WARNING FROM MOTHER NATURE
یہ بات تو بالکل واضح ہو چکی جس کا انکار کسی کے لیے بھی ممکن نہیں کہ قرآن پہلے سے موجود عقائد و نظریات کی تائید و تصدیق کرنے کے لیے نہیں اتارا گیا تھا بلکہ قرآن کی ضرورت ہی تب پیش آئی جب سب کچھ حق کے برعکس ہو رہا تھا اس لیے قرآن ایسے کسی نظریے و عقیدے کی تائید نہیں کرتا بلکہ الٹا اس کے پرخچے اڑاتا ہے اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ قرآن نے زمین، سورج، چاند، رات اور دن کے آنے جانے سمیت تمام کے تمام ستاروں و سیاروں کے حوالے سے جو بات کی وہ اس وقت کے عقائد و نظریات کے نہ صرف کھلم کھلا خلاف تھی بلکہ ان کے خلاف کھلم کھلا اعلان جنگ تھا اور قرآن نے یہ کہا تھا کہ آج تم نہیں مان رہے لیکن تب تم مانو گے اور جان لوگے کہ یہ حق ہے جب تمہیں ان مقامات میں اپنی آیات دکھائیں گے جو آج تمہارے لیے ناقابل رسائی ہیں۔
اب آتے ہیں اس عقیدے کی حقیقت کی طرف اور حق آپ پر ہر لحاظ سے کھول کر واضح کرتے ہیںکہ ایک طرف یہودیوںاور عیسائیوں سمیت خود کو مسلمان
کہلوانے والے کیا کہتے ہیں اور دوسری طرف اللہ نے اس پر کیا کہا۔
ان کے اس عقیدے کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ زمین روٹی کی طرح چپٹی ہے جیسے پلیٹ ہوتی ہے اس کے وسط میں خشکی ہے، خشکی کے گرد سمندر اور سمندر کے گرد زمین کے کناروں پر پہاڑوں کی باڑ ہے جس پر آسمان گنبد کی طرح ٹکا ہوا ہے۔ ان کے عقیدے میں نہ صرف زمین چپٹی ہے بلکہ زمین کے کنارے بھی
ہیںاب دیکھیں کہ قرآن اس حوالے سے کیا کہتا ہے۔
وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰھَا۔ الحجر ۱۹، ق۷
مدد کہتے ہیں جس کا کوئی کنارہ نہ ہو جس کا کوئی کونا نہ ہو جس میں ہر لحاظ سے تسلسل ہو، سرکل ہو۔
ہم نے زمین کو مدد کیا یعنی ہم نے زمین کو ایسا خلق کیا کہ اس کا کوئی کنارہ نہیں اس کا کوئی کونا نہیں ، جدھر بھی رخ کر کے چلا جائے گا تو کوئی کونایا کنارہ نہیں آئے گا مسلسل چلتے ہی رہو گے۔ زمین کی تمام کی تمام مخلوقات کا آپس میںایسا ربط ہے کہ تسلسل قائم ہے یعنی زمین کی ہر شئے ایک سرکل کا حصہ ہے
اور اس سرکل میں تسلسل ہے۔
اب غور کریں اللہ نے زمین کو ایسا خلق کیا کہ اس کا نہ کوئی کونا ہے اور نہ ہی کوئی کنارہ ہے اگر آپ سفر کرتے ہیں تو خواہ جدھر بھی رخ کر کے چلتے جائیں آپ کے سامنے نہ تو کوئی کونا آئے گا کہ وہاں سے دائیں بائیں یا واپس مڑنا پڑے اور نہ ہی کوئی کنارہ آئے گا کہ اس سے آگے اب نہیںجایا جا سکتا کہ
یہاں زمین کا اختتام ہو رہا ہے۔
آپ غور کریں وہ کون سی شئے ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں ہوتا جس پر اگر چلا جائے تو چلتے ہی رہیں گے چلتے ہی رہیں گے۔ وہ صرف اور صرف دائرہ ہی
ہوتا ہے اور زمین پر جدھر بھی رخ کیا جائے تو ہر طرف دائرہ ہی سامنے آئے گا جس کا مطلب کہ زمین گیند کی طرح گول ہے زمین ایک گولہ ہے۔
اسی حقیقت کو اللہ نے قرآن میں ایک اور پہلو سے بھی بیان کیا۔
وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا۔ نوح ۱۹
اور اللہ ہے کر دیا تم کو زمین بساط یعنی زمین کو ایسا کر دیا کہ گیند کی طرح گول ہونے کے باوجود تم کو اپنی طرف ایسے سمیٹے ہوئے ہے جیسے کہ گول نہیں بلکہ چپٹی ہو۔
اس آیت میں لفظ بساط انتہائی غیر معمولی لفظ ہے جو چونکا دینے والا ہے۔
بساط۔ بسط سے ہے اور یہ لفظ انتہائی وسعت کا حامل ہے۔ ایسی شئے جو ہوتو گیند کی طرح گول لیکن نظر آنے میں اور رہنے میں چپٹی ہو یعنی جیسے گیند کی طرح گول شئے پر کوئی شئے ٹھہر نہیں سکتی وہ نیچے کو سرک جاتی ہے نیچے سے اوپر آنے میں انتہائی قوت کا استعمال کرنا پڑتا ہے ،اس کے برعکس شئے ہوتو گیند کی طرح گول لیکن اس میں خصوصیات چپٹی شئے والی ہوں۔ آپ چل رہے ہوں تو نہ ہی ڈھلوان کا احساس ہو اور نہ ہی چڑھائی کا بلکہ ایسے ہی چل رہے ہیں جیسے سپاٹ
شئے پر چلا جاتا ہے یا رہا جاتا ہے۔
پھر بساط کے معنی ہیںکسی کو اپنی طرف کھینچے رکھنا تا کہ جیسے گیند نما گول شئے پر اشیاء نیچے ہی نیچے سرکتی ہے تو ایسے اپنی طرف کھینچے رکھنا کہ اشیاء اس کی طرف اس
طرح کھنچی رہیں جیسے وہ کسی گول شئے پر نہیں بلکہ سپاٹ شئے پر پڑی ہیں، گول کی بجائے سپاٹ شئے پررہ رہی ہیں۔
گیند کی طرح گول شئے لیکن وہ ایسی نظر آئے جیسے کہ وہ گیند کی طرح نہیں بلکہ بالکل سپاٹ ہے اس کے گیند نما ہونے کا ذرا برابر بھی احساس تک نہ ہو۔
اللہ نے دو ٹوک الفاظ میں انسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ زمین گیند کی طرح گول ہونے کے باوجود تمہارے لیے ایسی بنا دی کہ تمہیں رائی برابر بھی اس بات کا احساس نہ ہو کہ زمین گیند کی طرح گول ہے بلکہ تمہیں ہر لحاظ سے ایسی نظر آتی ہے اور احساس ہوتا ہے کہ وہ چپٹی ہے۔ تم کسی گیند نما گول شئے پر یعنی گولے پرنہیں رہ رہے جس سے تمہیں یہ خوف ہو کہ آگے جانے سے کہیں تم سرک کر زمین سے نیچے گر جاؤ گے بلکہ تمہیں ایسا لگتا ہے کہ تم بالکل سپاٹ شئے پر رہ رہے ہو یوں تمہیں نیچے سرکنے یا گرنے کا بالکل بھی خوف نہیں۔ زمین ہے تو گیند کی طرح گول لیکن اس کو تمہارے لیے ایسا بنایا کہ جیسے وہ گول نہیں سپاٹ ہے۔
ایسے بنایا کہ جیسے تم گول گیند نما زمین پر نہیں بلکہ سپاٹ زمین پر رہ رہے ہو۔
یوں اللہ نے قرآن نے نہ صرف ان کی اس بات کا رد کر دیا کہ زمین چپٹی ہے بلکہ اس بات کا بھی رد کر دیا کہ زمین کے کنارے ہیں اور ان رازوں سے بالکل دو ٹوک الفاظ میں بیان کر کے پردہ اٹھا دیا اور آپ یہ حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیںلیکن آپ اس بات میں غور کریں کہ آج تک مذہبی طبقے نے قرآن کی ان آیات کو چھپائے رکھا۔ کیا یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ انہوں نے حق کو چھپا کر اپنے باطل عقائد ونظریات کو قرآن پر کیوں ترجیح دی
اور یہی کرتے چلے آ رہے ہیں؟
یہ غیر معمولی حقائق جو پوری دنیا کے انسانوں کو چونکا دینے والے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چودہ صدیاں قبل عرب کے صحرامیں نمودار ہونے والے قرآن میں اس وقت یہ غیر معمولی اور دہلا دینے والے حقائق کون بیان کر سکتا ہے؟ اس وقت نہ تو سائنسی ترقی کا کوئی نام و نشان تھا اور نہ ہی عرب طبقہ علم رکھتا تھا بلکہ دنیا میں جہالت میں سب سے بڑھ کر عرب قوم تھی۔ پوری دنیا میں ایک عقیدہ بہت سختی سے عام تھا اس کے خلاف سوچنا ہی بہت بڑا چیلنج
تھا تو ایسا کیسے ہو گیا ؟ اس وقت قرآن میں یہ غیر معمولی حقائق کہاں سے آ سکتے ہیں؟
بجائے یہ کہ قرآن کے ان حقائق کو سامنے لا کر دنیا میں قرآن کی غیر معمولی اہمیت و حیثیت کو منوایا جاتا اور یوں پوری دنیا کے انسان دنیا و آخرت میں فلاح کا سودا کرتے بلکہ الٹا ان ملّاؤں نے اس مذہبی طبقے نے نہ صرف ان غیر معمولی حقائق کو چھپا کر اللہ کیساتھ دشمنی کی انسانیت کو گمراہ کیا بلکہ قرآن کو باقی مذاہب کی طرح مذہب کے نام پر ایک مخصوص طبقے کی کتاب بنا کر رکھ دیا ۔ وہ قرآن جو پوری انسانیت کی راہنمائی کرنے کے لیے اتارا گیا اسے یرغمال بنا لیا گیا اور پوری دنیا کے انسان یہی سمجھتے ہیں کہ یہ قرآن تو مسلمان نامی دائرے میں بند لوگوں کی مذہبی کتاب ہے جس سے دوسروں کا کوئی لینا
دینا نہیں۔
علماء کے لبادے میں جہلا نے آج تک یہی کوشش کی کہ لوگ ان کے محتاج رہیں اسی کو اپنا مقصد بناتے ہوئے انہوں نے لوگوں پر محنت کی اس لیے کہ نہ ہی کوئی خود سے غوروفکر کرے اور نہ ہی ان کا دجل لوگوں پر چاک ہو حالانکہ قرآن بار بار، بار بار ایک ہی بات پر زور دیتا ہے کہ کسی کے بھی پیچھے بغیر سوچے سمجھے اندھوں کی طرح مت چلو بلکہ خود سے غوروفکر کرواور اس وقت تک کسی بھی عمل کے قریب بھی مت جاؤ جب تک کہ تمہیں اطمینان حاصل نہیں ہو جاتا یعنی جب تک تمہیں اس کے بارے میں مکمل اور راسخ علم حاصل نہیں ہو جاتا کہ ہر سوال کا جواب مل جائے لیکن یہ لوگ قرآن کے برعکس یہ کہتے ہیں کہ خود سے غوروفکر کرو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے بلکہ اپنے کان اور آنکھیں بند کر کے اپنے آباؤ اجداد کے پیچھے ہی چلو جو آباؤ اجداد سے چلا آ رہا ہے اس کے خلاف ایک لفظ بھی مت سوچنا۔
اب حقیقت آپ کے سامنے ہے ایک طرف ان کا عقیدہ ہے کہ زمین روٹی کی طرح چپٹی ہے اور اس کے کنارے ہیں اور دوسری طرف ان کے برعکس اللہ نے
زمین کو گیند کی طرح گول قرار دیا جس کے کوئی کنارے نہیں۔ بڑھتے ہیں آگے ۔
ان کا عقیدہ ہے کہ زمین کے اطراف میں زمین کے کناروں پر پہاڑوں کی باڑ ہے جو کہ آسمانوں کے لیے ستون کا کام کرتے ہیں آسمان پہاڑوں کی اس باڑکے
ستونوں پر ٹکے ہوئے ہیں اور اس کے برعکس اللہ نے کہا۔
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِعَمَدٍ تَرَوْنَھَا۔ لقمان ۱۰
خلق آسمانوں کی بغیر کسی ایک بھی ستون کے یہ جو آسمانوں کو بغیر کسی ایک بھی ستون کے دیکھ رہے ہو ہم کو دیکھ رہے ہو۔
یعنی تم اپنے آباؤ اجداد سے لیکر آج تک یہی کہتے آئے کہ آسمان ستونوں پر ٹکے ہوئے ہیں زمین کے اطراف میں کناروں پر پہاڑوں کی باڑ آسمانوں کے لیے ستون ہیں جن پر آسمانوں کے کنارے ٹکے ہوئے ہیں لیکن آج تم دیکھ رہے ہو ؟ دیکھو کہاں ہیں ستون جن پر آسمان ٹکے ہوئے ہیں؟ کوئی ستون نظر آیا؟
اللہ اس طرح بات اس لیے کر رہا ہے کیونکہ جب قرآن اترا تب سے کہا جاتا رہا کہ آسمان بغیر ستونوں کے ہے لیکن یہ نہیں مان رہے تھے ان کا کہنا یہی تھا کہ ہم تو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ آسمان اطراف سے زمین کے کناروں پر جھکا ہوا نظر آتا ہے تو ظاہر ہے آسمان کے کنارے زمین کے کناروں پر ٹکے ہیں زمین کے کنارے آسمانوں کے لیے ستون ہیں جو کہ پہاڑ وں کی باڑ۔ اللہ نے کہا تھا کہ آج تم نہیں مان رہے لیکن عنقریب ایک وقت آئے گا جب تمہیں الآفاق میں اپنی آیات دکھائیں گے ان مقامات میں جہاں آج تمہاری رسائی نہیں اور خود تمہار ی اپنی ذات میں تب تم کہو گے کہ یہ حق ہے یعنی جو قرآن نے کہا تھا یہ حق ہے نہ کہ تمہارے آباؤاجداد کے عقائد و نظریات کہ آسمان ستونوں پر کھڑے ہیں۔ اور آج جب کہ وہ وقت آ چکا ہے تو آج اللہ انسانوں کو کہہ رہا ہے کہ آج تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو یہ تم ہمیں دیکھ رہے ہو۔ آج تم خلا ء میں جا چکے ہو ایسے ایسے آلات بنا چکے ہو کہ جن کی مدد سے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو تو دیکھو اور اب بتاؤ کہ کہاں ہیں وہ کنارے ؟ کہاں ہیں وہ ستون؟ جن کے بارے میں تم کہتے تھے کہ ان ستونوں پر آسمان کھڑا ہے۔
آپ نے جان لیا کہ اس حوالے سے بھی قرآن نے ان کے اور ان کے آباؤ اجداد کے عقائدو نظریات کے پرخچے اڑا کر رکھ دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ آسمان
ستونوں پر کھڑے ہیں لیکن اللہ نے کہا تھا کہ نہیںآسمانوں کو بغیر ستونوں کے خلق کیا ہے۔
بڑھتے ہیں ان کے اگلے نظریے کی طرف۔
ان کا عقیدہ یہ ہے کہ سورج سفر کر رہا ہے جس سے رات اور دن ہو رہا ہے سورج یعنی روشنی اندھیرے میں جاتی ہے تو دن ہو جاتا ہے جب روشنی چلی جاتی ہے تو
پھراندھیرا ہو جاتا ہے۔ اب دیکھیں کہ اس بارے میں اللہ نے قرآن میں کیا کہا۔
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَاب۔ آل عمران ۱۹۰
اس میں کچھ شک نہیں آسمانوں اور زمین کی خلق میں اور رات اور دن کے اختلاف میں اللہ کی آیات ہیں اولی الالباب کے لیے۔
اس وقت آپ آیت دیکھ رہے ہیںاس آیت میں اللہ رات اور دن کے اختلاف کو آیات کہہ رہا ہے اولی الالباب کے لیے۔ یعنی آپ جو اپنی آنکھوں سے رات اور دن ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں یہ بیّنات نہیں ہیں ، جو آپ دیکھ رہے ہیں حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس چھپی ہوئی ہے، یہ آیات
ہیں۔
آیات آیت کی جمع ہے اور لفظ آیت لفظ بیّن کی ضد ہے۔ بیّن کہتے ہیں شئے کا ہر لحاظ سے ہر پہلو سے بالکل کھلم کھلا واضح ہونا سامنے ہونا اس کا کوئی ایک بھی پہلو پوشیدہ نہ ہونا اس کا انگ انگ بالکل کھلم کھلا سامنے ہونا اور اس کے برعکس آیت کہتے ہیں پوری شئے چھپی ہوئی ہونا اور اس کا صرف تھوڑا سا پہلو تھوڑا سا حصہ سامنے ہونا اب جو سامنے نظر آ رہا ہے وہ حقیقت نہیں ہے بلکہ حقیقت اس وقت تک سامنے نہیںآئے گی جب تک کہ آیت میں غور نہیں کیا جائے گا اس کی
گہرائی میں جا کر اس کی حقیقت کو جانا نہیں جائے گا۔
(جاری ہے)۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment