Tuesday, November 29, 2022

  WARNING FROM MOTHER NATURE 


قسط نمبر#78

ایک طرف اللہ اپنی آیات میں رات ، دن، اٹھے ، بیٹھے، لیٹے ہر حال میں غورو فکر کرنے کا حکم دے رہا ہے کہ اپنا وقت اللہ کی آیات میں غورو فکر کرنے میں گزارو اور دوسری طرف یہ الدجّال کا راس انٹرنیٹ ، فلموں، ڈراموں اور طرح طرح کے وقت ضائع کرنے والے پروگراموںاور گیموں وغیرہ میں مگن ہو کر اللہ کا دیا ہوا وقت ضائع کرنے کی دعوت دیتا ہے یہاں تک کہ کھاناکیا ہے، پینا کیا ہے، پہننا کیا ہے، اٹھنا، بیٹھنا کیسے ہے، ماحول کیسا ہونا چاہیے، معاشرہ کیسا ہونا چاہیے، کیا فائدے مند ہے اور کیا نقصان دہ ہے سمیت ہر معاملے میں انسان کی راہنمائی کا دعویدار ہے اور انسانیت نے اس معاملے میں بھی کس کو اپنا ربّ تسلیم کیا حقیقت آپ کے سامنے ہے۔ آج اس میڈیا کو نبی کا درجہ دے دیا گیا ہے جو یہ کہتا ہے اسی پر آنکھیں بند کر کے نہ صرف اعتماد کیا جاتا ہے بلکہ اسی پر عمل بھی کیا
جاتا ہے۔ یہ الدجّال کا راس یعنی یہی میڈیا انسانوں کے بالکل سامنے سے انہیں یہ کہتا ہے کہ میں تمہارا ربّ ہوں یعنی اپنی تمام تر ضروریات مجھ سے ہی حاصل کرو مجھ سے ہی پوری کرو۔ وہ رزق کھاؤ جو مشینوں کا ہی بنایا ہوا ہے جو انسان کے اپنے ہی ہاتھوں سے فطرت میں مداخلت کر کے خلق کیا گیا ہے اپنی سواری کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انہی مشینوں یعنی الدجّال پر ہی توکل کرو اسی پر انحصار کرو، تمہارے پہننے کے لیے کپڑا ہو یا جوتے، کھانے کی اشیاء ہوں یا پینے کی یہاں تک کہ تمہاری جتنی بھی ضروریات ہیں انہیں پورا کرنے کے لیے الدجّال یعنی انسان کی اپنے ہی ہاتھوں سے اللہ کے مقابلے پر خلق کردہ اشیاء اور مشینوں پر ہی توکل کرو انہی پر انحصار کرو۔ تومحمد علیہ السلام نے کہا کہ الدجّال کے راس کے جواب میں جس نے یہ کہا کہ تو ہی میرا ربّ ہے یعنی جس نے خود کو فطرت کی بجائے انہی مصنوعی اشیاء سے اپنی ضروریات پوری کیں خود کو انہیں مشینوں کا محتاج بنایا خود کو الدجّال کا محتاج بنایا اسی پر توکل کیا یعنی اپنی ضروریات کو پورا کرنے
کے لیے اسی پر انحصار کیا تو وہ اس فتنے کا شکار ہو گیا۔
فتنہ کسے کہتے ہیں پیچھے آپ جان چکے آپ پر واضح کر دیا گیا کہ فتنہ اصل کے مقابلے پر نقل کا آجانا جس کی وجہ سے اصل اور نقل کی پہچان مٹ جائے اور اصل کی پہچان امتحان بن جائے۔ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو خلق کیا، تمام مخلوقات سمیت اس بشر یعنی آپ کو بھی خلق کیا تو کیا اللہ یہ بھول گیا تھا کہ آپ کی ضروریات کیا ہیں؟ یا پھر اللہ کو یہ ہی علم نہ تھا کہ انسان کے لیے کیا فائدہ مند اور کیا نقصان دہ ہے؟ یا پھر اللہ کو یہ ہی علم نہ تھا کہ انسان کی ضروریات کیا ہیں ؟ یا پھر اللہ نے انسان کے لیے جو ضروریات خلق کیں وہ انسان کے لیے ناکافی تھیں یا اللہ سے غلط خلق ہو گئیں؟
قرآن میں اللہ نے کہا کہ اللہ نے کسی بھی شئے میں فرط نہیں کیا یعنی اللہ نے جو کچھ بھی خلق کیا وہ بالکل پرفیکٹ ہر لحاظ سے مکمل اور ہر طرح کے نقائص ، خامیوں ، کجیوں اور کوتاہیوں سے پاک خلق کیا اور پھر اللہ کو یہ بھی علم تھا کہ ان کی ضروریات کیا ہیں تو اللہ ان کی ضروریات خلق کرنا بھول نہیں گیا تھا اس نے ہر ایک کی تمام کی تمام ضروریات بھی خلق کیں جو کہ ہر لحاظ سے مکمل اور احسن خلق کیں وہ خالق ہے تو اسے ہی علم ہے کہ کس کے لیے کیا فائدہ مند اور کیا نقصان دہ ہے اس لیے اس نے صرف اور صرف وہی خلق کیا جو احسن ہے جو ہر لحاظ سے فائدہ مند ہے جیسا کہ آپ سورت الانعام کی درج ذیل آیت میں دیکھ سکتے ہیں۔
وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا ٰطٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَا حَیْہِ اِلَّا اُمَم’‘ اَمْثَالُکُمْ مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتٰبِ مِنْ شَیْئٍ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمْ یُحْشَرُوْنَ۔
الانعام ۳۸
اور نہیں جتنے بھی دابہ ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی یعنی زمین میں جتنی بھی حرکت کرنے والی مخلوقات ہیں جو تیر کر، رینگ کر، چل کر اور اڑ کر حرکت کرتی ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی حرکت کرنے والی مخلوق ایسی نہیں اور نہ ہی جتنے بھی فضاؤں میں خلاوں میں تیرنے والے ہیں اپنے پروں سے فضا میں تیرتے ہیں مگر وہ امم یعنی دنیا کا نظام چلانے کے لیے کسی نہ کسی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے منظم ترین گروہ ہیں بالکل اسی طرح جیسے تم ہو۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ زمین میں تمام کے تمام جاندار حرکت کرنے والے اور اڑنے والے جتنے بھی جاندار ہیں وہ بغیر کسی مقصد کے خلق کر دیئے گئے جو ایسے ہی آوارہ اِدھر اُدھر گھوم رہے ہیں اور ان کی کوئی ضروریات نہیں ہیں یا ان کو کوئی فکریں نہیں یا ان پر کوئی ذمہ داری نہیں ۔ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ وہ تمام کے تمام منظم ترین گروہوں کی حیثیت سے اپنی اپنی ذمہ داری کو احسن طریقے سے پورا کر رہے ہیں اور ان کی بھی بالکل تمہاری ہی طرح کی ضروریات ہیں تو کیا تم نے کبھی ان کو ایسا کرتے دیکھا جیسا تم کر رہے ہو؟ یعنی جیسے تم اللہ کے ہر کام میں مداخلت کر رہے ہو اور عذر یہ پیش کرتے ہو کہ تم اپنی ضروریات خلق کر رہے ہو کیا وہ مخلوقات ایسا کر رہی ہیں؟
وہ ایسا کیوں نہیں کر رہیں؟ کیا ان کی ضروریات نہیں ؟ کیا ان کو حاجات لاحق نہیں جیسے تم کو ہیں؟ جب ان کو بھی ضروریات و حاجات لاحق ہیں تو پھر وہ ایسا کیوں نہیں کر رہیں جیسا تم کر رہے ہو بلکہ وہ تو اپنی اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے میں مصروف ہیں تا کہ آسمانوں و زمین میں کوئی خرابی پیدا نہ ہو ان کی لاپرواہی سے آسمانوں و زمین کے نظام میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ ان کو کیوں ایسا کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی جو تم کر رہے ہو؟ فطرت نے تمہیں جو کچھ بھی مہیا کیا اسے ترک کر کے اس کے شریک بنتے ہوئے ا س میں مداخلت کرتے ہوئے اس میں تبدیلیاں کرتے ہوئے اپنی ضروریات خود اپنی مرضیوں کیمطابق خلق کر رہے ہو آخر تمہیں اس کی ضرورت کیوں پیش آئی کیا صرف تم ہی ہو آسمانوں و زمین میں؟ یا باقی سب کی جو ضروریات تھیں وہ تو ہم نے خلق کر دیں اور تمہاری خلق کرنا بھول گئے جو تم خود کر رہے ہو؟ یا ہم نے تمہاری ضروریات کو خلق کرتے وقت کوئی کوتاہی برتی، کوئی کمی، کجی یا نقص چھوڑ دیا؟ یا نامکمل خلق کیں؟ آخر کیوں تم ایسا کر رہے ہو؟ آگے اللہ اس کا جواب یوں دیتا ہے مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتٰبِ مِنْ شَیْئٍ نہیں فرط کیا ہم نے الکتاب میں کسی ایک بھی شئے سے یعنی آسمانوں اور زمین میں کسی بھی شئے سے۔ مطلب یہ کہ اللہ نے جو کچھ بھی خلق کیا وہ بالکل پرفیکٹ یعنی کامل ہر لحاظ سے مکمل اور ہر طرح کے نقائص ، خامیوں ، کجیوں اور کوتاہیوں سے پاک خلق کیا اور پھر اللہ کو یہ بھی علم تھا کہ ان کی ضروریات کیا ہیں تو اللہ ان کی ضروریات خلق کرنا بھول نہیں گیا تھا اس نے ہر ایک کی تمام کی تمام ضروریات بھی خلق کیں جو کہ ہر لحاظ سے مکمل اور احس خلق کیں وہ خالق ہے تو اسے ہی علم ہے کہ کس کے لیے کیا فائدہ مند اور کیا نقصان دہ ہے اور اس نے ہر ایک کے لیے نہ صرف اس کی تمام کی تمام ضروریات خلق کیں اور کر رہا ہے بلکہ ایسی ضروریات خلق کر کے فراہم کر رہا ہے جن میں ہر لحاظ سے فائدہ ہی فائدہ ہے تو اس کے باوجود جب تم ایسا کر رہے ہو تو پھر ایسا ہرگز نہیں کہ تم یہ سب کرتے رہو اور کوئی تم سے اس بارے میں پوچھے گا نہیںبلکہ جان لو ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمْ یُحْشَرُوْنَ پھران کے یعنی وہ جو ایسا سب کر رہے ہیں اس وقت دنیا میں موجود ہیں جن کے بارے میں آج سے چودہ صدیاں قبل نبا دے دی گئی تھی یہ موجودہ لوگ ربّ کی طرف ہی اکٹھا کیے جا رہے ہو یعنی تمہیں یہاں جو ایک محدود متعین مدت دی گئی ہے جیسے ہی یہ ختم ہو گی تو تمہیں ان تمام مخلوقات کے ربّ کی طرف اکٹھا کیا جائے گا تب تم سے پوچھا جائے گا کہ کیا تمہارے ربّ نے تمہاری ضروریات نہیں خلق کی تھیں جو تم کو خود سب کچھ خود خلق کرنا پڑا؟ کیا تمہارے ربّ نے کوئی کوتاہی کر دی تھی؟ کوئی لا پرواہی کر دی تھی، کچھ غلط خلق کر دیا تھا؟ عیب دار خلق کر دیا تھا یا پھر وہ تمہیں خلق کر کے تمہاری ضروریات کو
خلق کرنا ہی بھول گیا تھا؟ تمہاری ان حرکتوں کی وجہ سے آسمانوں اور زمین میں جو فساد ہوا جو خرابیاں اور ان کی وجہ سے جو تباہیاں آئیں جو باقی مخلوقات کو اللہ کے عباد کو قناعت کرنا پڑی
ان کو مصائب و آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا آج تمہیں ایک ایک رائی کا حساب دینا ہو گا اور اس کے نتائج کو بھگتنا ہو گا ۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...