Sunday, October 9, 2022

                                        WARNING FROM MOTHER NATURE


قسط نمبر#59

آل فرعون اور اہرام مصر کا قرآن میں ذکر

آل فرعون کو جب غرق کیا گیا تو جو کچھ آل فرعون چھوڑ کر گئے تھے اس کا وارث پیچھے رہ جانے والوں کو بنا دیا گیا یعنی مصری قوم کو، بعد میں جا کر جب داؤد علیہ السلام کو زمین میں خلیفہ بنایا گیا یعنی داؤد علیہ السلام کو اقتدار حاصل ہوا تو داؤد علیہ السلام نے مصر کو بھی فتح کر لیا مصر فتح کرنے سے مصری قوم جو کہ نسل در نسل آل فرعون جو کچھ ترک کیے ہوئے تھے اس کی وارث تھی مصری قوم کے پاس علم اور اسباب تھے تو داؤد علیہ السلام کو وہ علم و اسباب حاصل ہوگئے یعنی اس وقت کی اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی حاصل ہوئی جس سے داؤد علیہ السلام کا اقتدار مزید مضبوط ہو گیا اسی کا ذکر اللہ نے قرآن میں مختلف مقامات پر کیا ہے جوکہ درج ذیل آیات کی صورت میں آ پ کے سامنے ہے۔
کَمْ تَرَکُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۔ الدخان ۲۵
بالکل اسی طرح جیسے آج موجودہ انسان جو کچھ انہوں نے بنا رکھا ہے حاصل کر رکھا ہے چھوڑ کر جا رہے ہیںجو جنتیں انہوں نے بنائی ہوئی ہیں اور پانی اور پینے کی
اشیاء کا جو بہترین نظام وضع کیا ہوا ہے ایسے ہی پیچھے چھوڑ گئے تھے آل فرعون۔
وَّزُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ کَرِیْمٍ ۔ الدخان ۲۶
اور کھیت اور مقام کریم یعنی جو زراعت کا نظام وضع کیا ہوا تھا اور جو زبردست مقام اپنے لیے آسائشوں و سہولتوں والا خلق کیا ہوا تھا۔
وَّنَعْمَۃٍ کَانُوْا فِیْھَا فٰکِھِیْنَ ۔ الدخان ۲۷
اور نعمتیں تھے ان میں مزے کرتے۔
کَذٰلِکَ وَ اَوْرَثْنٰھَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ ۔ الدخان ۲۸
بالکل اسی طرح آج بھی ہم جو پیچھے رہ جانے والے ہیں عذاب میں بچ جانے والے بعد والے لوگ انہیں ان سب کا وارث بنانے والے ہیں جیسے ہم نے آل
فرعون کے بعد جو کچھ وہ چھوڑ کر گئے ان کے بعد والوں کو وارث بنا دیا۔
آل فرعون یہ سب چھوڑ کر گئے تھے اور اللہ نے ان کو غرق کرنے کے بعد ایک دوسری قوم کو اس کا وارث بنا دیا وہ دوسری قوم کون سی تھی اب قرآن سے اس کا
جواب حاصل کرتے ہیں۔
فَاَخْرَجْنٰھُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْن۔الشعراء ۵۷
پس کیا کیا؟ نکال دیا انہیںجو جنتیں اور بہترین پانی کی سپلائی کا نظام انہوں نے بنا رکھا تھا۔
وَّکُنُوْزٍ وَّمَقَامٍ کَرِیْمٍ۔ الشعراء ۵۸
اور جو خزانے انہیں حاصل تھے اور جو زبردست مقام اپنے لیے آسائشوں و سہولتوں والا خلق کیا ہوا تھا۔
کَذٰلِکَ وَاَوْرَثْنٰہَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ ۔ الشعراء ۵۹
بالکل اسی طرح آج بھی ہم جو پیچھے رہ جانے والے ہیں عذاب میں بچ جانے والے بعد والے لوگ انہیں ان سب کا وارث بنانے والے ہیں جیسے وارث بنا دیا
ہم نے اس کا بنی اسرائیل کو۔
قرآن چونکہ احسن الحدیثِ ہے یعنی اپنے نزول سے لیکر الساعت کے قیام تک کی احسن تاریخ جو کہ مثلوں سے اتاری گئی اس لیے یہاں اصل میں آج موجودہ دور کی تاریخ ہے آل فرعون اور بنی اسرائیل کی مثلوں سے اس کے علاوہ اس مقام پر اللہ نے مزید واضح کر دیا کہ وہ دوسری قوم جسے آل فرعون کے چھوڑے ہوئے مال و متاع وغیرہ کا وارث بنایا وہ بنی اسرائیل تھے اور بنی اسرائیل سے مقام کریم اللہ نے داؤد علیہ السلام کو عطا کیا اور سلیمان علیہ السلام کو داؤد علیہ السلام کا وارث بنا دیا۔ یوں بنی اسرائیل سے سلیمان علیہ السلام کو اللہ نے آل فرعون کے چھوڑے ہوئے خزانوں وغیرہ اور مقام کریم کا وارث بنایا۔
اب ہم مزید آپ پر یہ واضح کرتے ہیں کہ آل فرعون اپنے پیچھے کیا کچھ چھوڑ کر گئے تھے اور اللہ نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنا دیا اور بنی اسرائیل کو داؤد علیہ السلام کے ذریعے وارث بنایا اور سلیمان علیہ السلام کو داؤد علیہ السلام کا وارث بنا دیا جس سے تمام تر اسباب و وسائل سلیمان علیہ السلام کو بطور وراثت حاصل ہو
گئے۔
وَّفِرْعَوْنُ ذُوالْاَوْتَادِ ۔ص۱۲
اور فرعون ہے جسے الاوتاد حاصل تھے الاوتاد والا۔
وَفِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۔ الفجر ۱۰
اور فرعون الاوتاد یعنی پھانوں کی صلاحیت والا۔
اوتاد جمع کا صیغہ ہے اس کا واحد ’’وتد‘‘ہے اور اس کے معنی اردو میں پھانہ، فانہ،تکونہ وغیرہ کے ہیں اور انگلش میں اسے Wedge کہتے ہیں۔
اسے آپ تصویر میں دیکھ سکتے ہیں۔
اگر اس کا رخ زمین کی طرف کیا جائے تویہ گاڑھنے والی شئے بن جائے گی جیسے کہ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
جو مضبوطی سے زمین میں گڑھ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر اسے کسی شئے پر رکھ کر اس میں گاڑھا جائے تو اس شئے کو یا سامنے والی کسی بھی شئے کو چیر پھاڑ دیتا
ہے اور اگر اس کا رخ آسمان کی جانب کیا جائے تو یہ ایک پہاڑ کی شکل میں نظر آتا ہے۔
جیسے کہ آپ اس تصویر میں دیکھ سکتے ہیں۔

اور الحمد للہ اگر قرآن میں غور کیا جائے تو اللہ نے پہاڑوں کو بھی اوتاد کہا ہے۔
وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ النبا ۷
اور پہاڑ الاوتاد یعنی پھانے۔
اور جب پہاڑوں کو دیکھیں تو بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ حقیقت میں پہاڑ پھانے ہی ہیںزمین میں پھانے کی طرح ہی مضبوطی سے گڑھے ہوئے ہیں ایسے کہ غیر متزلزل، اور اوپر کی جانب بھی بالکل پھانے کی طرح ہی نظر آتے ہیں جیسے کہ آپ آگے تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے اللہ نے فرعون کو اوتاد والا کیوں کہا؟ کیا فرعون میں بھی وہی خصوصیات موجود تھیں جو پھانے اور پہاڑوں میں پائی جاتی ہیں؟
ان تمام سوالات کے جوابات اس وقت سامنے آتے ہیں جب ہمیں اس مقام پر انسان کے بنائے ہوئے اوتاد نظر آتے ہیں جہاں فرعون کی حکومت تھی یعنی ملک مصر میں۔ قرآن میں کئی مقامات پر اللہ نے بتا دیا کہ فرعون مصر پر حکومت کرتا تھا اور مصر میں فرعون کے آج بھی آثار موجود ہیں جن میں ایسے آثار جنہیں دیکھ
کر انسان چونک جاتا ہے جنہیں اللہ نے قرآن میں اوتاد کہا۔ تصاویر میں دیکھئے۔
اللہ نے کتنا عظیم راز اپنے کلام میں کیسے کھول کر رکھا ہوا ہے کہ مصر میں موجود اوتاد جنہیں آج اہرام مصر کا نام دیا جاتا ہے اسی فرعون کے ہیں جسے غرق کر کے ہلاک کیا گیااور جب ہم ان اوتاد یعنی پھانوں جنہیں اہرام مصر کا نام دیا جاتا ہے پر تحقیق کریں تو آج دنیا کے بڑے بڑے سائنسدان انہیں دنیا کے عجوبوں میں شمار کرتے ہیں اور یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ یہ کیسے تعمیر کیے گئے۔ اتنے بڑے بڑے پتھروں کو کیسے اتنی غیر معمولی صفائی سے کاٹا گیا کہ اس طرح کاٹنا آج کے جدید ترقی یافتہ دور میں بھی ناممکن ہے حالانکہ آج موجودہ انسان اپنی ترقی و جدیدیت کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔
پھر ان پتھروں کوکیسے اٹھا کر اتنی بلندی پر باقاعدہ ریاضی کے پیچیدہ ترین علم کے مطابق رکھا گیا جو کہ آج بھی ناممکن ہے اور اس سے بھی غیر معمولی اور نہ سمجھ آنے والا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آس پاس دور دراز تک کہیں پہاڑوں کا نام و نشان نہیں اور الٹا اس کے برعکس وسیع ریگستان ہے تو یہ اتنی بڑی مقدار میں پتھر وہاں تک کہا ںسے اورکیسے لائے گئے؟ اس کے علاوہ آپ خود بھی تحقیق کر سکتے ہیں کہ کتنے ہی لاتعداد سوالات پیدا ہوتے ہیں ان اہراموں کی تعمیر کو لے کر اور دنیا کے بڑے بڑے سائنسدان، علم رکھنے والے یہ تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں کہ یہ کام انسانوں کا ہو سکتا ہے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ان کی تعمیر انسانوں کا کام نہیں بلکہ کسی اور
مخلوق کا کام ہے جو ہماری زمین کے علاوہ کسی اور سیارے سے یہاں آئی جو ہم سے کئی گنا زیادہ غیر معمولی ٹیکنالوجی کی حامل ہے۔
جب قرآن نے روز روشن کی طرح واضح کر دیا کہ یہ اہرام یعنی یہ اوتاد فرعون کے ہیں تو اس میں کچھ شک نہیں رہتا کہ پھر ان کی تعمیر تو آل فرعون نے ہی کی اور پھر جب آج موجودہ جدید ٹیکنالوجی سے ان کی تعمیر ناممکن ہے اس سے کئی گنابڑھ کر ٹیکنالوجی سے ہی تعمیر کیے جا سکتے ہیں تو پھر ہمیں یہ اندازہ لگانے میں مشکل نہیں
رہتی کہ آل فرعون کتنی غیر معمولی ٹیکنالوجی کے حامل تھے تب ہی وہ ان کی تعمیر کر پائے۔
اور پھر یہ سب باتیں اس وقت مزید کھل کر واضح ہو جاتی ہیں جب ان اہراموں میں سے پتھروں پر نقش چونکا دینے والی اور حیران کن تصاویر ملتی ہیں۔ (جاری ہے)۔۔۔۔ 

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...