Friday, December 30, 2022

 WARNING FROM MOTHER NATURE




قسط نمبر#87

ثم یاتی القوم فیدعوھم فیردون علیہ قولہ فینصرف فیصبحون ممحلین لیس بایدیھم شئی من اموالھم،
پھر آئے گا ایک قوم کے پاس پس انہیں دعوت دے گا پس وہ پھیر دیں گے اس پر اس کے قول کو پس وہ لوٹ جائے گا پس وہ بنجر ہو جائے گی کچھ بھی نہیں آئے گا ان کے اموال سے ان کے ہاتھوں میں یعنی وہ الدجّال کے حکم کے بغیر اُگائیں گے تو کچھ بھی نہیں اُگے گا جیسے کہ زمین بنجر ہوتی ہے یوں انکے اموال سے کوئی شئے ان کے ہاتھ میں نہیں رہے گی ۔ جب زمین الدجّال کے حکم یعنی کھادوں وغیرہ اور مصنوعی بیجوں کے بغیر کچھ اُگائے گی نہیں تو پھر ظاہر ہے ان کے اموال
بھی ختم ہو جائیں گے جانور دودھ وغیرہ نہ ہونے کے برابر دیں گے بلکہ ان کے جانور زندہ ہی بمشکل رہیں گے۔
آج آپ یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ الدجّال دعوت دیتا ہے یعنی میڈیا پر کمرشلز آتی ہیں جن میں طر ح طرح کے مصنوعی بیجوں کی طرف دعوت دی جاتی ہے اور زیادہ اور دل لبھا دینے والی پیداوار حاصل کرنے کے لیے کھادوں کے استعمال کی دعوت دی جاتی ہے یعنی یہ کہ ٹیکنالوجی کو اپنا ربّ بنانے کی دعوت دی جاتی ہے اور جو لوگ اس دعوت پر ایمان لائے اس کو قبول کیا یعنی ٹیکنالوجی کو اپنا ربّ بنایا تو ان کے کھیت حد سے زیادہ پیداوار دیتے ہیں ان کے جانور حد سے زیادہ دودھ دیتے ہیں، ان کے جانوروں کی کوکھیں محدود وقت میں بھر جاتی ہیں اور وہ خوشحال نظر آتے ہیں لیکن جو لوگ جان جاتے ہیں کہ یہ سب دجل ہے بے شک دیکھنے میں سب کچھ اچھا ہے مگر حقیقت میں یہ صرف اور صرف فساد ہے ۔ اس طرح حاصل کر کے جو کچھ بھی استعمال کیا جائے گا اس کا انتہائی درجے نقصان ہے ہر شئے عیب دار ہو جائے گی، بیماریاں بڑھیں گی ، بچے معذور اور مفلوج پیدا ہوں گے اسی طرح ہر شئے میں نقص و خرابیاں پیدا ہو جائیں گی تو وہ لوگ ٹیکنالوجی کو ربّ بنانے کی بجائے اللہ کو اپنا ربّ بناتے ہیں فطرت پر انحصار کرتے ہوئے جب قدرتی بیج استعمال کرتے ہیں اور کھادوں کے بغیر اس ٹیکنالوجی کے بغیر اُگاتے ہیں بارشوں پر انحصار کرتے ہیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گویا ان کی زمین بنجر ہے کچھ بھی نہیں اُ گتا اور پھر ایسے حالات میں دنیا جہنم سے کم نہیں رہ جاتی ایسے حالات میں پھر ثابت قدم رہنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے اور اسی کا محمد علیہ السلام نے کہا تھا کہ اے اللہ کے غلامو ثابت قدم رہنا، ڈٹے رہنا۔ یہ حقیقتاً ایسا فتنہ ہے کہ اس سے عظیم فتنہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا آج آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اکثریت نے الدجّال یعنی ٹیکنالوجی کو اپنا ربّ بنایا ہوا
ہے۔ (جاری ہے)۔۔۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7 

Tuesday, December 27, 2022

 WARNING FROM MOTHER NATURE 



قسط نمبر#86

والارض فتنبت، فتروح علیھم سارحتھم اطول ما کانت ذری واسبغہ ضروعاً وامدہ خواصر،
اور زمین کو حکم دے گا پس وہ اگائے گی پس ان پر طاقتور سپرے کرے گا وہ فصلیں اور ان کو کھانے والے استعمال کرنے والے یعنی وہ فصلیں جن کا رزق بنیں گی وہ جلدی بڑے ہو جائیں گے نہیں تھا ان کے لیے کیا گیا اتنا جلدی بڑا ہونا اور ضرورت سے زیادہ ان کے تھن دودھ سے بھر جائیں گے اور محدود وقت میں شکم بار
ہو جائیں گے۔
محمد علیہ السلام کے الفاظ کے عین مطابق آج ٹیکنالوجی زمین کو حکم دیتی ہے تو زمین اُگاتی ہے اور ان فصلوں پر طرح طرح کے کیمیکلز کی سپرے کی جاتی ہے جس سے وہ فصلیں اپنے وقت سے بہت پہلے جلد بڑی ہو جاتی ہیں اور ان فصلوں اور ایسی خوراکوں اور ایسے اجزاء کو کھانے والے جانوروں کے تھن حد سے زیادہ دودھ سے بھرجاتے ہیںاور انہیں فصلوں کو کھا کر جانور موٹے تازے ہو جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ آج آپ اپنی آنکھوں سے ہوتا ہوا نہ صرف دیکھ رہے ہیں بلکہ
خود بھی اسی ٹیکنالوجی کو اپنا ربّ بنائے ہوئے یہی سب کچھ کر رہے ہیں۔
ایسی فصلیں دیکھنے میں تو بہت بھلی لگتی ہیں لیکن یہ صرف ظاہراً اچھی ہیں مگر ان کا باطن لاتعداد بیماریوں سے بھرا پڑا ہے۔ یہی تو دجل ہے کہ ہر کوئی انہیں دیکھ کر اپناتا ہے حاصل کرتا ہے دیکھنے میں یہ سب بہت اچھا لگتا ہے لیکن جب یہی سب انسان اور جانور کھاتے ہیں تو وہ مفلوج ہو جاتے ہیں ، ان کو طرح طرح کی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں، بچے وقت سے پہلے بالغ ہو جاتے ہیں، لوگوں کی عمریں کم ہو جاتی ہیں، جسم کمزور ہو جاتے ہیں طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح دودھ حاصل تو زیادہ کر لیا جاتا ہے لیکن ان غیر فطرتی طریقوں سے حاصل شدہ ہر شئے کا ظاہری پہلو تو بہت خوشنما ہوتا ہے لیکن اس کا
باطن محض زہر ہی ہوتا ہے۔ یہی وہ دجل ہے آج جس کا ہر کوئی شکار نظر آتا ہے اور کوئی بھی اسے پہچان نہیں پا رہا اور نہ ہی پہچاننا چاہتا ہے۔ (جاری ہے)۔۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7 

Wednesday, December 14, 2022

 WARNING FROM MOTHER NATURE


قسط نمبر#85

روایات کیمطابق محمد علیہ السلام نے یثرب میں کھڑے ہو کر کئی بار مشرق کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ الدجّال ادھر سے نکلے گا۔ مکہ ہو یا یثرب جسے مدینہ کہا جاتا ہے دونوں کا مشرق ارض حجاز اور موجودہ سعودی عرب کا وہ علاقہ بنتا ہے جسے نجد کہا جاتا تھا اور آج بھی اسے نجد ہی کہا جاتا ہے لیکن امراء کے پالتو علماء جو ان کی خواہش پر حلال اور حرام کا تعین کرتے ہیں نے اپنے تراجم و تفاسیر میں یثرب کا مشرق اور نجد عراق کو قرار دیا لیکن جب ہم دنیا کا نقشہ اٹھا کر دیکھیں تو بندہ ان علماء کے نام پر امام الدجّال کے دجل پر حیران رہ جاتا ہے کہ عراق تو یثرب کے شمال میں واقع ہے نہ کہ مشرق میں۔ جب عراق مکہ اور یثرب کے شمال میں واقع ہے نہ کہ مشرق میں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیسے ان علماء کے نام پر امام الدجّال نے عراق کو نجد اور یثرب کا مشرق قرار دیا؟ اس سے بھی بڑھ کر حیرانی والی بات تو یہ ہے کہ آج تک کوئی ایک بھی شخص ایسا نظر نہیں آتا کہ جس نے تحقیق کی ہو اور دنیا کے نقشے کو سامنے رکھ کر اس دجل کو چاک کیا ہو۔
آگے روایات آئیں گی کہ محمد علیہ السلام نے یہ بھی کہا تھا کہ الدجّال اس زمین سے نکلے گا جس زمین میں زمین سے اگانے کی صلاحیت رکھنے والے، زمین کو اگانے پر مجبور کرنے والے عناصر یعنی کھادیں اور کیمیکلز وغیرہ ڈالے جائیں گے۔ یعنی جس زمین میں کھادیں، کیمیکلز، جینیاتی بیجوں اور زہروں کا استعمال کیا جائے گا اُس زمین سے جو نکلے گا وہ الدجّال ہو گا یعنی وہ فصل الدجّال ہو گی۔ کھادوں اور کیمیکلز سے اگائی جانے والی فصلوں کا ظاہری پہلو تو بہت زبردست اور دل کو لبھا دینے والا ہوتا ہے لیکن اس کا دوسرا باطنی پہلو بیماریوں، خامیوں، نقائص سے بھرپور ہوتا ہے اور یہی تو الدجّال ہے۔ درج ذیل تصاویر میں دیکھیں کہ مکہ اور یثرب کے مشرق میں ارض حجاز سے کتنی غیر معمولی مقدار میں الدجّال نکل رہا ہے۔ سعودی عرب کا دو ہزار کلومیٹر سے زائد لمبائی پر مشتمل لاکھوں مربع کلو میٹر صحرا سرسبز و شاداب باغات میں تبدیل ہو چکا ہے۔ آپ کو گول دائروں میں ہزاروں کھیت نظر آئیں گے اور ہر کھیت کا قطر اوسطاً ایک کلو میٹر ہے یہ
سب ٹیکنالوجی سے ممکن ہوا اور اسی کو محمد علیہ السلام نے آج سے چودہ صدیاں قبل الدجّال کہا تھا۔
آسمانوں کے نیچے بدترین مخلوق علماء کے نام پر امام الدجّال کے دجل کی اصل حقیقت تصویر کے آئینے میں۔ آج تک شمال کو مشرق بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔ محمد علیہ السلام نے مکہ و یثرب کے مشرق والی زمین سے الدجّال کے نکلنے کا بتایا تو علماء کے نام پر امام الدجّال نے اس کو عراق بنا دیا کہ مشرق میں عراق ہے حالانکہ
مشرق میں سعودی عرب کا نجد ہے نہ کہ عراق بلکہ عراق تو شمال کی طرف ہے۔ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
الحجاز کے مشرق میں لاکھوں مربع کلومیٹر کے رقبے پر مشتمل صحرا کو الدجّال کے امر سے سبز و شاداب بنا دیا گیا۔
(جاری ہے)۔۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7 

Monday, December 12, 2022

 WARNING FROM MOTHER NATURE

 

END OF TIME | Episode #16 | Documentary By NABA7 TV on Fitna Dajjal | Ahmed Isa Documentary

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature
Kalki Avatar Krishna
The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa
احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں
ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
Part 1
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1
Part 2
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2
Part 3
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3
Part 4
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4
Part 5
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5
Part 6
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6
Part 7
https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

                       WARNING FROM MOTHER NATURE


قسط نمبر#84

والارض فتنبت
اور زمین کو امر کرے گا پس وہ اُگائے گی۔
پیچھے آپ نے جان لیا کہ اللہ کی ہر خلق کو حکم ویسے ہی دیا جائے گا جیسے اللہ نے قدر میں کر دیا اس لیے اس کے قانون کے خلاف کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ تو زمین کو
اگر اُگانے کا حکم دیا جائے گا تو اسی طرح جیسے اللہ زمین کو اگانے کا حکم دیتا ہے۔
ایک تو اللہ نے بیج کے ڈی این اے یعنی زمین کے اُگانے کی تمام اشیاء کے بیجوں میں اللہ نے زمین کے لیے وہ حکم رکھ دیا اور دوسرا اس کے علاوہ جو زمین میں
ایسی صلاحیتیں رکھیں جس سے زمین اُگانے کے قابل ہوتی ہے ۔
آج زمین کو نہ صرف حکم دیا جا رہا ہے بلکہ زمین اُگا بھی رہی ہے اور زمین کو یہ حکم فصلوں کے بیجوں میں اللہ کے رکھے ہوئے نقشے میں رد و بدل کر کے دیا جا رہا ہے
اور زمین کو اُگانے کی صلاحیت بھی خلق کر کے دی جارہی ہے۔
اوراب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کیسے ممکن ہوا؟
تو اس کا جواب بالکل واضح ہے آج آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ یہ صرف اور صرف ٹیکنالوجی کی وجہ سے ممکن ہوا اور آج اسی ٹیکنالوجی کے امر سے زمین اگا رہی ہے زمین سے نباتا ت اگائی جا رہی ہیں یوں یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو چکی کہ یہ ٹیکنالوجی یہ مشینیں ہی وہی الدجّال ہے جسے قرب قیام
الساعت ظاہر ہونا تھا جو کہ الساعت کے اشراط میں سے ایک شرط ہے۔
ہر شئے کو امر اسی طرح کیا جائے گا جیسے اللہ نے قدر میں کر دیا بالکل اسی طرح زمین کو امر کیا جائے گاتو زمین اگائے گی۔ امر اسی طرح کیا جائے گا زمین کو جیسے اللہ نے قدر میں کر دیا نہ کے زبان سے امر کیا جائے گا۔ زبان سے امر صرف اور صرف اسے ہی کیا جا سکتا ہے جس کے لیے اللہ نے زبان سے امر کرنا قدر میں کر دیا۔ آج زمین سے نباتات اگانے کے لیے امر کیا جاتا ہے جس سے امر کیا جاتا ہے وہ ٹیکنالوجی ہے یعنی جدید سائنسی ایجادات جنہیں آپ ایگریکلچر ٹیکنالوجی یا گرین ریولیوشن ، زرعی انقلاب یا سبز انقلاب کا نام دیتے ہیں۔ کھیتی باڑی میں موجود اور آئندہ آنے والے تمام کے تمام ذرائع جو غیر فطرتی ہیں
جن میں مختلف مشینری،کھادیں، ادویات، سپرے اور کئی اقسام کے کیمیکلز اور جینیاتی بیج وغیرہ شامل ہیں۔
جینیٹیکلی موڈیفائی یعنی جدید سائنسی طریقے سے تیار کردہ جینیاتی بیج۔
کھادیں اور مختلف ایسے عناصر جو زمین کو اگانے کا امر کرتے ہیں۔ ذ(جاری ہے)۔۔۔

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

Friday, December 9, 2022

                                   WAENING FROM MOTHER NATURE


قسط نمبر#83

فیاتی علی القوم فید عوھم فیومنون بہ ویستجیبون لہ، فیامر السماء فتمطر والارض فتنبت،

پس آئے گا ایک قوم پر یعنی لوگوں پر پس انہیں دعوت دے گا پس وہ دعوت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کیساتھ یعنی الدجّال کیساتھ اپنے کام کریں گے اپنے اعمال انجام دیں گے اور جو حاصل ہو گا اس سے یعنی الدجّال سے اسے قبول کر رہے ہوں گے پس حکم دیا جائے گا الدجّال کیساتھ آسمان کو پس آسمان اس کے حکم سے
بارش برسائے گا اور زمین اس کے حکم سے اُگائے گی۔
اس کی دعوت کیا ہے ؟ اور دعوت کیسے دیتا ہے؟ اس کا ذکر الدجّال کے راس والی روایت میں گزر چکا اور اس دعوت کو قبول کرتے ہوئے الدجّال کیساتھ ہی اپنے اعمال کو بھی انجام دیا جا رہا ہے اسی سے اگایا جا رہا ہے اسی سے ہر کام کیا جا رہا ہے اور جو کچھ اس کیساتھ کام کرنے سے حاصل ہو رہا ہے اسے قبول کیا جا رہا ہے اور جو اس کی دعوت کو قبول کرتے ہیں یعنی اللہ پر توکل کی بجائے ٹیکنالوجی پر توکل کرتے ہیں تو ان کے لیے آسمان کو کیسے حکم دیتا ہے بارش کا اور کیسے برستی
ہے اس کا جواب جاننے کے لیے آپ پرپہلے ایک بنیادی بات کھول کر واضح کرتے ہیں۔
اللہ قرآن میں بار بار اپنی آیات میں غورو فکر کرنے کا حکم دیتا ہے اور قرآن کھول کھول کر واضح کرتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے سب کا سب اللہ کی آیات ہیں ان سب میں غوروفکر کرنے کا حکم دیا۔ جب تک آپ اللہ کی آیات میں یعنی آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے ان میں غورو فکر نہیں کریں گے تب تک آپ پر یہ واضح نہیں ہو گا کہ اگر الدجّال آسمان کو بارش برسانے کا حکم دے گا تو کیسے دے گااور پھر جب آپ کے پاس علم نہیں ہو گا تو آپ کے لیے سوائے گمراہی کے اور کوئی رستہ نہیں ہو گا اور کوئی بھی راہنمائی کے لبادے میں راہزن آپ کو اپنی چرب زبانی کا شکار کرتے ہوئے گمراہیوں میں لے جائے گا۔
آپ لاکھ یہ دعوے کریں کہ ہم الدجّال کی غلامی نہیں کریں گے ہم اسے ربّ تسلیم نہیں کریں گے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ آپ کے زبان سے لاکھ دعوؤں کے باوجود آپ اسے اپنا ربّ بنا چکے ہوں گے اس کی غلامی اختیار کر چکے ہوں گے اور آپ کو اس کا شعور تک بھی نہیں ہو گا اس کا علم بھی نہیں ہو گا، آپ کے لاکھ دعوؤں کے باوجود آپ میں ایمان کی رائی بھی نہیںہو گی اور آپ کو اس کا اندازہ ہی نہیں ہو گا الٹا آپ خود کو قوی مومن سمجھ رہے ہوں گے۔ علم نہ ہونے کی وجہ سے بے بنیاد اور باطل عقائد کو اپنے دماغ میں محفوظ رکھ کر نہ صرف خود گمراہ ہوں گے بلکہ دوسروں کی گمراہی کا بھی سبب بنیں گے۔ اس لیے اگرآپ چاہتے ہیں کہ ہم حقیقتاً ایسے مومن بنیںجیسا کہ مومن بننے کا حق ہے تو آپ کو اللہ کی آیات میں غورو فکر کرنا پڑے گا یعنی آسمانوں و زمین میں جو کچھ بھی ہے ان میں اور اپنی ہی ذات میں غورو فکر کرنا ہو گا اور جب آپ آسمانوں و زمین میں اور جو کچھ بھی ان میں ہے اور اپنی ہی ذات میں غوروفکر کریں گے تو آپ پر یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو جائے گی کس کو کیسے حکم دیا جائے گا حکم دینے کا ذریعہ کیا ہوگا وغیرہ مثلاً جیسے کہ اگر انسان کو حکم دیا جاتا ہے تو انسان کو کوئی کام کرنے کا حکم کیسے دیا جائے گا؟
اس کے لیے جو بات کھل کر واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ بنیادی طور پر انسان کو کسی کام کا حکم دینے کے لیے تین طریقے ہیں۔
۱۔ زبان سے حکم دینا یعنی آواز کی صورت میں۔
۲۔ لکھ کر حکم دینا۔
۳۔ اشارے کے ذریعے حکم دینا۔
ان کے علاوہ کوئی چوتھا ذریعہ ایسا نہیں کہ جو تمام انسانوں میں مشترک ہو۔ چوتھا یا اس سے بھی زائد ہو تو سکتے ہیں لیکن وہ صرف انہی کے لیے ہوں گے جن میں
وہ قابلیت ہو گی اور انہوں نے محنت سے وہ قابلیت حاصل کی ہو گی جیسے کہ اللہ کا قانون ہے۔
اب اگر آواز کی صورت میں یا لکھ کر کسی انسان کو کوئی حکم دیا جائے گا تو وہ بھی صرف اسی زبان میں ہی دیا جا سکتا ہے جو زبان وہ سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے یعنی ایسا نہیں ہے کہ آپ کو جو زبان آتی ہی نہیں جس زبان کو آپ سمجھتے ہی نہیں اس زبان میں آپ کو حکم دیا جائے ۔ پھر بھی اگر ایسا کیا جائے گا تو اس حکم کا کوئی فائدہ نہیں
ہو گا اس کی حیثیت ایسے ہی ہو گی کہ گویا کوئی حکم دیا ہی نہیں گیا۔
مثال کے طور پر اگر آ پ کی زبان اردو ہے تو آپ کو اردو میں ہی حکم دیا جائے گا اور اگرحکم دینے والے کو اردو نہیں آتی تو پھر اس کے لیے سب سے پہلا کام یہ ہو گا کہ وہ کوئی ایسا ذریعہ حاصل کرے جس میں اس کی بات سمجھ کر آپ تک پہنچانے کی صلاحیت ہوکہ وہ اس کی زبان بھی سمجھتا ہو اور آپ کی بھی اور وہ ذات اس کے
ذریعے آپ کو حکم دے گی۔
ایسے ہی مثال کے طور پر اگر آ پ کو چینی زبان نہیں آتی اور آپ کو چینی میں حکم دیا جائے گا تو کیا آپ سمجھ سکیں گے؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بالکل اسی طرح آپ کسی جانور کو کوئی حکم دینا چاہتے ہیں تو اسی ذریعے سے حکم دیں گے جس ذریعے سے وہ جانور آپ کا حکم سمجھ سکے ۔ جب وہ آپ کا حکم سمجھے گا تو وہ اس پر عمل کر پائے گا ورنہ عمل کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایسا ہرگز نہیں کہ آپ زبان سے کسی جانور کو کچھ کہیں تو وہ فوری اس پر عمل کرے گا نہیں بلکہ جو بھی جانور ہے وہ جس طرح حکم سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اسے اسی طریقے سے حکم دیا جائے گا۔ بالکل اسی طرح اللہ کی تمام مخلوقات کا معاملہ ہے اللہ نے یہ قانون بنا دیا اوراسی قانون کیمطابق اللہ نظام چلاتا ہے اور چلا رہا ہے۔ اسی قانون کے مطابق اللہ تمام مخلوقات کو حکم دیتا ہے یہی اللہ کا قانون و طریقہ ہے اور اللہ خود بھی اپنی سنت کے خلاف کام نہیں کرتا۔
الدجّال آسمان کو حکم دے گا تو آسمان بارش برسائے گا تو اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیسے ؟ الدجّال کیسے یا الدجّال کیساتھ انسان آسمان کو کیسے بارش برسانے کا حکم دیں گے؟ کیا اپنی زبان سے کہا جائے گا کہ اے آسمان بارش برسا اور آسمان بارش برسانا شروع کر دے گا؟ یا پھر اس طریقے سے حکم دیا جائے گا جو طریقہ
اللہ نے قدر میں کر دیا اس زبان میں آسمان کو حکم دیا جائے گا جو زبان آسمان سمجھتا ہے؟
آسمان فضا کو کہتے ہیں۔ اگر وہ اس فضا کو حکم دے گا جس فضاسے اللہ بارشیں برساتا ہے تو اسے اسی طرح امر کرنا پڑے گا جیسے اللہ امر کرتا ہے یعنی اگر آپ کی زبان اردو ہے اور آپ اردو کے علاوہ کوئی اور زبان نہیں سمجھتے تو کوئی بھی ہو اسے اگر آپ کو کوئی کام کہنا ہے تو اردو میں ہی کہا جائے گا ورنہ اگر کسی اور زبان میں یا کسی اور طریقے سے حکم دیا جائے گا یا کوئی بات کہی جائے گی تو عمل کرنا تو دور کی بات وہ سمجھ میں ہی نہیں آئے گی ایسے ہی الدجّال اگر آسمان یعنی اس فضا کو بارشیں برسانے کا حکم دیتاہے تو ویسے ہی دے گا جیسے اللہ نے قدر میں کر دیا اور اللہ آسمان کو بارش برسانے کا حکم دیتا ہے ۔ اللہ کے علاوہ کوئی بھی تب تک آسمان کو بارش کا حکم نہیں دے سکتا جب تک کہ اس کے پاس علم اور اسی طرح امر کرنے کی صلاحیت موجود نہ ہو یا وہ صلاحیت حاصل نہ کر لے۔ یہاں ایک بات جو قابل غور ہے محمد علیہ السلام نے کہا کہ الدجّال امر کرے گا آسمان کو بارش برسانے کا اس امر کے پیچھے کون ہو گا وہ الگ بات ہے لیکن جو براہ راست آسمان کو
بارش کا امر کرے گا وہی الدجّال ہو گا۔
آسمان کو بارش کا حکم دینا ہے تو پہلے وہ علم ہونا لازم ہے کہ کس طرح آسمان کو بارش کا حکم دیا جاتا ہے اور اللہ نے بارش برسانے کا جو قانون بنا دیا اسی کے مطابق ہی بارش برسائی جا سکتی ہے ورنہ ایسا ہرگز نہیں کہ کوئی انسان یا کوئی بھی ہو وہ آسمان کو اللہ کے قانون کے علاوہ کسی اور طریقے سے حکم دے اور آسمان بارش برسائے ایسا ممکن ہی نہیں ۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو انسان جب اس معاملے میں اللہ کا محتاج تھا وہ اللہ سے دعائیں کرنے کی بجائے خود ہی اپنی زبان سے کہتا کہ اے آسمان بارش برسا اور آسمان بارش برسانا شروع کر دیتا جو کہ آپ جانتے ہیںکہ ایسا ممکن نہیں ہے ۔ اب جبکہ ایسا ممکن نہیں ہے تو پھر یہ بات بالکل کھل کر واضح ہو جانی چاہیے کہ کوئی بھی ہو وہ اگر آسمان کو بارش کا حکم دے گا تو زبان سے نہیں بلکہ اسی طریقے سے دے گا جیسے اللہ نے قدر میں کر دیا۔
البتہ یہ بات الگ ہے کہ اللہ نے قدر میں آسمان کو کب کب اور کتنی کتنی بارش برسانے کا قانون وضع کیا جس سے آسمانوں و زمین میں قائم میزان برقرار رہے گاجس کا علم صرف اللہ کو ہی ہے اس کے علاوہ اور کسی کو نہیں ۔ البتہ اس کے پاس ہو سکتا ہے جس کے پاس آسمانوں و زمین کا مکمل علم آجائے یا حاصل کر لے اور
ایسا اللہ نے قانون میں رکھا ہی نہیں۔
اب اللہ کے علاوہ جو کوئی بھی یہ صلاحیت حاصل کر لے گا جس سے بارش برسائی جائے تو جب وہ اپنی مرضی سے آسمان کو جب چاہے بارش کا حکم دے گا تو اس سے ایسا قطعاً نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی خرابی یا خامی نہ ہو بلکہ ان میں قائم توازن بگڑ جائے گا ، بادلوں کا نظام ، آب و ہوا اور موسموں کا نظام بگڑ جائے گا
پھر طوفان، آندھیاں، بغیر وقت کے بارشیں اور موسموں میں غیر معمولی تبدیلیاں واقع ہوں گی۔

آج آسمان کو حکم دیا جا رہا ہے اور بارشیں برسائی جا رہی ہیں اورپھر یہ کیسے ممکن ہو؟ کون ہے جو آسمان کو بارش برسانے کا حکم دیتا ہے؟ تو اس کا نہ صرف جواب بالکل واضح ہے بلکہ آج آپ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ جدید ٹیکنالوجی ہے یہ مشینیں ہیں جن کے ذریعے نہ صرف آسمان کو بارشوں کا امر کیا جا رہا ہے بلکہ آج آسمان بارشیں برسا رہے ہیں اس لیے یہ ٹیکنالوجی و مشینیں ہی وہی الدجّال ہے جس کے بارے میں آج سے چودہ صدیاں قبل محمد علیہ السلام نے
آگاہ کیا تھا۔
جیسے جسے آج ہارپ کا نام دیا جاتا ہے جس پر پیچھے بات کی جا چکی اس کے علاوہ ایک دوسرا طریقہ ہے جو بارشیں برسانے کے لیے تقریباً دنیا میں عام ہو چکا ہے اسے کلاؤڈ سیڈنگ یعنی بادلوں کی بوائی کا نام دیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے آج پوری دنیا میں بارشیں برسائی جا رہی ہیںاور مصنوعی طریقے سے بارش برسانے کا یہ نہایت آسان اور سستا طریقہ ہے۔ تین اشیاء ’’سلو ر آئیوڈائڈ، نمک، ڈرائی آئس یعنی جمی ہوئی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس‘‘ کے مرکب کو بذریعہ پمپ یا جہاز فضا میں بلندی پر بادلوں کے مقام پر چھڑکا جاتا ہے جس سے اس جگہ پر درجہ حرارت اتنا کم ہو جاتا ہے کہ وہاں بخارات پانی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ سلور آئیوڈائڈ اور نمک ان ٹھنڈے بخارات کو ایک دوسرے سے ملاتے ہیں جن سے قطرہ وجود میں آتا ہے اور زمین کی کشش ثقل اسے اپنی طرف کھینچ لیتی ہے
جس سے بارش ہوتی ہے یوں آج پوری دنیا میں بارشیں برسائی جا رہی ہیں۔
الدجّال یعنی ٹیکنالوجی آسمان کو بارشیں برسانے کا امر کرتی ہے... (جاری ہے)۔۔۔ 

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

Wednesday, December 7, 2022

  MOTHER NATURE KRISHNA


قسط نمبر#82

اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنٰہُ بِقَدَرٍ۔ القمر ۴۹
اس میں کچھ شک نہیں ہر شئے کو ہم نے خلق کیا قدر کیساتھ یعنی پورے حساب کتاب پوری کیلکولیشن کیساتھ نہ ہی رائی برابر بھی زیادہ اور نہ ہی رائی برابربھی کم نہ
ہی کسی میں کوئی کمی،کجی، یا کوتا ہی کی۔
قدر کہتے ہیں ہر لحاظ سے پورے حساب کتاب کیساتھ جو طے کر دیا گیا ، ناپ تول کر ،پوری کیلکولیشن سے، جتنی ضرورت ہو بالکل اتنا ہی ، نہ ہی رائی برابر بھی کم اور نہ ہی رائی برابر بھی زیادہ، یعنی ہر لحاظ سے مکمل ناپ تول کر پیمائش کر کے، معیار وغیرہ بھی ہر لحاظ سے پورا پورا جس کے خلاف کسی بھی صورت ہونا ناممکن ہو۔
اللہ نے ہر شئے کو قدر کیساتھ خلق کیا ہے جیسے ایک گاڑی کا انجن ہوتا ہے اگر اس میں چھیڑ چھاڑ کی جائے گی تو وہ خراب ہو جائے گا ، جیسے آپ اپنے ہی اس بشری وجود کو لے لیں یہ انتہائی پیچیدہ خلق ہے تمام کے تمام اعضاء کو بہت باریک بینی اور علم و حکمت سے خلق کیا گیا پوری کیلکولیشن ، حساب کتاب کیساتھ خلق کیا گیا ۔ خلق کر کے انہیں ان کے مقام پر لگا دیا گیا اگر ان کے مقام میں تبدیلی کی جائے گی یعنی اگر جسم سے خون نکال لیا جائے تو کیا ہو گا؟ دل نکال لیا جائے تو کیا ہو گا؟ اس طرح جسم میں کوئی بھی ایسی تبدیلی کی جائے جو اس نقشے میں نہ ہو جس نقشے کے مطابق اس بشرکو یعنی آپ کو اللہ نے خلق کیا تو جسم کا نظام بگڑ جائے گا اور خرابیوں یعنی بیماریوں کا شکار ہو کر بڑی تباہی یعنی موت کا شکار ہو جائے گا بالکل اسی طرح اللہ نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا سب خلق کیا ہے ، یہ سب کا سب تب تک ٹھیک رہے گا جب تک کہ ہر شئے فطرت پر رہے اگر کسی شئے کو فطرت سے ہٹا دیا جائے گا یعنی اللہ کی مخلوقات میں تبدیلیاں کی جائیں گی تو نظام بگڑ جائے گا پھر تباہیاں ہی آئیں گی اس لیے اللہ نے جو جیسا خلق کر دیا اس میں رائی برابر بھی تبدیلی نہیں ہو سکتی نہ کی جا سکتی ہے اگر
ایسا ہو گا تو سب کچھ تباہ و برباد ہو جائے گا۔
لا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہ۔ الروم ۳۰
نہیں ہے تبدیلی اللہ کی خلق کے لیے یعنی اللہ کی خلق تبدیلی کی متحمل ہے ہی نہیں اللہ نے جو جیسا خلق کر دیا اس میں رائی برابر بھی تبدیلی نہیں کی جا سکتی اور اگر ایسا
کیاجاتا ہے تو فساد ہو کر بالآخر وہ شئے تباہ و برباد ہو جائے گی۔
اللہ نے جو بھی جیسا خلق کیا اس میں رائی برابر بھی تبدیلی نہیں کی جا سکتی ، اس میں تبدیلی ممکن ہی نہیں اگر اس کے باوجود تبدیلی کی جائے گی تو وہ شئے سلامت
نہیں رہے گی اس میں خرابیاں ہو کر بالآخر تباہ و برباد ہو جائے گی۔
اسی طرح اللہ نے اپنے طریقے کے بارے میں بھی کہا۔
وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً۔ الاحزاب ۶۲
اور ہرگز نہیں پاؤ گے اللہ کی سنت کے لیے چھوٹی سے چھوٹی بھی تبدیلی۔
اللہ نے جو قانون بنا دیا اللہ جیسے آسمانوں و زمین کو چلا رہا ہے اس نظام میں اللہ کے قوانین میں تم کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی ہوتی ہوئی نہیں پاؤگے یعنی اگر کوئی اللہ کی خلق میں اللہ کے قانون کے خلاف چلے گا اسے بدلنے کی کوشش کرے گا تو ایسا ممکن ہی نہیں کہ وہ کامیاب ہو جائے۔ اللہ کا قانون نہیں بدل سکتا خواہ کچھ بھی ہو جائے ۔ اللہ نے آسمانوں و زمین میں جو نظام وضع کر دیا اس میں رائی برابر بھی تبدیلی ممکن نہیں ہے اور اگر کوئی ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے کوئی اللہ کی خلق میں تبدیلی کرتا ہے فطرت میں تبدیلی کرتا ہے تو وہ مخلوق سلامت نہیں رہے گی اس میں خرابیاں ہو کر بالآخر وہ تباہ ہو جائے گی اس کا وجود ہی مٹ جائے گا اور اس
سے متعلقہ مخلوقات کا بھی یہی حال ہو گا۔
یعنی اللہ کا جو بھی طریقہ ہے وہ تبدیلی کا متحمل ہو ہی نہیں سکتا اگر اس میں تبدیلی کی جائے گی تو اس سے خرابیاں ہوں گی اور بالآخر تباہی آئے گی اور پھر یہ بھی کہ اللہ
اپنی سنت یعنی طریقے میں تبدیلی نہیں کرتا۔
اللہ نے تمام مخلوقات کو جیسے خلق کیا اور جس جس مقام پر رکھ دیا، جس جس لائن پر لگا دیا اس میں رائی برابر بھی تبدیلی کی گنجائش نہیں اللہ نے اپنی خلق میں تبدیلی کی گنجائش رکھی ہی نہیں اللہ کی خلق تبدیلی کی متحمل ہے ہی نہیں اور اگر تبدیلی کی جائے گی تو اللہ کی خلق پھر ٹھیک نہیں رہ سکتی اس میں خرابیاں ہوں گی اور آخر کار وہ تباہ ہو جائے گی جو کہ ظلم ہے اور اللہ ظالم نہیں ہے اس لیے اللہ یہ ظلم کیوں کرے گا؟ اللہ ظالم نہیں اور نہ ہی اللہ اپنی سنت کو بدلنے والا ہے اس لیے ایسا عقیدہ و نظریہ
رکھنا کہ زمین پر رات دن کی مدت میں فرق پڑے گا یہ بات انتہائی جاہلانہ اور بے بنیادو باطل ہے۔
اگر زمین اپنی رفتار میں ذرا بھی کمی کرے تو پورے آسمان دنیا کا نظام بگڑ جائے گا کیونکہ اللہ نے قرآن میں واضح کر دیا کہ اللہ نے المیزان یعنی توازن قائم کیا ہوا ہے۔ جیسے گھڑی کی سیکنڈ والی سوئی کی رفتار کم یا زیادہ کر دی جائے تو اس سے منٹ اور گھنٹے کی سوئیاں بھی اسی طرح کم یا تیز رفتار ہو جاتی ہیں کیونکہ ان کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہوتا ہے بالکل اسی طرح ہمارے نظام شمسی ، اور اسکا ہماری کہکشاں پھر ہماری کہکشاں کا پورے آسمان میں ایک دوسرے سے تعلق ہے۔ اگر زمین اپنی رفتار میں کوئی رد و بدل کرتی ہے تو لا محالہ پورے آسمان دنیا جس کا آپ ادراک بھی نہیں کر سکتے کا توازن بگڑ جائے گا اور ہر شئے تباہ ہو جائے گی،
ستارے و سیارے آپس میں ٹکرا جائیں گے۔
اس کے علاوہ بھی پیچھے سورج کے اس کے مغرب سے طلوع والے موضوع پر بات کرتے ہوئے یہ بات بالکل کھول کھول کر واضح کر دی گئی کہ زمین، سورج، چاند اور جتنے بھی ستارے و سیارے ہیں وہ نہ صرف سب کے سب کسی نہ کسی کو اپنا محور بنائے ہوئے اپنے اپنے مدار میں ہرطرح سے گولائی میں دائرے کی شکل میں آگے کوبڑھتے ہوئے تیر رہے ہیں بلکہ جب تک ان کی اجل مسمیٰ نہیں آ جاتی تب تک وہ ایسا ہی کرتے رہیں گی اس میں رائی برابر بھی تبدیلی نہیں کریں گے جس سے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ رات دن سالوں، مہینوں اور ہفتوں جتنے لمبے اور چھوٹے ہو جائیں گے حق اس قدر کھول کھول کر واضح کر دیئے جانے کے باوجود بھی اگر کوئی یہی کہتا ہے کہ نہیں دن سالوں، مہینوں اور ہفتوں جیسے لمبے ہوں گے اور سکڑیں گے تو ایسا کوئی پاگل ، بے وقوف و جاہل ہی کہہ سکتاہے۔
وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّھَا شَھْر’‘ وَّرَوَاحُھَا شَھْر’‘۔ سباء ۱۲
اور سلیمان کے لیے ہوا، اس کا صبح کاجانا، صبح کا کام، صبح کا سفر وغیرہ ایک مہینے کا اورواپسی،شام کا جانا یا شام کا کام وغیرہ ایک مہینے کا۔
قرآن میں اللہ کا کہنا ہے کہ سلیمان علیہ السلام کا غدو ایک مہینے کا اور رواح ایک مہینے کا تھا۔ سلیمان علیہ السلام کا دارالخلافہ موجودہ ملک اردن میں تھا پوری دنیا میں غدو اور رواح کا وقت الگ الگ نکلتا ہے اردن میں جس مقام پر سلیمان علیہ السلام کی پوری زمین پر محیط ریاست کا دارالخلافہ تھا اس علاقے میں پورے سال کا اوسطاً اگر غدو اور رواح کا وقت حساب کتاب کر کے نکالا جائے تو غدو دو گھنٹے یا اس سے بھی کم وقت کا اور اسی طرح رواح بھی دو گھنٹے یا اس سے کم وقت کا ہی
نکلتا ہے۔
یعنی سلیمان علیہ السلام کے دو گھنٹے زمین پر باقی تمام لوگوں اور موجودہ لوگوں کے ایک مہینے کے برابر تھے یوں سلیمان علیہ السلام کا ایک دن موجودہ ایک سال کے برابر تھا۔ اب ایسا ہرگز نہیں تھا کہ باقی لوگوں پر ایک سال مکمل ہو جاتا تو سلیمان علیہ السلام پر صرف ایک رات دن گزرتا تھا نہیں بلکہ سلیمان علیہ السلام کو اللہ نے جو اسباب دیئے تھے جو ٹیکنالوجی ان کے پاس تھی اس ٹیکنالوجی سے سلیمان علیہ السلام جو کام ایک دن میں مکمل کر لیتے تھے وہی کام یا اتنا ہی کام اس وقت کے لوگ اور موجودہ لوگ جو اتنے تیز رفتار ہیں مشینوں کی وجہ سے اس کے باوجود ایک سال میں مکمل کر پاتے ۔ رات اور دن سلیمان علیہ السلام کے لیے
بھی چوبیس گھنٹے کے ہی تھے جیسے باقیوں کے لیے تھے۔
جیسے جیسے رفتار بڑھتی جاتی ہے وقت سکڑتا جاتا ہے اور جیسے جیسے رفتار کم ہوتی ہے وقت لمبا ہوتا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر آپ پیدل ایک ہزار کلومیٹر دور اپنی منزل کی طرف سفر کرتے ہیںاور ایک مہینے کے بعد اپنی منزل پر پہنچتے ہیں اب ایک دوسرا شخص الدجّال کے گدھے یعنی ہوائی جہاز پر سوار ہو کر جاتا ہے اور وہ صرف ایک گھنٹے میں پہنچ جاتا ہے تو اس کا ایک گھنٹہ آپ کے ایک مہینے کے برابر ہو گیا، جو کام آپ نے ایک
مہینے میں کیا وہ کام دوسرے شخص نے صرف ایک گھنٹے میں کر لیا۔
ایسا کیوں اور کیسے ہوا؟
آپ نے جو سفر کیا آپ کی رفتار بہت کم تھی جس کی وجہ سے آپ کو منزل تک پہنچنے میں ایک مہینے لگا اگر آپ کی رفتار جو تھی اس سے بھی کم ہو جائے تو آپ کو پھر مزید اور زیادہ وقت لگے گا آپ کی رفتار کم تھی جس وجہ سے آپ کو اتنا وقت لگا لیکن آپ کے برعکس دوسرا شخص جس نے الدجّال کے گدھے پر سفر کیا اورایک گھنٹے
میں پہنچ گیا اس لیے کیونکہ اس کی رفتار آپ سے کئی گنا زیادہ تھی۔
جیسے جیسے رفتار بڑھتی ہے وقت سکڑتا چلا جاتا ہے اور اگر کسی کے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہو کہ جس سے اس کی رفتار اتنی بڑھ جائے کہ جو وقت کی رفتار سے تجاوز کر
جائے تو اس کے لیے وقت تھم جائے گا اوروہ شخص کوئی بھی کام بغیر وقت کے استعمال کے کر سکے گا ۔ (جاری ہے)۔۔۔ 

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...