Monday, October 10, 2022

                                            WARNING FROM MOTHER NATURE 


                        


قسط نمبر#60

پھر سورۃ ص کی ان آیات میں دیکھیں
فَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖ رُخَآئً حَیْثُ اَصَابَ۔ص ۳۶
پس سخر کر دیا ہم نے یعنی اس کے اختیار میں دے دیا ہم نے ہوا کو جو اس کے امر سے بہتی تھی جو کہ اس کے تیز ترین سواری کے ذرائع تھے جہاں کہیں بھی اس کو
جانا ہوتا تھا
وَالشَّیٰطِیْنَ کُلَّ بَنَّآئٍ وَّ غَوَّاصٍ۔ص ۳۷
اور شیاطین کو اس کے اختیار میں دے دیا یعنی شیاطین پر اسے دسترس دے دی جو ہر طرح کی تعمیرات کرنے والے تھے مادی یا غیر مادی اور وہ تعمیرات بھی جو سمندروں میں پانیوں میں غوطہ زن ہو کر بنائی گئیں یا وہ شیاطین بھی اس کی دسترس میں دے دیئے جو پانیوں میں سمندروں میں غوطہ خوری کرنے والے تھے
وَّاٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ۔ ص ۳۸
اور دوسرے وہ شیاطین بھی اس کے اختیار میں دے دیئے ان دوسرے شیاطین پر بھی اسے دسترس دے دی جو ہتھکڑیوں، زنجیروں، جیلوں وغیرہ میں جکڑے
گئے تھے
ھٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِکْ بِغَیْرِ حِسَابٍ۔ ص ۳۹
یہ ہماری عطا ہے جو ہم نے اسے عطا کیا پس وہ انہیں امان دے یعنی جب ان پر دسترس پائی تو ان کو ان کی چاہت کے مطابق رہا کر دے انہیں کوئی سزا نہ دے یا
؎ انہیں رہا نہ کر ان سے جو چاہے کام لے جہاں چاہے ان کا استعمال کر کسی بھی قسم کا کوئی حساب نہیں لیا جائے گا۔
سلیمان علیہ السلام کو جب فتنہ میں ڈالا اور انہوں نے فتنہ کو پہچان کر فوراً اللہ سے رجوع کیا اللہ کی امانت کے اہل ثابت ہوئے تو سلیمان علیہ السلام نے ایسا ملک مانگا جو اس کے بعد کسی ایک کو بھی نہ دیا جائے تو نہ صرف سلیمان کو ایسا ملک دیا گیا بلکہ اگلی آیات میں اللہ نے جو کچھ سلیمان کو عطا کیا اور جیسے عطا کیا اس کا ذکر کیا جیسے کہ سلیمان کے لیے ہوا کو مسخر کیا اور وہ اپنے تیز ترین سواری کے ذرائع سے جہاں چاہتے انتہائی تیز رفتاری سے سفر کرتے، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ سفر انہوں نے کہاں اور کیوں کیے؟ تو اگلی ہی آیات میں اس کا جواب بھی موجود ہے سلیمان کو ایسے ایسے ماہر شیاطین پر دسترس دی گئی جو ہر طرح کی مادی و غیر مادی تعمیرات کے ماہر تھے اور وہ بھی جو پانیوں میں سمندروں میں غوطہ خوری کی ماہر تھے اور وہ شیاطین بھی جنہیں سلیمان نے ہتھکڑیوں میں، جیلوں میں مضبوطی سے جھکڑکر قید کیا اور جب سلیمان نے ان لوگوں پر دسترس پائی تو اللہ نے کہا کہ انہیں امان دے یا ان سے کام لے انہیں قید کر سزا دے تجھ سے اس کا کوئی حساب
نہیں لیا جانے والا۔
اس سے پہلی بات تو یہ ثابت ہو جاتی ہے کہ سلیمان نے تیزترین فضائی سفر کے ذرائع سے جو سفر کیے ان کا مقصد زمین میں ہونے والے فساد کی جڑ مفسدین شیاطین جنہیں انسان سائنسدانوں کا نام دیتے ہیں یا وہ لوگ جو دنیا پر براہ راست اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان تک پہنچنے ان پر دسترس پانے کے لیے سفر کیے اور پھر جب انہیں قتل و قید کیا تو اس کا اختیار بھی اللہ نے سلیمان کو ہی دے دیا سلیمان جو چاہے ان کیساتھ کرے اور حیران کن طور پر اسی واقعے کو ایک
دوسرے پہلو سے سورۃ الکہف میں سلیمان کی جگہ ذی القرنین کا لفظ استعمال کرتے ہوئے بیان کیا گیا۔
فَاَتْبَعَ سَبَبًا۔ حَتّیٰٓ اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَھَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَۃٍ وَّوَجَدَ عِنْدَھَا قَوْمًا قُلْنَا ٰیذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّآ اَنْ تُعَذِّبَ وَاِمَّآ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْھِمْ حُسْنًا۔ قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُہٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰی رَبِّہٖ فَیُعَذِّبُہٗ عَذَابًا نُّکْرًا۔ وَاَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَہٗ جَزَآئَ الْحُسْنٰی وَسَنَقُوْلُ لَہٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًا۔ ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔ حَتّیٰٓ اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَھَا تَطْلُعُ عَلٰی قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّہُمْ مِّنْ دُوْنِہَا سِتْرًا۔ کَذٰلِکَ وَقَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْہِ خُبْرًا۔ ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔ حَتّیٰٓ اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِہِمَا قَوْمًا لَّا یَکَادُوْنَ یَفْقَہُوْنَ
قَوْلًا۔ الکہف ۸۵ تا ۹۳
وہ شخصیت جسے ذی القرنین کہا گیا اس کی پہچان کے لیے بتا دیا گیا کہ ذی القرنین وہ ہے جس کو نہ صرف زمین میں مکن دیا بلکہ ہر شئے سے اسباب دیئے ان اسباب میں سے سبب کے ذریعے جب اس کے پاس خبر آئی زمین کے مغرب کی طرف ہونے والے فساد کی تو اس نے اس کی اتباع کی یعنی اس کے پیچھے پڑا پھر جہاں پہنچا وہاں ایک ایسی قوم کو پایا جو مفسد قوم تھی یعنی زمین میں فساد کرنے والے لوگ اور جب ذی القرنین نے ان پر دسترس پا لی تو اللہ نے کہا قُلْنَا ٰیذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّآ اَنْ تُعَذِّبَ وَاِمَّآ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْھِمْ حُسْنًا اے ذی القرنین تجھے اختیار ہے کہ تو جو جی چاہے ان کیساتھ کر اگر تُو چاہے تو جو انہوں نے فساد کیا ان کے کیے کی انہیں سزا دے اور تُو چاہے تو ان کو سزا دینے کی بجائے ان میں حسن اخذ کر یعنی زمین میں ہونے والے فساد کی روک تھام کے لیے اگر یہ تیرے کام آ سکتے ہیں تو ان سے وہ کام لے تجھ سے ان کے بارے میں کوئی حساب نہیں لیا جائے گا اور پھر جب وہ شخصیت جسے ذی القرنین کہا گیا وہ مشرق میں پہنچی
اسباب کی اتباع میں تو وہاں بھی اس نے وہی کیا اوراللہ نے بھی وہی کہا۔
اب آپ خود غور کریں اللہ نے ایک ہی واقعے کو دو مختلف پہلوؤں سے قرآن میں بیان کیا ایک مقام پر نام کیساتھ ذکر کیا سلیمان اور دوسرے مقام پر سلیمان نام کی بجائے لفظ ذی القرنین کا استعمال کیا جس کے معنی وہ شخص جسے زمین کے دونوں مخصوص قرن حاصل ہوئے جو کہ زمین کے مغرب و مشرق تک مکن ہے۔
اس پہلو سے بھی یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو جاتی ہے کہ ذی القرنین کوئی اور نہیں بلکہ اللہ کے نبی سلیمان علیہ السلام تھے وہ سلیمان علیہ السلام ہی تھے جس نے مغرب و مشرق کے سفر کیے اور وہاں شیاطین جو کہ زمین میں فساد کے ذمہ دار تھے ان پر دسترس پائی تو اللہ نے انہیں ہر قسم کا اختیار دے دیا کہ انہیں سزا دے یا پھر اگر وہ زمین میں فساد ختم کرنے زمین کی اصلاح کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں تو ان سے کام لے اس سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا اس لیے ذی
القرنین کوئی اور نہیں بلکہ سلیمان علیہ السلام تھے۔ (جاری ہے)۔۔۔
۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...