WARNING FROM MOTHER NATURE
حقیقت کیا ہے ؟ حقیقت ہر لحاظ سے کھول کر آپ کے سامنے رکھتے ہیں پھر فیصلہ آپ کے اختیار میں ہو گا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے۔ حق و باطل میں فرق
اس قدر واضح ہو جائے گا کہ آپ کو رائی برابر بھی مشکل نہیں رہے گی حق کو پہچاننے میں۔
وہ لوگ جنہوں نے سکندر اعظم یونانی کو ذی القرنین کہا یا مانتے ہیں اور ان کے برعکس وہ لوگ بھی جنہوں نے سائرس ایرانی کو ذی القرنین کہا مانتے ہیں اور مان رہے ہیں دونوں نے ہی قرآن کے برعکس تاریخ کا سہارا لیکر اپنا اپنا نظریہ اخذ کیا۔ یہ بات جان لیں کہ قرآن میں نہ تو سکندر اعظم کا نام آیا اور نہ ہی سائرس ایرانی کا نام آیا ان دونوں شخصیات کو ذی القرنین ثابت کرنے کے لیے قرآن کے علاوہ تاریخی کتب کا سہارا لیا گیا۔ آتے ہیں قرآن کی طرف اور قرآن سے سوال کرتے ہیں کہ کیا ان دونوں میں سے کوئی ذی القرنین تھا؟ اگرنہیں تو پھر ذی القرنین کون تھا؟ کیا قرآن اس پر خاموش ہے؟ کیا قرآن کا مقصد صرف سوال کھڑا کرنا تھا اور اس کا جواب دینا قرآن کا فرض نہیں تھا؟
ذوالقرنین کون ہے کیا قرآن اس پر راہنمائی نہیں کرتا قرآن اس پر خاموش ہے جو ان لوگوں نے قرآن کے برعکس کتابوں سے رجوع کیا؟ کیا قرآن اپنے علاوہ دوسری کتب کی طرف کسی بھی معاملے میں راہنمائی کے لیے جانے کی اجازت دیتا ہے؟ اگر اجازت دیتا ہے تو اس کا مطلب کہ قرآن مکمل راہنمائی کا دعویٰ نہیں کر سکتا، قرآن بعض معاملات میں بعض سوالات پر عاجز آ سکتاہے ، قرآن کو بھی لا جواب کیا جا سکتا ہے جیسے اس موضوع پر سکندر اعظم و سائرس ایرانی کو ذی
القرنین ماننے والوں نے قرآن کولاجواب کر دیا۔
اگر قرآن مکمل راہنمائی کا دعویدار ہے وہ ہر سوال کا جواب دیتا ہے تو پھر اگر کوئی کسی بھی معاملے میں قرآن کو ترک کرکے اس کے برعکس کسی اور طرف رخ کرتا
ہے کسی اور سے رجوع کرتا ہے تو قرآن ایسوں کے حوالے سے کیا کہتا ہے ان سب سوالات کے جوابات بذات خود قرآن سے ہی آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔
وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ ز فَاَبٰٓی اَکْثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوْرًا۔ الاسراء ۸۹
اور تحقیق کہ یعنی تم اپنی طرف سے پوری تحقیق کر لو اپنے گھوڑے دوڑا لو جو کہا جا رہا ہے وہی تمہارے سامنے آئے گا کیونکہ یہی قدر میں کیا گیا جس کے خلاف یا برعکس کچھ ہو ہی نہیں سکتا ہم ہر پہلو سے ہر لحاظ سے پھیر پھیر کرسامنے لے آئے بیان کر دیا لوگوں کے لیے اس قرآن میں تمام کا تمام مثلوں سے، پس انکار کر دیا لوگوں کی اکثریت نے مگر اس لیے کہ جو کچھ بھی انہیں دیا گیا وہ اس مقصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتے جس مقصد کے لیے انہیں دیاگیا وہ اپنی خواہشات کی اتباع کرنا چاہتے ہیں اس لیے لوگوں کی اکثریت نے اس بات کو ماننے سے انکار کر دیا کہ اس قرآن میں نہ صرف ہر بات موجود ہے ہر سوال کا جواب موجود ہے
بلکہ ایک سے زائد مقامات پر ہر پہلو سے پھیر پھیر کر بات کی گئی مثلوں سے۔
وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ وَکَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرَ شَیْئٍ جَدَلاً۔ الکہف ۵۴
اور تحقیق کہ یعنی تم کو سننے اور دیکھنے کی صلاحیتیں دیں اور جو سنتے اور دیکھتے ہو اسے سمجھنے کی صلاحیتیں دیں اس لیے دیں کہ ان کا اسی مقصد کے لیے استعمال کرو کہ اپنی پوری تحقیق کرو، اپنے گھوڑے دوڑا لو جو کہا جا رہا ہے وہی تمہارے سامنے آئے گا جو کہ قدر میں کر دیا گیا جس کے خلاف یا برعکس کچھ ہو ہی نہیں سکتا ہم ہر پہلو سے ہر لحاظ سے پھیر پھیر کرسامنے لے آئے بیان کر دیا لوگوں کے لیے اس قرآن میں تمام کا تمام مثلوں سے یعنی اس قرآن میں ماضی میں پیش آنے والے واقعات میں سے صرف ان کا ذکر کیا جو ہو بہو اسی طرح اس قرآن کے نزول سے لیکر الساعت کے قیام تک پیش آنا تھے انسانوں کے ہر سوال کا جواب ہر پہلو سے ہر لحاظ سے پھیر پھیر کر اس قرآن میں بیان کر دیا، قرآن کے نزول سے لیکر الساعت کے قیام تک انسانوں کو جب جب جو جو جیسے جیسے راہنمائی درکار تھی سب کا سب اس قرآن میں ہر پہلو سے پھیر پھیر کر تمہارے سامنے لے آئے مثلوں سے اور تھا انسان اکثریت معاملات میںجھگڑاکرنے والا سو جھگڑا ہی کیا یعنی قرآن کی بات تسلیم کرنے کی بجائے اپنی خواہشات و اپنے خودساختہ الہٰوں کی باتوں کو قرآن پر ترجیح دے رہے ہیں ۔ جب بھی قرآن نے کسی معاملے میں راہنمائی کی تو اپنی بے بنیاد و باطل اور بے ہودہ دلیلوں کو قرآن پر پیش کرتے ہیں اور قرآن کے مد مقابل اور اشیاء کو لا کھڑا کرتے ہیں اپنے ملّاؤں کو اپنے آباؤ
اجداد سے جو حاصل ہوا اسے قرآن کے مقابلے پر لا کھڑا کرتے ہیں وہ بات تسلیم ہی نہیں کرتے جو قرآن میں کہی جا رہی ہے۔
ان آیات میں آپ نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اللہ نے بالکل واضح کر دیا کہ اس قرآن میں جو آپ کے سامنے ہے اس میں نہ صرف ہر سوال کا جواب دے دیا بلکہ ہر پہلو سے پھیر پھیر کر لوگوں کے سامنے لے آئے مثلوں سے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس قرآن میں مکمل راہنمائی نہیں ہے بلکہ اس میں ہر سوال کا جواب موجود ہے اور پھر اس میں کوئی ایک بھی بات ایسی نہیں کی گئی کہ جو صرف ایک ہی بار کی گئی اور ایک ہی پہلو سے بلکہ اس قرآن میں ہر معاملے کو ہر اس معاملے کو جو لوگوں کو پیش آنا تھا ہر سوال کو ہر اس سوال کو جو لوگوںکے سامنے کھڑا ہونا تھا اسے ہر پہلو سے پھیر پھیر کر بیان کر دیا۔ ایک مقام پر ایک رخ ایک پہلو سے بیان کیا گیا تو اسی معاملے کو اسی سوال کودوسرے مقام پر دوسرے رخ دوسرے پہلو سے بیان کر دیا گیا اسی کو تیسرے مقام پر ایک تیسرے پہلو سے بیان کر دیا گیا یوں کسی ایک بھی پہلو سے اسے پوشیدہ نہیں رہنے دیا گیا۔
قرآن میں کوئی ایک بھی معاملہ کوئی ایک بھی بات ایسی نہیں ہے جو صرف کسی ایک ہی مقام پر اور ایک ہی بار بیان کی گئی بلکہ ہر معاملے کو ایک سے زائد مقامات پر ہر پہلو سے پھیر پھیر کر بیان کر دیا، کوئی سوال ایسا نہیں جس کا جواب قرآن میں موجود نہ ہو، کوئی معاملہ ایسا نہیں جس کا حل قرآن میں موجود نہ ہو۔
اور قرآن نے یہ بات بھی واضح کر دی کہ لوگوں کی اکثریت اس کا انکار کر رہی ہے یعنی لوگوں کی اکثریت یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ قرآن میں سب کچھ بیان کر دیا گیا، قرآن میں مکمل راہنمائی موجود ہے، قرآن میں ہر معاملے کا ہر مسئلے کا حل موجود ہے، قرآن میں ہر سوال کا جواب موجود ہے، قرآن میں ہر بات کو ہر سوال کو ہر معاملے و ہر مسئلے کو ایک سے زائد مقامات پر ہر پہلو سے پھیر پھیر کر بیان کر دیا گیا۔ لوگوں کی اکثریت یہ ماننے کو تیار ہی نہیں اس کا انکار کر رہی ہے اور پھر اللہ
نے یہ بھی واضح کر دیا کہ لوگوں کی اکثریت ایسا کیوں کر رہی ہے ؟
الا کفورا یعنی لوگوں کو جو کچھ بھی دیاگیا ہے خواہ وہ مال ودولت ہو، اولاد ہو یا ذہنی و جسمانی صلاحیتیں ہوں، وہ کہیں یا کسی پر اقتدار و اختیار ہو یا کچھ بھی دیا گیا لوگوںکی اکثریت ان کا استعمال اس مقصد کے لیے نہیں کرنا چاہتی جس مقصد کے لیے انہیں یہ سب دیا گیا کیونکہ اگر یہ اس بات کو مان لیں کہ قرآن میں ہر سوال کا جواب موجود ہے ہر معاملے و مسئلے کا حل موجود ہے تو ان کی خواہشات پر ضرب آئے گی اور یہی یہ نہیں چاہتے یہ اپنی خواہشات کی اتباع کرنا چاہتے ہیں
اس لیے یہ اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ قرآن میں سب کچھ پھیر پھیر کر ہر پہلو سے بیان کر دیا گیا۔
اسی لیے یہ قرآن کے برعکس اوروں کی طرف رجوع کرتے ہیں ان کی طرف رجوع کرتے ہیں جن سے ان کی خواہشات پر ضرب نہیں آتی۔ مثال کے طور پر آج اکثریت کی زبان سے آپ سنتے ہیں اکثریت کا کہنا ہے کہ قرآن میں سب کچھ بیان نہیں کیا گیا قرآن میں احکامات تو ہیں لیکن ان کی تفاصیل نہیں ہیں، ان کو کیسے کرنا ہے یہ نہیں بتایا گیا مثلاً الصلاۃ کا ترجمہ نماز کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قرآن میں الصلاۃ جو کہ نماز ہے اس کا حکم تو ہے لیکن طریقہ قرآن میں نہیں ہے اور پھر یہ جہاں سے طریقہ اخذ کرتے ہیں اس الصلاۃ کے نام پر نماز سے ان کی خواہشات پر کوئی ضرب نہیں پڑتی حالانکہ قرآن پورے کا پورا ایک ہی شئے کی وضاحت کر رہا ہے اور وہ ہے الصلاۃ، اگر یہ مان لیا جائے کہ قرآن میں الصلاۃ پر راہنمائی موجود ہے تو دنیا کی زندگی اتنی سخت ہو جائے گی کہ جیسے آپ کو آگ
میں ڈال دیا گیا ہو اور یہی کوئی نہیں چاہتا اس لیے اکثریت اس کا انکار کرتی ہے کہ قرآن میں ہر سوال کا جواب موجود ہے۔
اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا۔ النساء ۸۲
کیا پس نہیں تدبر کررہے القرآن، اور اگر تھا کسی اور کے ہاںسے اللہ کے علاوہ تو تم کو اس میں کثیر اختلاف مل رہا ہوتایعنی ایک مقام پر کچھ کہا جا رہا ہے اور
دوسرے مقام پر کچھ اور کہا جا رہا ہے یا جو کہا جار ہا ہے وہ اس میں ہے ہی نہیں۔
پھر یہ بھی ہے کہ اللہ کی طرف سے کھلم کھلا اعلان ہے کہ اگر قرآن غیر اللہ کے ہاں سے ہوتا تو تم اس میں کثیر اختلاف پاتے یعنی اگر ہم اس آیت کو صرف پیچھے بیان کی جانے والی دو آیات کے تناظر میں دیکھیں تو ایسا ممکن ہی نہیں کہ اللہ نے قرآن میں جو سوالات اٹھائے ہوں ان کے جوابات بھی قرآن میں نہ دیئے ہوں حتیٰ کہ انسان کے اس دنیا میں موجود رہنے تک پیش آنے والے کسی بھی معاملے کا حل ایسا نہیں ہے کہ قرآن میں نہ ہو۔ کسی بھی قسم کے پیدا ہونے والے سوال کا جواب قرآن میں نہ ہو یہ ممکن ہی نہیںہے۔ اگر ایسا ہو تو گویا کہ قرآن میں اختلاف ہے کہ ایک طرف اللہ کا کہنا ہے کہ اس میں سب کچھ ہر طرف سے پھیر پھیر کر بیان کر دیا ہر پہلو سے پھیر پھیر کر لوگوں کے لیے ان کے سامنے لے آئے مثلوں سے اور دوسری طرف اللہ نے ایسے سوالات کے جوابات نہ رکھے جو بڑے بڑے سوالات ہیں جن کے جوابات جاننا بہت ضروری ہیں۔ قرآن خود ہی سوال کھڑا کرے اور اس کا جواب ہی نہیں دے رہا ایسی صورت میں تو یہ
پھر اللہ کے ہاں سے نہ ہوا بلکہ غیر اللہ کے ہاں سے ہوا اور یہ بالکل ناممکن ہے۔
اب غور کریں اللہ کا کہنا ہے کہ ہر سوال کا جواب قرآن میں ہر پہلو سے پھیر پھیر کر مختلف مقامات پر بیان کر دیا مثلوں سے اور اگر کوئی سوال کھڑا ہو اور آپ یہ کہیں کہ اس کا جواب قرآن میں نہیں تو پھر اس کا مطلب کیا ہے؟ ایک ہی صورت ہے یا تو قرآن جھوٹا اور آپ سچے یا پھر قرآن جھوٹا نہیں قرآن تو سچا ہے مگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں آپ قرآن پر الزام لگا رہے ہیں آپ قرآن پر افتراء کررہے ہیں۔ اور ذرا غور کریں اگر کوئی سوال پیدا ہوتا ہے تو آپ اس سوال کا جواب قرآن سے حاصل کرنے کی بجائے قرآن کے برعکس کسی اور کی طرف رجوع کرتے ہیں تو آپ کا عمل کس بات کا اعلان کر رہا ہے؟ کیا آپ اپنے عمل سے یہ اعلان نہیں کر رہے کہ قرآن کے پاس آپ کے سوال کا جواب موجود نہیں ہے۔ کیا آپ اپنے عمل سے یہ اعلان نہیں کر رہے کہ قرآن میں اختلاف موجود ہے ایک طرف قرآن ہر سوال کا جواب دینے کا دعویٰ کرتا ہے اور دوسری طرف آپ کے سوال کا جواب قرآن کے پاس ہے ہی نہیں اسی لیے تو
آپ نے قرآن کے برعکس کسی اور سے رجوع کیا اپنے سوال کے جواب کے لیے۔
اب ذرا غور کریںجن جن لوگوں نے سکندر اعظم یونانی یا سائرس ایرانی کوذی القرنین کہایا ثابت کرنے کی کوشش کی اور جو جو بھی ان میں سے کسی ایک بھی شخصیت کو ذی القرنین مان رہے ہیں کیا ان کو ان کے سوال ذی القرنین کون ہے کا جواب قرآن نے دیا؟ کیا انہوں نے اپنے اس سوال کا جواب قرآن سے
حاصل کیا؟
اگر یہ جواب قرآن سے ہے تو غلط ہو ہی نہیں سکتا اور اگر قرآن سے نہیں تو نہ صرف ان کو جواب غلط ملا بلکہ انہوں نے قرآن پر افتراء کیا۔ ان لوگوں نے قرآن پر بہتان باندھا ان لوگوں نے اپنے عمل سے اس بات کا اعلان کیا، دعویٰ کیا کہ قرآن میں ہر سوال کا جواب نہیں ہے قرآن میں مکمل راہنمائی موجود نہیں ہے، قرآن اپنے دعوے میں جھوٹا ہے ، اللہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہے اللہ ایک طرف تو کہتا ہے کہ ہم نے اس قرآن میں ہر سوال کا جواب پھیر پھیر کر ہر پہلو سے
بیان کر دیامثلوں سے جواب سامنے لے آئے اور دوسری طرف ہمارے اس سوال کا جواب قرآن میں ہے ہی نہیں۔
خواہ وہ کوئی بھی شخصیت ہو پوری کی پوری دنیا ہی کیوں نہ اس کی تعریفوں کے پل باندھے لیکن اس کے حق ہونے کا معیار یہ نہیں ہے بلکہ حق ہونے کا معیار وہ ہے جو اللہ نے طے کر دیا اس ذات نے جس نے وجود دیا۔ قرآن میں اور بھی درجنوں ایسی آیات ہیں جن میں انہی باتوں کو مزید مختلف پہلوؤں سے پھیر پھیر
کر بیان کیا گیا اور لوگوں کے ردعمل کو بھی بالکل کھول کھول کر بیان کر دیا گیاجنہیں آپ ان آیات میں جان چکے ہیں۔
قرآن نے بالکل واضح اوردو ٹوک الفاظ میں سکندر اعظم یونانی اور سائرس ایرانی کے ذی القرنین ہونے کی نفی کر دی اور جن لوگوں نے ان شخصیات کو ذی
القرنین بنایا ہوا تھا ان کی حقیقت بھی آج اللہ نے چاک کر کے رکھ دی۔
جن لوگوں نے سکندر اعظیم یونانی یا پھر سائرس ایرانی کو ذی القرنین کہایا ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی یا تسلیم کیا ان لوگوں نے اپنی زبان سے اس بات کا اقرار کیا کہ قرآن میں ذی القرنین کا ذکر تو آیاہے لیکن قرآن اس سوال کا جواب نہیں دیتا کہ ذی القرنین کون تھا اس لیے ہمیں اس سوال کے جواب کے لیے قرآن کے علاوہ دوسری تاریخی کتب کا سہارا لینا پڑا غیر قرآن سے راہنمائی لینا پڑی۔ آپ جان چکے ہیں کہ یہ لوگ اپنے دعوے میں بالکل بے بنیاد اور جھوٹے ہیں یہ ان کا کہنا ہے کہ قرآن میں ان کے سوال کا جواب نہیں اللہ نے یا قرآن نے ہرگز ایسا نہیںکہا بلکہ اللہ نے تو اس قرآن میں ان کے بالکل برعکس بات کی یہ دعویٰ کیا کہ اس قرآن میں سب کا سب ہر پہلو سے پھیر پھیر کر تمہارے سامنے لے آئے مثلوں سے اور اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ قرآن میں کسی سوال کا جواب موجود نہیں تو اس میں قرآن کا قصور نہیں ہے بلکہ قصور اس کا ہے جو ایسا کہہ رہا ہے جسے قرآن میں اس کے سوال کا جواب نہیں مل رہا، وہ اللہ کے قانون میں اندھا ہو چکا ہے
اسے اپنے اندھے پن کے علاج کی ضرورت ہے نہ کہ اللہ اور اس کے قرآن الحکیم پر بہتان کی ضرورت۔
ان لوگوں نے کہا کہ قرآن میں اس سوا ل کا جواب موجود نہیں اس لیے ہم نے قرآن کے علاوہ دوسری تاریخ کی کتابوں سے راہنمائی لی اور ہمیں قرآن کے
برعکس ان تاریخی کتابوں نے ہمارے سوال کا جواب دیا تو ان کے اس قول کا قرآن میں اللہ نے کس طرح رد کر دیا اسے بھی آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔
اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ۔ الزمر ۲۳
اللہ نے اتاری احسن الحدیثِ، حدیث کہتے ہیں تاریخ کو، انسان کا معاملہ یہ ہے کہ جب بھی وہ کوئی ایسا کام کرتا ہے یا اسے ایسا معاملہ پیش آتا ہے جس سے اس کا پہلی بار واسطہ پڑتا ہے تو وہ راہنمائی کے لیے کسی ایسے کو تلاش کرتا ہے جس کا اس سے پہلے اسی کام سے واسطہ پڑ چکا ہوتاہے تا کہ اس کی تاریخ سے استفادہ حاصل کیا جا سکے یوں نہ صرف بہتر طریقے سے اس مسئلے یا معاملے سے نپٹا جا سکے گا بلکہ ہر ممکن حد تک نقصان سے بچا جا سکتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے
آپ اپنی زندگی میں پہلی بار کوئی قیمتی شئے خریدتے ہیں جس کے بارے میں پہلے سے آپ کے پاس کوئی علم نہیں ہوتا تو آپ کسی ایسے شخص سے راہنمائی لیتے ہیں جو آپ سے پہلے اس شئے کو خرید کر استعمال کر چکا ہوتا ہے اگر کوئی ایسا شخص نہ ملے تو آپ کسی ایسے شخص کی تاریخ سے راہنمائی لیتے ہیں تا کہ کسی بھی قسم کی غلطی یا نقصان سے بچا جا سکے۔ یہی معاملہ دنیامیں آباد مجموعی طور پر انسانوں کا ہے جب بھی انہیں کوئی مسئلہ پیش آتا ہے توراہنمائی کے لیے تاریخ سے رجوع کرنا ناگزیر ہوتا ہے اس لیے یہ تاریخ سے رجوع کرتے ہیں اور اسی مقصد کے لیے اللہ نے احسن الحدیثِ اس قرآن کی صورت میں اتاری یعنی یہ قرآن ایسی تاریخ ہے جس سے احسن کوئی تاریخ نہیں ہے یہ قرآن احسن تاریخ ہے۔
(جاری ہے)۔۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment