Saturday, October 8, 2022

                              WARNING FROM MOTHER NATURE


قسط نمبر#58

اس آیت میں اللہ نے یہ بات واضح کر دی کہ اللہ زمین میںجن کو بھی حکومت اقتدار و اختیار دیتا ہے تواس لیے کہ الصلاۃ قائم کریں۔ آگے بڑھنے سے پہلے
جب تک لفظ الصلاۃ کی سمجھ نہیں آئے گی تب تک آگے بڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
نہ صرف عربی بلکہ دنیا میں یہ ایک عام اصول ہے اگر کسی بھی بات کی یا شئے کی سمجھ نہ آئے تو اس کی ضد کو جان لیا جائے اس بات یا اس شئے کی خود بخود سمجھ آ جائے گی۔ قرآن میں تمام کے تمام انسانوں کو صرف اور صرف ایک ہی کام کا حکم دیا گیا ہے اس کے علاوہ کسی دوسرے کام کا حکم نہیں ہے اور وہ ہے الصلاۃ۔ پورے قرآن میں اسی ایک حکم کی ہر پہلو سے وضاحت کی گئی ہے کہ الصلاۃ کیا ہے اسے کب کب کیسے کیسے قائم کرنا ہے یہ کس طرح قائم ہو گی اسے قائم کرنے کے لیے تمہیں کیا بننا ہو گا وغیرہ۔ یعنی پورے کے پورے قرآن میں جتنے بھی احکامات دیئے گئے ہیں وہ الصلاۃ کے ہی ذیلی احکامات ہیں اور پھر الصلاۃ قائم نہ کرنے کی وجہ سے انسانوں کو کن نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا اس کی بھی ہر لحاظ سے ہر پہلو سے کھول کھول کر وضاحت کر دی گئی یعنی قرآن میں الصلاۃ کا حکم دیا گیا اور اگر الصلاۃ کا قیام نہیں ہوگا تو پھر کیا ہوگا اس کا ذکر کیا گیا اور اس کے لیے لفظ فساد کا استعمال کیا گیا۔ پورے کے پورے قرآن میں الصلاۃ کی ضد فساد آئی
ہے۔
مثال کے طور پر آپ قرآن کی ابتداء کو ہی دیکھ لیں قرآن کی سب سے پہلی سورت الفاتحہ ہے جسے ام القرآن کہا گیا یعنی الفاتحہ پورے قرآن کی ماں ہے پورے کا پورا قرآن اسی سے نکلا پورے کا پورا قرآن اسی ایک سورت کی وضاحت ہے اور جب سورۃ البقرۃ سے اس کی وضاحت شروع ہوتی ہے تو آپ دیکھیں کہ سورت البقرۃ کی پہلی پانچ آیات میں ان کا ذکر کیا گیا جو فلاح پا رہے ہیںاور ان کی فلاح کے لیے صرف ایک ہی کام کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور وہ ہے الصلاۃ۔
الٓمّٓ۔ ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْب فِیْہِ ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ۔ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ۔ وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ۔ اُولٰٓئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّہِمْ وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔ البقرۃ ۱ تا ۵
اگلی پانچ آیات میں اللہ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو الصلاۃ قائم نہیں کرتے اور ان کا انجام کیا ہے یعنی جو جہنم میں جائیں گے جو فلاح نہیں پائیں گے جیسا کہ درج
ذیل آیات آپ کے سامنے ہیں
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَوَآئ’‘ عَلَیْھِمْ ئَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۔ خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَعَلٰی سَمْعِہِمْ وَعَلٰٓی اَبْصَارِھِمْ غِشَاوَۃ’‘ وَّلَھُمْ عَذَاب’‘ عَظِیْم’‘۔ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ۔ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّا اَنْفُسَھُمْ وَمَا یَشْعُرُوْن۔ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَض’‘ فَزَادَھُمُ اللّٰہُ مَرَضًا وَلَھُمْ عَذَاب’‘ اَلِیْم’‘ بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْن۔ البقرۃ ۶ تا ۱۰
اور آیت نمبر گیارہ اور بارہ میں یہ بات واضح کر دی کہ ان لوگوں کو الصلاۃ کا حکم دیا گیا لیکن یہ لوگ الصلاۃ کی بجائے اس کی ضد فساد کر رہے ہیں جیسا کہ آیات
درج ذیل ہیں۔
وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ قَالُوْا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ۔ البقرۃ ۱۱
اَ لَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰکِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ۔ البقرۃ ۱۲
فساد بنا ہے ’’فسد‘‘ سے اور فسد دو الفاظ کا مجموعہ ہے ’’فس‘‘ اور ’’سد ‘‘۔ ’’فس‘‘ عربی میں کہتے ہیں تبدیلی کو ،بدلاؤ کو، کسی شئے کا اپنی اصل حالت میں نہ رہنا اس میں تبدیلی کا ہونا اور ’’ سد‘‘ کہتے ہیں رکاوٹ کو اب ان دونوں الفاظ کو جمع کیا جائے تو جملہ ’’فسد‘‘ وجود میں آئے گا جس کے معنی بنتے ہیں شئے کا اپنی اصل حالت میں نہ رہنا اس میں کسی تبدیلی کا ہونا جس سے اس میں رکاوٹ پیدا ہو جائے یعنی جیسے ایک مشین کئی پرزوں کا مرکب ہوتی ہے تمام کے تمام پرزوں میں ربط قائم ہوتا ہے جب تک تمام کے تمام پرزے اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں پوری مشین ٹھیک رہتی ہے اس میں قائم توازن برقرار رہتا ہے اس میں نظم تسلسل قائم رہتا ہے اور اگر مشین میں کہیں بھی کوئی تبدیلی واقع ہو کسی پرزے کو اس کے مقام سے ہٹا دیا جائے تو
پرزوں میں ربط ٹوٹ جائے گا جس سے مشین میں قائم تسلسل نظم میں رکاوٹ آ جائے گی اسے ’’فسد‘‘ کہتے ہیں۔
اور ظاہر ہے یہ کس کی ضد ہو سکتا ہے یہ ضد ہے کہ ہر شئے کا اپنے اصل مقام پر رہنا اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہ ہونا شئے کا اپنی اصل حالت میں ہونا یا رہنا جس
سے اس میں توازن تسلسل ربط قائم رہے اور عربی میں اس کے لیے لفظ ’’صل‘‘ کا استعمال ہوتا ہے۔
’’صل‘‘ اسی سے الصلاۃ بنا ہے۔ الصلاۃ جملہ ہے جو کہ چار الفاظ کا مجموعہ ہے ’’ال، صل ، ا، ۃ‘‘
عربی کا اصول ہے کہ جب بھی کسی مخصوص شئے کا ذکر کرنا مقصود ہو تو اس کے شروع میں ’’ال‘‘ کا استعمال کیا جاتا ہے آگے لفظ ’’صل ‘‘ آ جاتا ہے جس کے معنی آپ جان چکے ہیں کہ شئے کا اپنے اصل مقام پر رکھنا رہنا یا ہونا جس سے اس میں ربط قائم ہو جائے تسلسل قائم ہو کر اس میں توازن برقرار رہے۔ آگے آ جاتا ہے الف ’’ا‘‘ عربی گرائمر کے مطابق الف اگر کسی بھی لفظ کے شروع میں آئے تو اسے سوالیہ بنا دیتا ہے اور اگر آخر میں آئے تو اسے ماضی کا صیغہ بنا دیتا ہے اور اگر شروع کی طرف درمیان میں آئے تو فاعل بنا دیتا ہے اور اگر آخر کی طرف درمیان میں آئے تو اسے کُل کا کُل بنا دیتا ہے جس کا ذکر کیا جا رہا ہو اس میں
کسی کو بھی مستثنیٰ قرار نہیں دیتا ۔
اور آخر میں ’’ۃ ‘‘ ہے جو براہ راست اس کا اظہار کرتی ہے جسکے بارے میںبات کی جا رہی ہے یعنی جس میں سب کا سب صل کرنا ہے جس میں یا جس کی ہر شئے کو اس کے اصل مقام پر رکھنا ہے یا رہنے دینا ہے جس سے اس کی تمام کی تمام اشیاء میں تمام کی تمام مخلوقات میں ربط قائم ہو جائے یا قائم رہے اس میں کوئی
رکاوٹ پیدا نہ ہو ا س میں میزان قائم رہے ہر شئے میں ربط، تسلسل اور نظم قائم رہے۔
یہ ہیں الصلاۃ کے مختصر اور جامع ترین معنی اس کے علاوہ الصلاۃ کیا ہے اس پر مکمل تفصیلات آگے اپنے مقام پر آئیں گی۔
الصلاۃ کیا ہے اس کے علاوہ اگر آپ اس بات پر ہی غور کریں کہ جن کو زمین میں اختیار دیا جاتا ہے زمین میں حکومت دی جاتی ہے اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ الصلاۃ قائم کریں تو غور کریں اگر الصلاۃ کا مطلب یا الصلاۃ سے مراد نماز ہوتی تو کیا نماز پڑھنے کے لیے زمین میں اقتدار کا حاصل ہونا لازم ہے؟
اور اگر زمین پر اختیار دیا جا رہا ہے زمین میں اقتدار حکومت دی جا رہی ہے تو آخر حکومت کس مقصد کے لیے دی جاتی ہے؟ کسی شئے کا اختیار کیوں دیا جاتا ہے؟ اس میں تو کوئی دو رائے نہیں حکومت تو نظام چلانے کو ہی کہتے ہیں اس لیے جب زمین میں حکومت دی جا رہی ہے تو ظاہر ہے نظام چلانے کے لیے ہی دی جا رہی ہے کہ زمین کی دیکھ بھال کی جائے کوئی بھی زمین میں خرابیاں نہ کر سکے اگر پہلے سے کوئی خرابیاں کی گئی ہیں تو ان کی اصلاح کی جائے اور اگر خرابیاں
کی جا رہی ہیں فطرت میں پنگے لیے جا رہے ہیں تو ان کو روکا جائے۔
اب ذرا غور کریں ذی القرنین کو اگر مکن دیا گیا یعنی زمین میں حکومت دی گئی زمین میں اقتدار و اختیار دیا گیا تو ظاہر ہے اس لیے تا کہ وہ الصلاۃ قائم کرے یعنی زمین میں تمام مخلوقات کو ان کے اپنے اصل مقام پر رکھے۔ اگر فساد کیا جا رہا ہے یعنی زمین کی مخلوقات کو ان کے مقامات سے ہٹایا جا رہا ہے تو نہ صرف روکے بلکہ زمین کی اصلاح کرے مخلوقات کو ان کے اصل مقام پر رکھے جس سے اس میں ہونے والی خرابیاں دور ہو کر زمین کی اصلاح ہو جائے گی یعنی اگر آپ اپنی گاڑی کسی کو دیتے ہیں تو کس مقصد کے لیے دیں گے؟ ظاہر ہے تا کہ وہ اسے چلائے اور اس کی دیکھ بھال کرے اگر اس میں کوئی خرابی ہو تو اس کی اصلاح بھی
کرے اس کی خرابی کو دور کرے۔
ذی القرنین کو اللہ نے زمین میں مکن دیا تو اس لیے تا کہ الصلاۃ قائم کریں زمین کی تمام مخلوقات کو ان کے اصل مقامات پر رکھیں یا رہنے دیں اگر زمین میں فساد ہو رہا ہے تو اس فساد کا رستہ روکیں اور زمین میں اصلاح کریں اور یہی وہ وجہ تھی جس وجہ سے ذی القرنین کو تمام کی تمام اشیاء سے اسباب دیئے گئے تھے۔ تمام کی تمام اشیاء سے اسباب دینا ہی اس بات کی وضاحت کر رہا ہے کہ ان سے پہلے زمین میں جن کو مکن حاصل تھا انہوں نے یا تو زمین کی تمام کی تمام اشیاء میں فساد کر دیا ہوا تھا یا پھر فساد زدہ کر رہے تھے اس لیے تمام کی تمام اشیاء سے اسباب دیئے گئے تا کہ وہ ان اسباب کو بروے کار لاتے ہوئے زمین کی اصلاح
کریں۔
تو اگر ایسی شخصیت جسے ذی القرنین کہا جا رہا ہے یعنی وہ شخصیت جسے زمین کے مغرب و مشرق تک کا اقتدار دیا گیا وہ زمین میں کہیں بھی جاتی ہے تو وہ گھومنے
پھرنے نہیں جائے گی بلکہ وہ اسی مقصد سے جائے گی کہ وہاں فساد کیا جا رہا ہے یا کیا گیا اس کا رستہ روکنا ہے اور وہاں اصلاح درکار ہے ۔
اب اگلی آیات میں دیکھیں اللہ نے کیا کہا فَاَتْبَعَ سَبَبًا۔ الکہف ۸۵
پس کیا کیا؟ اتباع کی یعنی پیچھے چلا ان اسباب میں سے ایک سبب کے جو ہم نے اسے دیئے تھے۔
تبع کہتے ہیں کسی کے پیچھے چلنے کو مثلاً اگر آپ کے پاس کوئی ایسے ذرائع ہیں ایسے اسباب ہیں جو آپ کے پاس خبریں لاتے ہیں تو ان کے پیچھے جانے کو اتباع کہتے ہیں ۔ اب ذی القرنین نے یعنی اس شخص نے جسے زمین کے مغرب و مشرق تک حکومت دی گئی تھی اقتدار و اختیار دیا گیا تھا نے اللہ کے دیئے ہوئے اسباب میں سے ایک سبب کی اتباع کی یعنی بالکل واضح ہے کہ ذی القرنین کو یعنی اس شخص کو جسے زمین کے مغرب و مشرق تک کا اقتدار و اختیار دیا گیا تھا اسے زمین میں مکن اس لیے دیا تا کہ وہ الصلاۃ قائم کرے اور الصلاۃ کے لیے اسباب کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی مقصد کے لیے اللہ نے اسے تمام کی تمام اشیاء سے اسباب دیئے اب زمین میں کہاں کہاں کیا کیا ہو رہا ہے اس کی معلومات کے لیے زمین سے خبروں کا آنا لازم ہے تا کہ ان خبروں کی بنیاد پر جہاں جہاں فساد ہو رہا ہو تو وہاں وہاں فساد کو روک کر زمین میں اصلاح کی جائے۔ تو اسباب میں سے ایک سبب کے ذریعے اس کے پاس زمین کے کسی خطے کی خبر آئی کہ وہاں
فساد ہو رہا ہے جسے روکنے کے لیے اس سبب کی اتباع کی یعنی اس کے پیچھے گئے۔
قرآن میں اللہ نے اس مقام پر تو صرف اتنا بتایا کہ ذی القرنین کو یعنی اس شخص کو جسے زمین کے مغرب و مشرق تک کا اقتدار و اختیاردیا گیا تھا اسے اسباب دیئے ان اسباب میں سے ایک سبب کے ذریعے خبر آئی تو اس کے پیچھے گیا اب قرآن سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کون سی شخصیت تھی جس کو ایسے اسباب حاصل تھے اور ان اسباب کے ذریعے اس شخصیت کے پاس زمین سے خبریں آتی تھیں اور وہ شخصیت ان اسباب کی اتباع کرتی یعنی ان کے پیچھے جاتی۔
جب قرآن سے سوال کیا جائے تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ قرآن میں اللہ نے اس حوالے سے کیا راہنمائی کی ہے۔
وَتَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَالِیَ لَآ اَرَی الْھُدْھُدَ اَمْ کَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْن۔النمل ۲۰
لَاُعَذِّبَنَّہٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْلَاَ اْذْبَحَنَّہٗٓ اَوْلَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ۔ النمل ۲۱
فَمَکَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِہٖ وَجِئْتُکَ مِنْ سَبَاٍ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ۔النمل ۲۲
اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَۃً تَمْلِکُھُمْ وَاُوْتِیَتْ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ وَّلَھَا عَرْش’‘ عَظِیْم’‘ ۔النمل ۲۳
اس وقت آپ کو سورۃ النمل کی ۲۰ سے ۲۳ تک آیات نظر آ رہی ہیں ان آیات میں سلیمان علیہ السلام الھد ھدا کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کہاں ہے؟ کیا وہ غائب ہے یعنی سامنے موجود نہیں ہے اگر وہ بغیر کسی معقول وجہ کے غیر حاضر ہے تو اسے اس کے اس عمل کی شدید سزا دی جائے گی اور زیادہ وقت نہیں گزرتا کہ الھد ھدا آ حاضر ہوتا ہے اور ساتھ کہتا ہے کہ وہ سبا سے یقینی نبا کیساتھ آیا ہے اس نے ایک عورت کو دیکھا جو ان پر حکومت کرتی ہے اس کو تمام کی تمام اشیاء سے دیا گیا اور اس کا عرش عظیم ہے یعنی اس کا اقتدار بہت مضبوط ہے اتنا مضبوط کے اگر اس کے اقتدار کو نکال دیا جائے تو پیچھے زمین میں جتنی بھی حکومتیں ہیں اقتدار ہیں ان کی اہمیت و حیثیت ایسے ہی رہ جائے گی جیسے جسم سے ساری کی ساری ہڈی نکال دینے سے جسم کی اہمیت و حیثیت رہ جاتی ہے اور اس کے بعد سلیمان علیہ
السلام اپنے اس نبا لانے والے سبب کی اتباع کرتے ہیں یعنی اس کے پیچھے پڑتے ہیں جب تک کہ اس معاملے کو نپٹا نہیں لیتے۔
اب ذرا غور کریں ایک مقام پر یہ کہا جا رہا ہے کہ ذی القرنین یعنی جس شخصیت کو زمین کے مغرب و مشرق تک کا اقتدار دیا گیا حکومت دی گئی اس کو تمام کی تمام اشیاء سے اسباب دیئے گئے اور قرآن میں دوسرے مقام پر کہا جا رہا ہے کہ وہ سلیمان علیہ السلام تھے جنہیں تمام کی تمام اشیاء سے اسباب دیئے گئے تھے یعنی سلیمان علیہ السلام ہی وہ شخصیت تھے جنہیں زمین کے مغرب و مشرق تک کا اقتدار دیا گیا تھا حکومت دی گئی تھی ۔ وہ سلیمان علیہ السلام ہی تھے جنہیں دو مخصوص
قرن حاصل تھے جسے عربی میں ذی القرنین کہا گیا۔
ایک مقام پر کہا جا رہا ہے کہ ذی القرنین یعنی وہ شخصیت جسے زمین کے مغرب و مشرق کا اقتدار و حکومت دی گئی اس کے پاس اسباب میں سے سبب کے ذریعے خبریں آتیں اور وہ اس سبب کی اتباع کرتا یعنی اسباب کے ذریعے آنے والی خبروں کے پیچھے جاتا زمین میں ہونے والے فساد کو روکتا اور زمین کی اصلاح کرتا تو وہیں قرآن میں دوسرے مقام پر کہا جا رہا ہے وہ سلیمان علیہ السلام تھے جن کے پاس ان کو دیئے گئے اسباب خبریں لاتے اور سلیمان علیہ السلام ان اسباب کی
اتباع کرتے یعنی ان کے پیچھے چلتے ہوئے زمین میں ہونے والے فساد کو روکتے اور زمین کی اصلاح کرتے ۔
اب ذرا غور کریں ذی القرنین کون تھے ذی القرنین یعنی وہ شخص جسے زمین کے مغرب و مشرق تک کا اقتدار دیا گیا حکومت دی گئی جسے زمین کے مغرب و مشرق
حاصل تھے وہ شخص کون تھا؟
قرآن کے اس مقام پر بھی اللہ نے یہ بات بالکل کھول کر واضح کر دی کہ ذی القرنین سلیمان علیہ السلام تھے یعنی سلیمان جو کہ داود کا بیٹا تھا جسے القرنین یعنی دو
مخصوص قرن حاصل تھے دو مخصوص قرن مغرب و مشرق تک کا اقتدار و اختیار دیا تھا حکومت دی تھی۔
اسی طرح بڑھتے ہیں آگے اور ایک اور پہلو سے اس حقیقت کو آپ کے سامنے رکھتے ہیں کہ ذی القرنین سلیمان بن داؤد علیہ السلام تھے ۔
ذیل میں آ پ کو سورۃ الکہف کی ۸۵ تا ۹۳ آیات نظر آ رہی ہیں۔
فَاَتْبَعَ سَبَبًا۔ حَتّیٰٓ اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَھَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَۃٍ وَّوَجَدَ عِنْدَھَا قَوْمًا قُلْنَا ٰیذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّآ اَنْ تُعَذِّبَ وَاِمَّآ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْھِمْ حُسْنًا۔ قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُہٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰی رَبِّہٖ فَیُعَذِّبُہٗ عَذَابًا نُّکْرًا۔ وَاَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَہٗ جَزَآئَ الْحُسْنٰی وَسَنَقُوْلُ لَہٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًا۔ ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔ حَتّیٰٓ اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَھَا تَطْلُعُ عَلٰی قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّہُمْ مِّنْ دُوْنِہَا سِتْرًا۔ کَذٰلِکَ وَقَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْہِ خُبْرًا۔ ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔ حَتّیٰٓ اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِہِمَا قَوْمًا لَّا یَکَادُوْنَ یَفْقَہُوْنَ
قَوْلًا۔ الکہف ۸۵ تا ۹۳
ان آیات میں ذی القرنین کے تین سفروں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں پہلا سفر مغرب الشمس کی طرف یعنی جہاں سورج ڈوبتا ہوا نظر آتا ہے اس طرف یہاں تک کہ اس مقام پر پہنچ گئے کہ سورج گرم پانیوں میں ڈوبتا ہوا نظر آ رہا تھا یعنی مغرب کی طرف جہاں خشکی ختم اور آگے صرف اور صرف سمندر ہے یوں مغرب کی طرف زمین کے اس خطے پر پہنچے جہاں خشکی ختم اور آگے سمندر ہی سمندر اور وہاں سے سورج کو گرم پانیوں کے چشموں میں غروب ہوتا پایا پھر دوسرے سفر کا ذکر ہے مشرق کی طرف جدھر سے سورج طلوع ہوتا ہے اس طرف بھی وہاں پہنچے کہ جہاں آگے سمندر ہی سمندر ہے جب سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ پہلی قوم ہے جس پر وہ سب سے پہلے طلوع ہوتا ہے ان کے بعد باقی اقوام پر ان پر سے گزرتا ہوا طلوع ہوتا ہے۔ مغرب و مشرق میں صرف سفر ہی نہیں کرتے بلکہ ان کے ان سفروں کے پیچھے مقاصد ہوتے ہیں یعنی ان کے پاس ان کو دیئے گئے اسباب کے ذریعے خبریں آتی ہیں اور ان اسباب کے پیچھے زمین کی اصلاح کی غرض سے فساد کو روکنے کی غرض سے سفر کرتے ہیں ۔ مغرب و مشرق میں دو سد یعنی دو رکاوٹیں بنا تے ہیں پھر ایک تیسرا سفر کرتے ہیں تو مغرب و مشرق والی دونوں
رکاوٹوں کے درمیان پہنچ جاتے ہیں پھر وہاں بھی ایک سد تعمیر کرتے ہیں۔
اب غور کریں اگر آپ مغرب کی طرف سفر کرتے ہیں تو رستے میں دریا، جھیلیں، خشکی، کھائیاں، پہاڑ، دلدل، مشکل اور کٹھن ترین مقامات، گھاٹیاں ، وادیاں، گھنے جنگلات ، آبادیاںاور ایسے مشکل ترین خطے آتے ہیں کہ زمینی سفر ناممکن بن جاتا ہے اور صرف اور صرف ایک ہی صورت پیچھے رہ جاتی ہے جس ذریعے سے سفر ممکن ہو سکتا ہے اور وہ ہے ہوائی رستہ۔ ذی القرنین یعنی وہ شخصیت جسے زمین کے دونوں قرن حاصل تھے یعنی زمین کے مغرب و مشرق تک کا اقتدار و اختیار حاصل تھا حکومت حاصل تھی اس کے پاس فضائی سفر کے بھی اسباب موجود تھے جن کے ذریعے اس نے یہ سفر کیے اور یہاں یہ بات بھی ذہن میں ہونا لازم ہے کہ وہ شخصیت محض اکیلے ہی سفر نہیں کرتی تھی بلکہ جب دشمن کے مقابلے کے لیے نکلا جاتا ہے دشمن کے علاقے پر حملہ کیا جاتا ہے جنگ کے لیے نکلا جاتا ہے تو اکیلے نہیں بلکہ فوج اور قوت کیساتھ جایا جاتا ہے اس لیے ذی القرنین اپنی فوج اور قوت کیساتھ ہوائی اسباب کے ذریعے مغرب و مشرق پہنچے اور دشمن کے علاقوں
پر حملہ آور ہوئے۔
اب قرآن سے سوال کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ قرآن اس سوال کا جواب دیتا ہے کہ وہ کون سی شخصیت تھی جسے نہ صرف فضائی سفر کے اسباب دیئے گئے بلکہ
اس نے ایسے سفر بھی کیے؟
جب اللہ سے یہ سوال کیا جائے تو حیران کن طور پر اللہ نے قرآن میں اس سوال کا جواب بھی بالکل کھول کر صراحت کیساتھ دے دیا۔
وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَۃً تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖٓ اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ ٰبرَکْنَا فِیْھَا ۔ الانبیاء ۸۱
سورت الانبیاء کی آیت نمبر ۸۱ میں اللہ نے کہا کہ سلیمان علیہ السلام کے لیے ہواجو آگے سے آکر پیچھے کو انتہائی تیزی کیساتھ سلیمان کے امر سے بہتی تھی یعنی سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا اور یہاں یہ بات جان لیں کہ جو کہا جاتا ہے اور عام کر دیا گیا کہ سلیمان علیہ السلام ہوا کو زبان سے حکم دیتے تھے جدھر چلنے کا حکم دیتے تو ہوا اس طرف کو رخ کر کے چلنا شروع ہو جاتی اور سلیمان علیہ السلام کے پاس ایک قالین تھا وہ اس پر بیٹھ جاتے اور وہ قالین ہوا کے اڑانے سے وہاں پہنچ جاتا جہاں پہنچنا چاہتے تھے یہ بات بالکل بے بنیاد اور من گھڑت کہانی ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں، یہ ایک دیومالائی کہانی ہے جس کا حقیقت
کیساتھ دور دور تک کوئی تعلق نہیں ۔
ہوا کو مسخر کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ سلیمان علیہ السلام زبان سے ہوا کو جدھر جی چاہے کہتے کہ اے ہوا چل پڑ تو ہوا چل پڑتی بلکہ اللہ نے بالکل واضح کر
دیا کہ سلیمان کو علم دیا تھا اور اسباب دیئے تھے جیسا کہ آپ درج ذیل آیت میں دیکھ سکتے ہیں۔
وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ عِلْمًا۔ النمل ۱۵
اور تحقیق کہ جو قدر میں کر دیا گیا وہی ہوا دیا تھا ہم نے داود اور سلیمان کو علم۔
(جاری ہے)۔۔۔۔۔ 

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...