WARNING FROM MOTHER NATURE
قسط نمبر#41
کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ
تمام کے تمام وہ کام جن کا کرنا ممکن تو تھا لیکن انسان اگر کرنا چاہتا تو اس کے لیے وہ ناممکن حد تک مشکل تھے کہ اس کے لیے انہیں کرنے کے لیے سوال کھڑا ہو جاتا تھا وہ سب کام اتنے آسان ہو جائیں گے کہ جیسے خود بخود ہو رہے ہیں انسان کو ان کے کرنے میں ذرا بھی مشکل پیش نہیں آرہی اور تمام کام بہت تیزی سے
انجام پارہے ہیں اور ان کی بنیاد یعنی ان کے بیج سے ہو رہے ہیں۔
مثال کے طور پر جیسے آج سے چند دہائیاں پہلے انسان درختوں سے زیادہ پیداوار لینے کے لیے ان کو پیوند کرتا تھا اور پیوند زیادہ پیداوار کے حصول کی آخری حد تھی اس سے آگے انسان نہیں جا سکتا تھا اس سے زیادہ پیداوار حاصل نہیں کر سکتا تھا ۔ اس کے لیے پورا درخت پہلے موجود ہوتا تھا مادہ درخت میں نر کی شاخ لگائی جاتی تھی لیکن جب یاجوج ماجوج کھل جائیں گے اور کھل گئے تو انسان یہی کام درخت کے بیج سے کرے گا یعنی درخت کے بیج میں پیدا کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرکے پیداوار غیر معمولی مقدار تک بڑھانے کی صلاحیت حاصل کر لے گا کہ اسے یہ کام کرنے میں ذرا بھی مشکل پیش نہیں آئے گی لیکن یہی کام یاجوج اور
ماجوج کے کھلنے سے پہلے انسان کے لیے ناممکن حد تک مشکل تھا۔
جیسے آج کھیتی باڑی کے لیے ہل چلانا اتنا آسان ہو گیا کہ انسان قوت کے بغیرخود بخودٹریکٹر کی مدد سے ہل کو لیکر کھیت میں تیزی کیساتھ پھسلتا جاتا ہے اور زمین بونے کے قابل ہو جاتی ہے لیکن اگر آج سے چند دہائیاں پہلے انسان کو کہا جاتا کہ وہ اتنی آسانی اور اتنی تیزی سے کھیت میں ہل چلائے تو اس کے لیے ناممکن حد تک مشکل تھا جو اس کے لیے سوال کھڑا کر دیتا۔ پہلے انسان کو ایک ایکڑ زمین میں ہل چلانے کے لیے کم سے کم مسلسل تین سے چار دن درکار ہوتے تھے ان کے علاوہ تھکا وٹ سے چور کر دینے والی محنت الگ تھی لیکن آج ایک ایکڑ کی بجائے سو ایکڑ سے زیادہ زمین میںایک ہی دن میں اتنی آسانی اور تیز رفتاری سے
ہل چلا سکتا ہے کہ اسے احساس تک بھی نہیں ہوتا۔
آج سے چند دہائیاں پہلے اگر انسان کو یہ کہا جاتا کہ وہ بادلوں کے اوپر ہوا سے زیادہ رفتار سے سفر کرے تو اس کے لیے نا ممکن حد تک مشکل ہوتا اور ایسا کرنا سوال کھڑا کر دیتا کہ ایسا کیسے کر سکتا ہے حالانکہ اس کی آنکھوں کے سامنے پرندے اڑرہے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر اسے یہ علم تو ہوتا ہے کہ ایسا کرنا ممکن ہے لیکن ناممکن حد تک مشکل ہے اور آج انسان کے لیے بادلوں کے اوپر ہوا سے تیز رفتارسفر کرنا غیر معمولی حد تک آسان ہو گیا ہے گویا کہ خود بخود اڑ رہا ہے اسے کسی قسم کی
کوئی مشکل نہیں ہے۔
آج سے چند دہائیاںپہلے اگر انسان کو کہا جاتا کہ پہاڑوں کی مقدار میں اناج وغیرہ کو اٹھا کر سمندوں میںسفر کرے، زمین پر سفر کرے، ہوا میں سفر کرے تو اس کے لیے ناممکن حد تک مشکل تھا اور ایسا کرنا سوال کھڑا کر دیتا لیکن آج وہی کام انسان کے لیے اتنا ہی آسان ہو گیا جتنا پہلے اس کے لیے کرنا مشکل تھاآج وہی
کام اتنا آسان ہو گیا گویا کہ خود بخود ہو رہا ہے۔
آج سے چند دہائیاں پہلے اگر انسان کو یہ کہا جاتا کہ وہ کئی ہزار میل دور کسی سے ایسے بات کرے جیسے آمنے سامنے موجود کسی سے بات ہوتی ہے توایسا کرنا اس کے لیے ناممکن حد تک مشکل تھا کہ ایسا کرنے کا سوچتے ہی اس کے لیے سوال کھڑا ہو جاتا لیکن آج وہی کام انسان کے لیے غیر معمولی حد تک آسان ہو گیا۔
ٹیلی فون، انٹرنیت سمیت مواصلاتی نظام کے ذریعے۔
آج سے چند دہائیاں پہلے اگر انسان کو یہ کہا جاتا کہ زمین پر سو میل فی گھنٹہ سے بھی تیز رفتاری کیساتھ سفر کرے تو اس کے لیے ناممکن حد تک مشکل تھا اور اس رفتار سے سفر کرنا اس کے لیے سوال کھڑا کر دیتا لیکن آج سو دو سو میل فی گھنٹہ تو دور کی بات ہے اس سے کئی گنا تیز رفتاری سے سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بغیر
کسی تھکاوٹ کے جیسے گویاکہ خود بخود پھسلتا جا رہے۔
آج سے چند سال پہلے اگر انسان کو یہ کہا جاتا کہ ایسا تربوز اگاؤ جو اندر سے سرخ کی بجائے سبز، سفید، پیلا، نیلا وغیرہ ہو اور گول کی بجائے چوڑائی میں ہو، لمبا ہو، مثلث نما ہو، کئی فٹ لمبا اور چوڑا ہو، ایسی سبزیاں، پھل پھول اگائے کہ جن کے رنگ ایسے ہوں جو پہلے سے ان کے نہ ہوں یعنی رنگ برنگے اور مختلف شکلوں والے پھل، پھول، سبزیاں وغیرہ تو ایسا کرنا انسان کے لیے ناممکن حد تک مشکل تھا اور سوال کھڑا کر دیتا لیکن آج اس کے لیے یہی کرنا غیر معمولی حد تک آسان ہو گیا اور اس سے پہلے ایسا ہونا اس لیے بھی ناممکن تھا کہ یہ اللہ کی سنت میں نہیں یہ اللہ کے قانون کیخلاف ہے لیکن آج ایسا کرنا انسان کے لیے غیر معمولی حد تک
آسان ہو گیا۔
یہ صرف چند پھلوں، پھولوں اور سبزیوں کی تصاویر ہیں حقیقت تو یہ ہے کہ نہ صرف ہر رنگ اور سائز میں یہ سب اگایا جا رہا ہے بلکہ انسانی و حیوانی شکلوں میں اور ان کے جنسی اعضاء سے مماثلت رکھنے والے پھل، پھول اور سبزیاں اگائی جا رہی ہیں اور ان کے بیج بہت ہی سستے اور آسانی سے انٹر نیٹ پر فروخت کیے جا رہے ہیں جنہیں اگانے کے لیے کسی خاص موسم کی بھی کوئی ضرورت نہیں بلکہ پوری دنیا میں اور کسی بھی موسم میں یہ بیج اگنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب سوال
یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہو گیا؟ قرآن نے تو بالکل واضح کہہ دیا کہ یاجوج اور ماجوج ہی ایسا کریں گے۔
آج سے چند دہائیاں قبل اگر انسان کو یہ کہا جاتا کہ وہ ایک انسان کا دل دوسرے انسان میں لگا دے تو یہ اس کے لیے ناممکن حد تک مشکل تھا اور ایسا کرنا اس کے
لیے سوال کھڑا کر دیتا لیکن آج وہی کام اس کے لیے غیر معمولی حد تک آسان ہو گیا۔
آج سے چند سال قبل اگر انسان کو کہا جاتا کہ وہ جاگتے ہوئے کچھ ایسا دیکھے یا دوسرے کو دکھائے جیسے خواب دیکھتا ہے تو اس کے لیے ناممکن حد تک مشکل تھا وہ اس کا تصور بھی نہ کر سکتا تھا، اگر یہ کہا جاتا کہ وہ مردوں کو ایسے دکھائے کہ جیسے وہ زندہ سلامت ہوں باتیں کر رہے ہوں تو ناممکن حد تک مشکل تھا لیکن آج وہ سب
غیر معمولی حد تک آسان ہو گیا۔
آج سے چند دہائیاں پہلے اگر انسان کو یہ کہا جاتا کہ وہ ایسا کرے جس سے پوری دنیا میں لوگ اسے ایسے دیکھ رہے ہوں جیسے کہ وہ ہر جگہ موجود ہے تو ایسا کرنا اس
کے لیے ناممکن حد تک مشکل تھا اور ایسا کرنا سوال کھڑا کر دیتا لیکن آج وہی اس کے لیے غیر معمولی حد تک آسان ہو گیا۔
آج سے چند دہائیاں پہلے انسان کو یہ کہا جاتا کہ وہ بے موسم پھل سبزیاں وغیرہ اگائے تو اس کے لیے ایسا کرنا ناممکن حد تک مشکل ہوتا اور ایسا کرنا اس کے لیے
سوال کھڑا کر دیتا لیکن آج وہی کام اس کے لیے غیر معمولی حد تک آسان ہو گیا۔
آج سے چند دہائیاں پہلے انسان کو یہ کہا جاتا کہ وہ بادلوں کو چھوتی بلند ترین عمارتیں بنائے تو اس کے لیے یہ ناممکن حد تک مشکل تھا لیکن آج اس کے لیے غیر
معمولی حد تک آسان ہو گیا۔
اسی طرح کپڑا بننے کی بات ہوتی کہ چند افراد بہت کم وقت میں ہزاروں افراد کے برابر کپڑا بننے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے لیکن آج نہ صرف یہ سب ممکن ہو چکا
بلکہ گویا کہ خود بخود ہو رہا ہے اور آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے۔
آج سے چند دہائیاں پہلے انسان کو یہ کہا جاتا کہ وہ ٹنوں وزن میں لوہے سمیت مختلف دھاتیں پگھلا ئے تو اس کے لیے یہ ناممکن حد تک مشکل تھا لیکن آج وہی
کام نہ صرف ممکن بلکہ انتہائی آسان ہو گیا۔
اسی طرح آج آپ کسی بھی شعبے سے متعلق دیکھ لیں آج آپ کو سب کچھ ممکن نظر آتا ہے جو اس سے پہلے ناممکن نظر آتا تھا ۔ یہ چند مثالیں آپ کے سامنے رکھیں
باقی آپ خود غوروفکر کر کے سب کچھ جان سکتے ہیںکوئی مشکل نہیں ہے۔
اللہ نے قرآن میں کہا کہ یہ سب تب ہو گا جب یاجوج اور ماجوج کھل جائیں گے یہ سب کام یاجوج اور ماجوج ہی اتنے آسان بنا دیں گے اور جس کیساتھ ناممکنات کو ممکنات میں تبدیل کریں گے اُسے محمد علیہ السلام نے الدجّال اکبر کہا قرب قیام الساعت ظاہر ہونے والا الدجّال اکبر اشراط الساعت میں سے ۔ اور وہ کیا ہے جس کیساتھ ناممکنات ممکنات میں تبدیل ہو گئیں تو آج کھلم کھلا آپ کے سامنے ہے جسے آج آپ ترقی و ٹیکنالوجی یعنی جدید سائنسی ایجادات کا نام
دیتے ہیں مشینوں کا نام دیتے ہیں۔ (جاری ہے)۔۔۔۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment