Wednesday, December 7, 2022

  MOTHER NATURE KRISHNA


قسط نمبر#82

اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنٰہُ بِقَدَرٍ۔ القمر ۴۹
اس میں کچھ شک نہیں ہر شئے کو ہم نے خلق کیا قدر کیساتھ یعنی پورے حساب کتاب پوری کیلکولیشن کیساتھ نہ ہی رائی برابر بھی زیادہ اور نہ ہی رائی برابربھی کم نہ
ہی کسی میں کوئی کمی،کجی، یا کوتا ہی کی۔
قدر کہتے ہیں ہر لحاظ سے پورے حساب کتاب کیساتھ جو طے کر دیا گیا ، ناپ تول کر ،پوری کیلکولیشن سے، جتنی ضرورت ہو بالکل اتنا ہی ، نہ ہی رائی برابر بھی کم اور نہ ہی رائی برابر بھی زیادہ، یعنی ہر لحاظ سے مکمل ناپ تول کر پیمائش کر کے، معیار وغیرہ بھی ہر لحاظ سے پورا پورا جس کے خلاف کسی بھی صورت ہونا ناممکن ہو۔
اللہ نے ہر شئے کو قدر کیساتھ خلق کیا ہے جیسے ایک گاڑی کا انجن ہوتا ہے اگر اس میں چھیڑ چھاڑ کی جائے گی تو وہ خراب ہو جائے گا ، جیسے آپ اپنے ہی اس بشری وجود کو لے لیں یہ انتہائی پیچیدہ خلق ہے تمام کے تمام اعضاء کو بہت باریک بینی اور علم و حکمت سے خلق کیا گیا پوری کیلکولیشن ، حساب کتاب کیساتھ خلق کیا گیا ۔ خلق کر کے انہیں ان کے مقام پر لگا دیا گیا اگر ان کے مقام میں تبدیلی کی جائے گی یعنی اگر جسم سے خون نکال لیا جائے تو کیا ہو گا؟ دل نکال لیا جائے تو کیا ہو گا؟ اس طرح جسم میں کوئی بھی ایسی تبدیلی کی جائے جو اس نقشے میں نہ ہو جس نقشے کے مطابق اس بشرکو یعنی آپ کو اللہ نے خلق کیا تو جسم کا نظام بگڑ جائے گا اور خرابیوں یعنی بیماریوں کا شکار ہو کر بڑی تباہی یعنی موت کا شکار ہو جائے گا بالکل اسی طرح اللہ نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا سب خلق کیا ہے ، یہ سب کا سب تب تک ٹھیک رہے گا جب تک کہ ہر شئے فطرت پر رہے اگر کسی شئے کو فطرت سے ہٹا دیا جائے گا یعنی اللہ کی مخلوقات میں تبدیلیاں کی جائیں گی تو نظام بگڑ جائے گا پھر تباہیاں ہی آئیں گی اس لیے اللہ نے جو جیسا خلق کر دیا اس میں رائی برابر بھی تبدیلی نہیں ہو سکتی نہ کی جا سکتی ہے اگر
ایسا ہو گا تو سب کچھ تباہ و برباد ہو جائے گا۔
لا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہ۔ الروم ۳۰
نہیں ہے تبدیلی اللہ کی خلق کے لیے یعنی اللہ کی خلق تبدیلی کی متحمل ہے ہی نہیں اللہ نے جو جیسا خلق کر دیا اس میں رائی برابر بھی تبدیلی نہیں کی جا سکتی اور اگر ایسا
کیاجاتا ہے تو فساد ہو کر بالآخر وہ شئے تباہ و برباد ہو جائے گی۔
اللہ نے جو بھی جیسا خلق کیا اس میں رائی برابر بھی تبدیلی نہیں کی جا سکتی ، اس میں تبدیلی ممکن ہی نہیں اگر اس کے باوجود تبدیلی کی جائے گی تو وہ شئے سلامت
نہیں رہے گی اس میں خرابیاں ہو کر بالآخر تباہ و برباد ہو جائے گی۔
اسی طرح اللہ نے اپنے طریقے کے بارے میں بھی کہا۔
وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً۔ الاحزاب ۶۲
اور ہرگز نہیں پاؤ گے اللہ کی سنت کے لیے چھوٹی سے چھوٹی بھی تبدیلی۔
اللہ نے جو قانون بنا دیا اللہ جیسے آسمانوں و زمین کو چلا رہا ہے اس نظام میں اللہ کے قوانین میں تم کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی ہوتی ہوئی نہیں پاؤگے یعنی اگر کوئی اللہ کی خلق میں اللہ کے قانون کے خلاف چلے گا اسے بدلنے کی کوشش کرے گا تو ایسا ممکن ہی نہیں کہ وہ کامیاب ہو جائے۔ اللہ کا قانون نہیں بدل سکتا خواہ کچھ بھی ہو جائے ۔ اللہ نے آسمانوں و زمین میں جو نظام وضع کر دیا اس میں رائی برابر بھی تبدیلی ممکن نہیں ہے اور اگر کوئی ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے کوئی اللہ کی خلق میں تبدیلی کرتا ہے فطرت میں تبدیلی کرتا ہے تو وہ مخلوق سلامت نہیں رہے گی اس میں خرابیاں ہو کر بالآخر وہ تباہ ہو جائے گی اس کا وجود ہی مٹ جائے گا اور اس
سے متعلقہ مخلوقات کا بھی یہی حال ہو گا۔
یعنی اللہ کا جو بھی طریقہ ہے وہ تبدیلی کا متحمل ہو ہی نہیں سکتا اگر اس میں تبدیلی کی جائے گی تو اس سے خرابیاں ہوں گی اور بالآخر تباہی آئے گی اور پھر یہ بھی کہ اللہ
اپنی سنت یعنی طریقے میں تبدیلی نہیں کرتا۔
اللہ نے تمام مخلوقات کو جیسے خلق کیا اور جس جس مقام پر رکھ دیا، جس جس لائن پر لگا دیا اس میں رائی برابر بھی تبدیلی کی گنجائش نہیں اللہ نے اپنی خلق میں تبدیلی کی گنجائش رکھی ہی نہیں اللہ کی خلق تبدیلی کی متحمل ہے ہی نہیں اور اگر تبدیلی کی جائے گی تو اللہ کی خلق پھر ٹھیک نہیں رہ سکتی اس میں خرابیاں ہوں گی اور آخر کار وہ تباہ ہو جائے گی جو کہ ظلم ہے اور اللہ ظالم نہیں ہے اس لیے اللہ یہ ظلم کیوں کرے گا؟ اللہ ظالم نہیں اور نہ ہی اللہ اپنی سنت کو بدلنے والا ہے اس لیے ایسا عقیدہ و نظریہ
رکھنا کہ زمین پر رات دن کی مدت میں فرق پڑے گا یہ بات انتہائی جاہلانہ اور بے بنیادو باطل ہے۔
اگر زمین اپنی رفتار میں ذرا بھی کمی کرے تو پورے آسمان دنیا کا نظام بگڑ جائے گا کیونکہ اللہ نے قرآن میں واضح کر دیا کہ اللہ نے المیزان یعنی توازن قائم کیا ہوا ہے۔ جیسے گھڑی کی سیکنڈ والی سوئی کی رفتار کم یا زیادہ کر دی جائے تو اس سے منٹ اور گھنٹے کی سوئیاں بھی اسی طرح کم یا تیز رفتار ہو جاتی ہیں کیونکہ ان کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہوتا ہے بالکل اسی طرح ہمارے نظام شمسی ، اور اسکا ہماری کہکشاں پھر ہماری کہکشاں کا پورے آسمان میں ایک دوسرے سے تعلق ہے۔ اگر زمین اپنی رفتار میں کوئی رد و بدل کرتی ہے تو لا محالہ پورے آسمان دنیا جس کا آپ ادراک بھی نہیں کر سکتے کا توازن بگڑ جائے گا اور ہر شئے تباہ ہو جائے گی،
ستارے و سیارے آپس میں ٹکرا جائیں گے۔
اس کے علاوہ بھی پیچھے سورج کے اس کے مغرب سے طلوع والے موضوع پر بات کرتے ہوئے یہ بات بالکل کھول کھول کر واضح کر دی گئی کہ زمین، سورج، چاند اور جتنے بھی ستارے و سیارے ہیں وہ نہ صرف سب کے سب کسی نہ کسی کو اپنا محور بنائے ہوئے اپنے اپنے مدار میں ہرطرح سے گولائی میں دائرے کی شکل میں آگے کوبڑھتے ہوئے تیر رہے ہیں بلکہ جب تک ان کی اجل مسمیٰ نہیں آ جاتی تب تک وہ ایسا ہی کرتے رہیں گی اس میں رائی برابر بھی تبدیلی نہیں کریں گے جس سے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ رات دن سالوں، مہینوں اور ہفتوں جتنے لمبے اور چھوٹے ہو جائیں گے حق اس قدر کھول کھول کر واضح کر دیئے جانے کے باوجود بھی اگر کوئی یہی کہتا ہے کہ نہیں دن سالوں، مہینوں اور ہفتوں جیسے لمبے ہوں گے اور سکڑیں گے تو ایسا کوئی پاگل ، بے وقوف و جاہل ہی کہہ سکتاہے۔
وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّھَا شَھْر’‘ وَّرَوَاحُھَا شَھْر’‘۔ سباء ۱۲
اور سلیمان کے لیے ہوا، اس کا صبح کاجانا، صبح کا کام، صبح کا سفر وغیرہ ایک مہینے کا اورواپسی،شام کا جانا یا شام کا کام وغیرہ ایک مہینے کا۔
قرآن میں اللہ کا کہنا ہے کہ سلیمان علیہ السلام کا غدو ایک مہینے کا اور رواح ایک مہینے کا تھا۔ سلیمان علیہ السلام کا دارالخلافہ موجودہ ملک اردن میں تھا پوری دنیا میں غدو اور رواح کا وقت الگ الگ نکلتا ہے اردن میں جس مقام پر سلیمان علیہ السلام کی پوری زمین پر محیط ریاست کا دارالخلافہ تھا اس علاقے میں پورے سال کا اوسطاً اگر غدو اور رواح کا وقت حساب کتاب کر کے نکالا جائے تو غدو دو گھنٹے یا اس سے بھی کم وقت کا اور اسی طرح رواح بھی دو گھنٹے یا اس سے کم وقت کا ہی
نکلتا ہے۔
یعنی سلیمان علیہ السلام کے دو گھنٹے زمین پر باقی تمام لوگوں اور موجودہ لوگوں کے ایک مہینے کے برابر تھے یوں سلیمان علیہ السلام کا ایک دن موجودہ ایک سال کے برابر تھا۔ اب ایسا ہرگز نہیں تھا کہ باقی لوگوں پر ایک سال مکمل ہو جاتا تو سلیمان علیہ السلام پر صرف ایک رات دن گزرتا تھا نہیں بلکہ سلیمان علیہ السلام کو اللہ نے جو اسباب دیئے تھے جو ٹیکنالوجی ان کے پاس تھی اس ٹیکنالوجی سے سلیمان علیہ السلام جو کام ایک دن میں مکمل کر لیتے تھے وہی کام یا اتنا ہی کام اس وقت کے لوگ اور موجودہ لوگ جو اتنے تیز رفتار ہیں مشینوں کی وجہ سے اس کے باوجود ایک سال میں مکمل کر پاتے ۔ رات اور دن سلیمان علیہ السلام کے لیے
بھی چوبیس گھنٹے کے ہی تھے جیسے باقیوں کے لیے تھے۔
جیسے جیسے رفتار بڑھتی جاتی ہے وقت سکڑتا جاتا ہے اور جیسے جیسے رفتار کم ہوتی ہے وقت لمبا ہوتا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر آپ پیدل ایک ہزار کلومیٹر دور اپنی منزل کی طرف سفر کرتے ہیںاور ایک مہینے کے بعد اپنی منزل پر پہنچتے ہیں اب ایک دوسرا شخص الدجّال کے گدھے یعنی ہوائی جہاز پر سوار ہو کر جاتا ہے اور وہ صرف ایک گھنٹے میں پہنچ جاتا ہے تو اس کا ایک گھنٹہ آپ کے ایک مہینے کے برابر ہو گیا، جو کام آپ نے ایک
مہینے میں کیا وہ کام دوسرے شخص نے صرف ایک گھنٹے میں کر لیا۔
ایسا کیوں اور کیسے ہوا؟
آپ نے جو سفر کیا آپ کی رفتار بہت کم تھی جس کی وجہ سے آپ کو منزل تک پہنچنے میں ایک مہینے لگا اگر آپ کی رفتار جو تھی اس سے بھی کم ہو جائے تو آپ کو پھر مزید اور زیادہ وقت لگے گا آپ کی رفتار کم تھی جس وجہ سے آپ کو اتنا وقت لگا لیکن آپ کے برعکس دوسرا شخص جس نے الدجّال کے گدھے پر سفر کیا اورایک گھنٹے
میں پہنچ گیا اس لیے کیونکہ اس کی رفتار آپ سے کئی گنا زیادہ تھی۔
جیسے جیسے رفتار بڑھتی ہے وقت سکڑتا چلا جاتا ہے اور اگر کسی کے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہو کہ جس سے اس کی رفتار اتنی بڑھ جائے کہ جو وقت کی رفتار سے تجاوز کر
جائے تو اس کے لیے وقت تھم جائے گا اوروہ شخص کوئی بھی کام بغیر وقت کے استعمال کے کر سکے گا ۔ (جاری ہے)۔۔۔ 

Ahmed Isa Messenger of Mother Nature

Kalki Avatar Krishna

The Book of Kalki Avatar Krishna/Ahmed Isa

احمد عیسی رسول اللہ و خاتم النبیین کی الکتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے درج ذیل روابط پر کلک کریں

ان روابط سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

Part 1

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart1

Part 2

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart2

Part 3

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart3

Part 4

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart4

Part 5

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart5

Part 6

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart6

Part 7

https://archive.org/details/AlKitabAhmedIsaPart7

No comments:

  WARNING FROM MOTHER NATURE قسط نمبر#94 یعنی جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو بعث نہیں کرتا جو آ کر سب کچھ کھول کھول کر نہ رکھ دے جو آ کر کہے گ...