WARNING FROM MOTHER NATURE
ان راس الدجال من ورائہ حبک حبک و انہ سیقول انا ربکم، فمن قال انت ربی افتتن، و من قال کذبت، ربی اللہ، علیہ
توکلت والیہ انیب، فلا یضرہ۔ مسند احمد، طبرانی، حاکم
اس میں کچھ شک نہیں الدجّال کا راس یعنی الدجّال کی چوٹی اس کا بلند ترین مقام سامنے سے تجھے اپنی طرف کھینچے گا، اپنے قریب کرے گا اور اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ قریب ہی کہے گا کہ میں تمہارا ربّ ہوں۔ پس جس نے کہا تو میرا ربّ ہے وہ اس کے فتنے میں پڑ گیااور جس نے کہا تو کذب کرتا ہے میرا ربّ اللہ
ہے اسی پر توکل کرتا ہوں اور تیری حقیقت کھلنے پر اسی کی طرف پلٹتا ہوں پس الدجّال اسے نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
راس۔ کسی شئے کا بلند ترین مقام، کسی شئے کی چوٹی، انسانی جسم کی چوٹی، بلند ترین مقام سر ہوتا ہے اس لیے سر کو بھی راس کہتے ہیں۔
ورائہ۔ اس کا سامنے والا حصہ
حبک۔ حب جمع ک۔
حب۔ کسی شئے کو اپنے قریب کرنے یا اپنی طرف کھینچنے کو کہتے ہیں، مقنا طیسی کشش کو بھی حب کہتے ہیں۔
ک۔ تجھے
رب۔جس ذات نے خلق کیا اسے ہی علم ہے کہ کس مقصد کے لیے خلق کیا اور جس مقصد کے لیے خلق کیا اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے خلق پر اس کا مقام اور ذمہ داری واضح کرنے والی ذات اور مخلوق کو اس کی تمام ضروریات خلق کر کے مہیا کرنے والی ذات۔ اسے ہی علم ہے کہ مخلوق کے لیے کیا فائدہ مند ہے اور کیا نقصان دہ ہے اس لیے جو حکم وہ ذات دے گی اسی پر عمل کیا جائے گا اور اسی کی خلق کی ہوئی ضروریات اختیار کی جائیں گی اور اگر اس کے علاوہ کسی اور کی خلق کی ہوئی ضروریات استعمال کیں یا کسی اور کی ہدایات پر عمل کیا تو وہی ذات ربّ کہلائے گی جس کی ہدایات پر عمل کیا اور جس کی خلق کردہ ضروریات استعمال کیں۔
یعنی ذات جو کسی شئے کو جب اس کا وجود نہ ہو وجود میں لائے اس کے بعد اسے جس مقصد کے لیے وجود میں لایا اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اسے اس مقام پر لانا جس مقام پر آکر وہ اس مقصد کو پورا کر سکے اور اس کی تمام تر ضروریات کو خلق کر کے اسے مہیا کرنے والی ذات۔ قرآن میں اللہ نے بچے کے لیے اس
کے والدین کو ربّ کہا ہے جیسا کہ آپ اس آیت میں دیکھ سکتے ہیں۔
وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا۔ بنی اسرائیل ۲۴
سورت بنی اسرائیل کی اس آیت میں اللہ نے والدین کو بچے کے لیے ربّ اس لیے کہا کیوں کہ جب بچے کا وجود نہیں ہوتا تو والدین اسے وجود دیتے ہیں اس کے بعد بچہ ہر لحاظ سے والدین کا محتاج ہوتا ہے والدین اس کی تمام ضروریات اسے مہیا کرتے ہیںاگر والدین اسے کھلائیں گے تو بچہ کھائے گا ورنہ بچہ بھوکا مر جائے گا خود سے کچھ بھی نہیں کر پائے گا بالکل اسی طرح بچے کی جتنی بھی ضروریات ہیں ہر لحاظ سے بچہ والدین کا محتاج ہوتا ہے اس لیے اللہ نے والدین کو بچے
کے لیے اس کے ربّ کہا۔
جب ایک بچہ چھوٹا ہوتا ہے تو وہ والدین کا محتاج ہوتا ہے یوں ایک شخص جب بچہ تھا تو اللہ اس کے والدین کی صورت میں اس کا ربّ تھا اور جیسے جیسے وہ خودمختار ہوتا جائے تو ویسے ویسے اللہ نے اسے خود کو فطرت کا محتاج بنانے کا حکم دیا کیونکہ باشعور اور بااختیار ہوتے ہیں۔ جیسے وہ پہلے والدین کا محتاج تھا تو اللہ اس کا ربّ تھا بالکل اسی طرح اب وہ اگر خود کو فطرت کا محتاج بنائے گا تو اس کا ربّ اللہ ہو گا ورنہ وہ خود کو جس کا محتاج بنائے گا جس پر انحصار کرے گا وہی اس کا ربّ
کہلائے گا۔ اسی کا حکم اللہ نے قرآن میں کئی مقامات پر دیا کہ ہر طرف سے کٹ کر یک سو ہو کر فطرت پر قائم ہو جاؤ۔
افتتن، فتنہ۔ فتنہ کو سمجھنے کے لیے ایک مثال سے اس کی وضاحت کرتے ہیںمثال کے طور پر ایک ایسی شئے ہو جو مارکیٹ میں بہت مقبول ہو کوئی بھی جائے بچہ ہو ، بڑا ہو یا بوڑھا کوئی بھی جائے وہ قیمت ادا کرے گا اور اس شئے کو لے آئے گا لیکن ایسا ہو اب مارکیٹ میں وہی شئے جعلی یعنی نقلی بھی آجائے اور اتنی زیادہ تعداد میں آ جائے کہ اس کے مقابلے میں اصل بہت کم اور اصل کی پہچان بہت مشکل ہو جائے تو اب جو بھی خریدنے جائے گا ممکنہ طور پر نقلی ہی خرید کر لائے گا جس سے یہ علم ہو گیا کہ مارکیٹ میں اصل کے مقابلے میں نقلی شئے بھی آ چکی ہے ۔ کسی بھی شئے کی جب نقل تیار کی جاتی ہے وہ ایسی نہیں بنائی جاتی کہ وہ خود بول کر کہے کہ میں نقلی ہوں بلکہ نقل ایسی تیار کی جاتی ہے کہ اصل شئے بھی نقل کے مقابلے میں نقل نظر آتی ہے۔ ایسی صورت میں کوئی بھی شئے کو خریدنے جائے خواہ وہ کتنے ہی علم والا ہی کیوں نہ ہو اس پر امتحان آ جائے گا کہ آیا ان میں سے کون سی اصلی ہے اور کون سی نقلی۔ اس طرح امتحان میں پڑنے کو فتن کہتے ہیں اور جو شئے اس کا باعث بنے وہ یعنی اصل کی نقل فتنہ کہلاتا ہے اوراس شئے یعنی نقل کو اختیار کر لینے کو فتنے میں پڑ جانا یعنی فتنے کا شکار ہو جانا کہلاتا ہے۔
کذبت۔ اللہ کی آیات ’’تمام مخلوقات سمیت ہر وہ شئے جس سے انسان اللہ کو جان سکے اللہ کو پہچان سکے جن کے پیچھے پڑنے سے اللہ کی ذات سامنے آ جائے‘‘ ان تمام مخلوقات یعنی آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے جو کہ اللہ کی آیات ہیںکو تسلیم کرنے کی بجائے ان سے کفر کرنا ان میں چھیڑ چھاڑ کرنا ان میں فساد کرنا، انہیں اپنی مرضی کے مقاصد کے لیے استعمال کرنا جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی بلکہ سختی سے منع کیا ہے جس وجہ سے اللہ کی آیات یعنی مخلوقات میں خرابیاں پیدا
ہوں فساد ہو۔
توکل۔ہر لحاظ سے مکمل طور پر کسی پر انحصار کرنا، ہر معاملے میں یا کسی بھی معاملے میں کسی کا محتاج بننا خواہ آپ کو تکالیف و مصائب کا ہی سامنا کیوں نہ کرنے
پڑے یا خواہ آپ کی ضروریات پوری نہ ہو آپ کو صبر یا قناعت کرنا پڑے۔
انیب۔ فتنے میں پڑنے کے بعد یعنی فتنے کا شکار ہو جانے کے بعد جیسے ہی اصل کا حق کا علم ہو جائے توبغیر کسی حیلے بہانے کے فوراً اس کو ترک کر کے حق کی طرف پلٹنا یعنی آپ اپنی طرف سے حق کی اتباع کر رہے ہوں آپ یہی سمجھ رہے ہوں کہ جو آپ کر رہے ہیں جو سمجھ رہے ہیں وہ حق ہے لیکن حقیقت یہ نہ ہو بلکہ حقیقت یہ ہو کہ آپ فتنے کا شکار ہوں اور جیسے ہی آپ پر حق واضح ہو جائے آپ بغیر کسی چوں چراں کے فوراً اسے ترک کر کے حق کی طرف پلٹیں اسے عربی میں انیب کہا
جاتا ہے۔
محمد علیہ السلام نے کہا کہ الدجّال کا راس تجھے تیرے بالکل سامنے سے اپنی طرف کھینچے گا تو آج آپ پر فرض ہے کہ آپ غوروفکر کریں اور جانیں کہ الدجّال کا راس کیا ہے؟ راس کسے کہتے ہیں ؟ پیچھے یہ واضح کیا جا چکا کہ راس عربی میں کہتے ہیں کسی بھی شئے کے بلند ترین مقام کو اس کی چوٹی کو اس کی پیک کو۔ اور یہ بھی آپ پر کھول کھول کر واضح کیا جا چکا کہ الدجّال انسان کے اپنے ہی ہاتھوں سے خلق کر دہ طرح طرح کی مخلوقات ہیں تمام کی تمام اشیاء اور مشینیں جنہیں
انسان اپنے لیے مسیحا سمجھتا ہے یعنی فائدہ مند اور ترقی سمجھتا ہے، موجودہ جدید ٹیکنالوجی ہے صنعتی انقلاب ہے۔
اور آج جب آپ غور وفکر کریںتو الدجّال کا راس بالکل واضح ہے۔ انسان کی خلق کردہ مخلوقات الدجّال یعنی ٹیکنالوجی کا راس جو کہ اس کا بلند ترین مقام ہے، اس کا بلند ترین مقام اس وقت سیٹلائٹ ہے جو خلا ء میں زمین کے گرد گھوم رہی ہیں اور بلند ترین ٹاورز ہیں اور الدجّال کا یہی راس انسان کے سامنے سے اسے
اپنی طرف کھینچتا ہے۔
الدجّال کا راس جو سب سے بلند ترین مقام ہے جو چوٹی ہے وہ سیٹیلائیٹ ہے جو خلا میں زمین کے گرد تیر رہی ہے اس کے علاوہ ٹاورز ہیں اور الدجّال کا یہ راس آج حیران کن طور پر انسان کے بالکل سامنے سے اسے اپنی طرف کھینچتا ہے اسے الدجّال کو اپنا ربّ بنانے کی دعوت دیتا ہے ۔ جسے آج آپ ٹیلی ویژن ، انٹرنیٹ اور ریڈیو وغیرہ سمیت ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم یعنی مواصلاتی نظام کا نام دیتے ہیں یہ سارے کا سارے میڈیا یہ مواصلاتی نظام سیٹلائٹس اور اونچے لمبے لمبے
کھمبے جو کہ الدجّال کا راس ہے کا ہی حصہ ہیں اسی سے ہی کام کرتے ہیں۔
پوری دنیا کا مواصلاتی نظام، میڈیا ٹی وی چینلز، انٹرنیٹ، فون وغیرہ انہی سیٹلائٹس اور ٹاورز سے ہی چل رہے ہیں۔ سیٹلائٹ سے بچھائے گئے نیٹ ورک کے ذریعے ٹی وی چینلز چلتے ہیں جو انسان کو طرح طرح کی کمرشلز سے اور پروگراموں کے ذریعے اللہ سے دور اور اس ٹیکنالوجی کے قریب کرتے ہیں اپنی طرف
کھینچتے ہیں۔
ایک طرف الکتاب ہے جو انسان کو فطرت پر قائم ہونے کی دعوت دیتی ہے اللہ کے قریب کرتی ہے اور دوسری طرف یہی میڈیا جو انسان کو اللہ پر توکل کرنے کی بجائے فطرت پر قائم ہونے کی بجائے ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ سب کچھ کھلم کھلا آج آپ کے سامنے ہے اسے سمجھنا بالکل بھی مشکل نہیں۔
یہی میڈیا انسان کو رزق کے لیے زمین سے اگانے، جسم ڈھانپنے کے لیے کپڑا بننے، رہنے کے لیے گھر بنانے، روز گا رکے ذرائع کے لیے ،سفر کے ذرائع کے لیے، دانتوں کی صفائی ہو یا جسم کی صفائی، برتن دھونے ہوں یا کھانا پکانا ہو، کسی سے رابطہ کرنا ہو یا کسی چھوٹی سی چھوٹی سطح پر بھی کوئی کام کرنا مقصود ہو تو اللہ پر توکل کرنے یعنی اللہ کے دیئے ہوئے ذرائع پر انحصار کرنے کی بجائے ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے کی دعوت دیتا ہے اور انسانوں کی اکثریت اس کی طرف کھینچی چلی
جاتی ہے جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے یہی تو ہے کسی کو ربّ بنانا۔
ٹیکنالوجی جو کہ الدجّال ہے یہ الدجّال ہی تو ہے میڈیا ٹیکنالوجی کی صورت میں جو الدجّال یعنی ٹیکنالوجی کو ہی ربّ بنانے کی دعوت دے رہا ہے اپنے ربّ
ہونے کا عملاً اعلان کر رہا ہے اور ہر کوئی اس کے واضح ہونے کے باوجود اندھا بنا ہوا ہے۔
یہ میڈیا ہر معاملے میں انسان کو اللہ سے بغاوت اور الدجّال کی غلامی پر ابھارتا ہے اور لوگ اسی کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اپنی سوچیں، کھانا پینا، رہن سہن، لباس، معاشرہ حتیٰ کہ سب کچھ طے کرتے ہیں اور اسی میڈیا کی دعوت کی حقیقت کھلنے پربندہ سب سے پہلے اسی سے ہی نفرت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تُو کذاب ہے تُو ہر شئے کا صرف ایک ہی رخ دکھاتا ہے۔ مجھ پر ہر شئے کا دوسرا رخ واضح ہو چکا جس سے تیری حقیقت مجھ پر کھل چکی ہے اس لیے میں اب اللہ ہی پر توکل کروں گا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ یہ تو بہت ہی مختصر وضاحت ہے باقی غورو فکر کرنے کے دروازے آپ پر کھلے ہیں آپ جتنا جی چاہیں گہرائی
تک غورو فکر کر کے جان سکتے ہیں۔ (جاری ہے)۔۔۔
Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:
Post a Comment