Tuesday, September 13, 2022

                                 WARNING FROM MOTHER NATURE 


قسط نمبر#43
آسمانوں و زمین میں ہر شئے کو نہ صرف اس کے مقصد تخلیق کا علم ہے بلکہ وہ اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے اپنے اپنے مقصد کو پورا بھی کر رہی ہے سوائے حضرت انسان کے ۔ انسان کا مقصد تخلیق کیا ہے اس کو جاننے کے لیے اس میں موجود صلاحیتوں کو جاننا ہو گا اورانسان چونکہ بشر ہے تو جب اس بشر میں غور کیا جائے تو بالکل کھل کر واضح ہو جاتا ہے کہ آسمانوں و زمین میں اس بشر کی مثال کسی مشین ، کسی گاڑی کے خالق ، مالک و ڈرائیور کی سی ہے۔
اس میں آسمانوںو زمین میں خلق کرنے کی صلاحیتیں ہیں، مالک بننے کی صلاحیتیں ہیں، نظام چلانے کی صلاحیتیں ہیں۔
جیسے آپ اپنے ہی وجود میں غور کریں تو آپ پر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ آپ کے جسم میں ہر عضو کا اپنا اپنامقصد ہے ٹانگوں کا مقصد جسم کو اِدھر اُدھر لے جانا، ہاتھوں کا مقصد جسم کے لیے کچھ بھی کرنا، دل کا مقصد جسم کے لیے دھڑکنا، آنکھوں کا مقصد جسم کے لیے دیکھنا، کانوں کا مقصد سننا اور دماغ کا مقصد پورے جسم کا نظام چلانا پورے جسم کی دیکھ بھال کرنا۔ تو جیسے جسم میں دماغ کی اہمیت و حیثیت ہے بالکل یہی اہمیت و حیثیت آسمانوں و زمین کی مخلوقات میں اس بشر کی ہے،
بشر کا مقصد آسمانوں و زمین کی دیکھ بھال کرنا ہے۔
اب جب کہ یہ بات بالکل واضح ہو چکی کہ انسان میں آسمانوں و زمین کا نظام چلانے کی صلاحیتیں ہیں خالق و مالک بننے کی صلاحیتیں ہیں تو پھر اس میں کوئی شک نہیں رہتا کہ اس کا مقصد تخلیق زمین و آسمانوں کی دیکھ بھال کرنا تھا ان کا نظام چلانا ، آسمانوں و زمین میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی نہ ہو، ان میں کہیں کوئی چھیڑ
چھاڑ نہ کر سکے آسمانوں و زمین میں ہر شئے کو اس کے مقام پر ہی رہنے دینا ان کی حفاظت کرنا۔
جیسے ہاتھ جسم کی حفاظت کرتے ہیں جسم کو کسی بھی نقصان سے بچاتے ہیں نقصان سے محفوظ رکھتے ہیں بالکل ایسے ہی اس بشر کی تخلیق کا مقصد آسمانوں و زمین کی
حفاظت کرنا تھا انہیں کسی بھی قسم کے نقصان سے محفوظ رکھنا تھا۔
اور یہی ہر رسول نے آ کر واضح کیا۔
ٰٓیاَیُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمْ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ۔ البقرۃ ۲۱
اے لوگو کس کی عبادۃ کر رہے ہو؟ جو ربّ تھا تمہارا اس کی عبادۃ کرو یعنی تمہیں جو کچھ بھی دیاگیا جو بھی صلاحیتیں دی گئیں جو کچھ بھی دیا گیا تم اس کا استعمال کس کے لیے کر رہے ہو؟ کس کے پیچھے کس کے حصول میں اس سب کا استعمال کر رہے ہو؟ اس کے پیچھے اس کے لیے ان سب کا استعمال کرو جس نے تمہیں وجود دیا اور یہ سب جس نے تمہیں دیا، تمہارا ربّ تھا وہ ذات جس نے تمہیں خلق کیا اور ان لوگوں کو بھی خلق کیا جو تم سے پہلے تھے تو ذرا غور کرو تمہیں کس نے خلق کیا کون ہے جو تمہیں خلق کر کے تمہاری ضروریات بھی خلق کر کے فراہم کر رہا ہے؟ کون ہے جس نے تمہیں یہ سب صلاحیتیں دیں ؟ جس نے تمہیں یہ سب دیا اسی
کے لیے ان سب کا استعمال کرو۔
اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ھٰذَا صِرَاط’‘ مُّسْتَقِیْم’‘ ۔ آل عمران ۵۱
اس میں کچھ شک نہیں اللہ تھا میرا ربّ اور تمہارا ربّ ، کس کی عبادۃ یعنی غلامی کر رہے ہو؟ یعنی تمہیں جو کچھ بھی دیا گیا کس کے لیے ان سب کا استعمال کر رہے ہو؟ پس اسی کی عبادۃ کرو یعنی اسی کے لیے ان سب کا استعمال کرو جس نے تمہیں یہ سب دیا یہ ہے صراط المستقیم یعنی یہ ہے وہ لائن جسے قائم کرنے کے لیے
تمہیں دنیا میں لایا گیا تمہیں وجود دیا گیا۔
المائدہ کی آیت نمبر ۷۲ میں ہے کہ یہی عیسیٰ ابن مریم نے بنی اسرائیل کو کہا۔
وَقَالَ الْمَسِیْحُ ٰیبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ۔ المائدہ ۷۲
اور کہا تھا المسیح نے یعنی عیسیٰ ابن مریم نے اے بنی اسرائیل کس کی عبادۃ کر رہے ہو؟ کس کے عبد بنے ہوئے ہو؟ اللہ تھا جس کی عبادۃ کرنی ہے جس کا عبد بننا
ہے اللہ وہ تھا جو میرا ربّ ہے اور تمہارا ربّ۔
سورۃ الاعراف کی آیت نمبر ۵۹ میں ہے کہ یہی نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا۔
لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖ فَقَالَ ٰیقَوْمِ اعْبُدُوااللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ۔ الاعراف ۵۹
تحقیق کہ بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف پس کہا تھا نوح نے اے میری قوم کس کی عبادۃ کر رہے ہو؟ کس کے عبد بنے ہوئے ہو؟ اللہ تھا جس کی عبادۃ کرنی ہے جس کا عبد بننا ہے، نہیں ہے تمہارے لیے جتنے بھی الٰہ ہیں ان سے اس کے علاوہ کوئی الٰہ۔ یعنی تمہیں جو کچھ بھی دیا گیا ذہانت ہو، مال ہو، اولاد ہو یا کچھ بھی ہو جو کچھ بھی دیا گیا تو دیکھو یہ سب تمہیں کس نے دیا کیا فطرت نے ہی تمہیں وجود نہیں دیا؟ فطرت ہی وہ ذات نہیں جس نے تمہیں یہ سب عطا کیا؟ تو پھر ان سب کا استعمال کیا ہے کس مقصد کے لیے کس کے پیچھے ان سب کا استعمال کرنا ہے اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار اور حق کس کو ہونا چاہیے؟ کیا اس کے علاوہ کوئی بھی ایسا ہے کہ جس کی بات مان کر جس کے کہے کے مطابق ان سب کا استعمال کیا جائے ؟ نہیں بالکل نہیں جب یہ سب اسی ذات نے عطا کیا ہے تو پھر ظاہر ہے اس نے یہ سب جس مقصد کے لیے دیاہے اسی کو علم ہے اور اسی کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے ان سب کا استعمال کرو یا ان میں سے کسی کا بھی استعمال
کرو۔
سورۃ الاعراف کی آیت نمبر۶۵ میں ہے کہ یہی ھود نے قوم عاد سے کہا
وَاِلٰی عَادٍ اَخَاھُمْ ھُوْدًا قَالَ ٰیقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ۔الاعراف ۶۵
سورۃ الاعراف کی آیت نمبر ۷۳ میں ہے کہ یہی صالح نے قوم ثمود کو کہا۔
وَاِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاھُمْ صٰلِحًا قَالَ ٰیقَوْمِ اعْبُدُوااللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ۔ الاعراف۷۳
سورۃ الاعراف کی آیت نمبر ۸۵ میں ہے کہ یہی شعیب نے قوم مدین کو کہا۔
وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْبًا قَالَ ٰیقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ۔ الاعراف ۸۵
اور سورۃ النحل کی آیت نمبر۳۶ میں ہے کہ اللہ نے ہر امت میں جو بھی رسول بھیجا تو ایک ایک رسول کی یہی دعوت تھی۔
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ۔ النحل ۳۶
اور تحقیق کہ یعنی تم اپنے گھوڑے دوڑا لو، اپنی تحقیق کر لو تم کو یہ حق حاصل ہے اور تم کو سننے دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں اسی مقصد کے لیے دیں بالآخر وہی تمہارے سامنے آئے گا جو کہا جا رہا ہے جو کہ قدر میں کر دیا گیا بعث کیا یعنی لوگوں میں سے ہی ایک بشر کو کھڑا کیا ہم نے ہر امت میں رسول کہ کس کی عبادۃ کر رہے ہو؟ یعنی جو کچھ بھی تمہیں دیاگیا وہ کس کے لیے کس کے پیچھے استعمال کر رہے ہو؟ اللہ تھا جس نے تمہیں یہ سب عطا کیا اور اسی کے لیے اس کہے کے مطابق ان سب کا استعمال کرو اور بچو ہر اس شئے سے جس کے پیچھے ان میں سے کسی بھی صلاحیت یا جو بھی دیا گیا استعمال کرنا اس سے یعنی اللہ سے بغاوت ہے۔
سورۃ النحل کی آیت نمبر ۳۶ میں اللہ کا کہنا ہے کہ ہر امت میں جو بھی رسول بعث کیا اس نے اپنی قوم کو یہی کہا کہ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ ، کہ کس کی عبادۃ کر رہے ہو؟ اللہ ہی کی عبادۃ کرو اور یہ اللہ نے خود اس قرآن میں بھی کہا جیسا کہ سورۃ یٰس کی آیت نمبر ۶۱ میں آپ دیکھ رہے ہیں۔
وَّاَنِ اعْبُدُوْنِیْ ھٰذَا صِرَاط’‘ مُّسْتَقِیْم’‘۔ یٰس ۶۱
سورۃ یٰسکی آیت نمبر۶۱ میں اللہ کا کہنا ہے کہ کس کی عبادۃ یعنی غلامی کر رہے ہو ؟ صرف اور صرف میری ہی غلامی کرنی ہے اس لیے میری ہی غلامی کرو یہ ہے
صراط المستقیم یعنی یہ ہے وہ لائن جسے قائم کرنے کے لیے تمہیں دنیا میں لایا گیا تمہیں وجود دیاگیا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کیا ہے کیونکہ جب تک اللہ کا ہی علم نہیں ہو گا تب تک نہ تو یہ واضح ہو پائے گا کہ عبادۃ یعنی غلامی ہے کیا اور نہ ہی یہ واضح ہو گااللہ کی
غلامی کیسے کی جا سکتی ہے۔
اللہ کی عبادۃ کیا ہے اس کا اس وقت تک علم نہیں ہو سکتا جب تک کہ یہ واضح نہ ہو جائے کہ اللہ کیا ہے؟ اور اللہ کیا ہے اس کو بھی اللہ نے پورے قرآن میں جگہ جگہ
واضح کر دیا جیسا کہ آپ ان آیات میں دیکھ رہے ہیں۔
اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ھٰذَا صِرَاط’‘ مُّسْتَقِیْم’‘ ۔ آل عمران ۵۱
وَاِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ھٰذَا صِرَاط’‘ مُّسْتَقِیْم’‘۔ مریم ۳۶
ٰٓیاَیُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمْ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ البقرۃ ۲۱
اِنَّ اللّٰہَ اس میں کچھ شک نہیں اللہ تھا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہے اللہ؟ تو آگے اسی سوال کا جواب ہے کہ اللہ کیا ہے رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ وہ ہے اللہ جو میرا ربّ ہے اور تمہارا ربّ ہے یعنی جس نے مجھے اورتمہیں وجود دیا اور کسی نہ کسی مقصد کے لیے وجود دیا اورتمام تر ضروریات کو وجود میں لا کر فراہم کر رہا ہے تو ذرا غور کریں وہ کون سی ذات ہے جس نے آپ کو وجود دیا اور نہ صرف آپ کو وجود دیا بلکہ آپ کی تمام تر ضروریات کو بھی وجود میں لا رہا ؟
جب آپ غور کریں گے تو یہ کائنات میں جو کچھ بھی ہے یہ آپ کے سامنے آئے گا یعنی فطرت ہی آپ کے سامنے آئے گی۔ آسمانوں و زمین میں کل کائنات
میں جو کچھ بھی ہے یہی بطور ربّ سامنے آئے گا اور پھر دیکھیں یہی اللہ نے سورۃ الزخرف میں بھی بالکل واضح الفاظ میں بیان کر دیا۔
اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ رَبِّیْ وَربُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ھٰذَا صِرَاط’‘ مُّسْتَقِیْم’‘۔ الزخرف ۶۴
اِنَّ اللّٰہَ اللہ کی ’’ہ‘‘ پر زبر ہے جس سے لفظ اللہ ماضی کا صیغہ بن جاتا ہے یوں اِنَّ اللّٰہَ کے معنی بنیں گے اس میں کچھ شک نہیں اللہ تھا ۔ اِس وقت دنیا میں موجود انسانوں سے خطاب کرتے ہوئے اللہ کہہ رہا ہے قرآن کہہ رہا ہے کہ اس میں کچھ شک نہیں اللہ تھا یعنی تم جسے اللہ کہہ رہے ہو جسے اللہ سمجھ رہے ہوتمہیں جو اللہ بتایا گیا ایسا کوئی اللہ وجود نہیں رکھتا بلکہ جو اصل میں اللہ ہے تم نے اس کو اللہ تھا کیا ہوا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تھا اللہ جو کہ انسانوں نے اللہ کو تھا کیا ہوا ہے انہیں علم ہی نہیں کہ اللہ کیا ہے جسے یہ اللہ کہہ رہے ہیں وہ اللہ ہے ہی نہیں تو آگے اسی سوال کا جواب بھی دے دیا گیا ھُوَ یہ دو الفاظ کا مجموعہ ہے پہلا لفظ ’’ہ‘‘ اور دوسرا لفظ ’’و‘‘ ہے۔ ’’ہ‘‘ کسی بھی شئے کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور ’’ہ‘‘ پر پیش کے استعمال سے یہ حال کا صیغہ بن جاتا ہے جس کے معنی بنتے ہیں کسی ایسی شئے کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے جو موجود ہے اب جب اپنے ارد گرد دیکھیں کہ کیا موجود ہے تو بہت کچھ نظر آئے گا تو جو بھی نظر آئے گا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اللہ ہے تو آگے اسی کا جواب بھی موجود ہے ’’و‘‘ و کے معنی ہیں اور، اور’’ و‘‘ پر زبر کے استعمال سے یہ ماضی کا صیغہ بن جاتا ہے یوں ھُوَ کے معنی بنتے ہیں کہ جو کچھ بھی موجود ہے اس کی طرف اشارہ کرتے جائیں اس کا ذکر کرتے جائیں یہاں
تک کہ ’’و‘‘ یعنی اور ماضی کا قصہ نہیں بن جاتا ہے ماضی کا صیغہ نہیں بن جاتا۔
مثلاً جب آپ دیکھیں کہ کیا ہے جو موجود ہے تو درخت نظر آئیں گے تو سوال پیدا ہوتا ہے کیا بس درخت ہی موجود ہیںان کے علاوہ اور کچھ موجود نہیں تو جواب ہے کہ نہیں اور بھی ہے پہاڑ بھی ہیں اسی طرح اور اور کرتے جائیں پہاڑ اور سمندر اور زمین اور چاند اور سورج اور نظام شمسی اور کہکشاں اسی طرح اور اور کرتے جائیں تو جہاں اور ختم ہو جائے اور یعنی ’’و‘‘ ماضی کا صیغہ بن جائے تو جو سامنے آئے گا وہ ذات ہے اللہ، جب اور ختم ہو کر ماضی میں چلا جائے تو صرف اور
صرف ایک ہی وجود سامنے آئے گا اس کے علاوہ اور کچھ ہے ہی نہیں جو کہ اللہ ہے یوں جو کچھ بھی آپ کو نظر آ رہا ہے یہ آپ کو اللہ ہی کا وجود نظر آ رہا ہے۔
بالکل ایسے ہی جیسے آپ کے جسم کے اعضاء کو اور اور کرتے جائیں جب اور ختم ہو جائے گا اور ماضی کا صیغہ بن جائے گا تو پورے کا پورا وجود سامنے آ جائے گا جسے نذیر یا کوئی بھی نام دیا جائے گا کہ یہ ہے نذیر۔ جسم کے کسی بھی عضو کو نذیر نہیں کہا جا سکتا بلکہ ہر عضو کا الگ الگ نام ہے اور ہر عضو نذیر کی آیت ہے۔
رَبِّیْ وَربُّکُمْ یہ ھُوَ ہی ہے جوربّ ہے میرا اور ربّ ہے تمہارا۔ اور پہلے ہی یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو چکی کہ ربّ تو یہی ذات سامنے آتی ہے جو موجود ہے ۔ جو کچھ بھی نظر آ رہا ہے اللہ ہی کا وجود نظر آ رہا ہے اس کے علاوہ تو کوئی دوسرا ہے ہی نہیں۔ فَاعْبُدُوْہُ کس کے عبد بنے ہوئے ہو پس یہی وجود ہے جو
موجود ہے اسی کے عبد بنو یعنی کس کی عبادۃ کر رہے ہو پس اسی کی عبادۃ کرو۔
عبادۃ جسے اردو میں عبادت لکھا اور پڑھاجاتا ہے اس کے معنی کیا ہیں یعنی کسی کا عبد بننا کیا ہے عبادۃ کسے کہتے ہیں ؟
عبادۃ کیا ہے اورلفظ عبادۃ کا معنی کیا ہے؟
انسانوں کی اکثریت لفظ عبادت کو اردو کا لفظ سمجھتی ہے لیکن یہ لفظ اردو کا نہیں بلکہ عربوں کی زبان عربی کا ہے اور عربی میں اسے یوں لکھا جاتا ہے ’’عبادۃ‘‘ اور جب عربی لہجے میں اس لفظ کو پڑھا جاتا ہے ’’ۃ‘‘ ساکت ہو کر ’’ہ‘‘ کی آواز میں بدل جاتی ہے یعنی اسے عبادۃ پڑھا یا بولا جائے گا۔ عربی کا لفظ
’’عبادۃ‘‘ جب اردو میں شامل ہوا تو اسے عربی کی بجائے اردو لہجے میں ’’ۃ‘‘ کیساتھ بولا گیا اور بولا جاتا ہے یعنی عبادت۔
اب آتے ہیں اس لفظ کے معنی کی طرف۔
سب سے پہلے ایک مثال آپ کے سامنے رکھتے ہیں تا کہ آپ پر بات ہر لحاظ سے کھل کر واضح ہو جائے۔ مثلاً آپ تصور کریں کے آپ میں وہ تمام تر اور احسن صلاحیتیں موجود ہیں جو ایک انتہائی پیچیدہ ترین مشین بنانے کے لیے ضروری ہوں یعنی آپ شروع سے لیکر آخر تک مشین کے مکمل ہونے تک واحد ایسی ذات ہیں کہ جس نے وہ مشین تیار کی اور پھر صرف اور صرف آپ میں ہی اس مشین کو احسن طریقے سے چلانے کی صلاحیتیں ہیں اور آپ کے علاوہ کوئی بھی دوسری
ایسی ذات نہیں جس میں وہ صلاحیتیں ہوں جو آپ میں ہیں۔
اورپھر مشین ایسی ہے کہ اگر رائی برابر بھی عمل خلاف ہدایات کیا جائے تو اس میں خرابیاں ہو جائیں اور بالآخر تباہ ہو جائے۔ آپ نے مشین مکمل کر لی اور اسے
چلانے کے لیے آپ نے ارادہ کیا کہ کسی دوسرے کو اس مشین پر معمور کیا جائے کسی دوسرے کو مشین پر نائب بنا دیا جائے جس کے لیے آپ کسی کو لے کر آتے
ہیں۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آپ فوراً مشین اور اس کا سارا انتظام اس کے حوالے کر دیں گے؟ اس کے باوجود کے آپ کے علاوہ کوئی دوسرا اس مشین
کے بارے میں الف ب تک بھی نہیں جانتا اور نہ ہی کسی میں اس مشین کو چلانے اور اس کا انتظام سنبھالنے کی صلاحیت ہے؟
تو جواب بالکل واضح ہے کہ نہیں بالکل نہیں۔
آپ فوراً مشین اور اس کا انتظام اس کے حوالے نہیں کریں گے بلکہ آپ سب سے پہلے وہ صلاحیتیں اسے عطا کریں گے جو صلاحیتیں اس مشین کو چلانے کے لیے حاصل ہونا ضروری ہیں جو کہ لامحدود نہیں بلکہ محدود ہوں گی اس مشین کے انتظام چلانے کی حد تک یوں آپ اس کو وہ تمام صلاحیتیں دیتے ہیں جو اس مشین کو
چلانے اور اس کا انتظام سنبھالنے کے لیے ضروری ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آپ نے اسے یہ تمام صلاحیتیں دیں تو کیوں؟ کیا ان صلاحیتوں کے دینے کا کوئی مقصد نہیں ہو گا؟
آپ نے اسے وہ محدود صلاحیتیں خاص مقصد کے لیے دیں تا کہ وہ ان صلاحیتوں سے اس مقصد کو پورا کرے جس مقصد کے لیے وہ صلاحیتیں اسے دی گئیں اور اس پر فرض ہے کہ وہ ان صلاحیتوں کو صرف اور صرف اسی مقصد کے لیے استعمال کرے کیونکہ اگر وہ ان صلاحیتوں کا رائی برابر بھی اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے گا تو مشین میں خرابیاں اور بالآخر تباہ ہو جائے گی۔ مالک نے جو صلاحیتیں دیں ان صلاحیتوں کا خالص اسی مقصد کے لیے استعمال کرنا جس مقصد کے
لیے مالک نے دیں یہ عربی میں عبادۃ یا عبادت اور اردو میں غلامی کہلاتی ہے جسے اردو میں بھی زیادہ تر عبادت کہا جاتا ہے۔
اللہ جو کہ آپ کا ربّ ہے اور ربّ کون ہے یہ بالکل واضح ہو چکا ہے کہ ایک ہی ذات ہے اللہ کی ذات اور ہر طرف اسی کا وجود نظر آ رہا ہے ، اللہ نے انسان کو جتنی بھی صلاحیتیں دیں جو کچھ بھی دیا ایک تو وہ محدود ہیں اور دوسرا یہ کہ ان کے دیئے جانے کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہے۔ جیسے ہمارے ہاتھ، پاؤں، آنکھیں، کان، ناک سمیت جتنے بھی ہمارے جسم کے اعضاء ہیں پھر ہمارے کھانے کے لیے ہماری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جو کچھ بھی ہمیں خلق کر کے عطا کیا خواہ وہ سانس لینے کے لیے آکسیجن ہی کیوں نہ ہو ہمارے سوچنے، سمجھنے، غوروفکر کرنے، تدبر و تفکر کرنے، کچھ بھی کرنے کی صلاحیتیں، مال و دولت یا اولاد ہی کیوں نہ ہویہ سب کچھ محدود اور کسی نہ کسی مقصد کے لیے دیا۔ اگر آپ ان تمام کا جو کچھ بھی آپ کو دیا گیا اور صلاحیتوں کوخالص اس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں جس مقصد کے لیے اللہ نے دیں اور رائی برابر بھی اپنی مرضی،اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے استعمال نہیں کرتے تو یہ اللہ کی عبادۃ جسے اردو میں غلامی یا عبادت اور
فارسی میں بندگی کہا جاتا ہے ہو گی۔
اور اگر ان اشیاء اور صلاحیتوں کا یا جو کچھ بھی اللہ نے دیا اللہ کے واضح کردہ مقصدکے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال کریں گے تو وہ اسی شئے کی عبادۃ کہلائے گی جس کے پیچھے اور جس کے لیے یا جس کی خاطران اشیاء اور صلاحیتوں کا استعمال کریں گے۔ اگر کوئی اپنی ان صلاحیتوں جن میں ذہانت بھی ہے اس ذہانت کو مال و دولت اوردنیاوی مال و متاع کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہے تو وہ اسی کی عبادۃ کر رہا ہے جس کے حصول کے لیے یا جس کے پیچھے ان صلاحیتوں کا استعمال کر رہا ہے اور ایسا انسان اس شئے کا عبد کہلائے گا یعنی غلام کہلائے گا اور جس کے پیچھے اس نے اپنی ان صلاحیتوں یا جو کچھ بھی دیا گیا کا
استعمال کیا وہ شئے، وہ ذات اس کا الٰہ کہلائے گی۔
(جاری ہے)۔۔۔۔۔ 


Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7


No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...