WARNING FROM MOTHER NATURE
قسط نمبر#52پھر آگے اللہ کا کہنا ہے
اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْٓ اَوْلِیَآئَ اِنَّآ اَعْتَدْنَا جَھَنَّمَ لِلْکٰفِرِیْنَ نُزُلًا۔ الکہف ۱۰۲
اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا کیا پس حساب کرتے ہیں وہ لوگ جو کفر کر رہے ہیں جو ہماری دعوت کو تسلیم نہیں کر رہے یعنی یہ جو حق بالکل کھول کھول کر واضح کیا جا رہا ہے اور اس کے باوجود بھی حق کو تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں حق سے انکار ہی کر رہے ہیں یہ جب اپنے گریبانوں میں جھانکتے ہیں اپنے اعمال کو دیکھتے ہیں جو کچھ انہیں حاصل ہو چکا یہ جب اسے دیکھتے ہیں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ انہیں کچھ نہیں ہونے والا ان کے پاس بڑے جدید اسباب و وسائل ہیں یہ جو کچھ بھی کر
رہے ہیں ٹھیک ہی کر رہے ہیں یہ تو کچھ غلط کرہی نہیں رہے۔
اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْٓ اَوْلِیَآئَ کہ انہوں نے اخذ کیا ہوا ہے میرے عباد کو اپنے مشن میں اپنے مقصد میں معاونت کار مجھے یعنی اللہ کو ہٹا کر۔
اللہ نے قرآن میں کئی مقامات پر یہ بات بالکل کھول کر واضح کر دی کہ آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے تمام کی تمام مخلوقات اللہ کی عباد ہیں۔ اللہ کے عباد کو من دون اللہ اولیاء بنانا یہ ہے کہ آج اگر آپ کو یہ سب حاصل ہوا تھا تو آپ کو چاہیے تھا کہ ان سب مخلوقات سے یا جو کچھ بھی آج آپ کو حاصل ہوا تو اللہ کو اپنا مقصد بنا کر اس کے لیے ان سب کا استعمال کرتے بالکل ایسے ہی جیسے سلیمان علیہ السلام نے کیا سلیمان علیہ السلام کا مقصد و مشن انسانیت کی خدمت یا ترقی و خوشحالی کے نام پر آسمانوں و زمین میں فساد کرنا نہیں تھا اور نہ ہی سلیمان نے اس مقصد و مشن میں ان اسباب سے معاونت حاصل کی بلکہ سلیمان نے اللہ کو یاد کیا سلیمان پر واضح ہو گیا کہ اللہ کیا ہے اور اگر اسے یہ اسباب حاصل ہوئے ہیں تو کس مقصد کے لیے دیئے گئے ہیں اور پھر سلیمان نے اللہ کو اپنا مقصد و مشن بناتے ہوئے آسمانوں و زمین کو فساد سے پاک کرنے کے لیے ان اشیاء سے معاونت اخذ کی بالکل ایسے ہی اپنا مقصد و مشن اللہ کو بنانا ہے اور اللہ کو مقصد و مشن بناتے ہوئے آسمانوں و زمین میں فساد کو روکنے اور اصلاح کے لیے ان اسباب سے معاونت حاصل کرنی ہے ورنہ اگر ان اسباب کا استعمال من اللہ کی بجائے من دون اللہ کیا تو دنیا و آخرت میں ہلاکت سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ اب آپ خود غور کریں کہ کیا آج وہی کیا جا رہا ہے جو سلیمان نے کیا یا پھر آج اس کے بالکل برعکس کیا
جا رہا ہے؟
آج آپ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اپنے ہی گریبان میں جھانک لیںجس جس کو جو کچھ بھی دیا گیا وہ من دون اللہ استعمال کر رہا ہے اور سمجھ رہا ہے کہ اسے کوئی زوال نہیں، نہ تو دنیامیں اسے کوئی عذاب مل سکتا ہے اور نہ ہی آخرت میں حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہر شخص اپنی ذات میں غور کرے
کہ اللہ نے اسے کیا کیا دیا اور وہ اس کا کس مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہے کس سے بچنے کے لیے استعمال کر رہا ہے؟
آپ کو جو بھی صلاحیتیں دی گئیں جو اسباب و وسائل دیئے گئے جو مال و دولت دی گئی جو عقل و ذہانت دی گئی جو بولنے کی صلاحیت دی گئی جو اولاد دی گئی خواہ کچھ ہی کیوں نہ دیا گیا ذرا غور کریں ان کا استعمال کس کے لیے کر رہے ہیں؟ آپ کا مقصد و مشن کیا ہے جس کو پورا کرنے کے لیے جسے پانے کے لیے ان سب سے معاونت حاصل کر رہے ہیں؟ حق آپ پر بالکل واضح ہو جائے گا اور آپ کا انجام کیا ہے وہ بھی بالکل کھل کر واضح ہو جائے گا۔ اگر تو آپ کا مقصد اللہ ہے اور من اللہ ان سب کا استعمال کر رہے ہیں تو الحمد للہ ورنہ جو آپ کر رہے ہیں اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے لیے جہنم تیار کر رہے ہیں جس کا اللہ نے آگے ذکر کر دیا اِنَّآ اَعْتَدْنَا جَھَنَّمَ لِلْکٰفِرِیْنَ نُزُلًا یعنی اب اپنا محاسبہ کرو جب تم پر حق بالکل کھول کھول کر واضح کر دیا یہ کافرین کے لیے اترا ہے اب جب تم اپنا احتساب کرو گے تو تم پر واضح ہو جائے گا کہ تم خود اپنے لیے جہنم تیار کر رہے ہو۔ اب جب حق تمہارے لیے اتارا گیا ہے کھول کھول کر واضح کر دیا گیا ہے تو اب اپنا احتساب کرو اب تم پر یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو جائے گی تم خود یہ کہنے پر مجبور ہو جاؤ گے کہ اس میں کچھ شک نہیں ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں جو جہنم تھی جس کا
وعدہ کیا گیا تھا اسے تیار کر رہے ہیں۔
پیچھے آپ پر واضح کر دیا گیا کہ جو کچھ بھی آپ کو دیا گیا اگر آپ انسانیت کی خدمت کے نام پر جدیدیت و ترقی کے نام پر دنیاوی مال و متاع کے حصول کے لیے اپنی خواہشات کی اتباع میںاس سب کا استعمال کر رہے ہیں تو آپ اپنے ہی ہاتھوں سے زمین کو جہنم بنا رہے ہیں آپ کے ان مفسد اعمال کے رد اعمال میں یہ زمین جہنم بن رہی ہے جو عنقریب مکمل تیار ہو جائے گی اور آپ کو اسی میں ڈالا جائے گا یہی اللہ نے اس آیت میں بھی واضح کر دیا کہ اے کافرین اور جان لیں کافرین سے مراد وہ نہیں جو دائرہ اسلام نامی مذہبی طبقے کی حدود و قیود سے باہر ہیں اللہ کے ہاں ایسا کوئی دائرہ نہیں اور نہ ہی اسلام کے نام پر جو کچھ آپ کر رہے ہیں وہ دین الاسلام ہے۔ کافرین کون ہیں پیچھے بار بار واضح کر دیا جو اللہ کی آیات سے کفر کر رہے ہیں جو حق بالکل کھول کھول کر واضح کر دیئے جانے کے باوجود بھی اسے تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں جو کچھ بھی آسمانوں و زمین میں ہے انہیں اللہ کی آیات ماننے سے انکار کر رہے ہیں اور الٹا ان میں پنگے لے رہے ہیں فطرت میں چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں اب اپنا محاسبہ کرو اور دیکھو کہ تم کیا کر رہے ہو؟ تم اپنے لیے خود اپنے ہی ہاتھوں سے جہنم تیار کر رہے ہو یہ تھی وہ جہنم
جو آج تم اپنے ہاتھوں سے تیار کر رہے ہو۔
پھر اگلی آیت میں اللہ کا کہنا ہے
قُلْ ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا ۔ الکہف ۱۰۳
اس وقت اللہ اپنے رسول کو یعنی اپنے بھیجے ہوئے کو کہہ رہا ہے جس کے ذریعے اللہ اس وقت انسانوں کو کھول کھول کر متنبہ کر رہا ہے حق کھول کھول کر واضح کر رہا ہے کہ تُو ان سے کہہ کیا ہم تمہیں وہ علم دیں جو ہمارے یعنی اللہ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ؟ جو یہ کر رہے ہیں اس سے ان کے لیے خسارہ ہے ان کا ایک ایک
عمل انہیں خسارے میں لے جا رہا ہے۔
اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا۔ الکہف ۱۰۴
ایسے لوگ جو ضل ہیں رستے سے ہٹ کر ہیں ان کی تمام تر سعی یعنی جو کچھ بھی یہ لوگ دنیاوی زندگی میں کر رہے ہیں وہ سوائے گمراہی کے کچھ بھی نہیں وَھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا اور یہ لوگ جو کچھ بھی کر رہے ہیں جو اعمال بھی کر رہے ہیں تو اپنی سعی کو دیکھ کر اپنے اعمال کو دیکھ کر یہی نتیجہ اخذ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں یہی نتیجہ طے کیے ہوئے ہیں کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ لوگ جو کچھ بھی کر رہے ہیں احسان ہی کر رہے ہیں خود کو محسن سمجھ رہے ہیں۔
یعنی آج کسی انجینئر کو لے لیں، کسی سائنسدان کو، کسی پروفیسر کو، کسی ٹیچر کو، کسی مولوی کو، کسی ڈاکٹر کو، کسی بینکر کو، کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والے شخص کو لے لیں تو حقیقت میں کیا کر رہا ہے حقیقت میں وہ آسمانوں و زمین میں فساد کر رہا ہے وہ اللہ کیساتھ دشمنی کر رہا ہے اور جب وہ اپنے اعمال کو دیکھتا ہے تو وہ یہی سمجھ کر بیٹھا ہوا ہے کہ وہ تو جو کچھ بھی کر رہا ہے احسان ہی کر رہا ہے وہ تو مسیحا ہے بہت اچھا شخص ہے مومن ہے وہ انسانیت کی خدمت کر رہا ہے۔ اللہ نے تو بالکل واضح کر دیا کہ اے عقل کے اندھوں تمہیں بے شک کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے لیکن جان لو یہ حق ہے کہ تم اللہ کیساتھ دشمنی کر رہے ہو تمہارا ایک ایک عمل تمہیں خسارے میں لے جا رہا ہے تم لوگ یاجوج اور ماجوج ہو تم لوگ جو بھی کر رہے ہو زمین میں فساد کر رہے ہو۔
ایک شخص ایمبولینسں بنا کر بیماروں کو ہسپتالوں میں لے جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ تو بہت بڑا محسن ہے انسانیت کی خدمت کر رہا ہے احسان کر رہا ہے لیکن حقیقت کیا ہے کبھی کسی نے غور ہی نہیں کیا کہ وہ گاڑی جسے تُو ایمبو لینس بنا کر انسانیت کی خدمت کا دعویدار بنا ہوا ہے اور اپنی نظروں میں بہت بڑا مومن و محسن بنا ہوا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ وہ گاڑی دابۃ الارض ہے جس کی تخلیق آسمانوں و زمین میں فساد عظیم سے ہوئی اس کے بعد اس میں جو ایندھن ڈال رہا ہے وہ زمین کا خون اللہ کے غیب کا کفر اللہ کی آیات کا کذب پھر وہ دابۃ الارض جو زہریلی گیسیں خارج کر رہا ہے آسمانوں و زمین میں فساد کر رہا ہے اس سے زمین جہنم بن رہی
ہے لا تعداد مخلوقات کا قتل ہو رہا ہے فساد عظیم ہو رہا ہے اور سمجھتا ہے کہ بہت بڑا احسان کر رہا ہے بہت اچھے اعمال کر رہا ہے۔
اسی طرح کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والا انسان اس میں غور کر لے تو اس پر حق بالکل کھل کر واضح ہو جائے گا کہ وہ محسن نہیں بلکہ مجرم ہے اللہ کا مجرم ، وہ اپنی نظروں میں مومن و محسن بنا بیٹھا رہے لیکن عنقریب اس کے پاس سوائے پچھتاوے اور چیخنے چلانے کے کچھ نہیں ہو گا۔ تب چیخے گا چلائے گا لیکن تب کچھ نفع
نہیں ہو گا۔
اللہ کے سب سے بڑے دشمن یہ ملّاں سمجھتے ہیں کہ یہ دین کی خدمت کر رہے ہیں اللہ کے نمائندے ہیں لیکن حقیقت میں کسی ایک کو بھی دین کا علم نہیں یہ اللہ کے نمائندے نہیں بلکہ اللہ کے مجرم ہیں ، جس کا دین کیساتھ کوئی تعلق ہی نہیں جو ہے ہی جہالت جو کہ پوجا پاٹ ہے یہ پوجا پاٹ کو دین کا نام دیکر اور جو دین ہے اسے دنیا کا نام دیکر انسانوں کے لیے اللہ کیساتھ دشمنی کی راہ ہموار کرتے ہیں آج آسمانوںو زمین کی حالت کے اصل اور بنیادی ذمہ دار یہی لوگ ہیں جو پہرا دار تھے۔ یہ خود کو بہت بڑے محسن سمجھتے ہیں خود کو اللہ کے چہیتے سمجھتے ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ انہیں اللہ کا ہی علم نہیں کہ اللہ کیا ہے یہ اپنے بے بنیاد باطل عقائد و نظریات کو ہی اللہ بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں اور جو اللہ ہے اس کا انہیں علم ہی نہیں الٹا اللہ کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں اور انسانوں کو بھی اللہ کیساتھ دشمنی پر ابھار رہے
ہیں ان کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں ۔ اگلی آیت میںاللہ کا کہنا ہے
اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ وَلِقَآئِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فَلاَ نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا۔ الکہف ۱۰۵
یہی ہیں وہ ، وہ لوگ جو کفر کر رہے ہیں ان کے ربّ کی آیات سے اوراپنے ربّ میں واپس ڈلنے سے ، پس ناکام کروا دیا ان کے اعمال نے انہیں جو بھی اعمال انہوں نے کیے وہ رستے سے ہٹ کر کرتے رہے جن کا نہ کرنا کرنے سے زیادہ بہتر تھا پس نہیں ہم قائم کر رہے ان کے لیے یوم القیامہ وزن۔ یعنی ان کے حسن
اعمال کے پلڑے بالکل خالی ہوں گے اس پلڑے میں کچھ بھی نہیں ہو گا کوئی وزن نہیں ہو گا۔
آج دنیا میں یہ یہی سمجھ رہے ہیں کہ یہ بہت بڑے بڑے احسن اعمال کر رہے ہیں انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں لیکن ان کا کوئی ایک بھی عمل ان کو کوئی نفع نہیں دینے والا بلکہ الٹا یہ اپنے ہاتھوں سے اپنے لیے جہنم تیار کر رہے ہیں ۔ اصل وجہ ہی یہی ہے کہ ان کو علم ہی نہیں ہے یہ لوگ ہیں ہی گمراہ، جب ان کو آخرت کا علم ہی نہیں کہ آخرت ہے کیا، جنت کا علم ہی نہیں کہ جنت ہے کیا، جہنم کا علم ہی نہیں کہ جہنم ہے کیا، یہ آخرت کو جنت و جہنم کو دیومالائی کہانیاں بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں جب آخرت جنت و جہنم ان کے نزدیک ہیں ہی دیو مالائی کہانیاںتو ظاہر ہے پھر یہ لوگ یہی سمجھیں گے کہ یہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں بہت اچھے اعمال کر رہے ہیں یہ بہت بڑے محسن ہیں حالانکہ خود اپنے ہاتھوں سے زمین کو وہی جہنم بنا رہے ہیں جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ حق اس قدر کھول کھول کر واضح کر دیئے جانے کے باوجود بھی یہ جو کچھ بھی آسمانوں و زمین میں ہے انہیں اللہ کی آیات ماننے کو تیار ہی نہیں یہ اللہ کی آیات سے کفر کر رہے ہیں جو ان کا ربّ ہے اس سے
کفر کر رہے ہیں ۔
کیا غور نہیں کیا کہ کون ہے ربّ تمہارا؟ ذراغور کرو! کیا یہی وہ ذات نہیں جس نے تمہیں وجود دیا جنہیں تم مخلوقات کا نام دیتے ہو،؟
ذرا غور کرو ! تم کیسے وجود میں آئے کیسے خلق ہوئے ؟ ذرا غور تو کرو! تمہاری ضروریات کیا کیا ہیں اور انہیں کون خلق کر رہا ہے؟ کیا یہی جو کچھ بھی آسمانوںو زمین میں ہے یہی سب سامنے نہیں آئے گا خالق کی صورت میں؟ جب یہی ربّ سامنے آتا ہے تو پھر ربّ سے ہی کفر کر رہے ہو۔ کیا اسی سے تم وجود میں نہیں آئے اور موت کے بعد دوبارہ اسی میں نہیں جا ملو گے؟ کیادوبارہ یہی ذات تمہیں وجود میں نہیں لائے گی؟ پھر بھی اسی سے کفر کر رہے ہو اس کی ایک بھی
ماننے کو تیار نہیں، اپنے ربّ کو مخلوقات کا نام دیکر اس کیساتھ دشمنی کر رہے ہو عقل کے اندھو غور تو کرو۔
اب جب اپنے ربّ ہی کی آیات سے کفر کر رہے ہو اور دن رات اپنے ہی ہاتھوں سے کیے جانے والے مفسد اعمال کو احسانات سمجھ رہے ہو تو تمہارا انجام کیا ہے جان لو تمہارا انجا م تم پر ہر لحاظ سے کھول کھول کر واضح کر دیا گیا خواہ مانو یا نہ مانو اور خواہ تمہیں کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے۔ پھر آگے اللہ کا کہنا ہے
ذٰلِکَ جَزَآؤُھُمْ جَھَنَّمُ بِمَا کَفَرُوْا وَاتَّخَذُوْٓا اٰیٰتِیْ وَرُسُلِیْ ھُزُوًا۔ الکہف ۱۰۶
وہ بدلہ ان کا جہنم اس کے سبب جو کفر کر رہے ہیں اور اخذ کر رہے ہیں میری آیات اور میرے رسولوں سے ھزوا یعنی اس وجہ سے ان کا انجام جہنم ہے ان کا بدلہ جہنم ہے جو یہ کر رہے ہیں اور جو یہ کر رہے ہیں یہ اللہ کی آیات سے کفر کر رہے ہیں ان میں چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں انہیں نقصان پہنچا رہے ہیں ان کیساتھ دشمنی کر رہے ہیں ان کے خلاف ہی ہر عمل کر رہے ہیں اور بالکل یہی یہ ہر اس کیساتھ بھی کر رہے ہیں جو میرا رسول ہے یعنی جو میرا بھیجا ہوا ہے جو میری آیات کو ان پر کھول کھول کر واضح کر رہا ہے ان پر حق ہر لحاظ سے کھول کھول کر واضح کر رہا ہے یہ اس کے احسان مند ہونے کی بجائے الٹا اس کیساتھ دشمنی کر رہے ہیں اس کا مذاق اڑا رہے ہیں اسکی تحقیر و تذلیل کر رہے ہیں، اسے نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندیاں کر رہے ہیں، اس کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہیں جس سے وہ متنبہ کر رہا ہے اس سے باز آ کر عذاب سے بچنے کی بجائے الٹا ڈنکے کی چوٹ پر وہی کر رہے ہیں۔ اپنے آباؤ اجداد کو ترک کر کے میرے رسول کی طرف سے کھول کھول کر واضح کردہ حق کو اخذ کرنے کی بجائے الٹا رسول کیساتھ دشمنی کر رہے ہیںاور آباؤ اجدادکو کسی بھی صورت چھوڑنے کو تیار ہی نہیں، اللہ کے بھیجے ہوئے سے دشمنی تو اللہ سے دشمنی ہے یہ اللہ کے رسول سے دشمنی نہیں بلکہ اللہ سے دشمنی کر رہے ہیں کیونکہ اگر یہ اللہ کا رسول نہ ہوتا تو کیایہ پھر بھی اس کیساتھ ایسا ہی کرتے؟ نہیں بلکہ اس کیساتھ صرف اور صرف اسی وجہ سے تو ایسا کر رہے ہیںکیوں کہ یہ اللہ کا رسول ہے جب اللہ کا رسول ہونے کی وجہ سے اس کیساتھ ایسا سب کر رہے ہیں تو پھر ظاہر ہے اصل میں یہ اللہ کیساتھ دشمنی کر رہے ہیں۔ رسول کا اپنا تو کوئی وجود ہوتا ہی نہیں رسول تو اللہ کی زبان ہوتا ہے زبان کا مقصد و ذمہ داری ہوتی ہے وجود کی ترجمانی کرنا پیغام پہنچانا سو رسول احسن طریقے سے پہنچا رہا ہے اب یہ اپنی منصوبہ بندیاں کریں اللہ کی اپنی منصوبہ بندی ہے جلد ہی
جان لیں گے کہ ان کیساتھ کیا ہوتا ہے جلد اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
جب زبان اپنا کام کرتی ہے اور زبان سے کوئی نہ مانے باز نہ آئے تو زبان کے فوراً بعد ہاتھ حرکت میں آتے ہیں لاتیں حرکت میں آتی ہیں لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے اس لیے زبان کو اپنا کام کر لینے دو رسول کو حق ہر لحاظ سے کھول کھول کر پہنچا لینے دو جیسے ہی رسول اپنا کام مکمل کر چکے گا تواس کے فوراً بعد
ہاتھ اور لاتیں حرکت میں آئیں گی تب تم مانو گے لیکن تب تمہارا ماننا تمہیں کوئی نفع نہیں دے گا۔
سو ائے اس وقت دنیا میں آباد لوگو جان لو حق تم پر کھول کھول کر واضح کر دیا گیا ابھی وقت ہے اپنی آنکھیں کھول لو ورنہ تمہارے ساتھ بالکل وہی ہونے والا ہے جو تمہارے آباؤاجداد قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم شعیب، قوم لوط و آل فرعون کیساتھ ہوا۔ عذاب عظیم القارعہ اور اس کے بعد الساعت تمہارے سر پر آ چکی
ہے تم کس کے انتظار میں ہو؟
جس جس کا بھی انتظار کر رہے ہو وہ سب کا سب تو ہو چکا اب سوائے صیحۃً واحدۃً القارعہ یعنی عالمی ایٹمی جنگ کے جس میں دنیا کی اسی فیصد آبادی اور تمہاری خلق
کردہ جنتیں صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گی اور اس کے بعد سوائے الساعت کے کچھ نہیں رہا۔
نہ صرف یاجوج اور ماجوج کھل کر واضح ہو گئے بلکہ آپ پر یہ واضح ہو چکا کہ آج پوری دنیا یاجوج اور ماجوج سے بھری ہوئی ہے اور مزید دہلا دینے والے حقائق
کھل کھل کر واضح ہو چکے جن کا دنیا کی کوئی طاقت رد نہیں کر سکتی۔
(جاری ہے)۔۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment