WARNING FROM MOTHER NATURE
اب اسی کو دیکھیں کہ قرآن میں اللہ کا اس بارے میں قول کیا ہے؟
وَھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآئِ۔ ھود ۷
اورجو کچھ موجود ہے اور اور کرتے جاؤ یہاں تک کہ اور ختم ہو کر ماضی میں نہ چلا جائے جب اور ختم ہو کر ماضی کا صیغہ بن جائے تو جو ذات سامنے آئے گی وہی ذات ہے خلق کیا آسمانوں اور زمین کو چھ مراحل میں اور قانون میں طے کر دیا گیا اس وجود کا عرش پانی پر یعنی زمین پر جو نظام چل رہا ہے وہ پانی پر چل رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عرش آسمانوں میں ہے جو کہ ایک تخت ہے اور ان کے برعکس اللہ کا کہنا ہے کہ اللہ کا عرش پانی پر تھا اور پانی پر ہے۔ دونوں بالکل متضاد باتیں ہے
حقیقت آپ کے سامنے ہے۔
عرش کہتے ہیں جو نظام وضع کر دیا اسے چلانے کو۔ آپ جب غور کریں گے تو آپ کو پتہ چلے گاکہ زمین کا نظام پانی پر چل رہا ہے پانی زمین پر چلنے والے نظام میں بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے اللہ کا عرش پانی پر ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ زمین پر جو نظام وضع کر کے چلا رہا ہے اس کی بنیاد پانی پر ہے یہ سارا نظام پانی پر چل
رہا ہے۔
اور پھر ان کا کہنا ہے کہ اللہ آسمانوں اور زمین سے الگ آسمانوں میں ہے اب دیکھیں کہ اس بارے میں اللہ کا کیا کہنا ہے۔
وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ۔ الحدید ۴
اورجو کچھ موجود ہے اور اور کرتے جاؤ یہاں تک کہ اور ختم ہو کر ماضی میں نہ چلا جائے جب اور ختم ہو کر ماضی کا صیغہ بن جائے تو جو ذات سامنے آئے گی وہی ذات ہے تمہارے ساتھ تم جہاں کہیں بھی ہو۔ یعنی تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو تو دیکھو وہاں کون ہے جس کا وجود نظر آئے تو وہ اللہ ہی کا وجود نظر آئے گا اور اسی کو
اللہ نے قرآن میں ایک اور پہلو سے بھی بالکل کھول کر واضح کر دیا۔
ھُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَالظَّاھِرُ وَالْبَاطِنُ۔ الحدید ۳
اورجو کچھ موجود ہے اور اور کرتے جاؤ یہاں تک کہ اور ختم ہو کر ماضی میں نہ چلا جائے جب اور ختم ہو کر ماضی کا صیغہ بن جائے تو جو ذات سامنے آئے گی وہی
ذات ہے ،یہی وجود یہی ذات الاول ہے اورالآخرہے اورالظاہرہے اور الباطن ہے۔
غور کریں الاول کس کا ؟ اورالآخر کس کا؟ اورالظاہر کیا ہے؟ یعنی کیا ہے جو کھلم کھلا نظر آ رہا ہے اورالباطن کیا ہے؟ وہ کیا ہے جو کھلم کھلا نظر نہیں آ رہا بلکہ ایک
دوسرے میں یا ایک دوسرے کے پیچھے چھپا ہے جو باطن ہے اس آیت میں بالکل واضح کر دیا گیا یہ اللہ ہے۔
ان آیات میں اللہ نے ان کے اس عقیدے کو بھی بنیاد سے اکھاڑ کر رکھ دیا۔ یہاں یہ بات بھی واضح کر نا بہت ضروری ہے کہ اللہ کا موضوع ایک وسیع موضوع ہے جس پر الگ سے آگے چل کر تفصیل کیساتھ بات آئے گی ہر پہلو سے بات کی جائے گی اور ہر سوال کا جواب دیا جائے گا اللہ کیا ہے اللہ پر کوئی سوال سوال
نہیں رہے گا فی الحال بڑھتے ہیں آگے اپنے موضوع پر۔
آپ نے خود دیکھا اللہ نے قرآن میں کس قدر کھول کھول کر حق واضح کر دیا۔
محمد علیہ السلام کی بعثت سے پہلے مشرکین عرب سمیت یہودیوں اور عیسائیوں سب کا متفقہ عقیدہ تھا کہ اللہ الگ ہے اور کائنات الگ اللہ کائنات سے الگ اوپر آسمانوں پر ہے اگر یہ حق ہوتا تو قرآن کو اس پر بالکل خاموش رہنا چاہیے تھا لیکن کیا قرآن اس پر خاموش رہا ؟ حقیقت آپ کے سامنے ہے قرآن خاموش نہیں رہا بلکہ اللہ نے تو قرآن میں ان کے اس عقیدے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کے بالکل برعکس حق کھول کر واضح کر دیا کہ تم جہاں کہیں بھی ہو تو دیکھو وہاں کون
ہے؟ جو تمہیں نظر آئے گا وہ اللہ ہی تو ہے تمہیں اللہ ہی کا وجود نظر آئے گا اللہ ہی کی ذات نظر آئے گی۔
ان کا عقیدہ تھا اور ہے کہ اللہ کا عرش آسمانوں پر ہے لیکن اللہ نے قرآن میں ان کے اس عقیدے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے حق بالکل کھول کر رکھ دیا کہ اللہ کا عرش پانی پر ہے ۔ عرش کہتے ہیں نظام چلانے کو اور جب آپ غور کریں تو آپ پر یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو جائے گی کہ زمین پر چلنے والے نظام کی بنیاد پانی پر
ہے زمین کا نظام پانی پر کھڑا ہے پانی پر چل رہا ہے اگر پانی کو ہٹا دیا جائے تو زمین ایک بنجر اور کھنڈر سیارہ بن جائے گا۔
پھر ان کا عقیدہ ہے کہ زمین حرکت نہیں کر رہی زمین ایک جگہ پر ساکت ہے اور سورج ،چاند، ستارے وغیرہ سب کے سب زمین کے گرد گھوم رہے ہیں۔ اب
دیکھیں اس بارے میں اللہ نے قرآن میں کیا کہا۔
اَللّٰہُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلّ’‘ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی۔ الرعد ۲
اللہ ہے وہی ذات ہے بلند کیاآسمانوں کو بغیر کسی ایک بھی ستون کے دیکھ رہے ہوآسمانوں کو؟ ہمیں دیکھ رہے ہو، پھر استویٰ ہوا عرش پر اور سخر کیا سورج اور چاند کو تمام کے تمام تیر رہے ہیں اجل مسمیٰ تک یعنی ان کی ایک مدت طے کر دی ان سب کے خاتمے کا ایک وقت طے کر دیا جب تک کہ وہ وقت نہیں آ جاتا تب
تک تمام کے تمام اسی طرح تیرتے رہیں گے۔
اب غور کریں تمام کے تمام کے تیرنے کا ذکر کیا گیا اور بطور مثال صرف دو کا نام لیا۔ اب اگردونوں ستارے ہیں تو اس کا مطلب کے تمام کے تمام ستارے تیر
رہے ہیں اور اگر دونوں ستارے نہیں ہیں تو اس کا مطلب جو یہ دونوں ہیں اسطرح کے تمام کے تمام تیر رہے ہیں۔
پہلے سورج کا ذکر ہے اور سب جانتے ہیں کہ سورج جلتا ہوا آگ کا گولہ ہے یعنی ستارہ ہے اور چاند جلتا ہوا گولہ نہیں ہے بلکہ چاند مادے کا گولہ ہے جسے سیارہ کہتے ہیں یوں اللہ نے ایک ستارے اور سیارے کاذکر کرتے ہوئے تمام کے تمام ستاروں و سیاروں کے اجل مسمیٰ تک تیرنے کا واضح الفاظ میں ذکر کر دیا۔ اب اگر تو زمین نہ ستارہ ہے نہ سیارہ تو پھر اس آیت میں زمین کے تیرنے کا ذکر نہیں ہے اور اگر زمین ان میں سے ایک ہے توپھر یہ بات بالکل واضح ہے کہ زمین بھی اپنے
مدار میں انتہائی تیز رفتاری میں سفر کر رہی ہے اپنی اجل مسمیٰ تک جب تک کہ زمین کے خاتمے کا وقت نہیں آ جاتا۔
اور یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ زمین آگ کا گولہ یعنی ستارہ نہیں ہے بلکہ زمین مادے کا گولہ ہے زمین ایک سیارہ ہے جب زمین سیارہ ہے تو پھر قرآن میں اللہ
نے زمین کے اپنے مدار میں تیرنے کا بھی راز کھول کر سامنے رکھ دیا۔
اسی طرح اگلی آیت میں دیکھیں۔
وَھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ وَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلّ’‘ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ۔ الانبیائ۳۳
اورجو کچھ موجود ہے اور اور کرتے جاؤ یہاں تک کہ اور ختم ہو کر ماضی میں نہ چلا جائے جب اور ختم ہو کر ماضی کا صیغہ بن جائے تو جو ذات سامنے آئے گی وہی ذات ہے خلق کیا لیل کو اور نہار کو اور سورج کو اور چاند کو تمام کے تمام انتہائی تیزرفتاری سے اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں جیسے ان کو حکم دیا گیا ہے جس سے ان
پر عائد ذمہ داری پوری ہو رہی ہے۔
یہ آیت اور بھی بہت بڑا راز کھول کر رکھ دیتی ہے آپ پیچھے جا ن چکے ہیں کہ لیل اور نہار یعنی رات اور دن کیسے ہو رہے ہیں۔ لیل اور نہار کا آنا جانا زمین کا اپنے ہی محور پر گھومنا پھر لیل آدھی زمین اور نہار آدھی زمین یوں یہ پوری زمین بن جاتی ہے لیل اور نہار کی صورت میں پوری زمین کا ذکر کیا گیا اس کے فوری بعد سورج اور چاند کا ذکر کیا گیا پھر کہا گیا کہ تمام کے تمام اپنے اپنے مدار میں انتہائی تیز رفتاری سے تیر رہے ہیں۔ یعنی نہ صرف زمین اپنے ہی محور پر گھوم رہی ہے جس سے رات اور دن ہو رہے ہیں بلکہ زمین بھی سورج اور چاند کی طرح اپنے مدار میں انتہائی تیز رفتاری سے تیر رہی ہے اور ایسی کئی آیات ہیں قرآن میں جن میں اللہ نے سورج چاند سمیت تمام کے تمام ستاروں اور سیاروں کے ساتھ زمین کے بھی اپنے مدار میں تیرنے کا ذکر کیا جیسا کہ آپ درج ذیل آیت میں بھی دیکھ
سکتے ہیں۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَیُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلّ’‘ یَّجْرِیْٓ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی۔ لقمان۲۹
کیا نہیں دیکھا اس میں کچھ شک نہیں اللہ تھا یولج ہو رہی ہے لیل نہار میں اور یولج ہو رہی ہے نہار لیل میں اور سخر کیا سورج اور چاند کو تمام کے تمام اپنی اجل مسمیٰ
یعنی طے شدہ خاتمے کے وقت تک تیر رہے ہیںتیرتے رہیں گے۔
یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَیُوْلِجُ النَّھَارَ کیا ہے ؟ یہ بات پیچھے بہت صراحت کیساتھ بیان ہو چکی یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَیُوْلِجُ النَّھَارَ اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ زمین اپنے ہی محور پر گھوم رہی ہے جس سے زمین کا وہ حصہ جو اندھیرے میں تھا وہ روشنی میں چلا جارہا ہے یوں اس پر دن ہو جاتا ہے اور جو حصہ روشنی میں ہے وہ اندھیرے میں جا رہا ہے جس سے اس پر رات ہو رہی ہے اور یہ سلسلہ مسلسل چل رہا ہے یوں یہ بات طے ہو گئی کہ زمین اپنے ہی محور پر گھوم رہی ہے۔ لیل آدھی زمین اور نہار آدھی زمین یوں یہ پوری زمین ارض بن جاتی ہے آگے اللہ نے سورج اور چاند سمیت تمام کے تمام کے تیرنے کا ذکر کر دیا یعنی زمین، سورج اور چاند سمیت تمام کے تمام ستارے و سیارے اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں اور اسی طرح تیرتے رہیں گے جب تک کہ ان کے خاتمے کا
جو وقت طے کیا گیا وہ نہیں آ جاتا۔
آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا کہ اللہ نے نہ صرف زمین کا اپنے ہی محور پر گھومنے کا راز کھول دیا بلکہ زمین ، سورج، چاند سمیت تمام کے تمام ستارے و سیارے اپنے اپنے مدار میں بھی تیر رہے ہیں۔ تمام کے تمام ستارے و سیارے نہ صرف اپنے ہی محور پر بھی گھوم رہے ہیں جیسے زمین گھوم رہی ہے بلکہ وہ اپنے اپنے مدار میں بھی ہر لحاظ سے گولائی میں آگے کو تیر رہے ہیں اور اس وقت تک یہی سلسلہ چلتا رہے گا جب تک کہ ان کی جو اجل مسمیٰ خلق کر دی گئی وہ نہیں آ جاتی یعنی ان کی موت کا وقت ان کے خاتمے کا وقت۔ یوں نہ صرف اللہ نے اس قرآن میں چودہ صدیاں قبل عظیم تر رازوں سے پردہ اٹھا دیا تھا جب کوئی انسان ان باتوں کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا بلکہ اللہ نے اس وقت کے یہود یوں اور عیسائیوں یا مشرکین عرب یا پھر موجودہ وہ لوگ جو ان کی مثل ہیں ان
سب کے جھوٹے بے بنیاد و باطل عقائد کو چاک کر کے رکھ دیا۔
آپ خود غور کریں اگر زمین ساکت ہوتی ، سورج چاند سمیت باقی ستارے و سیارے زمین کے گرد گھوم رہے ہوتے تو ان کی رفتار میں فرق ہونے کی وجہ سے بالکل واضح نظر آنا چاہیے تھا لیکن آپ دیکھتے ہیں کہ ایسے نظر آتا ہے جیسے سب کے سب ایک وجود کی طرح سفر کر رہے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے آپ گاڑی میں سفر کر رہے ہوتے ہیں تو درخت، گھر، جانور وغیرہ سمیت سب کا سب ہی پیچھے کو سفر کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ تو کیا وہ سب سفر کر تے ہوئے پیچھے جا رہا ہوتا ہے؟ یا پھر وہ سب کے سب تو اپنا اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں اپنے اپنے سرکل میں ہوتے ہیں مگر آپ جس پر سوار ہوتے ہیں وہ شئے سفر کر رہی ہوتی ہے جس سے وہ
سب کے سب آپ کو سفر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یوں اس پہلو سے بھی حقیقت آپ کے سامنے ہے۔
پھر ان کا عقیدہ تھا کہ چاند کی اپنی روشنی ہے لیکن دیکھیں اس بارے میں اللہ نے قرآن میں کیا کہا۔
ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآئً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا۔ یونس ۵
جو کچھ موجود ہے اور اور کرتے جاؤ یہاں تک کہ اور ختم ہو کر ماضی میں نہ چلا جائے جب اور ختم ہو کر ماضی کا صیغہ بن جائے تو جو ذات سامنے آئے گی وہی ذات
ہے کر دیا سورج کو جلتا ہواحرارت والی روشنی دینے والا اور چاند کواس حرارت والی روشنی کو نور یعنی انرجی میں بدلنے والا۔
یعنی سورج جلتا چراغ ہے سورج کی روشنی میں حرارت ہے گرمی ہے لیکن چاند ایسا نہیں ہے چاند کی روشنی ٹھنڈی ہے جس کا مطلب بالکل واضح ہے کہ روشنی چاند
کی اپنی نہیں ہے بلکہ وہ سورج سے لیکر منعکس کر رہا ہے اور اسی کا اللہ نے کئی مقامات پر واضح الفاظ میں بھی ذکر کیا۔
وَّجَعَلَ فِیْھَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِیْرًا۔ الفرقان ۶۱
اور کر دیا آسمان میں سراج یعنی سورج روشنی دینے والا اور چاند اس کی روشنی لیکر منعکس کرنے والا یعنی چاند کو ریفلیکٹر بنا دیا اور ایسا ریفلیکٹر کہ سورج سے گرم روشنی
لیکر آگے سے نور بنا کر یعنی ٹھنڈی روشنی جو کہ انرجی ہے بنا کر بھیجتا ہے۔
اسی طرح اگلی آیت میں دیکھیں۔
وَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِیْھِنَّ نُوْرًا وَّجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا۔ نوح ۱۶
اور کر دیا چاند کو ان میں نور اور سورج کو روشنی دینے والا چراغ۔
ان آیات میں اللہ نے ان کے اس عقیدے کو بھی پاش پاش کردیا کہ چاند کی اپنی روشنی ہے۔
اب حیران کن اور چونکا دینے والی بات تو یہ ہے کہ قرآن میں اللہ کی طرف سے مشرکین عرب ، یہودیوںاور عیسائیوں کے اس باطل عقیدے کو پاش پاش کر دینے سے اور حق بالکل کھول کھول کر رکھ دینے سے چاہیے تو یہ تھا کہ اپنے آباؤ اجداد کے ان بے بنیاد و باطل عقائد کو ترک کر دیا جاتا لیکن آج یہود یوں اور عیسائیوں سمیت خود کو امت مسلمہ کہلوانے والوں نے الٹا قرآن کی طرف سے کھولے جانے والے حقائق پر اعتراضات داغنا شروع کر دئے ۔ حق اس قدر کھول دیئے جانے کے باوجود حق سے اختلاف کرنا شروع کر دیا، مذہبی طبقے کی اکثریت بالخصوص عرب دنیا کے سلفی مکتبہ فکر کے علماء کے نام پر جہلاء نے اور برصغیر کی نامور شخصیات جن میں سر فہرست بریلوی فرقے کے بانی احمد رضا خان بریلوی نے انتہائی مضحکہ خیز اعتراضات اٹھائے ۔ ان علماء کے نام پر جہلاء
میں سعودی عرب کے ملّاں اس معاملے میںسب سے آگے آگے ہیں ۔
اور قرآن میں اللہ کی طرف سے حق بالکل کھول کھول کر واضح کیے جانے کے باوجود نہ صرف ان لوگوں نے حق تسلیم کرنے کی بجائے اختلاف ہی کیا بلکہ الٹا قرآن پر ہی اعتراضات داغ دیئے۔ اب نہ صرف جو ان لوگوں نے اعتراضات اٹھائے انہیںبلکہ ان اعتراضات کی حقیقت بھی چاک کر کے آپ کے
سامنے رکھتے ہیں۔ (جاری ہے)۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment