Thursday, November 10, 2022

                                  WARNING FROM MOTHER NATURE 


قسط نمبر#69

سب سے پہلے ان تمام آیات کو آپ کے سامنے رکھتے ہیں اس کے بعد ان آیات کی روشنی میں حقیقت کھول کر آپ پر واضح کرتے ہیں۔
اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا۔ وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔النبا ۶، ۷
کیا نہیں ہم نے کیا زمین کو ایسا کہ زمین پر ہر شئے کو اپنی طرف کھینچے رکھنے والی اپنی طرف سمیٹے رکھنے والی ۔ اور کیا ہم نے نہیں کیا پہاڑوں کو اوتاد ؟
سورت النبا کی آیت نمبر سات میں لفظ اوتاد کا استعمال کیا گیا جو کہ جمع کا صیغہ ہے اس کا واحد وتد ہے اور وتد کہتے ہیں ایسی شئے کو جس میںپھانے، فانے یا
تکونے کی خصوصیات پائی جاتی ہوں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اسے کسی بھی طرف سے دیکھا جائے تو یہ تکونہ نظر آتا ہے یعنی اس کے تین کونے نظر آتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر اسے کسی شئے میں ٹھونکا جائے یعنی گاڑھا جائے تو یہ نہ صرف مضبوطی سے گڑھ جاتا ہے کہ نکلنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے بلکہ اگر شئے سخت ہو تو اسے پھاڑ دیتا ہے اور اگر شئے نرم ہو تو اسے اطراف میں انتہائی زور سے دھکیل دیتا ہے۔ جیسے جیسے اس میں آپ غور کریں گے تو آپ کو اس کی مزید خصوصیات کا علم ہوتا چلا جائے گا۔ اس آیت میں اللہ نے پہاڑوں کو اوتاد کہا یعنی پہاڑوں میں وہی خصوصیات ہیںجو خصوصیات اوتاد یعنی ویج ، فانے میں پائی جاتی ہیں۔ پہاڑوں کی ساخت ایسی ہے کہ نہ صرف یہ اوپر کو تکونے کی طرح اٹھے ہوئے نظر آتے ہیں بلکہ یہ اسی طرح تکونی صورت میں زمین کی نچلی تہوں میں بھی نیچے کو دھنسے ہوئے ہیں اوریہ اسی طرح وجود میں آئے جس طرح تکونے کو زمین میں گاڑنے سے زمین اطراف میں پریس ہو کر دباؤ کا شکار ہو کر سخت ہونے کے ساتھ ساتھ اوپر کو اٹھ آتی ہے اور نچلی طرف سے بھی نیچے دھنس جاتی ہے۔ زمین کی تہیںاطراف سے دباؤ پڑنے کی وجہ سے نہ صرف آپس میں ایک دوسرے میں دھنس کر جکڑی گئیں بلکہ وہ تکونوں کی صورت میں اوپر کو اٹھ گئیں یوں پہاڑ وجود میں آئے اور جہاں جہاں پہاڑ ہیں وہاں وہاں نہ صرف زمین سخت ہے اور زمین کی تہیں ایک دوسرے میں ایسے دھنس کر جکڑی ہوئی ہیںجیسے رسی کے دو ٹکڑوں کو گانٹھ لگا دی جائے بلکہ جیسے اوپر کو اٹھی ہوئی ہیں پہاڑ نظر آتے ہیں اسی طرح نیچے کو بھی دھنسی ہوئی ہیں۔
اب غور کریں اس آیت میں اللہ یہ سوال کر رہا ہے کہ کیا ہم نے پہاڑوں کو اوتاد نہیں کیا؟ تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اللہ ایسا کیوں کہہ رہا ہے؟ ایسا کن کو کہا جائے گا؟ کیا ایسا ان کو کہا جا سکتا ہے جو پہاڑوں کے بارے میں بالکل علم نہ رکھنے والے ہوں ؟ بے علم ہوں ؟ یا صرف اور صرف انہی کو کہا جا سکتا ہے کہ جو پہاڑوں کے بارے میں علم رکھنے والے ہوں جن پر پہاڑوں کی ساخت و تخلیق کے راز کھل چکے ہیں؟ ایسا تو صرف انہی کو کہا جا سکتا ہے جن پر پہاڑوں کی تخلیق کے راز کھل چکے ہوں اور انہی کو کہا گیا یعنی آج موجودہ انسانوں کو کہا جا رہا ہے نہ کہ چودہ سو سال قبل کے مشرکین کو۔
اور پھر دیکھیں اگلی آیات میں اللہ نے کیا کہا۔
وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِکُمْ۔ النحل ۱۵
اور ڈال دیں زمین میں چوٹیاں اس لیے کہ تمہارے ساتھ ہی کہیںزمین پھسل نہ جائے اس وجہ سے جو وہ عمل انجام دے رہی ہے زمین کی تہیں پانی کی طرح
بہہ نہ پڑیں یعنی لینڈ سلائیڈنگ نہ ہو۔
وَجَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِھِمْ۔ الانبیاء ۳۱
اور کر دیں ہم نے زمین میں چوٹیاں اس لیے کہ تمہارے ساتھ ہی کہیںزمین پھسل نہ جائے زمین کی تہیں پانی کی طرح بہہ نہ پڑیں یعنی لینڈ سلائیڈنگ نہ ہو۔
وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِکُمْ۔ لقمان ۱۰
اور ڈال دیں زمین میں چوٹیاں اس لیے کہ تمہارے ساتھ ہی کہیںزمین پھسل نہ جائے زمین کی تہیں پانی کی طرح بہہ نہ پڑیں یعنی لینڈ سلائیڈنگ نہ ہو
ان آیات میں لفظ تمید کا استعمال کیا گیا اصل لفظ ’’مید‘‘ ہے اور اس کے شروع میں ’’ت ‘‘ کا اضافہ ہے۔ ’’ت‘‘ زمین کے کسی عمل کا اظہار کررہی ہے
جس عمل کا تعلق ’’مید‘‘ سے ہے اور ’’ مید‘‘ عربی میں کہتے ہیں پھسل کر بہہ پڑھنے کو یعنی لینڈ سلائیڈنگ کو۔
اب غور کرنے والی بات تو یہ ہے کہ آخر زمین کا وہ کون سا عمل ہے زمین ایسا کون سا عمل انجام دے رہی ہے جس کی وجہ سے زمین کی تہیں پھسل کر پانی کی طرح بہہ سکتی ہیں یعنی لینڈ سلائیڈنگ ہو سکتی ہے جسے روکنے کے لیے رواسی یعنی زمین پر جو چوٹیاں آپ کو نظر آتی ہیں وہ کی گئیں جنہیں آپ پہاڑکہتے ہیں عربی میں جبال کہا جاتا ہے؟ اور سورت النبا کی آیت نمبر سات میں یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ جبال یعنی پہاڑوں کو اوتاد کیا گیا ہے یعنی پہاڑ اس طرح وجود میں آئے کہ جب زمین تکمیلی کے مراحل سے گزر رہی تھی اور خلا سے شہابیوں کی بارش ہو رہی تھی جس سے زمین کی اوپری تہیں وجود میں آ رہی تھیں تو زمین کے گھومنے کی وجہ سے ان تہوں پر دباؤ پڑتا بالکل ایسے ہی جیسے آپ کسی گاڑی پر سوار ہوتے ہیں جب گاڑی آگے کو چل رہی ہوتی ہے تو آپ پر پیچھے کو دباؤ پڑتا ہے اور اگر آپ کسی شئے کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے نہ ہوں تو آپ پیچھے کو پھسل جائیں۔ بالکل ایسے ہی جب زمین کی یہ تہیں وجود میں آ رہی تھیں زمین کے اپنے ہی محور پر گھومنے کی وجہ سے ان تہوں پر دباؤ پڑنے کی وجہ سے یہ نہ صرف آپس میں ایک دوسرے میں جگہ جگہ سے دھنس گئیں بلکہ تکونوں کی طرح اوپر کو بھی اٹھ کر پہاڑ
وجود میں آ گئے اور نیچے کو بھی اسی طرح نچلی تہوں میں دھنس گئیں جس سے ان کا سرکنا ان کا پھسلنا رک گیا ان کا پھسلنا بند ہو گیا۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ جن آیات سے یہ زمین کے ساکت ہونے کی دلیل اخذ کر رہے ہیں وہ آیات تو خود چیخ چیخ کر اس بات کا اعلان کر رہی ہیں کہ زمین حرکت کر رہی ہے زمین کے حرکت کرنے کی وجہ سے زمین کی اوپر والی تہیں لرزیں نہ اِدھر اُدھر ہلیں نہ ان کو لرزنے سے، ہلنے سے بچانے کے لیے پہاڑوں کو اوتاد کیاگیا۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ان کے ان آیات کے من چاہے تراجم کا عربی متن کیساتھ دور دور تک کوئی تعلق نہیں جن سے یہ اپنے آباؤ اجداد سے منتقل
ہونے والے بے بنیاد و باطل عقائد و نظریات کو سچا ثابت کرنے کی سر توڑ اور ناکام کوشش کرتے رہے۔
سوال تو الٹا ان لوگوں سے بنتا ہے جب ان کے بقول زمین ساکت ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زمین میں پہاڑوں کو میخوں کی طرح کیوں گاڑھ دیا؟ ان کا کہنا ہے کہ زمین میں پہاڑوں کوبطور میخیں گاڑھ دیا تا کہ زمین حرکت نہ کرے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب زمین ہے ہی ساکت تو پھر میخیں گاڑھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ذرا غور کریں اگر کوئی شئے ساکت ہو تو اس پر پڑی اشیاء کو مضبوطی سے باندھنے کی ضرورت پیش آئے گی کہ کہیں اشیاء پھسل کر بہہ نہ
پڑیں؟ اور اگر اشیاء کو مضبوطی سے باندھا جاتا ہے تو کیوں باندھا جائے گا؟
آپ گاڑی کی ہی مثال لے لیں اگر گاڑی ایک جگہ پر ساکت کھڑی رہے اور اس پر سامان لادھا ہوا ہو تو کیا سامان باندھنے کی ضرورت پیش آئے گی؟ نہیں بالکل نہیں۔ اور اگر سامان کو مضبوطی سے باندھا جاتا ہے تو آخر کیوں باندھا جائے گا؟ اسی لیے کہ جب گاڑی چلے تو کہیں سامان گاڑی چلنے کی وجہ سے دباؤ
پڑنے سے پھسل کر اِدھر اُدھر گر نہ پڑے، پیچھے کو بہہ کر گر ہی نہ پڑے۔
اسی لیے اگر یہ کہا جاتا کہ زمین حرکت کر رہی ہے اور پہاڑوں کو بطور میخوں کے گاڑھ دیا تو پھر بات سمجھ آتی ہے کہ اس لیے گاڑھا تا کہ زمین کے حرکت کرنے سے زمین پر اتھل پتھل نہ ہو زمین کی تہیں بہہ نہ پڑیں پھسل نہ پڑیں جس سے زمین پر تباہیاں نہ آتی رہیں لینڈ سلائیڈنگ نہ ہوتی رہے اشیاء اِدھر اُدھر نہ گریں
اس لیے زمین کی تہوں کو جامد کرنے کے لیے ایسا کیا گیا۔
زمین کی تہوں میں غور کریں تو آپ یہ دیکھیں گے کہ زمین پر تہوں کے جگہ جگہ کنارے ہیں کناروں پر گڑھے ہیں یعنی آگے تہیں نہیں بلکہ گہرائیاں آ جاتی ہیں تہوں کا تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے یوں زمین پر بڑے بڑے گڑھے ہیں جن میں پانی بھرا ہوا ہے جنہیں آپ سمندر کہتے ہیں۔ زمین کی تہوں کو اگر پہاڑوں کووجود میں لا نے سے جامد نہ کیا جاتا تو یہ تہیں ہر وقت جگہ جگہ سے ٹوٹ کر پھسل پھسل کر کناروں کی طرف بہتی رہتیں اور زمین ہر لمحے کہیں نہ کہیں سے لینڈ سلائیڈنگ کا شکار رہتی اور یوں بالآخر ساری خشکی بہہ بہہ کر پانیوں میں چلی جاتی اور ساری زمین پر پانی ہی پانی ہو جاتا خشکی کا ایک ذرہ بھی نہ رہتا،اسی سے محفوظ رکھنے کے لیے پہاڑوں کو اوتاد کیا گیا۔ یہ تمام تر حقائق چیخ چیخ کر اس بات کو آپ پر واضح کر رہے ہیں کہ زمین ساکت نہیں ہے بلکہ زمین حرکت کر رہی ہے جیسا
کہ پیچھے تفصیل کیساتھ ہر پہلو سے کھول کھول کر واضح کر دیا گیا یوں ان کے اس اعتراض اور ان کی عقل کا پردہ بھی چاک ہو گیا۔

اب آئیں اس آیت کی طرف جس کو بنیاد بنا کر کہتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ نے کہا کہ اللہ نے آسمانوں و زمین کو پکڑاہوا ہے تا کہ وہ حرکت نہ کریں اور پھر کہتے
ہیں کہ یہ آیت زمین کے ساکت ہونے کی دلیل ہے۔
اِنَّ اللّٰہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا۔ فاطر ۴۱
اس میں کچھ شک نہیں اللہ تھا یہ جو خودی ہی جکڑے ہوئے ہیں تھمے ہوئے ہیں آسمان اور زمین نہیں ہل رہے اپنے مقام سے۔
یہ آیت انتہائی گہری آیت ہے جو اپنے اندر بہت بڑے بڑے راز سموئے ہوئے ہے لیکن ان لوگوں نے اس آیت میں لفظ تزولا کے معنی حرکت کے کیے۔ ’’ان تزولا‘‘ نہ حرکت کریں جس سے ان کا کہنا ہے کہ زمین ساکت ہے اللہ زمین کو تھامے ہوئے ہے۔ حالانکہ یہ لفظ زولا ہے جو کہ زل سے ہے اسی سے زلزلہ ہے تو کیا زلزلہ کے معنی حرکت کرنے کے کیے جا سکتے ہیں؟ زل کہتے ہیں ایک طرف سے دوسری طرف جانے کو، ہلنے کو اور زل زل کہتے ہیں ہلنے ہلنے کو یعنی ایک شئے ایک طرف سے دوسری طرف جاتی ہے پھر دوسری طرف سے واپس پہلی طرف آتی ہے اس طرح ہلنے کو زل زل کہتے ہیں اور جس کے زل زل کا ذکر کیا جاتا ہے اس کی طرف اشارے کے لیے ہ کا استعمال کیا جاتا ہے یوں لفظ زلزلہ بن جاتا ہے۔ اس آیت میںلفظ زول ہے زول کے معنی ایک سمت سے
دوسری سمت مسلسل ہلنا، بہنا۔
اس آیت میں اللہ نے بات کھول کر واضح کر دی کہ دیکھو کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو جکڑا ہوا ہے ؟ غور کرو جو ذات سامنے آئے گی وہی تو اللہ تھا نہ کہ اللہ وہ ہے جو تم نے آسمانوں پر چڑھایا ہوا ہے اور اس آیت میں لفظ اللہ کی ہ پر زبر لا کر اسے ماضی کا صیغہ بنا دیا یعنی آج آسمان و زمین زول ہو رہے ہیں تو جو
زول کر رہا ہے وہ اللہ نہیں بلکہ اس کے شریک ہیں۔
اس آیت میں بھی یہ بات بالکل واضح ہے کہ زمین حرکت کر رہی ہے زمین کے حرکت کرنے سے زمین کی تہیں کناروں کی طرف بہہ نہ پڑھیں اس لیے زمین کی تہوں کو جکڑ دیا گیا اور کیسے جکڑ دیا گیا اس کی وضاحت پچھلی آیات میں کھل کر ہو چکی۔ یوں نہ صرف ان کے اعتراض کی حقیقت کھل کر واضح ہوگئی بلکہ جو انہوں
نے تراجم و تفاسیر کے نام پر قرآن کیساتھ کھلواڑ کیا وہ حقیقت بھی آپ کے سامنے آ گئی۔
(جاری ہے)۔۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...