WARNING FROM MOTHER NATURE
پیچھے نظر آنے والی تصاویرموہنجو داڑو اور ہڑپہ پاکستان کی ہیں آج اس جگہ پر جب تحقیقات کی گئیں تو اس جگہ پر وہی ریڈی ایشنز پائی گئیں جو ہیرو شیما اور ناگا ساکی جاپان کے شہروں میں جہاں امریکہ نے ایٹمی حملہ کیا تھا وہاں حملے کے بعد پائی جاتی ہیں۔ انہیں شہروں سمیت خطہ ہند کے مختلف علاقوں کے بارے میں سنسکرت میں تاریخی کتاب مہابھارتا اور اس کے علاوہ دریافت ہونے والی تحریروں میں کچھ اس طرح کے الفاظ ملے ہیں کہ اس خطے پر اپنا تسلط جمانے کی غرض سے دنیا کی کچھ طاقتوں جیسے آج امریکہ یا روس وغیرہ ہیں آپس میں لڑ رہے تھے اور اس کی وجہ اس خطے سے زیر زمین قدرتی وسائل تھے ۔ بالکل ایسا ہی نقشہ تھا جو آج شام و عراق ، افغانستان و یمن کا بنا ہوا ہے۔ ان شہروں کے باسیوں کو سات دنوں میں شہروں کو خالی کرنے کی مہلت دی گئی اور سات دن بعد دنیا میں ایک عالمی ایٹمی جنگ کی سی صورت میں یہاں ایسے ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا جو کہ خود کار اڑنے والے تھے یعنی میزائل جن کے پھٹنے سے یہاں ایسی سفید آگ ظاہر ہوئی جو سورج سے ہزاروں گنا زیادہ گرم اور روشن تھی جہاں وہ ہتھیار پھٹے وہاںسب کچھ حرارت کی وجہ سے پگھل گیا اور یہ شہرزمین تلے دب گئے۔
قرآن میں اللہ نے واضح صراحت کیساتھ بتا دیا کہ یہ قوم عاد تھی جو تباہ ہو گئی ، قوم عاد انڈین قوم تھی جو دنیا میں اسلحے و بارود ، مشینوں اور ٹیکنالوجی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتی تھی اور اس قوم کا دعویٰ تھا کہ کوئی بھی ان سے قوت میں بڑھ کر نہیں یہ قوم دنیا پر اپنا تسلط قائم کیے ہوئے تھی بالکل ایسے ہی جیسے آج امریکہ ہے۔ یہ دنیا میں اپنے انہی قدرتی وسائل سے بنائی جانے والی ٹیکنالوجی کی وجہ سے قوت میں اپنا کوئی ثانی نہ رکھتی تھی اور اس قوم کا یہ دعویٰ تھا کہ کوئی بھی ان سے قوت میں بڑھ کر نہیں لیکن آپس کی ایٹمی جنگ کی وجہ سے صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ جیسے آج دنیا میں قدرتی وسائل یعنی اللہ کے غیب کی تکذیب کی خاطر لڑائی جاری ہیں اس وقت بھی ویسا ہی تھا۔ جیسے آج امریکہ کے مد مقابل کوئی نہیں اسی طرح اس وقت قوم عاد میں ان کاکوئی مد مقابل نہیں تھا اور جیسے آج روس نے امریکہ کے مقابلے پر سر اٹھایا اسی طرح اس وقت قوم عاد میں سے ہی ایک قوم نے سر اٹھایا آپس کے اختلافات نے جنم لیا جو دن بہ دن بڑھتے رہے در پردہ ایک دوسرے کے خلاف محاذ کھولتے رہے اور بالآخر ایک بڑی ایٹمی جنگ کی صورت میں نتیجہ سامنے آیا جس نے انہیں صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا اور پیچھے کمزور قوم کی حیثیت
رکھنے والوں کو جو بچ گئے بعد میں زمین کا وارث بنا دیا گیا اور پھر اس قوم نے بھی اپنے آباؤاجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہی کیا جسے قوم ثمود کہا گیا۔
کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَعَاد’‘ بِالْقَارِعَۃِ۔ الحاقہ ۴
کذب کیا تھا انہوں نے جو ثمود تھے جیسے آج اس وقت موجودہ لوگ ان میں انہی سے رسول بعث کیا گیا جو کھول کھول کر متنبہ کر رہا ہے اور ہمارے رسول کا کذب کیا جا رہا ہے اور جو عاد تھے انہوں نے بھی کذب کیا جب ہمارا رسول آیا ان میں انہی سے بالکل اسی طرح آج جو موجودہ لوگ دنیا میں آباد ہیں یہ بھی عاد ہیں یہ بھی بالکل وہی کر رہے ہیں ان میں انہی سے ہم نے اپنا رسول بعث کیا جو انہیں متنبہ کر رہا ہے لیکن یہ ہیں کہ اپنے آباؤاجداد کی مثل کذب کیے جا رہے ہیں القارعہ سے ۔ یعنی قوم عاد اور قوم ثمود کو اللہ کے رسولوں نے ان کے اعمال کے سبب ایٹمی جنگ القارعہ سے متنبہ کیا انہوں نے اللہ کے رسولوں کی دعوت کو جب
تسلیم نہ کیا اور اپنے انہی اعمال کو جاری رکھا تو ان کو القارعہ نے آ لیا۔
القارعہ تباہ کن عالمی جنگ کو کہا گیا ہے ایسی تباہ کن ایٹمی و ہائیڈروجن بموں سے ہونے والی جنگ کہ جو چند دنوں کے اندر اندر پہاڑوں کو بھی ریزہ ریزہ کر دے
لاتعداد مخلوقات کا صفحہ ہستی سے صفایا کر دے۔
تصاویر میں نظر آنے والے آثار قوم عاد کے ہیں جو موجودہ انسانوں کے لیے نشان عبرت ہیں۔قوم عاد کے پیرو میں آثار یہ غیر معمولی اور عجیب و غریب عمارتیں ایٹمی حملوں کی وجہ سے تباہ ہوئیں جو آج بھی عبرت کا نشان بنی گزشتہ قوموں کی یاد دلاتی ہیں۔
اس کے علاوہ مزید دنیا بھر میں پھیلے قوم عاد کے آثار جو بنیادی طور پر ہندی قوم تھی۔ (جاری ہے)۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment