WARNING FROM MOTHER NATURE
کَمْ اَھْلَکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّلَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ۔ ص۳
جیسے آج ان پر یعنی دنیا میں آباد موجودہ لوگوں پر ہلاکتیں آ رہی ہیں زلزلے، سیلاب، طوفان، آندھیاں، بیماریاں اور طرح طرح کی ہلاکتیں آ رہی ہیں ان کے اپنے ہی ہاتھوں سے کیے جانے والے مفسد اعمال کے رد اعمال میں بالکل ایسے ہی ہلاک کیا تھا ہم نے ان کو جو ان سے پہلے زمانوں میں پہلے ادوار میں اس زمین پر آباد تھے پس جب ہلاکت آگئی تو اعلانات کر رہے ہیں اپنے مواصلاتی نظام سے اور جب ہلاکت کا وقت آیا تو اس سے بچنے کے لیے بھا گ رہے ہیں
اس کے متبادل کی طرف۔
ویسے تو پچھلی آیات میں بھی لیکن بالخصوص ا س آیت میںاللہ نے بہت ہی عجیب و غریب الفاظ کا استعمال کیا۔ آج کے دور سے پہلے ان الفاظ کے وہ مطالب جو حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کو جاننا تقریباً ناممکن تھا انہیں سمجھنا آج اس لیے ممکن ہوا کیوں کہ آج وہ کچھ موجود ہے جو گزری ہوئی ہلاک کی گئی قوموںکے پاس
تھا اور آج وہ واقعات وقوع پذیر ہو رہے ہیں جن کی تاریخ قرآن میں ان آیات کی صورت میں الاولین کی مثلوں سے اتاری گئی تھی۔
فَنَادَوْا: پس اعلانات کرنے لگے، اعلانات کر رہے ہیں۔
وَّلَاتَ: مواصلاتی نظام، ٹیلی کمیونکیشن سسٹم
حِیْنَ: وقت
مَنَاص: متبادل، بچنے کے لیے، پرواز، بھاگنے کے لیے یا بھاگے، فرار ہوئے، دور ہوئے، انتخاب ، نجات کا رستہ، پناہ، پیچھے ہٹے وغیرہ۔
ہلاکت زمین پر تھی تو جن کے پاس اختیار تھا وہ زمین کے متبادل کی طرف بھاگے یعنی کہ کسی اور سیارے کی طرف، خلا کی طرف پرواز کی۔ آج انسان جس ٹیکنالوجی سے چاند اور مریخ پر پہنچ چکا ہے تو جو آج کے انسانوں سے نوے فیصد ہر طرح سے بڑھ کر تھے تو کیا وہ زمین سے باہر نہیں گئے تھے؟ کیا انہوں نے چاند، مریخ اور ان کے علاوہ سیاروں پر بستیاں یا خلا میں بستیاں قائم نہیں کی ہوں گی جو آج انسان عنقریب آنے والے سالوں میں ایسا کرنے کے دعوے کر رہا ہے؟ جو پہلے اس زمین پر آباد تھے انہوںنے یہ سب تو کیا وہ سب بھی کیا جس کا آج کا دجّال انسان تصور بھی نہیں کر سکتا اور یہ سب قرآن کہہ رہا ہے۔ اس کے باوجود جب ان کے اپنے ہی کرتوتوں یعنی اپنے ہی ہاتھوں سے خلق کر دہ جس ٹیکنالوجی کو وہ اپنے لیے مسیحا اور فائدہ مند سمجھ رہے تھے اسی ٹیکنالوجی ہی کی وجہ سے آسمانوں و زمین میں کیے ہوئے فساد کے نتیجے میں آنے والی تباہی سے بچنے کے لیے جائے پناہ کی طرف بھاگے، جس جس کو جو جو بچاؤ کا رستہ نظر آیا اسی طرف بھاگا، فرار ہوئے لیکن کچھ بھی ان کے کام نہ آیا انہیں ہلاک کر دیا گیا،جو بحری جہازوں میں سوار ہوئے اس وقت کوئی ایک بھی بحری جہاز ایسا نہیں تھا سوائے نوح علیہ السلام کے بحری جہاز کے جو طوفان میں بچ سکتا تھا کیوں کہ قرآن میں ہے اللہ کہتا ہے کہ پہاڑوں کی طرح بلند موجیں تھیں اس سیلاب میںاور
نوح علیہ السلام نے جوبحری جہاز بنایاوہ خالص اللہ کی ہدایات کے مطابق بنایاجو اس سیلاب میں محفوظ رہا۔
اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ کَانُوْا مِنْ قَبْلِھِمْ کَانُوْاھُمْ اَشَدَّ مِنْھُمْ قُوَّۃً وَّاٰثَارًافِی الْاَرْضِ فَاَخَذَھُمُ اللّٰہُ
بِذُنُوْبِھِمْ وَمَا کَانَ لَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ وَّاقٍ ۔ غافر ۲۱
کیا اور نہیں گھوم پھر رہے زمین میں؟ یعنی آج دنیا میں آباد موجودہ لوگ زمین میں گھوم پھر رہے ہیں گزشتہ ہلاک شدہ اقوام کے آثار کو دیکھ رہے ہیں ان کے آثار کو دیکھنے کے لیے بہت شوق سے ان جگہوں کی سیر کررہے ہیں پس دیکھ رہے ہو؟ کیسا ہوا تھا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے؟
وہ جو ان سے پہلے زمین پر آباد تھے جو ہلاک ہو چکے وہ قوت میں یعنی مشینوں میں، جدید ترین اسلحے و بارود میں جنگی سازو سامان میں اور زمین کے نوادرات یعنی زمین کی قیمتی ترین اشیاء جو زمین کے خزانے ہیں جنہیں قدرتی وسائل کا نام دیا جاتا ہے ان سب میں زمین پر آباد موجودہ لوگوں سے بہت بڑھ کر تھے پس آج جو کچھ انسانوں کو حاصل ہو چکا ہے اس کے باوجود کیا ہے جو دنیا میں آباد لوگوں کو پکڑ رہا ہے؟ یعنی جو زلزلے، سیلاب، طوفان، آندھیوں، طرح طرح کی بیماریوں، جنگ و جدل سمیت طرح طرح کے عذابوں کی صورت میں جو پکڑا جا رہا ہے کون ہے جو ان صورتوں میں پکڑ رہا ہے اور انسان خود کو ترقی یافتہ کہنے کے باوجود اس کے آگے بے بس ہیں؟ اللہ ہے جو ان کے اپنے ہی ہاتھوں سے کیے جانے والے برے اعمال کے سبب یعنی برے اعمال کے رد اعمال کی صورت میں پکڑ رہا ہے ایسے ہی ان کو بھی پکڑا جو پہلے اس زمین پر آباد تھے جو موجودہ لوگوں سے قوت و زمین کے نوادرات میں بہت بڑھ کر تھے اور نہیں تھا ان کے لیے اللہ سے کوئی بچانے والا، حفاظت کرنے والا، نجات دلانے والا، ان کے کچھ کام آنے والا جب ان کو اللہ نے آ پکڑا اور نہ ہی آج موجودہ لوگوں کو ان کے اپنے
ہی ہاتھوں سے ترقی کے نام پر برے اعمال کے سبب اللہ کے عذاب سے بچانے والا ہو گا جو اللہ کا عذاب ان کے بالکل سر پر آ چکا۔
اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ کَانُوْٓا اَکْثَرَ مِنْھُمْ وَاَشَدَّ قُوَّۃً وَّاٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَآ اَغْنٰی
عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ غافر ۸۲
کیا پس نہیں سیر کر رہے گھوم پھر رہے زمین میں؟ یعنی آج دنیا میں آباد موجودہ لوگ زمین میں گھوم پھر رہے ہیں گزشتہ ہلاک شدہ اقوام کے آثار کو دیکھ رہے ہیں ان کے آثار کو دیکھنے کے لیے بہت شوق سے ان جگہوں کی سیر کررہے ہیں پس دیکھ رہے ہو؟ کیسا ہوا تھا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے یعنی دنیا
میں آباد لوگوں سے پہلے اس زمین پر آباد تھے جنہیں زمین میں مکن دیا گیا تھا یعنی اقتدار و اختیار دیا تھا اس زمین میں بسایا تھا؟
وہ جو ان سے پہلے زمین پر آباد تھے جو ہلاک ہو چکے وہ قوت میں یعنی مشینوں میں، جدید ترین اسلحے و بارود میں جنگی سازو سامان میں اور زمین کے نوادرات یعنی زمین کی قیمتی ترین اشیاء جو زمین کے خزانے ہیں جنہیں قدرتی وسائل کا نام دیا جاتا ہے ان سب میں زمین پر آباد موجود لوگوں سے بہت زیادہ تھے اتنے زیادہ کے جتنا زیادہ ہوا جا سکتا ہے پس جب ان کے اپنے ہی کسب یعنی اپنے ہی ہاتھوں سے کیے جانے والے کرتوتوں جو کچھ وہ کر رہے تھے جو کچھ وہ بنا رہے تھے اس کے سبب ہلاکت آئی تو جو کچھ بھی انہوں نے بنایا ہوا تھا مشینیں، طرح طرح کی ایجادات، ٹیکنالوجی، اسلحہ و بارود وغیرہ یا جو کچھ بھی انہوں نے خود ہی بنایا ہوا تھا کچھ بھی کام نہ آیا انہیں اللہ کے عذاب سے کچھ بھی نہ بچا سکا اور آج بالکل وہی تم بھی کر رہے ہو وہ جو اس وقت زمین میں آباد ہو موجودہ لوگ آج تمہارے اپنے ہی ہاتھوں سے کیے جانے والے کرتوتوں مفسد اعمال کے سبب جب اللہ کا عذاب آ رہا ہے طرح طرح کی ہلاکتوں کی صورت میں، زلزلوں کی صورت میں، سیلابوں، طوفانوں، سونامی، طرح طرح کی بیماریوں، فرقہ در فرقہ آپس کی لڑائیوں ، جنگ و جدل کی صورت میں تو جو کچھ بھی تم نے ترقی کے نام پر جدیدیت کے نام پر ٹیکنالوجی کے نام پر بنا رکھا ہے کچھ بھی تمہارے کا م نہیں آ رہا اور جو عذاب عظیم تمہارے سر پر کھڑا ہے عظیم ہلاکت جیسے ہی تم پر آئے گی تو تمہیں تمہارا بنایا ہوا کچھ بھی نفع نہیں دے گا کچھ بھی تمہیں عنقریب آنے والی ہلاکت سے نہیں بچا سکے گا جو کہ بالکل سر پر ہے جس سے تمہیں ہمارا بھیجا ہوا کھول کھول کر متنبہ کر رہا ہے اس کے متنبہ کر دینے کی دیر ہے یعنی ہمارا بھیجا ہوا جیسے ہی اپنی ذمہ داری کو پورا کر لیتاہے سب کچھ کھول کھول کر پہنچا دیتا ہے تو ویسے ہی تم پر عذاب مسلط کر دیا
جائے گا جو تمہارا اور جو کچھ تم نے بنا رکھا ہے سب کا نام و نشان مٹا کر رکھ دے گا۔
اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ دَمَّرَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ وَلِلْکٰفِرِیْنَ اَمْثَالُھَا۔ محمد ۱۰
کیا پس نہیں سیر کر رہے گھوم پھر رہے زمین میں؟ یعنی آج دنیا میں آباد موجودہ لوگ زمین میں گھوم پھر رہے ہیں گزشتہ ہلاک شدہ اقوام کے آثار کو دیکھ رہے ہیں ان کے آثار کو دیکھنے کے لیے بہت شوق سے ان جگہوں کی سیر کررہے ہیں پس دیکھ رہے ہو؟ کیسا ہوا تھا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے زمین پر آباد تھے یعنی دنیا میں آباد لوگوں سے پہلے اس زمین پر آباد تھے جنہیں زمین میں مکن دیا گیا تھا یعنی اقتدار و اختیار دیا تھا اس زمین میں بسایا تھا؟ یعنی پہلی تباہ شدہ اقوام، قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، اخوان لوط، اصحاب مدین اور آل فرعون وغیرہ جب ان پر اللہ کا امر آیا غرق کر دینے والی، تباہ کر دینے والی، دھنسا دینے والی، چیتھڑے اڑا دینے والی وغیرہ تباہی مسلط کیے جانے کی صورت میں تو اللہ ہے جس نے انہیں صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا بالکل عین اسی طرح کیا جانے والا ہے ان کیساتھ جو اس وقت ہمارے یعنی اللہ کے بھیجے ہوئے اللہ کے رسول احمد عیسیٰ کی دعوت کا کفر کر رہے ہیں اس وقت جو رسول ہر لحاظ سے کھول کھول کر متنبہ کر رہا ہے حق ہر لحاظ سے کھول کھول کر رکھ رہا ہے اللہ کی آیات کو کھول کھول کر واضح کر رہا ہے اس کے باوجود اکثریت اسے کذاب کہہ رہی ہے اس کا مذاق اڑا رہی ہے اس کو طنزو تحقیر کا نشانہ بنا رہی ہے ہمارے بھیجے ہوئے کیساتھ دشمنی کر رہی ہے اس کی دعوت کو تسلیم کرنے کی بجائے اس کا انکار کیا جا رہا ہے اس کی دعوت کو تسلیم کرنے والوں پر زمین تنگ کی جا رہی ہے ان کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو ایسا کرنے والوں کیساتھ بالکل وہی کیا جانے والا ہے جو گزشتہ کفر کرنے والوں کیساتھ کیا جب ان میں کھول کھول کر متنبہ کر دینے والے رسولوں کو بھیجا گیا۔ آج دنیامیں آباد موجودہ لوگوں کا انجام ان سے رائی برابر بھی مختلف نہیں ہو گا عذاب عظیم بالکل سر پر ہے جیسے ہی اللہ کا رسول اپنی ذمہ داری کو پورا کر لیتا ہے تو رسول کی موجودگی میں ان کو بالکل ایسی ہی ہلاکت سے دوچار کیا جائے گا جیسے گزشتہ رسولوں کو متنبہ کرنے کے لیے بھیجا گیا تو ان کا کفر کیے جانے کے سبب ان قوموں کو رسولوں کی موجودگی میں ہلاک کر دیا گیا ان کا صفحہ ہستی سے نام و نشان مٹا دیا گیا سوائے کچھ آثار کے جو بعد میں آنے والوں یعنی آج دنیامیں آباد موجودہ لوگوں کے لیے عبرت حاصل کرنے کے لیے جو یہ نہیں حاصل
کرنے والے۔ (جاری ہے)۔۔۔۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment