شئے سے کھانا پکایا جا سکتا ہے، اگر آگ میں وہ صلاحیتیں نہ پائی جائیں تو اس سے کھانا نہیں پکایا جائے گا کھانا پکانے کا مقصد اس سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔
یعنی آپ کسی بھی قسم کی کوئی بھی مثال سامنے رکھ لیجیے تو آپ پر یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو جائے گی کہ کسی بھی شئے کا مقصد تخلیق کیا ہے مقصد وجود کیا ہے اس کو جاننے کا سب سے آسان اور بہترین ذریعہ یہ ہے کہ اس شئے میں پائی جانے والی صلاحیتوں کو جان لیا جائے جب اس شئے میں پائی جانے والی صلاحیتوں کو
جان لیا جائے گا تو وہ صلاحیتیں خود بخود اس شئے کے مقصد تخلیق کو واضح کر دیں گی۔
(جاری ہے)۔۔۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7


No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...