Tuesday, October 11, 2022

                                 WARNING FROM MOTHER NATURE

قسط نمبر#61
ذرا غور کریں اس سب کے سب کی ضرورت تو ذی القرنین کو تھی لیکن یہ سب دیا گیا سلیمان کو تو ذی القرنین کون ہوا؟ جواب بالکل واضح ہے کہ ظاہر ہے اگر دیا گیا سلیمان کو اور استعمال ذی القرنین نے کیا یعنی اس شخص نے جسے دو مخصوص قرن حاصل تھے یعنی زمین کے مغرب و مشرق تک کا اقتدار و اختیار حاصل تھاتو وہ
داؤد کا بیٹا سلیمان تھا نہ کہ کوئی اور اس لیے ذی القرنین کوئی اور نہیں بلکہ سلیمان تھا۔
آپ خود غور کریں کہ ان سب کا استعمال ذی القرنین نے کیا لیکن دیا گیا سلیمان کو تو ذی القرنین کون ہوا؟
ایسے ماہرین تعمیرات اور تعمیراتی اسباب یعنی مشینیں وغیرہ تو ذی القرنین کے پاس ہونے چاہیے تھے کیونکہ استعمال تو ذی القرنین نے ان سب کا کیا لیکن دیئے
گئے سلیمان کو تو ذی القرنین کون ہوا؟ ظاہر ہے سلیمان ہی ذی القرنین تھا۔
غیر معمولی مقدار میں تانبے کو پگھلا کر ذی القرنین نے استعمال کیا سد کی تعمیر میں لیکن غیر معمولی مقدار میں تانبہ دیا گیا سلیمان کو، اسے پگھلانے کے لیے تالابوں کی مانند کنڈے لگے برتن جن سے ان تالابوں نما برتنوں میں پگھلے ہوئے تانبے کو نہ صرف پگھلایا جا سکے اور پگھلایا بلکہ اٹھایا جا سکے اور اٹھایا اور جس قوت یعنی مشینوںسے اٹھا یا گیا یہ سب کیا سلیمان نے تو ذی القرنین کون ہوا؟ ظاہر ہے ذی القرنین تو سلیمان اللہ کا نبی ہی تھا نہ کہ کوئی اور۔
پھر بارہ کلو میٹر لمبی اور پانچ کلومیٹر بلند چوٹیاں بنائیں ذی القرنین نے دو چٹانوں کودرمیان سے بند کرنے کے لیے لیکن ان چوٹیوں کو بنانے کا تمام تر سازو سامان اور ماہرین دیئے گئے سلیمان کو جنہوں نے سلیمان کے حکم سے ایسی بلند و بانگ اور غیر متزلزل چوٹیاں بنائیں جنہیں کوئی توڑ نہ سکے ہلا نہ سکے کھود نہ سکے ان میں سوراخ نہ کر سکے اور یہ بنائیں زمین میں اصلاح کی غرض سے فساد کا رستہ روکنے کی غرض سے تو پھر آپ خود غور کریں کہ ذی القرنین کون ہوا؟ کیا ذی
القرنین سلیمان کے علاوہ کوئی تھا ہے اور ہو سکتا ہے؟ نہیں بالکل نہیں۔
زمین کے مغرب و مشرق میں زمین کی اصلاح کے لیے مفسدین کا رستہ روکنے ان سے جنگ کرنے کے لیے سفر کیے ذی القرنین نے جس کے لیے نہ صرف سفری اسباب کی ضرورت تھی بلکہ اللہ کے دشمنوں سے مقابلے کے لیے انتہائی جدید اور قوت کا حامل اسلحہ ذی القرنین کو درکار تھا لیکن ایسا اسلحہ بنانے کے ماہرین دیئے گئے سلیمان کو ایسا اسلحہ وہ بناتے سلیمان کے لیے یعنی اسلحہ دیا گیا سلیمان کو اور استعمال کرنے والے کو ذی القرنین کہا جا رہا ہے تو کیا یہ دو الگ الگ شخصیات کا ذکر کیا جا رہا ہے یا پھر ایک ہی شخصیت کا ذکر کیا جا رہا ہے ایک مقام پر اس کا نام کیساتھ ذکر کیا جا رہا ہے اور دوسرے مقام پر اس کے اسم یعنی اسے جو
خاص صلاحیت یا خاصیت حاصل تھی اس سے اس کا ذکر کیا جا رہا ہے، یوں اس پہلو سے بھی آپ پر یہ بات بالکل کھول کر واضح کر دی گئی کہ ذی القرنین سلیمان
علیہ السلام تھے نہ کہ کوئی اور۔
تماثیل یعنی وہ جو گزشتہ ہلاک شدہ اقوام بنا چکی تھیں بالکل انہی کی مثل کی ضرورت پڑی ذی القرنین کو جیسے کہ آپ دیکھتے ہیںمصر میں آج بھی آل فرعون کے غیر متزلزل چوٹیوں کی صورت میں آثار موجود ہیں جنہیں آج اس جدید دور میں بھی معجزات اور عجائب تسلیم کیا جاتا ہے، قوم نوح پر جو طوفان آیا اس میں لہریں پہاڑوں کی مانند کئی کئی کلو میٹر بلند تھیں جس کی وجہ یہ تھی کہ قوم نوح اتنی بلندی پر پہنچ چکی تھی ان کی عمارتیں پہاڑوں کی مانند کئی کئی کلو میٹر بلند تھیں ان عمارتوں کو بنانے کے لیے غیر معمولی قوت کی حامل مشینیں تھی اور ان سب کی تماثیل کی ضرورت تو ذی القرنین کو پیش آئی، آل فرعون کی مثل چوٹیاں تعمیر کرنے کی ضرورت تب پیش آئی جب ذی القرنین سدین کے درمیان پہنچا وہاں دو چٹانوں کو درمیان سے بند کرنا تھا انہیں بند کرنے کے لیے قوم نوح کی تماثیل کی ضرورت تھی اور ان آیات میں اللہ کا کہنا ہے کہ جن کو سلیمان نے قید کیا ہوا تھا شیاطین جن و انس کو وہ سلیمان کے لیے جو اللہ کے قانون میں ہوتا تماثیل بناتے یعنی بالکل ویسا ہی سب بناتے جیسا ہلاک شدہ اقوام بنا چکی تھیں تو آپ خود غور کریں کہ پھر ذی القرنین کون ہوا؟ کیا سلیمان کے علاوہ کوئی ذی القرنین ہو سکتا ہے؟
آپ قرآن اٹھا کر دیکھیں تو پورے قرآن میں صرف اور صرف دو ہی مقامات پر غیر معمولی مقدار میں پگھلے ہوئے تانبے کا ذکر کیا گیا ان میں سے ایک مقام پر اس کے استعمال کا ذکر کیا گیا اور استعمال کرنے والے کو ذی القرنین کہا گیا اور دوسرے مقام پر اس کا ذکر کیا گیا جسے وہ اتنی غیر معمولی مقدار میں تانبہ دیا گیا جس نے وہ غیر معمولی مقدار میں تانبہ پگھلایا اور وہ سلیمان علیہ السلام تھے اب آپ خود غور کریںکہ کیا ذی القرنین اور سلیمان دو الگ الگ شخصیات تھیں یا پھر ایک ہی شخصیت سلیمان علیہ السلام ، وہ سلیمان ہی تھے جنہیں دوسرے مقام پر ذی القرنین کہا گیا یعنی سلیمان وہ شخصیت تھی جسے دو مخصوص قرن حاصل تھے اور دو مخصوص
قرن زمین کے مغرب اور مشرق تھے یعنی سلیمان ہی وہ شخصیت تھی جسے زمین کے مغرب و مشرق تک کا اقتدار دیا گیا مکن دیا گیا۔
اب دنیا کی کوئی طاقت حق کا رد نہیں کر سکتی کہ ذی القرنین داؤد کے بیٹے سلیمان علیہ السلام تھے۔

ایک اور پہلو سے حق آپ کے سامنے کھول کر واضح کر دیتے ہیں
اللہ کا قرآن میں کہنا ہے کہ سلیمان کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہایا گیا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے قرآن میں سلیمان کے لیے تانبے کا چشمہ بہانے کا ذکر تو کیالیکن کیا اللہ ٰ قرآن میں اس سوال کا جواب دیتا ہے کہ سلیمان کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ کیوں جاری کر دیا یعنی سلیمان کو غیر معمولی مقدار میں تانبہ کس مقصد کے لیے دیا گیا سلیمان نے اس کو پگھلا کر کب، کہاں اور
کیوں استعمال کیا؟
جب قرآن میں دیکھا جائے تو پورے قرآن میں کہیں بھی سلیمان کے نام کے ساتھ کہیں بھی اس تانبے کے استعمال یا اس تانبے کے دیئے جانے کے مقصد کا ذکر نہیں کیا گیاجو کہ بہت بڑے سوالات ہیں کیونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ نے سلیمان کے لیے تانبے کا چشمہ بہانے کا ذکر کیا تو آخر کیوں؟ یہ بتانے کی کوئی وجہ بھی تو ہونی چاہیے تھی؟ تانبے کا چشمہ کیوں بہایا گیا سلیمان کے لیے ؟ آخر سلیمان کو اس کی ضرورت کب کہاں اور کیوں پیش آئی؟ اتنی بڑی مقدار میں
تانبے کا استعمال کہاں کیا گیا؟
آپ پورے کا پورا قرآن چھان لیں آپ کو کہیں بھی سلیمان کا نام استعمال کرتے ہوئے سلیمان کی طرف سے تانبے کے استعمال کا ذکر نہیں ملے گا اور اگر یہ بات مان لی جائے کہ قرآن ان سوالات کے جوابات دینے سے قاصر ہے قرآن خاموش ہے تو قرآن اپنے ہی دعوے میں غلط ثابت ہو جاتا ہے کہ قرآن میں ہر سوال کا جواب موجود ہے قرآن ہر بات کو بیان کرتا ہے اور نہ صرف بیان کرتا ہے بلکہ ہر پہلو سے سامنے رکھتا ہے اور وہ بھی مثلوں سے۔ اس لیے اگر قرآن ان سوالات کے جوابات نہیں دیتا تو اس کا مطلب بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ قرآن اپنے ہی دعوے میں جھوٹا ہے جو کہ ناممکن ہے قرآن اپنے ہی دعوے میں غلط ہو
ایسا ممکن ہی نہیں۔
قرآن نے اگر ان سوالات پر خاموش ہی رہنا تھا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن نے بلا وجہ ایسی بات ہی کیوں کی؟ اگر قرآن کے پاس ان سوالات کے جوابات ہی نہ تھے توقرآن نے خود ہی ان سوالات کو جنم کیوں دیا؟ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ قرآن میں سلیمان کو تانبے کے دیئے جانے کا ذکر کرنا بے معنی
بے مقصد ہو جاتا ہے جس کا مطلب اللہ نے اس قرآن کو اس قرآن کی آیات کو بالحق نہیں اتارا جو کہ بالکل ناممکن ہے۔
نہ تو قرآن بغیر حق اتارا گیا، نہ ہی قرآن کوئی بے مقصد بات کرتا ہے، نہ ہی قرآن کوئی ایسا سوال کھڑا کرتا ہے جس کا وہ جواب ہی نہ دے اور نہ ہی کوئی ایک بھی ایسا سوال ہے جس کا جواب قرآن میں موجود نہ ہو، اگر کوئی ایسا کہتا، سوچتا یا سمجھتا ہے تو اس میں قصور اللہ کا نہیں قصور قرآن کا نہیں بلکہ قصور اس کا اپنا ہے کہ وہ اس معیار پر ہی پورا نہیں اتر رہا جس معیار پر پورا اترنے سے ہی قرآن اپنے راز کھولتا ہے وہ اللہ کے طے کردہ اس قانون پر ہی پورا نہیں اتر رہا جس پر پورا اترنے
سے ہی قرآن کھلتا ہے قرآن ہر سوال کا جواب دیتا ہے قرآن راہنمائی کرتا ہے اس لیے قصور اللہ کا نہیں ، قصورقرآن کا نہیں بلکہ قصور ایسا کہنے والے کا اپنا ہے۔
آپ پیچھے یہ بات جان چکے کہ اللہ نے نہ صرف ہر اس بات کو ہر اس مسئلے یا معاملے کو قرآن میں بیان کر دیا جو انسانوں کو پیش آنا تھا اور پھرکسی ایک بھی بات، معاملے یا مسئلے کو قرآن میں ایک ہی پہلو سے ایک ہی مقام پر بیان نہیں کیا بلکہ ہر بات کو ہر معاملے یا مسئلے کو ہر پہلو سے ایک سے زائد مقامات پر قرآن میں بیان کیا اس لیے قرآن میں اللہ نے ایک مقام پر یہ بتایا کہ سلیمان کے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا تو اسی قرآن میں کسی دوسرے مقام پر سلیمان ہی کی طرف سے اس تانبے کو کب کہاں اور کیوں استعمال کیا گیا اس پر بھی تفصیل کیساتھ بات کی۔ اور جب اللہ سے یہ سوالات کیے جائیں تو اللہ ان سوالات کے جوابات
سورت الکہف میں ذی القرنین کے موضوع پر بات کرتے ہوئے دیتا ہے۔
جس کے لیے تانبے کا چشمہ بہایا ایک مقام پر اس کا نام بتا دیا تو دوسرے مقام پر اس کے اسم سے اس کا ذکر کرتے ہوئے اس تانبے کے استعمال کی تفصیلات بھی
بیان کر دیں جس سے یہ بات مزید کھل کر واضح ہو جاتی ہے کہ ذی القرنین کوئی اور نہیں بلکہ سلیمان بن داؤد علیہ السلام تھے۔
اس کے علاوہ بھی اگر آپ غور کریں تو آپ پر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ پورے قرآن میں ایک جگہ پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہانے کا ذکر کیا گیا تو دوسری جگہ اس تانبے کے استعمال کا ذکر کیا گیا جس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ جب تانبہ سلیمان کو دیا گیا تو ظاہر ہے استعمال بھی سلیمان نے ہی کیا یوں
ذی القرنین کوئی اور نہیں بلکہ سلیمان علیہ السلام ہیں۔ (جاری ہے)۔۔۔۔۔ 

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...