Wednesday, November 9, 2022

                                 WARNING FROM MOTHER NATURE 


قسط نمبر#68
پیچھے آپ نے جان لیا کہ اللہ نے قرآن میں مشرکین عرب ، یہودیوں اور عیسائیوں سمیت مسلمانوں کے سورج، چاند، زمین، رات اور دن کے حوالے سے عقائد و نظریات کا رد کرتے ہوئے حقائق کو کھول کھول کر واضح کر دیا۔ حق کو اس قدر کھول کھول کر واضح کر دیئے جانے کے باوجودخود کو مسلمان کہلوانے والوں کی اکثریت بھی انہی عقائد ونظریات کی حامل ہے جو عقائد و نظریات قرآن کے نزول سے قبل یہودیوں، عیسائیوں اور مشرکین عرب کے تھے۔ اللہ کی طرف سے قرآن میں ان عظیم رازوں پر سے پردہ اٹھائے جانے کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ یہ لوگ اپنے آباؤ اجداد سے نسل در نسل منتقل ہونے والے عقائد و نظریات کو ترک کر دیتے اور حق کو تسلیم کر لیتے لیکن انہوں نے الٹا قرآن پر اعتراضات داغنا شروع کر دیئے۔ کسی کو یہ گمان نہ ہو کہ یہ لوگ اپنے آباؤ اجداد سے نسل در نسل منتقل ہونے والے عقائد کے دفاع میں قرآن پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں اس کے لیے انہوں نے قرآن کی جگہ سائنس کا نام استعمال کیا کہ سائنس ایسے کہتی ہے اور ہم سائنس پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ سائنس تو آج ان رازوں سے پردہ اٹھا رہی ہے قرآن نے تو آج سے چودہ صدیاں قبل ان حقائق سے پردہ اٹھا دیا تھا تب سے لیکر آج تک یہ قرآن کی بات کا رد کرتے رہے لیکن آج جب ان کے اپنے ہی ہاتھوں سے سائنس کے نام پر انہی حقائق کو ان کے بالکل سامنے لا رکھا گیا تو رد آج بھی یہ قرآن کا ہی کر رہے ہیں، کفر قرآن کا ہی کر رہے ہیں، اعتراضات آج بھی قرآن پرہی اٹھا رہے ہیں سائنس تو محض آج ایک بہانہ ان کے ہاتھ آ گیا۔ اب ان کی بد بختی یہ ہے کہ اللہ کو علم تھا کہ یہ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد بھی آپس کی ضد حسد بغض اور دشمنی کی وجہ سے اختلاف ہی کریں گے اعتراضات ہی اٹھائیں گے تو اللہ نے ان کے اٹھائے جانے والے اعتراضات کے پہلے ہی قرآن میں جوابات بھی دے دیئے تھے۔ تو اب بات کریں گے ان کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراضات اوراللہ کی طرف سے قرآن میں ان کے اعتراضات
کے جوابات پر۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر زمین گیند کی طرح گول ہے تو اس پر ہر شئے ٹھہرے کیوں ہوئی ہے اشیاء کو تو سرک سرک کر نیچے گرنا چاہیے کوئی شئے نہیں ہل رہی اس کا
مطلب ہے کہ زمین گول نہیں بلکہ چپٹی ہے۔
پھر دوسرا اعتراض کہ زمین اگر اپنے ہی محور پر اور سورج چاند سمیت تمام ستاروں و سیاروں کیساتھ اپنے مدار میں اتنی تیز رفتاری سے سفر کرتی ہوئی آگے اپنی اجل
مسمیٰ کی طرف بڑھ رہی ہے تو کوئی شئے ہلتی کیوں نہیں؟ کسی شئے کا نہ ہلنا یہ ثابت کرتا ہے کہ زمین حرکت نہیں کر رہی۔

پھر تیسرا اعتراض اگر زمین گول ہے اور اتنی تیز رفتاری سے حرکت کر رہی ہے تو پھر مثال کے طور پر آپ نے جاپان جانا ہے تو آپ کو جہاز اڑا کر آگے لے جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جہاز کو تھوڑ اوپر ہوامیں بلند کرو کچھ ہی دیر میں زمین گھوم کر جاپان آ جائے تو نیچے اتار لو اگر ایسا نہیں ہو سکتا تواس کا مطلب یہ ہے کہ
زمین حرکت نہیں کر رہی بلکہ ساکت ہے اسی وجہ سے تو اگر آپ جہاز ہوا میں بلند کرتے ہیں تو واپس نیچے اتارنے پر وہیں اترے گا جہاں سے اوپر کیا تھا۔
پھر چوتھا اعتراض کہ جب جہاز اڑتا ہے اور چالیس ہزار فٹ کی بلندی پر جا کر سفر کرتا ہے اور بالکل سیدھے سفر کرتا ہے تو زمین اگر گول ہوتی تو جیسے جیسے جہاز آگے بڑھے تو جہاز کا زمین سے فاصلہ بڑھتے جانا چاہیے یوں جہاز کو خلا میں چلے جانا چاہیے لیکن جہاز دس بارہ گھنٹے مسلسل پرواز کرتا ہے تو چالیس ہزار فٹ پر ہی رہتا ہے ایسا اس لیے ہی ہو سکتا ہے کیونکہ زمین گول نہیں بلکہ چپٹی ہے۔

ہم نے ان کے چار اعتراضات آپ کے سامنے رکھے پہلے ان چاروں اعتراضات کے جوابات آپ کے سامنے رکھیں گے اس کے بعد اگلے اعتراضات پر
بات کریں گے۔
الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ مَھْدًا۔ طہٰ ۵۳، الزخرف۱۰
اسی ذات نے کر دیا تمہارے لیے ارض کو اپنے طرف کھینچے رکھنے والی اپنی طرف سمیٹ کر رکھنے والی۔
پھر سورۃ الذاریات کی آیت نمبر ۴۸ میں اللہ نے کہا۔
وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰھَا فَنِعْمَ الْمٰھِدُوْن۔ الذاریات ۴۸
وَالْاَرْضَ اور ارض تھی اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تھی تو اس کا جواب کئی مقامات پر دے دیا کہ زمین ایک گولہ ہے گیند کی طرح گول ہے فَرَشْنٰھَا زمین گیند کی طرح گول ہونے کے باوجود فرش بنا دیاہم نے اسے یعنی رہنے کے قابل بنا دیا فَنِعْمَ الْمٰھِدُوْن پس تب تک یہ تمہیں اپنی طرف کھینچے اور سمیٹے ہوئے ہے تمہیں اپنے گول ہونے اور حرکت کرنے کے احساس سے محفوظ رکھے ہوئے ہے جب تک تم میری بات کو مان رہے ہو اور جب تم نے میری بات کو نہ مانا یعنی خالق کی ہدایات کے خلاف زمین میں اعمال کیے تو پھر زمین مھد نہیں رہے گی یعنی پھر تم زمین پر محفوظ نہیں رہو گے پھر تمہیں اس کے گیند کی طرح گول اور حرکت
کا احساس بھی ہو گا یعنی تب اس پر تمہارے اپنے ہی ہاتھوں سے کیے جانے والے مفسد اعمال کی وجہ سے تم پر ہلاکتیں آئیں گی۔
پھر اسی طرح اللہ نے سورۃ النبا کی آیت نمبر ۶ میں کہا۔
اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا۔ النبا۶
کیا نہیں ہم نے کر دیا ارض کو ایسا کہ ہر شئے کو اپنی طرف کھینچے رکھنی والی اپنی طرف سمیٹے رکھنے والی؟
ان آیات میں اللہ نے بہت ہی صراحت کیساتھ ان کے ان چاروں اعتراضات کے جوابات دے دیئے۔ آپ پیچھے یہ بات جان چکے ہیں کہ اللہ نے مختلف پہلوؤں سے پھیر پھیر کر یہ بات واضح کر دی کہ زمین گیند کی طرح گول ہے اور گیند کی طرح گول ہونے کے باوجود سپاٹ خصوصیات کی حامل ہے جیسا کہ آپ
سورۃ نوح کی آیت نمبر ۱۹ میں دیکھ رہے ہیں۔
وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا۔ نوح ۱۹
اور اللہ ہے کر دیا تم کو زمین بساط یعنی زمین کو ایسا کر دیا کہ گیند کی طرح گول ہونے کے باوجود تم کو اپنی طرف ایسے سمیٹے ہوئے ہے جیسے کہ گول نہیں بلکہ چپٹی ہو یعنی زمین گیند کی طرح گول ہونے کے باوجود ایسی بنا دی کہ تمہیں رائی برابر بھی اس بات کا احساس نہ ہو کہ زمین گیند کی طرح گول ہے بلکہ تمہیں ہر لحاظ سے ایسی نظر آتی ہے اور احساس ہوتا ہے کہ وہ چپٹی ہے، تم کسی گیند نما گول شئے پر یعنی گولے پرنہیں رہ رہے جس سے تمہیں یہ خوف ہو کہ آگے جانے سے کہیں تم سرک کر زمین سے نیچے گر جاؤ گے بلکہ تمہیں ایسا لگتا ہے کہ تم بالکل سپاٹ شئے پر رہ رہے ہو یوں تمہیں نیچے سرکنے کا بالکل بھی خوف نہیں۔
ان کا پہلا اعتراض یہ تھا کہ اگر زمین گیند کی طرح گول ہے تو اس پر ہر شئے ٹھہرے کیوں ہوئی ہے اشیاء کو تو سرک سرک کر نیچے گرنا چاہیے کوئی شئے نہیں ہل رہی
اس کا مطلب ہے کہ زمین گول نہیں بلکہ چپٹی ہے۔
تو ان کے اس اعتراض کا اللہ نے پہلے ہی جواب قرآن میں رکھ دیا تھا اللہ نے کہا کہ ہم نے زمین کو مھاد بنایا ہے ہر شئے کو اپنی طرف کھینچے رکھنے والی ہر شئے کو اپنی طرف سمیٹ کر رکھنے والی اور اللہ نے یہاں تک کہہ دیا کہ کیا ہم نے زمین کو ایسا نہیں بنایا؟ یعنی آج تم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہو جسے تم زمین کی مقناطیسی قوت کا نام دیتے ہو جس کی وجہ سے زمین پر ہر شئے اس کی طرف کھینچی ہوئی ہے۔ تو کیا ہم نے زمین کو ایسا نہیں بنایا؟
اب جب زمین ہر شئے کو اپنی طرف کھینچے ہوئے ہے سمیٹے ہوئے ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ زمین پر سے کوئی شئے سرکے؟ یعنی آپ کے پاس مقناطیس کا ایک بڑا ٹکڑا ہو اس کے ارد گرد لوہے کے چھوٹے چھوٹے ذرات ہوں جنہیں وہ اپنی طرف کھینچے رکھے توکیا پھر لوہے کے ذرات اِدھر اُدھر سرکیں گے؟ بالکل نہیں ۔تو بالکل یہی خصوصیت زمین میں رکھ دی زمین بھی مقناطیس کے ٹکڑے کی طرح ہر شئے کو اپنی طرف کھینچے ہوئے ہے تو جہاں تک زمین کی مقناطیسی قوت ہے
وہاں تک بھلا کوئی بھی شئے کیوں سرکے گی؟
اللہ نے قرآن میں مختلف پہلوؤں سے اس حقیقت کو بالکل کھول کھول کر واضح کر دیایوں آپ نے جان لیا کہ ان کا یہ اعتراض سوائے جہالت کے اور کچھ نہیں۔

پھر ان کا دوسرا اعتراض تھا کہ زمین اگر اپنے ہی محور پر اور سورج چاند سمیت تمام ستاروں و سیاروں کیساتھ اپنے مدار میں اتنی تیز رفتاری سے سفر کرتی ہوئی آگے اپنی اجل مسمیٰ کی طرف بڑھ رہی ہے تو کوئی شئے ہلتی کیوں نہیں؟ کسی شئے کا نہ ہلنا یہ ثابت کرتا ہے کہ زمین حرکت نہیں کر رہی۔
تو ان کے اس اعتراض کا بھی انہی آیات میں جواب دے دیا گیا وہی جواب جو ان کے پہلے اعتراض کا ہے جب زمین ہر شئے کو اپنی طرف کھینچے ہوئے ہے تو پھر کچھ بھی ہو زمین پر کوئی بھی شئے ہلے گی کیوں ؟ سوائے یہ کہ اگر کسی شئے پر زمین کی کھینچنے کی قوت کے خلاف قوت کا استعمال کیا جائے ۔ اگر کوئی بھی شئے زمین کی مقناطیسی قوت کے خلاف قوت استعمال نہیں کرتی تو وہ کیوں ہلے گی؟ وہ بالکل نہیں ہل سکتی۔ یوں ان کا یہ اعتراض بھی بے بنیاد اور جاہلانہ ثابت ہو جاتا
ہے۔

پھر ان کا تیسرا اعتراض تھا کہ اگر زمین گول ہے اور اتنی تیز رفتاری سے حرکت کر رہی ہے تو پھر مثال کے طور پر آپ نے جاپان جانا ہے تو آپ کو جہاز اڑا کر آگے لے جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جہاز کو تھوڑ اوپر ہوامیں بلند کرو کچھ ہی دیر میں زمین گھوم کر جاپان آ جائے تو نیچے اتار لو اگر ایسا نہیں ہو سکتا تواس کا مطلب یہ ہے کہ زمین حرکت نہیں کر رہی بلکہ ساکت ہے اسی وجہ سے تو اگر آپ جہاز ہوا میں بلند کرتے ہیں تو واپس نیچے اتارنے پر وہیں اترے گا جہاں سے اوپر کیا تھا۔
ان کے اس اعتراض کا جواب بھی انہی آیات میں موجود ہے جو بات پہلے کی گئی کہ جب زمین پر تمام اشیاء کو جہاں تک زمین کی مقناطیسی کشش ہے وہاں تک انہیں اپنی طرف کھینچے ہوئے ہے اپنی طرف سمیٹے ہوئے ہے تو پھر ظاہر ہے زمین گھومتی ہے تو وہ اشیاء کیا زمین کیساتھ ہی نہیں گھومیں گی؟ مثلاً اگر ایک مقناطیس کا ٹکڑا لیں اوراس کے ارد گرد لوہے کے ذرات بکھیر دیں ان ذرات اور مقناطیس کے ٹکڑے کے درمیان کوئی رکاوٹ حائل کر دیں اب مقناطیس ان ٹکڑوں کو اپنی طرف کھینچے رکھے گا لیکن رکاوٹ کی وجہ سے مقناطیس اور ان ذرات کے درمیان فاصلہ ہو گا اب اگر آپ مقناطیس کو گھماتے ہیں تو اس کے ساتھ وہ ذرات بھی
گھومیں گے کیونکہ مقناطیسی کشش ان کو اپنی طرف کھینچے ہوئے ہے اپنی طرف سمیٹے ہوئے ہے۔
بالکل اسی طرح جب جہاز ہوا میں بلند ہوتا تو کیا وہ زمین کی مقناطیسی کشش کی حد سے باہر نکل جاتا ہے یا اس کے اندر رہتا ہے؟ اگر وہ زمین کی مقناطیسی کشش کی حد کے اندر رہتا ہے تو پھر وہ ایک ملی میٹر یا اس سے بھی کم ادھر سے ادھر نہیں ہو سکتا بلکہ وہ زمین کیساتھ ہی گھومے گا۔ اگر اسے کہیں جانا ہو گا تو اسے زمین کی
مقناطیسی قوت کے خلاف قوت کا استعمال کرنا ہو گا جتنی قوت وہ استعمال کرے گا اتنی اس کی رفتار بڑھے گی وہ اتنا ہی آگے بڑھے گا۔
اگر جہاز زمین کی مقناطیسی کشش کی حد سے باہر نکل جاتا ہے تو وہ آزاد ہو جائے گا پھر وہاں سے اسے زمین گھومتی نظر آئے گی وہ زمین کیساتھ نہیں گھومے گا لیکن کیا جہاز زمین کی مقناطیسی کشش کی حد سے باہر نکل جاتا ہے جو وہ اپنی جگہ پر نہ رہے اور زمین نیچے سے گھومے گی؟ جب جہاز زمین کی مقناطیسی کشش کی حد میں ہوتا ہے اس کے اندر ہوتا ہے تو پھر جہاز بھی زمین کیساتھ ایسے ہی گھومے گا جیسے سطح زمین پر پڑی تمام اشیاء زمین کیساتھ ہی گھوم رہی ہیں جس سے زمین کے
گھومنے کا ادراک نہیں ہوتا۔
آپ کئی مشاہدات بھی کر سکتے ہیں۔ مثلاً ایک گاڑی جب تیز رفتاری سے سفر کر رہی ہوتی ہے تو جو اشیاء گاڑی کے اوپر یا اندر ہوتی ہیں اگر وہ باہر نہ دیکھیں صرف گاڑی کی اندرونی چھت یا اس کے فرش کو یا سیٹوں وغیرہ کو دیکھیں تو کیا فرش، چھت یا سیٹیں سفر کرتی نظر آتی ہیں؟ نہیں بالکل نہیں ۔ بالکل ایسے ہی جو زمین کی مقناطیسی کشش کی حد میں ہے اسے زمین کے گھومنے کا قطعی احساس نہیں ہو گا کیونکہ وہ بھی زمین کیساتھ ہی گھوم رہا ہے اس کے برعکس اسے زمین کے باہر کی اشیاء یعنی سورج، چاند اور ستارے وغیرہ گھومتے سفر کرتے نظر آئیں گے۔ یہاں تک کہ اگر آپ کسی گاڑی کی چھت پر سوار ہوں جو سو کلو میٹر یا اس سے زائد رفتار سے چل رہی ہو اگر آپ بالکل سیدھا اوپر آسمان کی طرف کوئی شئے پھینکیں اسے واپس آنے میں کئی سیکنڈ لگیں گے اب ہونا تو یہ چاہیے کہ گاڑی چل رہی ہے جتنی دیر میں شئے اوپر گئی اور نیچے آئی تو اتنی دیر میں گاڑی کو بہت آگے چلے جانا چاہیے جب شئے نیچے گرے لیکن ایسا نہیں ہو گا بلکہ شئے واپس گاڑی کے اوپر ہی عین اسی مقام پر نیچے آئے گی جہاں سے آپ نے پھینکی تھی یعنی ایسا نہیں ہو گا کہ آپ نے شئے اوپر پھینکی تو اس کے اوپر جانے اور واپس نیچے آنے تک گاڑی آگے نکل جائے اور وہ نیچے زمین پر گرے ۔ ایسا اس لیے نہیں ہو گا کیونکہ جب آپ نے شئے اوپر پھینکی تو آپ نے تو صرف اوپر پھینکنے کی قوت استعمال کی مگر گاڑی جس رفتار سے چل رہی ہے جب آپ شئے پھینکیں گے تو خود بخود آگے کو وہ قوت بھی استعمال ہو گی جو گاڑی آگے کو چل رہی ہے یوں وہ شئے نہ صرف اوپر کو سفر کرے گی بلکہ جس رفتار سے گاڑی چل رہی ہے اس رفتار سے آگے کو بھی سفر کرے گی یوں واپس وہ وہیں آئے گی جہاں گاڑی ہو گی یا پورے حساب کتاب سے آگے ہی گرے گی۔ اور ایسا اسی لیے ہوتا ہے کیونکہ زمین ہر شئے کو اپنی طرف کھینچے ہوئے ہے کوئی شئے آگے پیچھے اوپر تب ہی جائے گی جب وہ
زمین کی مقناطیسی قوت کے خلاف قوت استعمال کرے گی یوں ان کا یہ اعتراض بھی انتہائی جاہلانہ اور بے بنیاد ثابت ہوجاتا ہے۔

اب آتے ہیں ان کے چوتھے اعتراض کی طرف ۔ چوتھا اعتراض کہ جب جہاز اڑتا ہے اور چالیس ہزار فٹ کی بلندی پر جا کر سفر کرتا ہے اور بالکل سیدھے سفر کرتا ہے تو زمین اگر گول ہوتی تو جیسے جیسے جہاز آگے بڑھے تو جہاز کا زمین سے فاصلہ بڑھتے جانا چاہیے یوں جہاز کو خلا میں چلے جانا چاہیے لیکن جہاز دس بارہ
گھنٹے مسلسل پرواز کرتا ہے تو چالیس ہزار فٹ پر ہی رہتا ہے ایسا اس لیے ہی ہو سکتا ہے کیونکہ زمین گول نہیں بلکہ چپٹی ہے۔
تو اس کا بھی وہی جواب ہے کہ جب زمین کو اللہ نے مھاد کیا یعنی زمین ہر شئے کو اپنی طرف کھینچے ہوئے ہے تو پھر جب جہاز اوپر کو اڑنے کے لیے قوت استعمال کرتا ہے تو اسے زمین کی مقناطیسی قوت کے خلاف قوت استعمال کرنا پڑے گی جتنی قوت وہ استعمال کرے گا اتنا ہی اوپر جائے گا اب اگر وہ چالیس ہزار فٹ کی بلندی پر جا کر مزید اوپر جانے کے لیے قوت کا استعمال ترک کر دیتا ہے اور جتنی قوت سے وہ چالیس ہزار فٹ کی بلندی پر ٹھہر سکتا ہے صرف اتنی ہی استعمال کرتا ہے اور آگے کو سفر کرتا ہے تو پھر خواہ وہ ایک منٹ آگے کو سفر کرے یا ایک لاکھ سال اس کا نہ تو زمین سے فاصلہ کم ہو گا نہ ہی زیادہ کیونکہ زمین ہر شئے کو اپنی طرف کھینچے ہوئے ہے اگر وہ اس قوت میں کمی کرے گا تو زمین اسے اتنا ہی نیچے کھینچ لے گی اگر قوت میں اضافہ کرے گا تو اس کا زمین سے فاصلہ بڑھے گا لیکن اگر وہ کسی خاص فاصلے پر جا کر اضافی قوت کا استعمال ترک کر دیتا ہے صرف اتنی ہی قوت استعمال کرتا ہے جتنی سے وہ اس بلندی پر رہ سکے تو خواہ وہ لاکھوں کلو میٹر
آگے کو بڑھتا رہے اس کے اور زمین کے درمیان فاصلہ نہ کم ہو گا نہ زیادہ۔
ان لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ غوروفکر نہیں کرتے، یہ عقل سے کام نہیں لیتے بار بار یہ بات کہی گئی کہ زمین کو مھاد بنایا ہے زمین کو مھد بنایا ہے یعنی زمین اشیاء کو اپنی طرف کھینچے ہوئے ہے جب زمین اشیاء کو اپنی طرف کھینچے ہوئے ہے تو جہاں تک زمین کی مقناطیسی کشش ہے وہاں تک کوئی بھی شئے بغیر قوت کے استعمال کے اِدھر ُادھر ، آگے پیچھے یا اوپر کیسے جا سکتی ہے؟ بالکل نہیں جا سکتی ۔ یوں ان کا یہ اعتراض بھی ردی کی ٹوکری میں چلا جاتا ہے اور ان کی عقل کا اندازہ بھی بخوبی ہو
جاتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر جاہل ہیں یہ اپنا مذاق خود بنا رہے ہیں۔

اب بڑھتے ہیں آگے اور ان کے پانچویں اعتراض اور اس کی حقیقت کو کھول کر آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔
ان کاپانچواں اعتراض جس کی بنیاد ان کے اپنے خود ساختہ تراجم و تفاسیر ہیں یہ ہے کہ قرآن میں اللہ نے خود کہا ہے کہ اس نے پہاڑوں کو زمین میں میخیں بنایا یامیخوں کی طرح گاڑھ دیاتا کہ زمین ہلے نا زمین ساکت رہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زمین ساکت ہے اور پھرسورت فاطر کی آیت نمبر ۴۱کو بھی ساتھ بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پکڑا ہوا ہے تاکہ وہ حرکت نہ کریں جس سے یہ بات قرآن سے ثابت ہو جاتی ہے کہ زمین نہ
صرف چپٹی ہے بلکہ ساکت ہے حرکت نہیں کر رہی۔
اور اس کے لیے یہ جن آیات کو توڑ مروڑ کر اپنے مقصد کے لیے پیش کرتے ہیں وہ آیات آپ کے سامنے رکھتے ہیںتاکہ آپ خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور فیصلہ کریںکہ کس طرح یہ لوگ اپنے آباؤاجداد سے نسل در نسل منتقل ہونے والے عقائد کو ترک نہ کرنے کی خاطر اورالٹا ان کے حق میں دلائل گھڑنے کے لیے قرآن کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں کس طرح قرآن کی آیات کو اپنے من پسند تراجم و تفاسیر پہنا کر اپنے آباؤ اجداد کو سچا ثابت کرنے کے جتن کرتے ہیں۔
(جاری ہے)۔۔۔۔ 

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...