WARNING FROM MOTHER NATURE
تو اب آپ خود غور کریں کہ رات اور دن کے اختلاف کے بارے میں جو عقائد آج تک اکثریت کے نزدیک پائے جاتے ہیں جو محمد علیہ السلام کی بعثت کے
وقت عقائد موجود تھے کیا ان کی حقیقت یہ نہیں ہے جو آنکھوں سے نظر آ رہا ہے؟
اللہ نے تو اس آیت میں بالکل واضح کہہ دیا کہ رات اور دن کے اختلاف کے حوالے سے جو تمہیں نظر آ رہا ہے یہ اصل حقیقت نہیں ہے بلکہ یہ تو آیات ہیںحقیقت تو چھپی ہوئی ہے اور جو اولی الالباب ہیں انہیں علم ہے کہ یہ جو نظر آ رہا ہے یہ حقیقت نہیں ہے یہ تو آیات ہیں لیکن جو اولی الالباب نہیں وہ اسی کو جو انہیں آنکھوں سے نظر آ رہا ہے اس کو اپنے دماغ میں ڈال کر اس پر تالا لگا چکے ہیں یعنی عقیدہ بنا چکے ہیں ۔ تو اب آپ سے سوال ہے کہ کیا ان کا عقیدہ حق ہے؟ کیا قرآن کی روشنی میں اہل العقائد حق پر ہیں؟ کیا قرآن کسی بھی قسم کا کوئی عقیدہ اخذ کرنے کی اجازت دیتا ہے یا پھر الٹا سختی کیساتھ اس سے روک رہا ہے؟
حق ہر لحاظ سے بالکل کھل کر آپ کے سامنے ہے۔
آپ قرآن کی روشنی میں دیکھیں اللہ کا فیصلہ سامنے رکھیں اور پھر خود فیصلہ کریں کہ کیا یہ لوگ سچے ہیں یا اللہ؟
یہ کہتے ہیں رات اور دن کے اختلاف کے حوالے سے جو آنکھوں سے نظر آتا ہے وہی بیّن ہے یعنی کھلم کھلی اصل حقیقت ہے اور اللہ اس کے برعکس انہیں بیّنات کی
بجائے آیات قرار دے رہا ہے یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ حقیقت تو چھپی ہوئی ہے۔
اب ایسا کرتے ہیں رات اوردن کے اختلاف کے حوالے سے ایک طرف ان کے عقائد کو رکھتے ہیں اور اس کے برعکس دوسری طرف اللہ کی بات کو رکھتے ہیں کہ
اللہ اس بارے میں کیا کہتا ہے۔
ان کا عقیدہ ہے کہ یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیںکہ سورج ایک طرف سے نکلتا ہے اوپر جاتا ہے کمان کی شکل میں سفر کرتا ہوا دوسری طرف جا کر ڈوب جاتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ زمین کے کنارے ہیں جدھر سے سورج نکلتا ہے ادھر بھی کنارہ ثابت ہوتا ہے اور جدھر غروب ہوتا ہے ادھر بھی کنارہ ثابت ہوتا ہے پیچھے رہ گیا شمال اور جنوب تو ادھر بھی جب دیکھا جائے تو آسمان ہر طرف سے نیچے کو جاتا ہوا نظر آتا ہے جب آسمان کو دیکھو تو آسمان گولائی میں ہر طرف سے جھکا ہوا نظر آتا ہے سورج آسمان کے اندر ہے تو ظاہر ہے پھر زمین بھی آسمان کے ہر طرف سے اندر ہی ہے زمین چپٹی نظرآتی ہے اوپر گنبد نما آسمان ہے جیسے پیالہ اوندھا پڑا ہوا ہوا یوں بالکل واضح کھلم کھلا نظر آ رہا ہے کہ زمین روٹی کی طرح گول اور چپٹی ہے اور اس کے کنارے ہیں۔
یوں یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ سورج کے سفر کرنے سے رات اور دن ہو رہے ہیں روشنی سفر کر رہی ہے اور ان کے برعکس دیکھیں اللہ کا اس بارے میں
کیا کہنا ہے۔
تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَتُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ۔ آل عمران ۲۷
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَ یُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ ۔ الحج ۶۱
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَیُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ۔ لقمان ۲۹
یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ۔ فاطر ۱۳
یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَیُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْل۔ الحدید ۶
اس وقت آپ کو پیچھے پانچ آیات نظر آ رہی ہیں جن میں رات اور دن کس طرح آ جا رہے ہیں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے آیت میں
استعمال ہونے والے الفاظ کو جاننا بہت ضروری ہے ان میں پہلا لفظ ہے
ولج۔ جس کے معنی ہیں کسی شئے کو گھما کر اس کا ایک رخ دوسری طرف لیکر آنا۔ مثلاً جب روٹی پکائی جاتی تھی تو روٹی کو گھما کر اس کا رخ پلٹنے کو ولج کہا جاتا تھا۔
آیت میں لفظ پر پیش کے آنے سے حال کا صیغہ بن جاتا ہے یعنی ہر وقت گھما کر پھیرا جا رہا ہے ایک رخ دوسری طرف لایا جا رہا ہے۔
پھر اگلا لفظ ہے لیل۔ لیل کہتے ہیں زمین کے اس حصہ کو جو اندھیرے میں ہوتا ہے۔
اور اگلا لفظ ہے نہار جو کہ لیل کی ضد ہے اور نہار کہتے ہیں زمین کے اس حصے کو جو روشنی میں ہوتا ہے۔
اب ان آیات کو دیکھیں اللہ رات اور دن کے حوالے سے کس قدر کھول کھول کر راہنمائی کر رہا ہے۔
تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَتُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ۔ آل عمران ۲۷
یہ جو رات اور دن ہو رہے ہیں گھما کر پھیر کر لیل کو زمین کے اس حصے کو جو اندھیرے میں ہوتا ہے آگے وہاں لے جایا جا رہا ہے جہاں روشنی ہے یوں زمین کا وہ حصہ روشن ہو جاتا ہے اور اسی طرح زمین کا وہ حصہ جو روشنی میں ہوتا ہے اسے گھما کر پھیر کر وہاں لے جایا جا رہا ہے جہاں اندھیرا ہے۔ رات کو پکڑ کر گھما کر پھیر
کر دن میں لے جایا جا رہا ہے اور دن کو پکڑ کر پھیر کر گھما کر رات میں لے جایا جا رہا ہے۔
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَ یُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ ۔ الحج ۶۱
وہ یعنی جو آیات ہیں اولی الالباب کے لیے رات اور دن کا ہونا اس میں کچھ شک نہیں تھا اللہ سے جیسے خود ہی گھوم کر پھیر کر رات دن میں جا رہی ہے اور خود ہی
گھوم کر دن رات میں جا رہا ہے۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَیُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ۔ لقمان ۲۹
کیا نہیں دیکھا؟ کہ اس میں کچھ شک نہیں تھا اللہ گھما کر پھیر کر لے جا رہا ہے زمین کے اندھیرے والے حصے کو دن میں یعنی روشنی میں جس سے وہ روشن ہو جاتا
ہے اور گھما کر پھیر کر زمین کے اس حصے کو جو روشنی میں ہے اسے لے جا رہا ہے اندھیرے میں جس سے زمین کے اس حصے پر اندھیرا ہو جاتا ہے۔
یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ۔ فاطر ۱۳
گھوم کر زمین کا وہ حصہ جو اندھیرے میں تھا جا رہا ہے روشنی میں جس سے زمین کا وہ حصہ روشن ہو جاتا ہے اور گھوم کر زمین کا وہ حصہ جو روشن ہوتا ہے جا رہا ہے
اندھیرے میں جس سے اس پر اندھیرا ہو جاتا ہے۔
یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَیُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْل۔ الحدید ۶
گھوم پر زمین کا وہ حصہ جو اندھیرے میں تھا جا رہا ہے روشنی میں جس سے زمین کا وہ حصہ روشن ہو جاتا ہے اور گھوم کر زمین کا وہ حصہ جو روشن ہوتا ہے جا رہا ہے
اندھیرے میں جس سے اس پر اندھیرا ہو جاتا ہے۔
اب آپ خود غور کریں کہ اگر زمین چپٹی ہو تو کیا زمین گھوم کر اپنے رخ مسلسل بدل سکتی ہے؟ مسلسل ایک طرف دوسری طرف جا سکتی ہے بالکل ایسے جیسے گیند کو
اپنے ہی محور پر گھمایا جائے؟
پھر دوسری بات قرآن الحکیم ہے یعنی اللہ نے اس قرآن میں جو الفاظ استعمال کیے ہیں نہ تو ان میں رائی برابر بھی تبدیلی کی جا سکتی ہے اور نہ ہی ان کی ترتیب کو بدلا جا سکتا ہے کیونکہ جو لفظ جہاں آنا تھا جیسا آنا تھا اللہ نے وہیں اور ویسا ہی استعمال کیا۔ آپ رات اور دن کے اختلاف پر تمام کی تمام آیات کو اٹھا کر دیکھ لیں تو آپ کو لفظ لیل پہلے استعمال ہوا ملے گا۔ اور پھر لفظ لیل پر زبر لا کر اسے ماضی کا صیغہ بنا دیا اور اس کے برعکس نہار لفظ نہ صرف بعد میں لایا گیا بلکہ اس کے نیچے
زیر لا کر اسے مستقبل کا صیغہ بنا دیا گیا یعنی پہلے رات تھی پھر دن آیا، اندھیرا پہلے تھا پھر روشنی ہوئی۔
تمام آیات میں یہ کہا جا رہا ہے کہ لیل کو یعنی زمین کے اس حصے کو جس پر اندھیرا ہے زمین کا جو حصہ اندھیرے میں ہے اسے گھما کر پھیر کر دن میں لایا جا رہا ہے یعنی روشنی میں لایا جا رہا ہے جس سے وہ روشن ہو جاتا ہے۔ اب اگر سورج گھوم رہا ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن اس کے برعکس کیوں کہہ رہا ہے بلکہ
قرآن کو تو یہ کہنا چاہیے تھا کہ روشنی کو اندھیرے میں لایا جا رہا ہے مسلسل روشنی کو ہی اندھیرے میں لایا جا رہا لیکن کیا ایسا کہا گیا؟
نہیں بلکہ قرآن تو یہ کہتا ہے کہ رات کو اٹھا کر دن میں یعنی روشنی میں لایا جا رہا ہے جس سے زمین کا وہ حصہ روشن ہو جاتا ہے اور پھر اسی روشن حصے کو اٹھا کر
اندھیرے میں لے جایا جا رہا ہے جس سے اس پر رات ہو جاتی ہے۔
قرآن بالکل دوٹوک یہ کہہ رہا ہے کہ رات کو دن میں لے جایا جا رہا ہے غور کریں اگر آپ ایک اندھیری جگہ پر موجود ہوں اورآپ کو کہا جائے کہ اندھیرے کو روشنی میں لیکر آؤ تو کیا آپ روشنی اندھیرے میں اٹھا کر لے جائیں گے؟ حالانکہ یہ کہا جا رہا ہے کہ اندھیری جگہ کو اٹھا کر روشنی میں لے جاؤ۔
کیا اندھیرا روشنی میں جا سکتا ہے؟ ذرا غور کریں۔ روشنی تو اٹھا کر اندھیرے میں لے جائی جا سکتی ہے لیکن اندھیرا نہیں سوائے یہ کہ اندھیری جگہ کو اٹھا کر روشنی میں لے جایا جائے جس سے وہ جگہ روشن ہو جائے گی بالکل اسی طرح اللہ کہہ رہاہے کہ رات کو یعنی زمین کا جو حصہ اندھیرے میں ہوتا ہے اس اندھیرے حصے کو دن میں یعنی روشنی میں لے جایا جا رہا جس سے وہ روشن ہو جاتا ہے پھر اس روشن حصے کو اندھیرے میں لے جایا جا رہا ہے جس سے اس پر اندھیرا یعنی رات ہو
جاتی ہے اور یہ سلسلہ مسلسل چل رہا ہے۔
اور ایسا صرف ایک ہی صورت میں ممکن ہے کہ پہلے اندھیرا ہی اندھیرا تھا پوری زمین اندھیروں میں تھی پھر روشنی لائی گئی یعنی سورج وجود میں آیا اب ایک طرف اندھیرا ہے دوسری طرف روشنی اور درمیان میں گول گیند کی مانند زمین ہے۔ زمین کا وہ حصہ جو اندھیرے کی طرف ہے اس پر رات اور جو سورج کی طرف ہے وہ روشن ہے یعنی دن۔ اب زمین اپنے ہی محور پر مسلسل گھوم رہی ہے جو کہ یولج ہو رہا ہے یعنی مسلسل زمین کا اندھیرے والاحصہ روشنی میں جا رہا ہے اور روشنی میں جا کر وہ رک نہیں جاتا بلکہ اس وقت تک روشن رہتا ہے جب تک کہ وہ روشنی میں رہتا ہے مسلسل یولج ہونے سے وہ دوسری طرف سے پھر اندھیرے میں
داخل ہو رہا ہے۔
اسی بات کو اللہ نے قرآن میں ایک اور پہلو سے بھی بیان کر دیا۔
وَھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ خِلْفَۃً۔ الفرقان ۶۲
اورجو کچھ بھی نظر آ رہا ہے یہ وہی ذات ہے کر دیا رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے آجا رہے ہیں۔
پہلے رات ہے اس کے پیچھے دن آجاتا ہے پھر رات دن کے پیچھے آ جاتی ہے پھر دن رات کے پیچھے آ جاتا ہے دونوں ایک دوسرے کے پیچھے جا رہے ہیں۔ ذرا غور کریں اگر سورج زمین کے گرد گھومنے سے رات اور دن ہو رہے ہوتے تو صرف اور صرف یہ کہا جاتا کہ رات دن کی سابق ہو رہی ہے یا رات دن کے پیچھے جا رہی ہے یا دن آگے آگے جا رہا ہے لیکن یہاں دونوں کے چلنے کا ذکر کیا گیا اور دونوں ایک دوسرے کے پیچھے جا رہے ہیں مثال کے طور پر ایک دائرہ ہو اس دائرے پر ایک طرف ایک شخص کھڑا ہو اور عین دوسری طرف ایک دوسرا شخص کھڑا ہو دونوں کا رخ آگے کو ہو اور دونوں ایک ہی رفتار سے اس دائرے میں دوڑنا شروع کر دیں جس سے دونوں کے درمیان فاصلہ نہ ہی کم ہو گا نہ ہی زیادہ اور یوں نظر آئے گا جیسے دونوں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اگر آپ یہ طے کرنا چاہیں کہ ان میں سے آگے کون ہے اور پیچھے کون تو یہ فیصلہ نہیں کر پائیں گے اگر یہ دیکھیں گے کہ آگے کون ہے اور پیچھے کون تو دونوں ہی ایک دوسرے کے آگے اور پیچھے دوڑتے نظر آئیں گے ۔ اللہ نے کہا کہ بالکل ایسے ہی رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے آ جا رہے ہیں اور یہ صرف اور صرف اسی صورت ممکن ہے کہ زمین گیند کی طرح گول ہو خلا میں معلق ہو اس کے ایک طرف اندھیرا اور دوسری طرف روشنی ہو ان کے درمیان زمین اپنے ہی محور پر گھوم رہی ہو جس
سے بالکل ایسا ہی ہو گا کہ رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے جا رہے ہیں۔
یوں اس آیت میں بھی اللہ نے بالکل صراحت کیساتھ یہ بات واضح کر دی کہ زمین گیند کی طرح گول ہے اور اپنے ہی محور پر گھومنے سے رات دن کا اختلاف ہو
رہا ہے ۔
پھر اسی کو اللہ نے قرآن میں مزید ایک اور پہلو سے بھی واضح کر دیا۔
یُکَوِّرُ الَّیْلَ عَلَی النَّہَارِ وَیُکَوِّرُ النَّھَارَ عَلَی الَّیْلِ۔ الزمر ۵
یہ آیت بھی چونکا دینے والی ہے ۔ کور عربی میں کہتے ہیں کسی شئے کو گھمانا جس وجہ سے دوسری شئے اس پر چڑھ رہی ہو جس سے اس کا سرا قریب سے قریب آ رہا
ہوں یا وہ قریب سے قریب آ رہی ہو اور یُکَوِّرُ کہتے ہیں کہ مسلسل اپنے ہی محور پر گھوم رہے ہونا جس سے اس پر کچھ چڑھ رہا ہو۔
اس آیت میں اللہ نے کہاخود ہی گھوم رہے ہیں رات اور دن یعنی زمین کا وہ حصہ جو اندھیرے میں ہے جس سے اس پر رات ہوتی ہے اور زمین کا وہ حصہ جو روشنی میں ہے جس سے اس پر دن ہوتا ہے زمین کے دونوں حصے ایسے گھوم رہے ہیں جیسے کسی شئے کو اپنے ہی محور پر گھمائے جانے سے اس کا ایک رخ دوسری طرف جا رہا ہوتا ہے بالکل اسی طرح زمین گھوم رہی ہے جس سے زمین کا وہ حصہ جو اندھیرے میں ہوتا ہے اس پر دن چڑھ رہا ہے اور جو روشنی میں ہوتا ہے اس پر اندھیرا
چڑھ رہا ہے یہ سلسلہ مسلسل چل رہا ہے۔
یہ بات آپ پہلے ہی جان چکے ہیں کہ قرآن نے بالکل واضح کر دیا کہ زمین گیند کی طرح گول ہے لیکن ایسے خلق کی کہ وہ سپاٹ خصوصیات کی حامل ہے، زمین کا نہ تو کوئی کونا ہے اور نہ ہی کوئی کنارہ اگر آپ چلتے ہو تو جدھر بھی رخ کر کے چلیں چلتے ہی جائیں گے کبھی کوئی کنارہ نہیں ملے گا کوئی کونا نہیں آئے گا کہ وہاں سے دائیں بائیں ہونا پڑے صرف اورصرف تسلسل ہی ملے گا یوں بھی قرآن نے واضح کر دیا کہ زمین گیند یعنی گولے کی طرح گول ہے زمین ایک گولہ ہے جو اپنے
ہی محور پر گھوم رہا ہے جس سے اس پر رات اور دن چڑھ رہے ہیں۔
اب آپ خود فیصلہ کریں کہ یہ ملا، پنڈت، پادری وغیرہ سمیت تمام کا تمام مذہبی طبقہ سچا ہے کہ زمین نہیں بلکہ سورج کے زمین کے گرد گھومنے سے رات اور دن ہورہے ہیں یا اللہ کا کلام حق ہے یہ فیصلہ کرنا کوئی مشکل نہیں حقیقت ہر لحاظ سے آپ کے سامنے ہے۔ ویسے بھی آپ یہ جان چکے ہیں کہ اللہ نے کہا رات اور دن کا اختلاف اولی الباب کے لیے آیات ہیں نہ کہ ان کے لیے جو عقائد والے ہیں عقائد والے تو جو آنکھوں سے دیکھ رہے ہیںاسی کو اصل اور مکمل حقیقت سمجھتے
اور مانتے ہیں۔ ایک مقام پر اللہ نے رات اور دن کے اختلاف کو اولی الالباب کے لیے آیات قرار دیا یہ ان لوگوں کے لیے آیات ہیں جو اپنی آنکھوں کانوں کو ہر لمحے کھلا رکھنے والے ہیں اور دل سے غور کرنے والے ہیں جو کبھی بھی کسی نتیجے کو آخر اور کل سمجھ کر دماغ میں ڈال کر اس پر تالہ نہیں لگاتے بلکہ وہ دل و دماغ کے دروازے کھلے رکھتے ہیں ہر وقت غور و فکر کرتے ہیں اگر پہلے سامنے آنے والی بات میں کوئی کمی کجی یا نقص وغیرہ سامنے آتا ہے تو اس کی اصلاح کر لیتے ہیں اسی پر ڈٹے نہیں رہتے اور اگر پہلے والی بات، نتیجہ یا نظریہ غلط ثابت ہو جائے تواسے دماغ سے نکال باہر کرتے ہیں اور ان کے برعکس ان کے لیے آیات نہیں ہیں جو کسی بھی بات کو، کسی نتیجے کو کل اور آخر سمجھتے ہوئے دماغ میں ڈال کر اس پر تالے لگا دیتے ہیں یعنی عقائد بنا لیتے ہیں جنہیں اہل العقائد کہا جاتا ہے۔
اسی طرح اللہ نے دوسرے مقام سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۱۶۴ اور الجاثیہ کی آیت نمبر ۵ میںاختلاف الیل والنھار کا ذکر کرتے ہوئے کہا
لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْن۔ البقرۃ ۱۶۴، الجاثیہ ۵
اللہ کی آیات ہیں ان لوگوں کے لیے جو خود سے غوروفکر کرکے سمجھ رہے ہیں جو عقل رکھ رہے ہیں یعنی جو سن اور دیکھ کر سوچ سمجھ رہے ہیں۔
یعنی ان کے لیے آیات ہیں جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان کے لیے نہیں ہیں جو بیوقوف جاہل ہیں جن میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں جو بندر کی طرح عقل کی بجائے نقل سے کام لیتے ہیں جو غوروفکر کرنے کی بجائے اندھوں کی طرح اپنے آباؤ اجداد کے پیچھے چل رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ وہ اسی پر ڈٹے
رہیں گے جس پر انہوں نے اپنے آباؤاجداد کو پایا۔
جن میں عقل نہیں ہے جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جوبیوقوف ہیں ان کے لیے آیات نہیں ہیں بلکہ وہ آیات کو بیّنات سمجھتے ہیں یعنی وہ ان میں غور کر کے چھپی ہوئی حقیقت جاننے کی بجائے جو آنکھوں سے نظر آ رہا ہے اسی کو اصل حقیقت سمجھتے ہوئے اسی کو اپنا عقیدہ بنائے ہوئے ہیں۔
پھر ایک اور مقام پر اللہ نے یوں کہا۔
لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْن۔ یونس ۶
اللہ کی آیات ہیں ان لوگوں کے لیے جو اللہ سے بچ رہے ہیں یعنی بچنے والوں کے لیے آیات ہیں نہ کہ ان کے لیے جو اللہ سے نہیں بچ رہے الٹا اللہ کیساتھ دشمنی
کر رہے ہیں یعنی آسمانوں و زمین میں، فطرت میں چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں۔
یہ ان کے لیے آیات ہیں جو دنیا وآخرت میں اللہ کے غضب سے عذاب الیم سے بچنا چاہتے ہیںتو وہ اللہ کی ان آیات میں غوروفکر کرتے ہیں اور حق کو پہچان کر نہ صرف اس پر عمل کرتے ہیں بلکہ یوں دنیا و آخرت میںبچنے والوں میں سے ہو جاتے ہیں۔ مگر جو دنیا و آخرت میں اللہ کے غضب سے بچنا نہیں چاہتے اور اس کے برعکس محض دنیا کی چھوٹی موٹی تکالیف و آزمائشوں سے بچنا چاہتے ہیں جس کے لیے ان کا مقصد دنیاوی مال و متاع کا حصول ہو جن کو آخرت کے بارے میں رائی برابربھی علم نہ ہو نہ اس کا یقین تو وہ انہیں آیات تسلیم کرکے ان میں غوروفکر سے حقیقت جاننے کی بجائے آیات کو ہی اصل اور مکمل حقیقت سمجھتے ہوئے دنیا و آخرت میں خسارے کا سودا کرتے ہیں یوں نہ ان پر دنیا میں آنے کا مقصد واضح ہوتا ہے اور نہ اسے پورا کر پاتے ہیں الٹا جہالت کو حق کا نام دیکر ضلالٍ مبینٍ میں ہوتے ہیں اور اللہ کی آیات سے کذب کرتے ہیں اللہ کی آیات کو ان کے مقامات سے ہٹاتے ہیں ان میں چھیڑ چھاڑ کر کے دنیا و آخرت میں ذلت کا سودا
کرتے ہیں۔
(جاری ہے)۔۔۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment