Thursday, October 13, 2022

                                 WARNING FROM MOTHER NATURE 


قسط نمبر#62

پیچھے آپ پر واضح کیا جا چکا کہ اساطیر الاولین اس طرح ثابت ہوتی ہیں جب یہ کہا جائے کہ یہ تو گزشتہ لوگوں کی بات کی جا رہی ہے جس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور یہی موجودہ انسانوں کا کہنا ہے وہ جو قرآن پر ایمان رکھنے کے دعویدار ہیں اور مزید کیا کہتے ہیں یہ بھی اللہ نے قرآن میں واضح کر دیا۔
لَقَدْ وُعِدْنَا ھٰذَا نَحْنُ وَاٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا ٓ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ النمل ۶۸
تحقیق کہ یعنی تم اپنی تحقیق کر لو تمہارے سامنے یہی بات آئے گی وعدہ ہے ہمارا یہ ہم اور ہمارے آباؤاجداد اس سے پہلے نہیں ہے یہ مگر اساطیر الاولین۔
یعنی یہ ہمارا وعدہ ہے تم اپنی تحقیق کر لو تمہارے سامنے یہی آئے گا ہم یعنی موجودہ وہ لوگ جو قرآن کی ترجمانی کے دعویدار ہیں جو علماء و مفسر ہیں اور جو ہمارے آباؤ اجداد یعنی وہ جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں جنہوں نے قرآن کی تفسیریں لکھیں تمہیں اس کے سوا اور کوئی بات نہیں ملے گی کہ یہ جو کچھ بھی ہے یہ ان کی سطریں ہیں جو گزر چکے یہ الاولین کی سطریں ہیں یعنی محض ان لوگوں کی بات ہو رہی ہے ان کے قصے و کہانیاں ہیں جو قرآن کے نزول سے پہلے گزر چکے ۔
وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ مَّا ذَآ اَنْزَلَ رَبُّکُمْ قَالُوْٓا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ۔ النحل ۲۴
اور جب کہا گیا ان کو کیا ہے جو اتارا تھا تمہارے ربّ نے آگے سے جواب دے رہے ہیں اساطیر ہیں الاولین کی۔
وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآئُ لَقُلْنَا مِثْلَ ھٰذَآ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا ٓ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ الانفال ۳۱
اور جب ہمارا بھیجا ہوا رسول تلاوہ کر رہا ہے ان پر ہماری آیات یعنی ہماری آیات کو کھول کھول کر واضح کر رہا ہے تو آگے سے ان کا رد عمل یہ ہے تحقیق سن چکے ہم اگر ہمارا قانون ہوتا یعنی اگر یہی دین ہوتا ہمارے نزدیک تو ہم اس کے لیے بالکل ایسے ہی کہتے یعنی ہمارے نزدیک یہ دین نہیں ہے اگر ہم بھی اسے دین سمجھتے جسے تُو دین کہہ رہا ہے تو ہم بھی یہی سب کہتے جو تُو کہہ رہا ہے کہ یہ مثلیں ہیں، نہیں ہے یہ مگر اساطیر الاولین ہیں۔ یعنی یہ قرآن میں جو کچھ بھی گزشتہ لوگوں کے بارے میں آیا ہے اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں یہ دین نہیں ہے یہ تو الاولین کی سطریں ہیں ان کی حیثیت قصے و کہانیوں سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں، یہ ان
کا ذکر کیا جا رہا ہے جو گزر چکے ہیں۔
آپ ہر لحاظ سے بالکل واضح طور پر یہ جان چکے ہیں کہ اس قرآن میں اساطیر الاولین نہیں بلکہ مثلیں ہیں۔ جہاں قوم نوح کا ذکر کیا جا رہا ہے تو وہ اصل میں قوم نوح نہیںبلکہ موجود قوم یعنی جو لوگ دنیا میں آباد ہیںان کا ذکر کیا جا رہا ہے کیونکہ قوم نوح تو الاولین میں سے تھی الاولین کو ہم نے سلف کر دیا اور نہ صرف سلف کر دیا بلکہ مثل کر دیا الآخرین کے لیے اس لیے جہاں قوم نوح کے الفاظ آئے ہیں تو وہاں اصل میں ذکر ان کی مثل موجودہ قوم کا ہے اسی طرح قرآن میں جہاں جہاں الاولین کا ذکر آیا ہے تو وہاں اصل میں ان کا ذکر نہیں قوم عاد، ثمود، قوم لوط، قوم شعیب یا آل فرعون کا ذکر نہیں بلکہ وہ تو تمہاری ہی تاریخ بیان کر دی گئی مگر مثلوں سے۔ اسی طرح جہاں جہاں امت بنی سرائیل کا ذکر آتا ہے تو وہاں اصل میں ذکر بنی اسرائیل کا نہیں بلکہ بنی اسرائیل کو تو سلف یعنی گزرے ہوئے کر دیا اور انہیں نہ صرف گزرے ہوئے کر دیا بلکہ مثل کر دیا بعد والوں کے لیے ۔ تو ذرا غور کریں امت بنی اسرائیل تو سلف ہو چکی ور ان کی مثل کون سی امت ہوئی جو
ان کے بعد والی ہے؟
جن کو سلف یعنی گزرے ہوئے کر دیا گیا ان کو صرف گزرے ہوئے ہی نہیں بلکہ مثل کر دیا گیا بعد والوں کے لیے یعنی جو بھی اس قرآن کے نزول سے پہلے اس دنیا میں آئے وہ نہ صرف گزرے ہوئے ہو گئے بلکہ انہیں مثل کر دیا گیا اس قرآن کے نزول سے لیکر الساعت کے قیام تک کے لوگوں کے لیے اس لیے جہاں بھی قرآن میں گزشتہ ہلاک شدہ لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے وہ اصل میں ان کا ذکر نہیں بلکہ قرآن کے نزول سے لیکر الساعت کے قیام تک کی تاریخ بیان کی جا رہی
ہے مگر مثلوں سے۔
اصل میں ذکر گزرے ہوؤں کا نہیں بلکہ بعد والوں کا کیا گیا جیسے کہ جہاں بھی قوم نوح کا ذکر آتا ہے تو وہ قوم نوح کا ذکر نہیں کیا جا رہا ہے اصل میں وہ موجودہ قوم کا ذکر کیا جا رہا ہے قوم نوح کی مثل سے۔ وہ اصل میں ذکر موجودہ قوم کا ہے اور اگر اس کے باوجود بھی کوئی یہ کہے کہ وہاں قوم نوح کاہی ذکر کیا جا رہا ہے اس کا موجودہ قوم سے کوئی تعلق نہیںتو اس کا مطلب وہ یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ قرآن میں مثلیں نہیں بلکہ اساطیر الاولین ہیں۔ ایسے ہی جہاں امت بنی اسرائیل کا ذکر کیا گیا وہاں اصل میں ذکر امت بنی اسرائیل کا نہیں بلکہ امت بنی اسرائیل تو سلف ہو چکی اصل میں ذکر سلف کی مثل اس موجودہ امت کا کیا جا رہا ہے سلف کی مثل سے۔
اسی بات کو ایک دوسرے پہلو سے بھی آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔ اس قرآن میں تمام کی تمام آیات ہیں آیات لفظ آیت کی جمع ہے اور آیت لفظ ضد ہے بیّن کی۔ بیّن کہتے ہیں شئے کا ہر لحاظ سے ہر پہلو سے واضح ہونا اس کا رائی برابر بھی پوشیدہ نہ ہونا اور اس کے برعکس آیت کہتے ہیں پوری کی پوری شئے کا چھپا ہوا ہونا اور اس کا چھوٹا سا حصہ چھوٹا سا پہلو سامنے ہونا جو آیت کہلائے گا جس میں غور کرنے یعنی جس کی گہرائی میں جانے سے وہ کیا تھا جو چھپا دیا گیا وہ کھل کر سامنے آ جائے یعنی آیت کہتے ہیں جو سامنے نظر آ رہا ہے وہ اصل حقیقت نہیں بلکہ اصل حقیقت آپ پر اس وقت تک واضح نہیں ہو گی جب تک کہ آپ اس میں غور نہیں کرتے اس کی گہرائی میں نہیں جاتے جو سامنے نظر آ رہا ہے ، جو سامنے نظر آ رہا ہے جو کہ آیت ہے وہ اصل حقیقت پر پڑا ہوا پردہ ہے جب تک اس پردے کے پیچھے نہیں جھانکا جائے گا حقیقت آپ کے سامنے نہیں آئے گی، جو سامنے نظر آ رہا ہے وہ اصل شئے اصل وجود کا چھوٹا سا حصہ ہے اور باقی سارا وجود
چھپا دیا گیا۔
اسے آپ ایک چھوٹی سی مثال سے بھی سمجھ سکتے ہیں مثلاً آپ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں آپ کو سورج زمین کے گرد گھومتا ہوا نظر آتا ہے زمین روٹی کی طرح گول اور چپٹی نظر آتی ہے یہ جو آپ اپنی آنکھوں سے سامنے دیکھ رہے ہیں یہ بیّن نہیں یعنی یہ کھلم کھلا اصل حقیقت نہیں بلکہ آیت ہے اصل حقیقت پر پڑا ہوا پردہ ہے اصل حقیقت کیا ہے اس وقت تک سامنے نہیں آئے گی جب تک کہ آپ آیت میں یعنی جو سامنے نظر آ رہا ہے اس میں غوروفکر نہیں کرتے اس کی گہرائی میں نہیں جاتے اس پردے کے پیچھے نہیں جھانکتے۔ اور اصل حقیقت کیا ہے یہ آج پوری دنیا پر واضح ہو چکی کہ سورج کے زمین کے گرد گھومنے سے نہیں بلکہ زمین
کے سورج کے گرد اپنے ہی محور پر گھومنے سے رات اور دن آ جا رہے ہیں
اب اگر کوئی اسے ہی اصل حقیقت کہے یا مان لے جو آنکھوں سے نظر آ رہا ہے تو کیا وہ اپنی بات اپنے دعوے میں سچا ہو گا؟ اور حق اس قدر کھل کر واضح ہو جانے کے باوجود بھی وہ اپنی باطل و بے بنیاد بات پر ڈٹا رہے تو اس کی دماغی حالت کیا ہو گی بالکل واضح ہے کہ ایسا کرنے والا کوئی بے وقوف جاہل و پاگل ہی ہو سکتا
ہے۔
بالکل اسی طرح اس قرآن میں آیات اتاری گئی ہیں اس قرآن میں آیات ہیں جس کا مطلب کہ اس قرآن میں جو سامنے نظر آ رہا ہے وہ اصل حقیقت نہیں بلکہ اصل حقیقت اس وقت تک سامنے نہیں آئے گی جب تک کہ آیات میں غور نہیںکیا جائے گا یہ جو سامنے ہے آیات کی صورت میں یہ اصل حقیقت پر پڑا ہوا پردہ ہے جب تک اس پردے کے پیچھے نہیں جھانکا جائے گا اصل حقیقت تب تک سامنے نہیں آ سکتی اور اگر کوئی آیات کو ہی بیّنات یعنی اصل حقیقت سمجھے یا کہے تو وہ کوئی پاگل، بے وقوف اور جاہل تو ہو سکتا ہے عقلمند نہیں، وہ اپنی بات اپنے دعوے میں باطل و بے بنیاد اور جھوٹا تو ہو سکتا ہے مگر سچا نہیں۔
اس لیے جہاں بھی قرآن میں گزشتہ لوگوں کا ذکر کیا گیا وہ اصل حقیقت نہیں بلکہ اصل حقیقت اس وقت تک سامنے نہیں آئے گی جب تک کہ آپ انہیں آیات
تسلیم کرتے ہوئے ان میں غور نہ کریں اسے پردہ تسلیم کرتے ہوئے اس پردے کے پیچھے نہ جھانک لیں۔
جہاں قوم نوح کا ذکر ہے تو قوم نوح آیت ہے جب اس میں غور کیا جائے اسے بیّن کیا جائے تو قوم نوح کی بجائے اصل میں ذکر وہاں اس موجودہ قوم کا کیا جا رہا ہے، اسی طرح جہاں امت بنی اسرائیل کا ذکر کیا جا رہا ہے تو وہ اصل میں امت بنی اسرائیل کا ذکر ٔنہیں بلکہ بنی اسرائیل کو تو آیت بنا دیا گیا بنی اسرائیل آیت
ہے جب اسے بیّن کیا جائے گا تو اصل حقیقت سامنے آئے گی موجودہ امت کی صورت میں۔
اب جب یہ حقیقت آپ پر واضح ہو چکی تو اب آپ یہ بھی جان لیں جو کہ اب تک خود ہی واضح ہو جانا چاہیے کہ قرآن میں ذی القرنین کا جوواقعہ بیان کیا گیا ہے وہ اصل میں ذی القرنین سلیمان کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ وہ مثلوں کیساتھ قرآن کے نزول سے لیکر الساعت کے قیام تک جو ہونا تھا آج سے چودہ صدیاں قبل ہی
اس کی تاریخ اتار دی گئی تھی۔
تاریخ کہتے ہیں حادثے کے وقوع پذیر ہو جانے کو یعنی کچھ ہوا تو اس کے بعد اس کے بارے میں جولکھا جائے کہ وہ کب کہاں کیوں کیسے ہوا تاریخ کہلاتی ہے ۔ کوئی بھی تاریخ دان اس وقت تک تاریخ نہیں لکھ سکتا جب تک کہ واقعہ وقوع پذیر نہیں ہو جاتا قرآن اللہ کی اتاری ہوئی تاریخ ہے اور اللہ کے لیے ماضی حال مستقبل کچھ بھی پوشیدہ نہیں اس لیے اللہ نے انسانوں کے نزدیک اس کی تاریخ اتار دی جو مستقبل میں ہونا تھا۔ (جاری ہے)۔۔۔۔۔ 

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...