Thursday, September 15, 2022

                                 WARNING FROM MOTHER NATURE


قسط نمبر#44

الٰہ اسے کہتے ہیں جس کے پیچھے ان سب کا جو کچھ بھی دیا گیا اور صلاحیتوں وغیرہ کا استعمال کرنا اور ایسا کرنے والا اس الٰہ کا عبد کہلاتا ہے۔
بہت ہی سوچے سمجھے منصوبے کہ تحت عبادۃ کو پوجا پاٹ اورپرستش میں بدل دیا گیا۔ پوجا پاٹ اور پرستش وغیرہ بے مقصد ہوتی ہے جس کی کی جاتی ہے وہ خود محتاج ہوتا ہے اللہ کی ذات محتاج نہیں اللہ الغنی ہے اسے کسی قسم کی کوئی حاجت نہیں اگر وہ انسانوں کو کوئی حکم دیتا ہے تو اس میں ان کا اپنا ہی فائدہ یا نقصان پنہاں ہوتا ہے اللہ سبحان ہے یعنی اللہ اس سے پاک ہے کہ وہ کوئی ایسا حکم دے جو بے مقصد ہو۔ جب تک یہ ہی علم نہ ہو گا کہ اللہ نے جو کچھ بھی آپ کو عطا کیا وہ اورجو بھی صلاحیتیں دیںکس مقصد کے لیے سب دیا تو ان کا اس مقصد کے لیے استعمال کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اور جب کہ سب کے سب انسان دن رات ان سب کا استعمال کر رہے ہیں تو پھر یہ سوچنا اور غوروفکر کرنا چاہیے کہ کیوں خود ہی کو دھوکا دیا جا رہا ہے اور نہ جانے دن رات کتنے الہٰوں کی عبادۃ میں مصروف ہیں۔
اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ رَبِّیْ وَربُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ھٰذَا صِرَاط’‘ مُّسْتَقِیْم’‘۔ الزخرف ۶۴
اس میں کچھ شک نہیں اللہ تھا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون تھا اللہ ؟ تو آگے اسی سوال کا جواب موجود ہے کہ اللہ یہ نہیں جسے تم اللہ کہہ رہے ہو جسے تم اللہ سمجھ رہے ہو جسے تم اللہ بنائے ہوئے ہو کہ کائنات الگ ہے اور اللہ الگ اوپر آسمانوں پر چڑھ کر بیٹھا ہوا ہے بلکہ یہ تو تمہارے اپنے خود ساختہ اللہ کے نام پر گھڑے ہوئے بے بنیاد و باطل عقائد و نظریات ہیں جن کا اللہ کیساتھ کوئی تعلق نہیں جسے تم اللہ کہتے ہو جو نقشہ اللہ کا تم نے اپنے دماغوں میں گھڑ رکھا ہے وہ محض تمہارے دماغوں کی اختراع ہے اس کا حق کیساتھ کوئی تعلق نہیں اللہ کو تو تم نے تھا کیا ہوا ہے اور اللہ کیا ہے آگے اسی سوال کا جواب دے دیا گیا ھُوَ ھُوَ ہے اللہ یعنی جو کچھ بھی موجود ہے اور اور کرتے جاؤ یہاں تک کہ اور ختم ہو کر ماضی کا صیغہ بن جائے تو جو ذات سامنے آئے گی تو وہ اللہ ہے ۔ یہی وہ ذات ہے رَبِّیْ وَربُّکُمْ میرا ربّ اور تمہارا ربّ یعنی غور کروکیا تمہیں اسی نے وجود نہیں دیا اور پھر دیکھو تمہاری ضروریات کیا ہیں تمہارے سانس لینے کے لیے آکسیجن، پینے کے لیے پانی، کھانے کے لیے گوشت سمیت طرح طرح کے پھل سبزیاں وغیرہ، تمہاری سواری کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے گدھے، گھوڑے، خچر، رہنے کے لیے زمین اور جو کچھ بھی تمہاری ضروریات ہیں ذرا غور کرو ان کو کون وجود میں لا رہا ہے ؟ کیا یہی ذات ان سب کو وجود میں نہیں لا رہی جو ہر طرف نظر آ رہی ہے ؟ جنہیں تم مخلوقات کا نام دیتے ہو؟ جب اسی نے وجود دیا اور یہی ذات تمہاری تمام تر ضروریات وجود میں لا رہی ہے تو پھر ربّ کون ہوا؟ اور ذرا غور کرو یہی ذات نہیں یہی فطرت نہیں جس نے تم میں صلاحیتیں رکھیں؟ جب اسی نے تم میں صلاحیتیں رکھیں تو اس نے جو کچھ بھی تمہیں دیا وہ کس مقصد کے لیے دیا؟
ذرا غور کرو تمہاری ذات میں تمہارے ہاتھ کس کے لیے ہیں کیا تمہاری اپنی ہی ذات کی حفاظت کے لیے ہیں یا کسی دوسرے کے لیے؟ تمہاری ذات میں
تمہاری زبان کا مقصد کیا ہے تمہارے ہی وجود کی ترجمانی کرنا یا پھر کسی دوسرے کی؟
تمہاری ذات میں تمہارے دل کا مقصد کیا ہے کیا کسی دوسرے کے لیے دھڑکنا یا پھر تمہارے لیے؟
اسی طرح کسی بھی عضو کی مثال لے لو۔
تو جس ذات نے جو کہ فطرت ہے نے تمہیں وجود دیا کیا اس نے کسی اور کے لیے تمہیں وجود دیا؟ جو بھی صلاحیتیں اس نے تمہیں دیں کیا کسی اور کے استعمال
کے لیے کسی اور کے پیچھے استعمال کرنے کے لیے دیں؟ یا پھر اسی وجود کے لیے جس نے تمہیں یہ صلاحیتیں دیں؟
جب وجود اس ذات نے دیا تمام تر صلاحیتیں یا جو کچھ بھی ہے اسی ذات نے دیا تو پھر جو کچھ بھی اس نے دیااس کا استعمال اس کے علاوہ کسی اور کے لیے کرو کیا یہ حق ہو سکتا ہے؟ یا یہ ذات تمہیں اس بات کی اجازت دے گی کہ تم اسی کی دی ہوئی صلاحیتوں سے اسی کے ساتھ دشمنی کرو؟ فَاعْبُدُوْہُ ذرا غور تو کرو کیا کر رہے ہو کس کی غلامی کر رہے ہو ؟ یہ جو کچھ بھی تم کر رہے ہو تمہیں جو صلاحیتیں دیں، جو مال دیا، جو اولاد دی، جو ذہانت دی ،جو زندگی دی، جو صحت دی، جو وقت دیا، تمہیں سانس لینے کے لیے آکسیجن، کھانے کے لیے پھل سبزیاں، پینے کے لیے پانی ، رہنے کے لیے زمین، آرام کے لیے رات بنائی اور جو کچھ بھی تمہیں دیا تو ذرا غور کرو جس نے تمہیں یہ سب دیاکیا اسی کے لیے ان سب کا استعمال کر رہے ہو یا پھر اس کے ساتھ دشمنی میں ان سب کا استعمال کر رہے ہو؟
فطرت نے تمہیں یہ سب دیا اور تم اسی کے خلاف ان سب کا استعمال کر رہے ہو، اسی میں چھیڑ چھاڑ کر رہے ہو، پنگے لے رہے ہو، اسی میں تبدیلیاں کررہے ہو اس کی غلامی کے بجائے اس کیساتھ دشمنی کر رہے ہو تو باز آ جاؤ اگر تمہیں یہ سب کچھ دیا گیا تو اس لیے نہیں بلکہ اس لیے دیا گیا کہ اسی کی عبادۃ کرو اسی کی غلامی کرو یعنی جو کچھ بھی تمہیں دیا گیا اسی کے لیے اسی کی دیکھ بھال کے لیے استعمال کرو۔ کوئی اس کیساتھ دشمنی نہ کر پائے آسمانوں و زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے ان میں کوئی بھی ردوبدل نہ کر ے، ان میں چھیڑ چھاڑ نہ کرے، فطرت میں تبدیلیاں نہ کرے، مخلوقات کو ان کے مقامات سے نہ ہٹائے، اس مقصد کے لیے استعمال کرو اگر مخلوقات کو ان کے مقامات سے ہٹایا جا رہا ہے تو ایسا کرنے والوں کو روکنے کے لیے تمہیں یہ سب دیا گیا آسمانوں و زمین کی اصلاح کرنے کے لیے تمہیں یہ سب دیا گیا جیسے تمہاری ذات میں آنکھیں، کان، ناک، زبان ، منہ، ہاتھ اور پاؤں سمیت تمام کے تمام اعضاء کا مقصد تمہاری ذات کی غلامی ہے وہ جو بھی کریں تو تمہارے جسم کے لیے ہی کرتے ہیں بالکل ایسے ہی تم جو بھی کرو تو اللہ ہی کی غلامی کرو کوئی ایک بھی عمل اس کی بغاوت والا نہ ہو۔
اللہ کیا ہے اس پر یہاں موضوع کے مطابق مختصراً بات کی گئی اللہ کیا ہے اللہ پر پوری تفصیل کیساتھ آگے چل کر اسی موضوع کے تحت بات کی جائے گی تا کہ آپ کو ہر بات بالکل کھل کر سمجھ آ جائے۔ اللہ نے یہ بات بالکل کھول کر واضح کر دی کہ ہر رسول نے یہی دعوت آ کر دی، ہر رسول نے آ کر آسمانوں و زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے ان کے بارے میں حق کھول کھول کر واضح کیا کہ ان کی تخلیق کیسے کی گئی آسمانوں و زمین کی مثال بالکل تمہارے جسم یا مشین کی سی ہے اور یہی وجہ
ہے کہ ہر رسول کو ساحر کہا گیا۔
’’ساحر‘‘ سحر سے ہے اور سحر کہتے ہیں مخلوقات پر دسترس پانے مخلوقات کو کنٹرول کرنے کے علم یا صلاحیت کو اور ساحر کہتے ہیں اس شخص کو جس کے پاس ایسا علم یا صلاحیتیں ہوتی ہیں جن سے مخلوقات پر دسترس پائی جا سکے ان پر کنٹرول پایا جا سکے انہیں اپنے ماتحت کیا جا سکے اور وہ اس علم کا استعمال مخلوقات کو مسخر کرنے ان پر دسترس پانے کے لیے کرے، موجودہ دور میں اس علم کو سائنس اور جن کے پاس یہ صلاحیتیں یا علم ہوں انہیں سائنسدان کہا جاتا ہے۔ اردو میں سائنسدان انگلش میں سائنٹسٹ اور عربی میں اس قرآن میں اللہ نے لفظ ’’ساحر‘‘ کا استعمال کیا ہے۔ آپ قرآن اٹھا کر دیکھ لیں پورے کا پورا قرآن آسمانوں و زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے ان کے بارے میں بات کرتا ہے ہر رسول کی دعوت بھی یہی تھی۔ نہ تو قرآن میں کسی پوجا پاٹ کا ذکر ہے اور نہ ہی کسی ایک بھی رسول
نے پوجا پاٹ کی دعوت دی۔
آگے چل کر کئی مقامات پر آپ پر یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو جائے گی کہ اللہ صرف اور صرف تب ہی رسول بعث کرتا ہے جب اس سے پہلے وہ لوگ جن میں رسول بعث کیا جاتا ہے سو فیصد گمراہیوں میں ہوتے ہیں نور کی ایک کرن بھی نہیں ہوتی کسی کو نہیں علم ہوتا کہ حق کیا ہے ہر کوئی باطل پر ہوتا ہے اس کے باوجود ہر کوئی خود کو اہل حق سمجھ رہا ہوتا ہے اور ہر بار یہی وجہ بنی کہ رسول نے آ کر جب حق واضح کیا تو رسول کو سائنسدان کہا گیا کہ یہ تو ساری سائنسی باتیں کرتا ہے اور دین تو سائنس نہیں بلکہ پوجا پاٹ کا نام ہے جس پر ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو پایا جس پر یہ ایک لفظ بھی بیان نہیں کرتا اس لیے اسے تو دین کا علم ہی نہیں یہ تو دین کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے کہ انسانوں کو دین کی الف ب کا بھی علم نہیں ہوتا وہ جو کچھ انہیں اپنے آباؤ اجداد سے نسل در نسل منتقل ہوا اسے ہی دین سمجھ رہے ہوتے ہیں حالانکہ وہ ضلالٍ مبینٍ ہوتی ہیں سو فیصد گمراہیاں ہوتی ہیں ان کو حق کا بالکل بھی علم نہیں ہوتا اور ان کے برعکس جب رسول آ کر حق بیان کرتا ہے تو انسانوں کی اکثریت رسول کی دشمن بن جاتی ہے اس کی دعوت کو تسلیم کرنے کی بجائے اس کا کذب کرتی ہے۔
ہر امت ہر قوم کے شروع میں آنے والے رسول نے یہ حق کھول کھول کر واضح کیا اور پہلے ہی آگاہ کر دیا کہ اگر تم فطرت سے بغاوت کرو گے اللہ کی حدود سے تجاوز کرو گے تو جان لو اللہ نے آسمانوں و زمین کو ایسا خلق کیا ہے کہ آسمانوں و زمین میں لاتعداد مخلوقات ایسی ہیں جو غیب ہیں یعنی جنہیں تم سے چھپا دیا گیا اور کثیر تعداد ایسی مخلوقات کی بھی ہے جو متشابہات ہیں یعنی بالکل سامنے نظر تو آ رہی ہیں لیکن ان کا مقصد کیا ہے اس کا علم تمہیں نہیں دیا گیا یا پھر ان کی تخلیق یا مزید ان کے بارے میں تمہیں مکمل علم نہیں دیا گیا اس لیے اگر تم اللہ کی لگائی ہوئی حدود سے تجاوز کرتے ہو تو ایک وقت ایسا آئے گا جب اللہ نے جو تم سے چھپا دیا وہ تم پر کھلنا شروع ہو جائے گا وہ غیب نہیں رہے گا جب ایک شئے سامنے آئے گی تو پھر وہ ایک ہی نہیں بلکہ حادثاتی طور پر اللہ کے غیب سے مخلوقات کا سامنے آنے والا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ تم دن بہ دن آگے بڑھتے ہی جاؤ گے فطرت سے بغاوت میں بڑھتے ہی جاؤ گے یہاں تک کہ تم ہلاک ہو
جاؤ گے۔
جب جب انسانوں نے رسولوں کی دعوت سے اعراض کیا ان کی طرف سے کھول کھول کرواضح کیے جانے والے حق کو نظر انداز کرتے ہوئے فطرت سے بغاوت کی فطرت پر انحصار کرنے کی بجائے فطرت میں چھیڑ چھاڑ کرنا شروع کی تو ایک وقت ایسا آیا جب حادثاتی طور پراللہ کا غیب ظاہر ہونا شروع ہوگیا جب اللہ کا غیب ظاہر ہونا شروع ہوا تو انسانوں نے ان مخلوقات کو اپنی مرضیوں کے مطابق تاویلات پہنانا شروع کر دیں یعنی ان مخلوقات کا اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنا شروع کر دیا یوںزمین میں فساد کرنا شروع کر دیا یہاں تک کہ وہ زمین میں فساد عظیم کر بیٹھے کہ واپسی کا رستہ ہی بند ہو گیا۔ تو ہر دور میں ایسے لوگوں کو جو
فساد فی الارض کرتے ہیں انہیں اللہ نے اس قرآن میں یاجوج اور ماجوج کہا۔
اور پھر ہر امت کے آخر میں جب ان کے اپنے ہی ہاتھوں یعنی یاجوج اور ماجوج کے کیے ہوئے فساد کا بھیانک رد عمل ان کی سزا عذاب عظیم سر پر آ پہنچا تو اللہ نے اپنا رسول بھیجا جس نے آ کر پھر وہی سارا حق کھول کھول کر واضح کر دیا اور کھول کھول کر متنبہ کیا کہ اب بھی وقت ہے فساد کرنے سے باز آ جاؤ اللہ سے رجوع کرو ورنہ عذاب تمہارے سر پر کھڑا ہے اور بھلا جو ہوں ہی مجرم وہ کیوں اللہ کے بھیجے ہوئے کی دعوت کو تسلیم کریں گے یہاںتک کہ وہ اسے اللہ کا بھیجا ہوا ہی کیوں تسلیم کریں گے وہ تو ہر لحاظ سے اس کی تکذیب ہی کریں گے اس سے دشمنی ہیں کریں گے یہی ماضی میں ہوتا آیا اور یہی آج بھی ہو گا پھر بالآخر رسول کی موجودگی میں عذاب دیا گیا یاجوج اور ماجوج کو یک لخت عذاب شدید سے ہلاک کر دیا گیا ان کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا اور رسول اور اس کے ساتھیوں مومنوں یعنی جو رسول کی دعوت کو دل سے تسلیم کر کے اس پر عمل کرنے والے ہوئے انہیں رسول کیساتھ اس عذاب سے بچا لیا گیا اور پیچھے زمین کا وارث بنا دیا گیا یہی سب آج ہونا تھا جو کہ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔
یاجوج اور ماجوج کیا ہیں یہ تب ہی واضح ہونا تھا جب اللہ کے وعدے کے مطابق اس امت کے آخر میں عذاب سر پر آ جانا تھا اس سے پہلے اگر کوئی یاجوج اور ماجوج کے بارے میں راہنمائی کا دعویدار بنتا ہے تووہ اللہ کا شریک ہی ہو سکتا ہے جو اپنی بات اپنے دعوے میں بالکل بے بنیاد اور جھوٹا ہے۔ آج سے چودہ صدیاں قبل جب انسان ضلالٍ مبینٍ میں تھے یعنی سو فیصد گمراہیوں میں تھے کسی ایک کو بھی علم نہیں تھا کہ حق کیا ہے نور کی ہدایت کی ایک کرن بھی نہیں تھی تب اللہ نے محمد رسول اللہ کو بعث کیا اور محمد پر آسمانوں و زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے ان کے بارے تمام کے تمام راز کھول کھول کر واضح کر دیئے اور محمدنے احسن
طریقے سے اس ذمہ داری کو نبھایا۔
انسانوں پر واضح کیا کہ جسے تم دین کا نام دے کر اس پر قائم ہو وہ دین نہیں ہے بلکہ دین تو فطرت ہے فطرت پر قائم ہونا ہی اصل مقصد ہے، محمد پر یہ سب واضح ہو چکا تھا کہ آج جب انسانوں کو دین کا علم ہی نہیں ان کو علم ہی نہیں کہ حق کیا ہے وہ پوجا پاٹ کو جو کچھ بھی آباؤ اجداد سے نسل در نسل چلا آ رہا ہے اسے ہی دین سمجھے ہوئے ہیں تو پھر اصل دین سے تو یہ بالکل لا علم ہیں یہ دین کو الگ اور دنیا کو الگ قرار دے کر زیادہ سے زیادہ حصول کے لالچ میں فطرت میں چھیڑ چھاڑ شروع کر چکے ہیں اگر انہیں آج نہ روکا گیا تو عنقریب اللہ کے غیب کا سلسلہ کھل جائے گا اور انسان اس کے پیچھے اس کی اتباع میں اللہ کے غیب کی مخلوقات کو اپنی من مانیوں اور اپنی خواہشات کی اتباع میں استعمال کریں گے ان کو اپنی مرضی کیمطابق استعمال کریں گے تو آہستہ آہستہ آسمانوں و زمین میں سب کچھ درہم برہم ہو جائے گا، اس لیے محمد نے اس وقت لوگوں کو پہلے تو دعوت دی اور جب دعوت دے چکے تو جو قوت میسر آئی اس کیساتھ انسانوں کو فطرت میں مداخلت کرنے سے روکنے کے لیے میدان میں کود پڑے اور قوت کیساتھ انہیں فطرت کو تبدیل کرنے سے روک دیا اور یہ بات بھی واضح کر دی کہ جب تک لوگ فطرت پر قائم رہیں گے نہ تو یاجوج اور ماجوج کا کوئی تصور ہو گا اور نہ ہی الدجّال کا ، تب تک الساعت سمیت الساعت کی کوئی ایک بھی شرط ظاہر نہیں ہو گی لیکن جیسے ہی فطرت سے بغاوت کی جائے گی تو ایسا کرنے والے یاجوج اور ماجوج ہوں گے یعنی جب زمین میں فساد شروع ہو جائے گا تو ایسا کرنے والے یاجوج اور ماجوج ہوں گے، جیسے جیسے وقت گزرے گا تو یاجوج اور ماجوج یعنی زمین میں فساد کرنے والوں کی بھی کثرت ہوتی چلی جائے گی یہاں تک کہ پوری زمین ایسے لوگوں سے بھر جائے گی یاجوج اور ماجوج مفسدون فی الارض سے بھر جائے گی جو آسمانوں و زمین میں سب کچھ درہم برہم کر دیں گے آسمانوں و زمین میں تمام مخلوقات کو انکے مقامات سے ہٹا دیں گے اور پھر نتیجتاً تباہیاں آئیں گی اور انسانوں سمیت آسمانوں و زمین کی تمام مخلوقات ان تباہیوں کی زد میں آ ئیں گی۔
(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7


No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...