Sunday, October 2, 2022

                                 WARNING FROM MOTHER NATURE


قسط نمبر#54

ذی القرنین ، یاجوج و ماجوج اور فتنہ الدجّال

اب بات کرتے ہیں ذی القرنین پر کہ ذی القرنین کون تھا۔ یہ سوال بہت عرصے سے چلا آ رہا ہے اور اس سوال کا جواب دینے کے لیے قرآن کی ترجمانی کے دعویداروں نے جو کہانیاں گھڑ رکھی ہیں سب سے پہلے ان کو آپ کے سامنے رکھتے ہوئے ان کی حقیقت واضح کر یں گے تاکہ اس موضوع پر کسی بھی قسم کا کوئی
سوال ، شک ،شبہ یا ابہام باقی نہ رہے اور حق ہر لحاظ سے ہر پہلو سے کھل کر واضح ہو جائے۔
ذی القرنین کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ قرآن میں اس قصے کا شان نزول یہودیوں کے تین سوالات تھے ان میں سے ایک اصحاب کہف کے بارے میں، دوسرا روح کے بارے میں اورتیسرا ذی القرنین کے بارے میں تھا اور انہی سوالات کے جوابات کے ضمن میں سورۃ الکہف نازل ہوئی ۔ یہ جو شان نزول اس
سورۃ سے منسوب کیا جاتا ہے اگر اسے تسلیم کر لیا جائے تو بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں ۔
سب سے پہلا سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ سورت الکہف تو ایک لمبے عرصے پر محیط وقتاً فوقتاً وقفے وقفے سے آیات کی صورت میں نازل ہوئی ۔ جب حقیقت یہ ہے
تو پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ سورت الکہف ایک ہی بار مکمل نازل ہوئی؟ حالانکہ آپ اس کی حقیقت بذات خود قرآن میں ہی دیکھ سکتے ہیں۔
قرآن میں چودہ مقامات پر چودہ آیات میں بالکل صراحت کیساتھ یہ کہا گیا کہ اسے آہستہ آہستہ تھوڑاتھوڑا کر کے لمبے عرصے میں اتارا گیایا اتارا جا رہا ہے جیسا
کہ آپ ان آیات میں دیکھ سکتے ہیں۔
وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰہُ لِتَقْرَاَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکْثٍ وَّنَزَّلْنٰہُ تَنْزِیْلًا ۔ الاسراء ۱۰۶
اور قرآن ہم نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کیا اسے قرا کرنے کے لیے انسانوں پر جس جس مدت میں وہ دنیا میں موجود ہیں اور ہم نے اسے اتارا لمبی مدت میں تھوڑا
تھوڑا آہستہ آہستہ جب جب جس جس کی ضرورت تھی اتنا اتنا۔
یہ آیت بہت ہی وسعتوں کی حامل ہے اور اس میں عظیم راز پنہاں ہیں لیکن ہم اپنے موضوع کے اعتبار سے اس وقت اسے سامنے رکھ رہے ہیں کہ اس آیت میں بالکل واضح دو ٹوک الفاظ میں یہ بات واضح کر دی گئی کہ قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے لمبے عرصے میں اتارا گیا ہے اس لیے ایسا ہرگز نہیں ہے کہ
ایک بڑی سورت ایک ہی بار میں اتار دی گئی۔
اسی طرح آپ اس آیت میں بھی دیکھ سکتے ہیں ۔
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلاً ۔ الانسان ۲۳
اس میں کچھ شک نہیں ہم ہی ہیں ہم نے اتارا تجھ پر قرآن وقتاً فوقتاً تھوڑا تھوڑا لمبے عرصے میں۔
ان آیات میں یہ بات بالکل کھول کر واضح کر دی گئی کہ قرآن لمبے عرصے میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے تھوڑا تھوڑا کر کے وقتاً فوقتاً جب جب جتنی جتنی ضرورت تھی اتنا اتنا اتارا گیا یا اتارا جا رہا ہے جس سے یہ بات بالکل جھوٹی، بے بنیاد اور غلط ثابت ہو جاتی ہے کہ یہودیوں کے تین سوالات کے جواب میں سورت الکہف نازل
ہوئی۔
اب آتے ہیں دوسرے سوال کی طرف ، آپ نے جان لیا کہ سورت الکہف ایک ہی بار میں مکمل نازل نہیں ہوئی بلکہ وقتاً فوقتا ایک لمبے عرصے میں نازل ہوئی لیکن اگر اس کے باوجود ایک لمحے کے لیے یہ بات مان بھی لی جائے کہ یہودیوں کے ان تین سوالات کے جواب میں سورت الکہف نازل ہوئی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سورت الکہف پوری کی پوری روح کے موضوع سے خالی ہے سورت الکہف میں روح کے موضوع پر ایک لفظ بھی نہیںبیان کیا گیااور ان کے بیان کردہ شان نزول کے مطابق تو یہودیوں کے تین سوالات میں سے ایک سوال روح کے بارے میں تھا دوسرااصحاب الکہف اور تیسرا ذی القرنین کے بارے میں۔ یہودیوں کے ان سوالات کے جواب میں سورت الکہف نازل کی گئی لیکن حقیقت آپ کے سامنے ہے کہ پوری سورت الکہف روح کے موضوع پرخالی ہے جس سے یہ بات کھل کر واضح ہو جاتی ہے کہ سورت الکہف کا جو شان نزول گھڑ رکھا ہے وہ بالکل بے بنیاد اور باطل ہے پھر اسی پس منظر میں سورت الکہف میں موجود واقعات کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے اور پھر جو نظریہ و عقیدہ اخذ کیا جاتا ہے وہ دوسروں پر بھی مسلط کیا جاتا ہے جو کہ بالکل بے بنیاد اور باطل ہے۔
پھر تیسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہودیوں نے اصحاب الکہف کے بارے میں سوال کیا تو پھر ایسا کیوں ہے کہ یہودیوں کی پوری تاریخ اور مذہبی مواد اصحاب الکہف کے حوالے سے مکمل خاموش ہے؟ آپ کو بنی اسرائیل میں سے یہود کے ہاں ایک لفظ بھی اصحاب الکہف پر نہیں ملے گا اور وہ اصحاب الکہف کے حوالے سے کسی بھی واقعہ کو کوئی اہمیت نہیں دیتے بلکہ یوں کہتے ہیں کہ یہ من گھڑت قصہ ہے جو عیسائیوں کا گھڑا ہوا ہے البتہ اصحاب کہف کاذکرعیسائیوں کے مذہبی مواد میں ملتا ہے اور اسے ایک بڑی تاریخی اور مذہبی اہمیت حاصل ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہودیوں کے نزدیک ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا ان کا
پورے کا پورا مذہبی موادا ور تاریخ ایسے کسی واقعہ سے خالی ہے تو وہ اس کا سوال کیونکر کریں گے؟
اور پھردوسری بات یہ کہ اصحاب الکہف کا واقعہ عیسیٰ ابن مریم کے کافی عرصہ بعد میں رونما ہوا، سات نوجوان جو عیسیٰ ابن مریم پر ایمان لائے اس وقت یہودیوں کی حکومت تھی ان سات نوجوانوں پر زمین تنگ کر دی گئی اور انہیں دین کی خاطر ہجرت کرنا پڑی لیکن جب کوئی بھی جائے پناہ نہ پائی تو ربّ سے خالص اپنی طرف سے حفاظت کرنے کی دعا کی اور ربّ نے ان کی حفاظت کی۔ یہ واقعہ یہودیت کی بنیاد اکھاڑ دینے کے لیے کافی تھا اس لیے یہود ایسے کسی واقعہ کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے کیونکہ انہیں علم ہے کہ اگر وہ اسے تسلیم کریں گے تو یہودیت باطل ثابت ہو جائے گی اس لیے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ یہودی اصحاب الکہف کے بارے میں سوال کریں جب کہ وہ خود اس واقعہ کو تسلیم ہی نہیں کرتے بلکہ یہود کے نزدیک تو ایسا کوئی واقعہ وقوع پذیر ہی نہیں ہوا یہ من گھڑت ہے۔
چوتھا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہودیوں کاان تین میں سے ایک سوال روح کے بارے میں تھا اور اس کے جواب میں سورۃ الکہف نازل ہوئی لیکن آپ جانتے ہیں کہ روح کے بارے میں تو سورۃ الکہف بالکل خاموش ہے اور روح کا ذکر تو سورۃ بنی اسرائیل میں ہے اور سورۃ بنی اسرائیل میں روح کا ذکر آنا ہی اس کا جواب ہے کہ روح کے بارے میں سوال بنی اسرائیل کا تھااور بنی اسرائیل صرف یہود نہیں بلکہ وہ بھی ہیں جو بعد میں عیسیٰ ابن مریم پر ایمان لائے اورپھربعد میں جا کر ضل ہوئے یعنی صراط مستقیم سے ہٹ گئے۔ اور روح عیسائیت میں شروع سے ہی موضوع بحث رہی عیسیٰ ابن مریم کی وجہ سے اور روح کے بارے میں
سوال نصاریٰ کی طرف سے تو ہو سکتا تھا لیکن یہود کی طرف سے ہرگز نہیں۔
اب آتے ہیں قصہ شان نزول میںیہودیوں کی طرف منسوب کیے جانے والے تیسرے سوال کی طرف جو ہمارے موضوع سے تعلق رکھتا ہے کہ ذی القرنین کے بارے میں سوال بھی یہودیوں کی طرف سے تھا۔ جس پس منظر کی بنیاد پر یہ کہا جاتا ہے کہ یہودیوں نے سوال کیا اس پس منظر میں ایسا کوئی اثر نہیں ملتا کہ یہودی ایسا کوئی سوال کر سکتے تھے اس لیے کہ یہودیوں کے پورے مذہبی اور تاریخی مواد میں ذی القرنین کے حوالے سے کوئی دور دور تک اشارہ نہیں ہے نہ ہی ایسا کوئی نام یہودیوں کے ہاں کوئی وجود رکھتا تھا یا آج بھی وجود رکھتا ہے لیکن اگر دوسرے پس منظر میں دیکھیں تو یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ذی القرنین کے بارے میں سوال بھی یہودیوںکی بجائے عیسائیوں نے ہی کیا تھا وہ اس لیے کہ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ ذی القرنین سلیمان بن داؤد تھے تو یہودیوں کا سلیمان کے بارے میں عقیدہ و نظریہ ہے کہ وہ ایک تو اللہ کے نبی نہیں تھے اور دوسرا ان کی موت شرک پر ہوئی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری وقت میں بہت سے اوثان بنا لیے تھے جن کی وہ غلامی کرتے تھے ۔ اوثان کہتے ہیں انسان کی خلق کردہ ان ایجادات کو جنہیں انسان سہولتوں کا نام دیتا ہے جیسے آج مشینیں، گاڑیاں، جہاز وغیرہ ہیں، ان کی غلامی انہی کے حصول کے لیے ان کے پیچھے استعمال کیے جانے والے وقت کو کہا جاتا ہے یہود کا نظریہ یہ ہے کہ سلیمان بن داؤد نے اپنی زندگی کا مقصد و مشن ہی ایسی اشیاء کی تخلیق اور استعمال کو بنا لیا تھا لہذا وہ کافر اور مشرک تھے اور اسی حالت میں ان کی موت ہوئی اس کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں انہوں نے بغیر نکاح کے عورتیں رکھی ہوئی تھیں جو سینکڑوں بیویوں کے علاوہ تھیںاس لیے سلیمان یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاں ایک متنازعہ شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں اور سلیمان کے کفر و شرک کی گواہی یہودیوں کے صرف کسی عالم وغیرہ کا عقیدہ نہیں بلکہ باقاعدہ ان کی خود ساختہ آسمانی کتابوں کا مجموعہ عہد نامہ قدیم میں درج ہے۔ اور عہد نامہ قدیم کی آسمانی کتابیں جتنی یہودیوں کے لیے مقدس ہیں اتنی ہی عیسائیوں کے لیے بھی یوں نہ صرف یہودی بلکہ عیسائی بھی سلیمان کے بارے میں یہی نظریہ رکھتے ہیں۔لیکن عیسائیوں کے ہاںآخری حجت عہد نامہ جدید یعنی انجیل ہے اس لیے وہ پرانے عہد نامے میں تحریف وغیرہ کو ممکن سمجھتے ہیں۔ اس لیے اگر کوئی بات پرانے عہد نامے میں موجود ہو اور اس کے برعکس کوئی بات کہیں سے معلوم ہو تو کوشش کرتے ہیں کہ آنکھیں بند کر کے پرانے عہد نامے کو تسلیم کرنے کی بجائے تحقیق کی جائے لیکن یہود اس بات کو سننے کے لیے بھی تیار نہیں کہ عہد نامہ قدیم میں کوئی تبدیلی یا تحریف ہے اور وہ کسی ایسی بات کو تسلیم کریں جو عہد نامہ قدیم کے مخالف ہو یہ یہودیوں کے عقائد کی نفی تصور کیا جاتا ہے پھر یہ سمجھنا کہ یہودی ایسا سوال کریں گے یہ بالکل بے بنیاد ہو جاتا ہے البتہ جب محمد رسول اللہ کو بعث کیا گیا تو قرآن میں سلیمان کے بارے میں نہ صرف یہودیوں کے عقائد و نظریات کی تردید کی گئی بلکہ سلیمان کو اللہ نے
اپنا صالح نبی اور صالح حکمران قرار دیا اور دوٹوک الفاظ میں یہ واضح کر دیا کہ سلیمان کافر و مشرک نہیں تھا۔
یوں یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اگر ذی القرنین سلیمان تھے تو پھر عیسائیوں کی طرف سے سوال کیا گیا کہ یہود تو اس شخصیت کے بارے میں ایسا عقیدہ و نظریہ رکھتے ہیں اور بائبل عہد نامہ جدید تو اس پر بالکل خاموش ہے اس لیے آپ بتائیں کہ آیا یہود داود کے بیٹے سلیمان کے بارے میں سچے ہیں یا پھر حقیقت کیا
ہے۔ اور قرآن میں جب اللہ نے اس واقعہ کا ذکر کیاتو سلیمان کی جگہ لفظ ذی القرنین استعمال کیا آگے چل کر مزید تفصیل کیساتھ اس پر بات ہو گی۔

قدیم علماء مفسرو مفکر قرآن کے طور پر جانے پہچانے جانے والوں کی اکثریت کے نزدیک قرآن میں مذکور ذی القرنین وہ شخصیت ہے جسے لوگ الیگزنڈر دی گریٹ اور اردو میں سکندر اعظم کہا جاتا ہے لیکن اس نظریے پر تنقید کرنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد رہی جنہوں نے سکندر اعظم یونانی کے ذوالقرنین ہونے پر بہت سے ایسے اعتراضات اٹھائے کہ اسے ذی القرنین ماننے والے بھی ان سوالا ت کے جوابات نہ دے سکے اور الٹے عاجز آگئے۔ مثلاً قرآن میںمذکور
ذی القرنین زمین کے مغرب و مشرق تک پہنچا اور سکندر اعظم قرآن کی اس بات پر بالکل بھی پورا نہیں اترتا۔
دوسرا اعتراض کہ قرآن ذی القرنین کو صالح مومن شخصیت قرار دیتا ہے لیکن سکندر اعظم یونانی ایک آتش پرست مشرک اور ظالم شخص تھا۔
پھر تیسرا اعتراض کے ذی القرنین نے یاجوج اور ماجوج کو سد کی تعمیر کے ذریعے روک دیا لیکن سکندر اعظم نے ایسی کوئی سد تعمیر نہیں کی ۔ ان کے علاوہ بھی کئی اعتراضات ہیں مگر یہ ایسے اعتراضات ہیں کہ جنہوں نے سکندر اعظم یونانی کے ذی القرنین ہونے کا عقیدہ و نظریہ رکھنے والوں کو لاجواب کر دیا۔ مگر چونکہ کئی صدیوں سے یہ روش چلی آ رہی ہے کہ خود سے غوروفکر نہیں کرنا کوئی نئی بات اخذ نہیں کی جا سکتی سوائے اسی کے جو آباؤ اجداد سے نسل در نسل چلا آ رہا ہے اس لیے آج تک ہر کوئی آنکھیں بند کر کے سکندر اعظم یونانی کو ہی ذی القرنین مانتا ہوا چلا آ رہا ہے اس کے باوجود کہ کوئی اسے ذی القرنین ثابت ہی نہیں کر سکتا۔
دوسری طرف اعتراضات اٹھانے والوں نے بھی محض اعتراضات ہی اٹھائے وہ اس کے برعکس کسی دوسری شخصیت کو سامنے نہ لا سکے جسے وہ ذی القرنین کہہ سکتے یوں ذی القرنین کے حوالے سے سوال مزید الجھ گیا۔ وقت گزرتا گیا اور زمانہ جدید میں سب سے پہلی ایک ایسی شخصیت سامنے آئی جس نے سکندر اعظم کے ذی القرنین ہونے کا رد کرتے ہوئے ایک نئی شخصیت کو ذی القرنین ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ زمانہ جدید کی وہ شخصیت نامور صحافی سیاسی اور معروف مذہبی شخصیت ابو الکلام آزاد تھے جنہوں نے عہد نامہ قدیم میں مذکور ایک ایرانی بادشاہ سائرس کو قرآن میں مذکور ذی القرنین قرار دیا اور بہت سی نامور شخصیات نے نہ صرف ابو الکلام کے نظریے کی تائید و تصدیق کی اسے تسلیم کیا بلکہ اس کا خوب پرچار بھی کیا جن میں غلام احمد پرویز، ابو الاعلیٰ مودودی اور ڈاکٹر
اسرار احمد وغیرہ سر فہرست رہے۔
لیکن یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ جیسے سکندر اعظم یونانی آتش پرست مشرک تھا بالکل ایسے ہی سائرس دی گریٹ ایرانی بھی نہ صرف آتش پرست مشرک بلکہ بہت بڑا ظالم شخص تھا جس نے بستیوں کی بستیوں کو تہس نہس کیا اور اپنی سلطنت کی وسعت کے لیے آس پاس کی کمزور ریاستوں پر تسلط کے لیے انہیں کچل کر رکھ دیا جس میں عام عوام کی بہت بڑی تعداد اس ظلم و جبر کا شکار ہوئی اور یہ باتیں باقاعدہ تاریخ میں موجود ہیں یہاں تک کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے مذہبی مواد پرانے عہد نامے میں بھی بالکل واضح مذکور ہے کہ سائرس ایرانی نے خوب تباہی مچائی اور یہودی اسے اس لیے پسند کرتے ہیں کہ اس نے نہ صرف یہودیوں کے ساتھ نرم رویہ اپنایا بلکہ صدیوں سے دربدر ذلیل و رسوا ہوتے یہودیوںکو واپس اسرائیل میں لا بسایا۔ لیکن ان تمام باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ابو الکلام آزاد نے صرف ذی القرنین پر ایک نیا نظریہ دینے کے لیے سائرس ایرانی مشرک کواپنے آباؤ اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سکندر اعظم کی طرح ذی القرنین قرار دیا اور اس کے لیے تاریخ کی کتب کو کھنگالا تو دو ہی شخصیات سامنے آئیں ایک سکندر اعظم یونانی اور دوسرا سائرس ایرانی۔ سکندر اعظم یونانی کو تو پہلے ہی ذی
القرنین قرار دیا جا چکا تھا تو اس لیے اس کے مقابلے پر پیچھے ایک ہی شخصیت بچی سائرس ایرانی تو ابو الکلام آزاد نے اسے ہی ذی القرنین قرار دیا۔
لیکن حقیقت کیا ہے؟ کیا قدیم علماء ، مفسر و مفکر قرآن کہلانے والی شخصیات جنہوں نے سکند ر اعظم یونانی کو قرآن میں مذکور ذی القرنین قرار دیا وہ سب کی سب غلط اور ابو الکلام آزاد سچے تھے؟ یا پھر جیسے پہلوں نے سکندر اعظم یونانی کو ذی القرنین قرار دیا بالکل ایسے ہی ابو الکلام آزادنے بھی اپنے آباو اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سائرس ایرانی کوذی القرنین قرار دیا۔ جیسے باقی اپنے علماء ، مفکر و مفسر کہلوانے والی بڑی بڑی نامور شخصیات کی آنکھیں بند کر کے تائید و تصدیق کرتے رہے اور ہر اعتراض کو نظر انداز کرتے رہے بالکل ایسے ہی ابو الاعلیٰ مودوی، غلام احمد پرویز اور ڈاکٹر اسرار احمد جیسی شخصیات نے بھی کیا کہ جو نظریہ ابو الکلام آزاد نے پیش کیا انہوں نے ٹھان لی کہ ہر حال میں اسی کی تائید و تصدیق اور پرچار ہی کرنا ہے تاکہ جیسے قدیم دور میں ایسے موضوعات پر لب
کشائی کرنے والوں کو نمایاں مقام حاصل ہوا بالکل ایسے ہی آج یہ لوگ بھی نمایاں ہو سکتے ہیں۔
(جاری ہے)۔۔۔۔۔ 

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...