WARNING FROM MOTHER NATURE
اب آپ دیکھیں کہ رات اور دن کس طرح ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں ؟ اگر کوئی نقشہ بنایا جائے تو کیا نقشہ سامنے آئے گا؟ آپ دیکھتے ہیں کہ ایک طرف سے سورج طلوع ہوتا ہوا نظر آتا ہے اوپر جاتا ہے سفر کرتا ہے یہاں تک کہ دوسری طرف جا کر غروب ہو جاتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی نظر آ رہی ہے کہ زمین کے مشرق اور مغرب کی طرف کنارے ہیں۔ پھر جب اوپر آسمان کی طرف دیکھا جائے تو آسمان ایک اوندھے پیالے کی طرح یعنی ایک گنبد کی طرح نظر آتا ہے جس طرف بھی دیکھیں تو آسمان ہر طرف سے نیچے کو جاتا ہوا نظر آتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے ایک پیالہ اوندھا پڑا ہوا ہے اور یوں ایسے نظر آتا ہے کہ زمین روٹی کی طرح چپٹی اور گول ہے۔ سورج ایک طرف سے نکلتا ہے اور دوسری طرف جا کر غروب ہو جاتا ہے اور ایسا نظر آتا ہے کہ سورج بیک وقت پوری دنیا کے لوگوں پر طلوع ہوتا ہے اور اسی طرح بیک وقت پوری دنیا کے لوگوں پر غروب ہوتا ہے۔ سورج کا ایک مقام طلوع ہے اور ایک مقام غروب۔ اسی طرح آپ
اپنی آنکھوں سے مزید نظر آنے والے مناظر کو قلم بند کر سکتے ہیں۔
یہی ہے رات اور دن کا اختلاف جو زمین پر موجود ہر انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حقیقت یہی ہے؟ تو اللہ نے قرآن کی اس آیت میں بالکل واضح دو ٹوک الفاظ میں بتا دیا کہ یہ آیات ہیں اور پھر یہ بھی بتا دیا کہ یہ آیات اولی الالباب کے لیے ہیں یعنی جو اولی الالباب نہیں ہیں ان کے لیے آیات نہیں ہیں وہ انہیں آیات کی بجائے بیّنات سمجھتے ہیں کہ وہ جو دیکھ رہے ہیں یہی اصل حقیقت ہے۔ اس کے علاوہ سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۱۶۴
اور سورۃ الجاثیہ کی آیت نمبر ۵ میں اللہ کا کہنا ہے
لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْن۔ البقرۃ ۱۶۴، الجاثیہ ۵
اللہ کی آیات ہیں ان لوگوں کے لیے جو خود سے غوروفکر کر کے سمجھ رہے ہیں جو عقل رکھ رہے ہیں یعنی جو سن اور دیکھ کر سوچ سمجھ رہے ہیں۔
یعنی ان کے لیے آیات ہیں جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان کے لیے نہیں ہیں جو بیوقوف جاہل ہیں جن میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں جو بندر کی طرح عقل کی بجائے نقل سے کام لیتے ہیں جو غوروفکر کرنے کی بجائے اندھوں کی طرح اپنے آباؤ اجداد کے پیچھے چل رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ وہ اسی پر ڈٹے
رہیں گے جس پر انہوں نے اپنے آباؤاجداد کو پایا۔
جن میں عقل نہیں ہے جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جوبیوقوف ہیں ان کے لیے آیات نہیں ہیں بلکہ وہ آیات کو بیّنات سمجھتے ہیں یعنی وہ ان میں غور کر کے
چھپی ہوئی حقیقت جاننے کی بجائے جو آنکھوں سے نظر آ رہا ہے اسی کو اصل حقیقت سمجھتے ہوئے اسی کو اپنا عقیدہ بنائے ہوئے ہیں۔
پھر ایک اور مقام پر اللہ نے یوں کہا۔
لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْن۔ یونس ۶
اللہ کی آیات ہیں ان لوگوں کے لیے جو اللہ سے بچ رہے ہیں یعنی بچنے والوں کے لیے آیات ہیں۔
یہ ان کے لیے آیات ہیں جو دنیا وآخرت میں اللہ کے غضب سے عذاب الیم سے بچنا چاہتے ہیںتو وہ اللہ کی ان آیات میں غوروفکر کرتے ہیں اور حق کو پہچان کر نہ صرف اس پر عمل کرتے ہیں بلکہ یوں دنیا و آخرت میںبچنے والوں میں سے ہو جاتے ہیں۔ مگر جو دنیا و آخرت میں اللہ کے غضب سے بچنا نہیں چاہتے اور اس کے برعکس محض دنیا کی چھوٹی موٹی تکالیف و آزمائشوں سے بچنا چاہتے ہیں جس کے لیے ان کا مقصد دنیاوی مال و متاع کا حصول ہو جن کو آخرت کے بارے میں رائی برابربھی علم نہ ہو نہ اس کا یقین تو وہ انہیں آیات تسلیم کرکے ان میں غوروفکر سے حقیقت جاننے کی بجائے آیات کو ہی اصل اور مکمل حقیقت سمجھتے ہوئے دنیا و آخرت میں خسارے کا سودا کرتے ہیں یوں نہ ان پر دنیا میں آنے کا مقصد واضح ہوتا ہے اور نہ اسے پورا کر پاتے ہیں الٹا جہالت کو حق کا نام دیکر ضلالٍ مبینٍ میں ہوتے ہیں اور اللہ کی آیات سے کذب کرتے ہیں اللہ کی آیات کو ان کے مقامات سے ہٹاتے ہیں ان میں چھیڑ چھاڑ کر کے دنیا و آخرت میں ذلت کا سودا
کرتے ہیں۔یعنی پہلی بات تو یہ کہ یہ جو آپ کو رات اور دن کا اختلاف اپنی آنکھوں سے نظر آ رہا ہے یہ بیّنات نہیں ہیں مطلب یہ کہ یہ جو کچھ آنکھوں سے نظر آ رہا ہے حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ یہ آیات ہیں اصل حقیقت چھپی ہوئی ہے اور حقیقت کیا ہے وہ تب ہی سامنے آ سکتی ہے جب ان آیات میں غور کیا جائے گا ان کی گہرائی میں جایا جائے گا۔ اور پھر اللہ نے یہ بات بھی واضح کر دی کہ یہ آیات اولی الالباب کے لیے ہیں یعنی جو اولی الالباب ہیں ان کے لیے آیات ہیں وہ انہیں آیات تسلیم کرتے ہیں بیّنات نہیں مگر اس کے برعکس جو اولی الالباب نہیں ہیں وہ انہیں آیات نہیں بلکہ بیّنات سمجھتے ہیں مطلب یہ کہ وہ یہی سمجھتے ہیں کہ جو وہ اپنی آنکھوں
سے دیکھ رہے ہیں جو نقشہ آنکھوں سے دیکھ کر سامنے آتا ہے یہی حقیقت ہے اور اس سے ہٹ کر سوچنے یا غوروفکر کرنے والے نہیں ہیں۔
اب آگے بڑھنے سے پہلے اولی الالباب کو جاننا بہت ضروری ہے جس سے یہ بات بھی سامنے آ جائے گی کہ وہ کون ہیں جو اولی الالباب نہیں ہیں۔
اولی الالباب: پہلے آ تا ہے اولی جو کہ جملہ ہے اور دو الفاظ کا مجموعہ ہیں پہلا لفظ ایک حرف پر مشتمل ہے ’’الف‘‘ اور دوسرا لفظ ’’ولی‘‘ ہے۔ جب بھی
کسی جملے یا لفظ کے شروع میں الف آ جائے جو کہ اس لفظ کے اصلی حروف میں سے نہ ہو تو الف اسے سوالیہ بنا دیتا ہے جسے ایک مثال سے سمجھ لیجیے۔
آپ دن میں کئی بار سنتے ہیں اور اپنی زبان سے بھی یہ الفاظ ادا کرتے ہیں اللہ اکبر۔ اس کا ترجمہ کر دیا جاتا ہے اللہ بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے یا اللہ سب سے
بڑا ہے لیکن یہ ترجمہ ٹھیک نہیں ہے۔
اللہ اکبر میں نہ صرف یہ سوال ہے کہ اللہ کیا ہے بلکہ اس سوال کا جواب بھی موجود ہے ۔
اللہُ : اللہ کی ’’ہ‘‘ پر پیش ہے جو اسے حال کا صیغہ بنا دیتی ہے یوں اللہ کے معنی بنتے ہیں اللہ ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کیا ہے؟ تو آگے اسی سوال کا جواب ہے، اکبر۔ یہ بھی جملہ ہے جو کہ دو الفاظ کا مجموعہ ہے پہلا لفظ ایک حرف ’’الف‘‘ اور دوسرا لفظ ’’کبر‘‘۔ لفظ ’’کبر ‘‘ کی ضد ’’صغر‘‘ ہے جس کے معنی وجودی یا کسی بھی اعتبار سے چھوٹاہونے کے ہیں اورکبر کے معنی وجودی یا کسی بھی اعتبار سے بڑا ہونے کے ہیں اور شروع میں الف اسے سوالیہ بنا دیتا ہے اکبر جس کے معنی بنیں گے کیا ہے بڑا؟ یعنی جو بڑا ثابت ہو جائے وہی اللہ ہے۔ مثلاً اگرکوئی کہتا ہے کہ فلاں اللہ ہے تو دیکھو کیا وہ بڑا ہے؟ مثلاً اگر ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اللہ ہے تو اس سے تو بڑا درخت ہے تو اس کا مطلب کیا درخت اللہ ہے؟ نہیں درختوں سے بڑے تو پہاڑ ہیں تو پھر کیا پہاڑ اللہ ہیں نہیں پہاڑوں سے بڑا تو سمندر ہے تو کیا سمندر اللہ ہے ؟ نہیں سمندروں سے بڑی تو زمین ہے تو کیا زمین اللہ ہے؟ نہیں زمین سے بڑا تو سورج ہے تو کیا سورج اللہ ہے؟ نہیں سورج سے بڑا تو نظام شمسی ہے تو کیا نظام شمسی اللہ ہے؟ نہیں نظام شمسی سے بڑی تو کہکشائیں ہیں تو کیا کہکشائیں اللہ ہے؟ نہیں کہکشاؤں سے بڑی تو کائنات دنیا ہے تو کیا کائنات دنیا اللہ ہے؟ نہیں کائنات دنیا سے بڑی تو دوسری کائنات یعنی دوسرا آسمان ہے کیا وہ اللہ ؟ نہیں اس سے بڑا تو تیسرا آسمان یعنی تیسری کائنات ہے تو کیا وہ اللہ ہے؟ نہیں بلکہ اس سے بڑی تو چوتھی کائنات یعنی چوتھا آسمان اس سے بڑا پانچواں اس سے بڑا چھٹا
اس سے بڑا ساتواں ، ساتویں سے بڑا کُل کا کُل جو کچھ بھی ہے وہ بطور ایک وجود ۔ یوں جو بڑا ثابت ہو جائے وہ اللہ ہے۔
تو آپ نے جان لیا کہ اللہ اکبر کے معنی کیا ہیں نہ صرف اس میں سوال ہے کہ اللہ ہے اور کیا ہے اللہ بلکہ اس سوال کا جواب بھی موجود ہے۔
اور آپ کو یہ بھی پتہ چل گیا کہ جب الف کسی لفظ یا جملے کے شروع میں آتا ہے تو اسے سوالیہ بنا دیتا ہے اور اگلا لفظ اسی سوال کا جواب دیتا ہے بالکل اسی طرح
اولی الالباب ہے اس میں نہ صرف سوال ہے کہ اولی الالباب کون ہیں بلکہ اس سوال کا جواب بھی موجود ہے۔
اگر الف کسی لفظ کے شروع میں آتا ہے تو اس کے کیا معنی بنیں گے یہ تو آپ نے جان لیا کہ وہ اسے سوالیہ بنا دیتا ہے۔
اگلا لفظ ہے ولی۔ اور ولی کے معنی ہیں اپنے مقصد ، اپنے مشن ، اپنے ٹارگٹ وغیرہ میں کسی کو اپنا معاونت کار بنانا۔ جس سے بھی کسی بھی سطح پر معاونت حاصل کی
جائے گی اسے عربی میں ولی کہا جاتا ہے۔
اب آتے ہیں پورے جملے کی طرف۔ اولی جس کے معنی بنتے ہیں کیا ہے ولی یعنی کیا ہے وہ جسے اپنے مقصد میں اپنے مشن میں اپنا معاونت کار بنایا جا رہا ہے اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے اپنے مشن کو پورا کرنے کے لیے اپنے مطلوب کے حصول کے لیے کس سے معاونت حاصل کی جا رہی ہے کسے معاونت کار یا
سہولت کار بنایا جا رہا ہے؟ آگے اسی سوال کا جواب آ جاتا ہے۔
الباب۔ یہ بھی دو الفاظ کا مجموعہ ہے پہلا لفظ ’’ال‘‘ اور دوسرا لفظ ’’باب‘‘۔ جب بھی کسی لفظ کے شروع میں ’’ال‘‘ کا استعمال ہوتا ہے تو ’’ال‘‘ مخصوص کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے یعنی مخصوص شئے کا ذکر کیا جا رہا ہے نہ کہ عام شئے کا۔ اور ’’باب‘‘ کہتے ہیں داخل ہونے اور نکلنے کے مقام کو۔ وہ مادی بھی ہو سکتا ہے، غیر مادی بھی اور شعوری بھی۔ کہاں مادی نکلنے اور داخل ہونے کے مقام کا ذکر ہے اور کہاں غیر مادی اور کہاں شعوری اس کا فیصلہ بات کا
پس منظر کرتا ہے۔
اس آیت میں اللہ نے کہا کہ رات اور دن کا اختلاف اولی الالباب کے لیے آیات ہیں اور اس میں یہ بات بھی کھلم کھلا موجود ہے کہ جو اولی الالباب نہیں ہیں ان کے لیے آیات نہیں ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے جو اولی الالباب نہیں ہیں وہ کیا ہیں اور ان کے لیے آیات نہیں ہیں تو پھر ان کے لیے کیا ہیں؟ تو اس کا
جواب بھی بالکل واضح ہے ان کے لیے آیات کی ضد بیّنات ہیں۔
جو اولی الالباب ہیں ان کا کہنا اور ان کا سمجھنا یہ ہے کہ جو وہ اپنی آنکھوں سے مناظر دیکھ رہے ہیں رات اور دن کے بارے میں اصل حقائق یہ نہیں ہیں اصل حقائق کچھ اور ہیں جو کہ ان کے پیچھے پوشیدہ ہیں اور وہ اس وقت تک نہیں جانے جا سکتے اس وقت تک سامنے نہیں آ سکتے جب تک کہ ان آیات میں غوروفکر نہیں کیا جاتا ان کی گہرائی میں جا کر انہیں جان نہیں لیا جاتا اور اولی الالباب کے برعکس جو اولی الالباب نہیں ہیں ان کا کہنا اور سمجھنا یہ ہے کہ رات اور دن کے اختلاف کے حوالے سے جو کچھ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں یہی کھلم کھلا حقیقت ہے اس کے خلاف وہ نہ سوچتے ہیں اورنہ ہی اس میں غور کرتے ہیں۔
تو یہاں اولی الالباب کا پس منظر رات اور دن کے اختلاف کی حقیقت کیا ہے اس کو سمجھنا ہے اورظاہر ہے سمجھا تو دماغ سے جاتا ہے اور اس کے لیے آنکھیں اور کان اور دل وہ باب ہیں جہاں سے معلومات دماغ تک جاتی ہیں۔ اگر ان ابواب کو بند کر لیا جائے کسی بھی معاملے کی حقیقت کو جاننے کے لیے آنکھوں کانوں اور دل کا استعمال کرنے کی بجائے ان کا استعمال بند کر دیا جائے سنی ان سنی کر دی جائے دیکھا ان دیکھا کر دیا جائے دل مردہ اندھا ہو جائے تو پھر ایسے لوگ اولی الالباب کیسے ہو سکتے ہیں؟ جب انہوں نے باب یہ دروازے بند کر دیئے تو دماغ تک معلومات کیسے جائیں گی اور دماغ اصل نتیجے تک کیسے پہنچے گا؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ باب بند کیسے کیے جاتے ہیں؟ یہ باب بند اس طرح کیے جاتے ہیں کہ کسی بھی بات کو عقیدہ بنا لینا یعنی کسی بھی معاملے میں کسی بات کو دماغ میں ڈال کر اس پر تالے لگا دینا اس کے لیے اپنی آنکھوں کانوں اوردل کو بند کر لینا کہ اب اس معاملے پر اس کے خلاف کسی بھی قسم کی نہ تو کوئی بات سنی جائے گی نہ دیکھی جائے گی نہ دل کا استعمال کر کے غور کیا جائے گا، بات سنی ان سنی کر دی جائے گی دیکھا ان دیکھا کر دیا جائے گا یوں اس میں غور
کرنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔
اور اولی الالباب وہ لوگ جو اپنے مشن میں اپنے مقصد میں جو کہ کسی بھی بات کو کسی بھی نکتے کو یا کسی بھی معاملے کو سمجھنا مقصد ہوتا ہے یعنی حق کو پانا مقصد ہوتا ہے اسے سمجھنے کے لیے اپنے ان رستوں کو ان باب کو بند نہیں کرتے بلکہ وہ ہر وقت ہر لمحے ان باب کو اپنی آنکھوں اور کانوں کو کھلا رکھتے ہیں دل سے اس بارے میںغور کرتے ہیںدماغ کو تفکر کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں ان کا کہنااور ماننا یہ ہوتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ کوئی بات کوئی پہلو پہلے ان سے پوشیدہ رہ گیا ہو جس وجہ سے جو نتیجہ پہلے ان کے سامنے آیا یا لایا گیا وہ حق نہ ہو اس میں کوئی خامی ہو کوئی نقص ہو اس لیے اگر اس معاملے میں کوئی نئی بات نئی شئے سامنے آتی ہے جو پہلے سامنے نہیں آئی تو اس کو سننے دیکھنے اس میں غور کرنے میں حرج ہی کیا ہو سکتا ہے لہذا اس میں غور کرتے ہیں اگر تو وہ غلط ثابت ہوتی ہے تو مزید اطمینان حاصل ہو جائے گا اور اگر وہ سچ ثابت ہوئی تواس حوالے سے پہلے نظریے کو دماغ سے نکال باہر کریں گے اور حق کو تسلیم کرتے ہوئے اسے دماغ میں جگہ دیں
گے یوں ہر لحاظ سے اپنا ہی فائدہ ہے۔
اب تک یہ بات بھی آپ پر واضح ہو چکی کہ اولی الالباب کی ضدعقیدہ یا عقائد والے ہیں جنہیں عربوں کی زبان میں اہل العقائد کہا جاتا ہے۔ عقیدہ کہتے ہیں کہ کسی بھی بات کو کسی بھی معاملے کو سچ سمجھ کر اپنے دماغ میں ڈال کر اس پر تالا لگا دینا کہ اب اس بارے میں ایک لفظ بھی نہیں سنا جائے گا خواہ کچھ بھی ہو جائے اس پر خواہ کتنے ہی دلائل سامنے کیوں نہ آجائیں خواہ وہ غلط ہی ثابت کیوں نہ ہو جائے اس کے خلاف کوئی دلیل نہیں دیکھی سنی جائے گی ۔ یعنی ایک بات کو کُل سمجھ کر دماغ میں ڈال کر تالا لگا دینا اب نہ ہی اسے دماغ سے باہر نکالا جائے گا اور نہ ہی اس کے مقابلے پر کوئی دوسری بات دماغ میں آنے دی جائے گی خواہ کچھ ہی کیوںنہ ہو جائے، کسی بھی بات کو حق سمجھتے ہوئے اسے دماغ میں ڈال کر اس پر اپنی آنکھیں اور کان بند کر لینا کہ اس کے خلاف نہ کچھ سنا جائے گا اور
نہ ہی کچھ دیکھا جائے گا خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔
اور اولی الالباب وہ لوگ جو کسی بھی بات یا معاملے کے بارے میں سامنے آنے والے نتیجے کو آخری نہیں سمجھتے بلکہ وہ اسے فی الحال تو اپنے دماغ میں جگہ دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھیں گے دل سے کام لیتے رہیں گے اگر کل کوئی ایسی بات یا ایسی شئے سامنے آتی ہے جو اسے غلط ثابت کر دیتی ہے یا اس میں کوئی نقص ثابت کر دیتی ہے تو پہلی بات کو دماغ سے نکال باہر کیا جائے گا اور سامنے آنے والے حق کو تسلیم کیا جائے گا یوں کبھی بھی کسی بھی بات کو کسی بھی نتیجے کو آخر نہیں سمجھا جائے گا جب تک کہ اس کے بارے میں راسخ علم نہ آ جائے یعنی ایسا علم کے جو تمام کے تمام سوالات کے دروازے بند کر دے کوئی چاہ کر بھی
اس پر کوئی سوال نہ اٹھا سکے۔
قرآن میں اللہ نے ایک نہیں دو نہیںبلکہ کئی مقامات پر کہا کہ ہدایت صرف اور صرف اولی الالباب کے لیے ہے نہ کہ ان کے لیے جو عقیدے بنا لیتے ہیں۔ دنیا
کی کوئی طاقت عقیدے والوں کو ہدایت نہیں دے سکتی خواہ کچھ بھی ہو جائے۔
(جاری ہے)۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment